ڈپٹی کمشنربٹگرام اشتیاق احمد نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سہیل اور اسسٹنٹ کمشنر محمد سلیم کے ہمراہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مریضوں اور ان کے ساتھ موجود تیمارداروں کے ساتھ مل کر افطاری کی۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال میں افطاری کے انتظامات کا جائزہ لیا اور مریضوں سے ملاقات کر کے ان کی خیریت دریافت کی۔ اس موقع پر انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ مریضوں اور ان کے لواحقین کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں۔ڈپٹی کمشنر اشتیاق احمد نے کہا کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں مریضوں اور ان کے تیمارداروں کا خیال رکھنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے افطاری کا یہ پروگرام باقاعدگی سے جاری رکھا جائے گا تاکہ ہسپتال میں موجود مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو اس مقدس مہینے میں سہولت فراہم کی جا سکے
ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد کا کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان منڈیاں کا دورہ
ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد سرمد سلیم اکرم نے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان بمقام منڈیاں ایبٹ آباد کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کالج کی فیکلٹی سے ملاقات کی اور ادارے میں منعقدہ کانفرنس میں بھی شرکت کی۔دورے کے دوران کالج انتظامیہ کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کو ادارے کی مجموعی کارکردگی، جاری تربیتی پروگرامز اور طبی شعبے میں پیشہ ورانہ مہارت کے فروغ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد سرمد سلیم اکرم نے ادارے کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ طبی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے فروغ میں ایسے ادارے اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جو ملک میں صحت کے شعبے کی بہتری اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماہر اور تربیت یافتہ ڈاکٹرز کی تیاری عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے میں کلیدی اہمیت رکھتی ہے
کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ کی زیرِ صدارت دبیر ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے مسائل کے حل کے حوالے سے اجلاس
کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ کی زیرِ صدارت دبیر ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے مسائل کے حل کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سڑک کی بندش، دبیر۔رینولیا روڈ کی تعمیر اور بنکھڈ میں سکول کے لیے اراضی مختص کرنے کے معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔کمشنر ہزارہ نے کوہستان سے رکن قومی اسمبلی سردار ادریس اور سابق رکن صوبائی اسمبلی مفتی عبید الرحمٰن کی کاوشوں کو سراہا۔ کمشنر ہزارہ نے کہا کہ اگر عوام کو منصوبے سے متعلق کوئی شکایات ہوں تو احتجاج کے بجائے ضلعی انتظامیہ یا کمشنر آفس سے رجوع کریں تاکہ مسائل کا مناسب اور پائیدار حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور اس سلسلے میں مقامی قیادت اور مشران سے تحریری یقین دہانی لی جائے گی کہ آئندہ سڑک بند نہیں کی جائے گی اور قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا جائے گا۔کمشنر ہزارہ نے ہدایت کی کہ دبیر روڈ کے ایمرجنسی راستے پر دو ایکسکیویٹر مشینیں تعینات کی جائیں تاکہ ملبہ بروقت ہٹایا جا سکے اور سڑک کی بندش سے بچا جا سکے۔ انہوں نے جی ایم لینڈ اینڈ ری سیٹلمنٹ کو ہدایت کی کہ ٹینڈرنگ اور کنٹریکٹ ایوارڈ کا عمل جلد مکمل کیا جائے تاکہ اراضی کے حصول کے بعد دبیر۔رینولیا روڈ کی تعمیر فوری طور پر شروع کی جا سکے۔مزید برآں کمشنر ہزارہ نے ڈپٹی کمشنر لوئر کوہستان کو ہدایت کی کہ ایم این اے کے ساتھ مشاورت کر کے بنکھڈ میں سکول کے لیے مختص اراضی پر اتفاقِ رائے کیا جائے تاکہ سکول کی تعمیر جلد شروع کی جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر کمشنر ہزارہ نے کہا کہ ایسے بڑے ترقیاتی منصوبے پاکستان کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ہیں اور ان میں تاخیر سے ملک و قوم کو نقصان پہنچتا ہے لہٰذا تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں بروقت ادا کریں
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم، معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان اور ڈیڈیک چیئرمین و ایم پی اے داؤد آفریدی کی زیر صدارت ضلع کوہاٹ میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے شعبے سے متعلق ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم، معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان اور ڈیڈیک چیئرمین و ایم پی اے داؤد آفریدی کی زیر صدارت ضلع کوہاٹ میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے شعبے سے متعلق ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ محکموں کے حکام، محکمہ تعلیم کے نمائندگان ، دیگر متعلقہ افسران اور علاقائی عمائدین نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع کوہاٹ میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور ڈسٹرکٹ فنڈڈ سکیمز (DFC) پر تفصیلی غور کیا گیا اور ان منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر قانون نے ہدایت کی کہ جاری ترقیاتی سکیموں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ عوام کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اجلاس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ کے دورے کے دوران جاری کردہ ہدایات پر عملدرآمد کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیر قانون نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وزیر اعلیٰ کی ہدایات کے مطابق منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اجلاس کے دوران خستہ حال سرکاری تعلیمی عمارتوں کی صورتحال، سکولوں میں درپیش سہولیات کی کمی اور ان کے حل کے لیے اقدامات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر قانون نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ایسے سکولوں کی نشاندہی کر کے ان کی بحالی اور بہتری کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔اجلاس میں سکولوں کی تعمیر نو اور اپ گریڈیشن سے متعلق منصوبوں اور اس سلسلے میں نئی اسامیوں (SNE) کی تفصیلات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تعلیمی شعبے کی ترقی ناگزیر ہےوزیر قانون نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ تعلیمی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ طلبہ کو بہتر اور سازگار تعلیمی ماحول میسر آ سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا تعلیمی شعبے کی بہتری اور عوام کو معیاری سہولیات فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
محفوظ مستقبل کی جانب اہم قدم
تحریر: ڈاکٹر انجینئر محمد اطہر سوری
پشاور جو خیبر پختونخوا کا تاریخی اور انتظامی مرکز سمجھا جاتا ہے اب ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ ماضی میں جہاں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے روایتی گشت، ناکہ بندیوں اور دستی نگرانی پر انحصار کیا جاتا تھا وہیں اب جدید ٹیکنالوجی نے اس خلا کو پُر کر دیا ہے۔ خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے متعارف کرایا گیا سیف سٹی منصوبہ دراصل اسی سوچ کی عملی تعبیر ہے کہ بدلتے ہوئے دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے سیکیورٹی نظام کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔
یہ منصوبہ محض چند کیمروں کی تنصیب تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ شہر کے داخلی و خارجی راستوں، اہم شاہراہوں، تجارتی مراکز، حساس تنصیبات اور عوامی مقامات پر جدید نگرانی آلات نصب کیے گئے ہیں جو ہر لمحہ کی سرگرمی کو محفوظ بنا رہے ہیں۔ ان تمام کیمروں کو ایک مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے منسلک کیا گیا ہے جہاں تربیت یافتہ عملہ چوبیس گھنٹے صورتحال کا جائزہ لیتا ہے۔ اس ہمہ وقت نگرانی کے باعث جرائم کی روک تھام اور فوری رسپانس میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
سیف سٹی نظام کی خاص بات اس میں شامل مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر ہے۔ یہ ٹیکنالوجی چہروں کی شناخت، گاڑیوں کی نمبر پلیٹ پڑھنے اور مشکوک نقل و حرکت کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر کسی واردات میں ملوث گاڑی یا مطلوب شخص کسی کیمرے کی زد میں آ جائے تو نظام فوری طور پر الرٹ جاری کر دیتا ہے۔ اس خودکار عمل سے نہ صرف تفتیش کا معیار بہتر ہوا ہے بلکہ شواہد کی دستیابی بھی آسان ہو گئی ہے۔ روایتی انداز میں جہاں گواہوں اور اندازوں پر انحصار کیا جاتا تھا اب وہاں ڈیجیٹل ثبوت مقدمات کو مضبوط بناتے ہیں۔
ٹریفک کے نظام میں بھی اس اقدام نے واضح تبدیلی پیدا کی ہے۔ ماضی میں ٹریفک خلاف ورزی پر اہلکار کی موجودگی ضروری سمجھی جاتی تھی مگر اب خودکار ای چالان سسٹم نے یہ مرحلہ سہل بنا دیا ہے۔ رفتار کی حد عبور کرنے یا سگنل توڑنے والے افراد کو براہ راست جرمانے کا نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار سے نہ صرف شفافیت آئی ہے بلکہ رشوت ستانی اور غیر ضروری بحث و تکرار کے امکانات بھی کم ہوئے ہیں۔ شہریوں میں قانون کی پابندی کا رجحان فروغ پا رہا ہے کیونکہ اب نگرانی ہر وقت موجود ہے۔
حکومت نے اس منصوبے کے لیے خطیر مالی وسائل مختص کیے ہیں جن کے ذریعے جدید ڈیٹا سینٹر قائم کیا گیا فائبر آپٹک نیٹ ورک بچھایا گیا اور جدید سافٹ ویئرز نصب کیے گئے۔ یہ سرمایہ کاری دراصل اس عزم کا اظہار ہے کہ صوبائی دارالحکومت کو عالمی معیار کے مطابق محفوظ بنایا جائے۔ ایک محفوظ شہر نہ صرف رہائشیوں کو ذہنی سکون فراہم کرتا ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور سیاحت کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ جب شہری خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں تو معاشی پہیہ زیادہ روانی سے چلتا ہے۔
اس منصوبے کی کامیابی کے بعد اسے صوبے کے دیگر اہم شہروں تک وسعت دینے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ مردان، ایبٹ آباد اور سوات جیسے اضلاع میں بھی اسی طرز کا نظام متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ پورے صوبے میں نگرانی کا مربوط جال قائم ہو سکے۔ اگر یہ توسیعی مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو جرائم کی بیخ کنی اور دہشت گردی کے خطرات پر قابو پانے میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم جدید نگرانی کے اس نظام کے ساتھ چند اہم سوالات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ڈیٹا کے تحفظ اور شہریوں کی نجی زندگی کے احترام کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ اگرچہ کیمرے سیکیورٹی کے لیے نصب کیے گئے ہیں، مگر ان کے استعمال میں شفاف پالیسی اور واضح قانونی فریم ورک ضروری ہے تاکہ کسی بھی قسم کے غلط استعمال کا خدشہ باقی نہ رہے۔ عوام کا اعتماد اسی وقت برقرار رہ سکتا ہے جب انہیں یقین ہو کہ ان کی معلومات محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور صرف قانونی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔
سیف سٹی کا حقیقی فائدہ اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب شہری بھی اس عمل کا حصہ بنیں۔ قانون کی پاسداری، مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاع اور ذمہ دارانہ رویہ اس نظام کو مؤثر بناتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی اپنی جگہ اہم ہے، مگر انسانی تعاون کے بغیر اس کی افادیت محدود ہو سکتی ہے۔ پولیس اور عوام کے درمیان باہمی اعتماد اس منصوبے کی روح ہے۔
پشاور ماضی میں دہشت گردی اور بدامنی کے چیلنجز سے گزر چکا ہے۔ ایسے حالات میں ڈیجیٹل نگرانی کا یہ جامع نظام ایک مضبوط حفاظتی حصار فراہم کرتا ہے۔ یہ منصوبہ صرف سیکیورٹی کی بہتری کا ذریعہ نہیں بلکہ شہری نظم و ضبط، قانون کی عملداری اور جدید طرزِ حکمرانی کی علامت بھی ہے۔ اگر اس نظام کو تسلسل، پیشہ ورانہ مہارت اور شفاف نگرانی کے ساتھ چلایا گیا تو یہ نہ صرف جرائم کی شرح میں کمی لائے گا بلکہ ایک پرامن اور منظم معاشرے کی بنیاد بھی مضبوط کرے گا۔
آخرکار محفوظ شہر ہی ترقی یافتہ معاشرے کی پہچان ہوتا ہے۔ سیف سٹی منصوبہ پشاور کو اسی سمت لے جانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، مؤثر قیادت اور عوامی تعاون کا یہ امتزاج اگر برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں یہ اقدام خیبر پختونخوا کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے اور واقعی ایک محفوظ مستقبل کی جانب اہم سنگِ میل ثابت ہوگا
سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے پشاور میں اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل خانے کا دورہ کیا اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی قیادت اور عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا
سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے پشاور میں اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل خانے کا دورہ کیا اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی قیادت اور عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔اس موقع پر اسپیکر نے ایران کے قونصل جنرل علی بنافشہ خواہ سے ملاقات کی اور اس دکھ کی گھڑی میں ایرانی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔اسپیکر بابر سلیم سواتی نے قونصل خانے میں موجود تعزیتی رجسٹر میں اپنے تاثرات بھی قلمبند کیے اور کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای نہ صرف ایران کے ایک عظیم رہنما تھے بلکہ وہ امت مسلمہ کے لیے اتحاد، مزاحمت اور حوصلے کی علامت بھی تھے۔ ان کی قیادت، بصیرت اور انصاف کے لیے جدوجہد کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کا انتقال نہ صرف ایران بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔سپیکر نے ایران کے خلاف ہونے والے حملوں اور جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں خطے اور عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات، باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینا ضروری ہے۔اسپیکر نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ایرانی عوام کو اس ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کا حوصلہ عطا کرے۔
6th District Service Delivery Conference
The 6th District Service Delivery (DSD) Conference was held here on Thursday, wherein Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa Shahab Ali Shah reviewed progress on improving public services across the province and strengthening performance-based governance at the district level.
Additional Chief Secretaries, Senior Member Board of Revenue, Divisional Commissioners, Deputy Commissioners, Administrative Secretaries and senior officials from seven key service delivery departments attended the DSD Conference, reflecting the provincial government’s continued focus on enhancing efficiency, accountability, and citizen-centric governance at the grassroots level.
During the meeting, the Chief Secretary conducted a comprehensive performance review against the targets assigned to districts, aimed at improving the quality and accessibility of essential public services. Officials from the Performance Management and Reforms Unit (PMRU) presented a detailed briefing on progress made since the launch of the District Service Delivery initiative.
The briefing highlighted measurable improvements in multiple service delivery indicators since the first DSD Conference, indicating that the performance monitoring framework is beginning to yield tangible results. However, the meeting was also informed that while several districts have shown significant progress and high compliance with service benchmarks, some districts are still facing challenges in meeting the desired targets.
Among them, District Battagram was identified as lagging behind on certain service delivery indicators. Taking notice of the situation, the Chief Secretary directed that a comprehensive diagnostic study and gap analysis be undertaken to identify administrative, operational, and capacity-related bottlenecks affecting service delivery in the district. The findings and recommendations will be presented at the next DSD Conference for corrective action.
Addressing participants at the conclusion of the meeting, Chief Secretary Shahab Ali Shah appreciated the collective efforts of district administrations and departmental teams, acknowledging their commitment to improving governance standards and public service outcomes in the first phase of DSD Conference initiative.
He emphasized that consistent improvements in service delivery not only enhance public welfare but also contribute to strengthening institutional performance and professional development within the civil service.
The Chief Secretary also directed Deputy Commissioners to establish dedicated “Nerve Centers” in their respective districts to ensure real-time monitoring of service delivery indicators. These centers will serve as integrated command hubs for performance management, data-driven decision-making, and complaint redressal mechanisms.
He further informed the participants that the Provincial Nerve Center in Peshawar is nearing completion and will soon be inaugurated. Once operational, the provincial facility will be digitally linked with district-level nerve centers to create a province-wide service monitoring network, enabling the government to track performance indicators and respond swiftly to public service issues.
Khyber Pakhtunkhwa Government Launches School Enrolment Campaign 2026–27
The Government of Khyber Pakhtunkhwa has formally launched the School Enrolment Campaign 2026–27 aimed at bringing more children into schools, mainstreaming out-of-school children, and reducing dropout rates across the province.
The campaign was inaugurated by Provincial Minister for Elementary and Secondary Education Arshad Ayub Khan and Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa Shahab Ali Shah here on Thursday. The initiative focuses on fresh enrolments, reintegrating children who are currently out of school, and improving retention at both primary and secondary levels.
For the academic year 2026–27, the government has set a target to enrol 1,328,620 children, including 684,363 boys and 644,259 girls. In addition, 643,715 out-of-school children will be brought back into the education system, including 261,435 boys and 382,280 girls.
The provincial government has also set targets to reduce dropout rates, aiming to bring the primary level dropout rate down from 7 percent to 5 percent, while at the secondary level it will be reduced from 8 percent to 6 percent.
To achieve these targets, 65 percent of enrolments will be made through government schools, 30 percent through private schools, and 5 percent through Accelerated Learning Programs and Non-Formal Education initiatives. A digital dashboard has also been established to monitor the progress of the enrolment campaign on a daily basis.
Speaking on the occasion, Provincial Minister Arshad Ayub Khan said the government is committed to ensuring access to quality education for every child in the province. He emphasized that special attention will be given to promoting girls’ education.
Chief Secretary Shahab Ali Shah directed Deputy Commissioners to closely monitor the enrolment campaign at the district level and ensure active public participation to achieve the set targets.
Prior to the launch of the campaign, a review meeting on enrolment targets was also held. Officials from the Education Department, Local Government Department, and UNICEF attended the meeting. Secretary Elementary and Secondary Education Khalid Khan briefed the participants and informed them that a special survey will be conducted to obtain accurate data on out-of-school children.
خیبرپختونخوا میں رمضان ریلیف پیکج کے تحت مستحق خاندانوں کو امدادی رقم کی شفاف تقسیم کا عمل شروع ہو چکا ہے، شفیع جان
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے رمضان ریلیف پیکج کے حوالے سے عظمیٰ بخاری کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عظمیٰ بخاری خیبرپختونخوا کے معاملات پر بے بنیاد اور گمراہ کن بیانات دینے سے باز رہیں،وہ شروع دن سے صوبائی حکومت پر بے بنیاد الزامات لگا رہی ہیں جو حقائق کے منافی ہیں اور عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ رمضان ریلیف پیکج پر اپنی مردہ سیاست چمکانا دراصل پنجاب حکومت کی بے حسی کا ثبوت ہے۔ خیبرپختونخوا میں رمضان ریلیف پیکج کے تحت مستحق خاندانوں کو امدادی رقم کی شفاف تقسیم کا عمل باقاعدہ طور پر شروع ہو چکا ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ رمضان ریلیف پیکج کی تقسیم کسی بھی سیاسی تفریق کے بغیر صرف مستحق خاندانوں میں تقسیم کی جا رہی ہے۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایات کے مطابق بیواؤں اور خصوصی افراد کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس لیے پی ٹی آئی کارکنوں میں رمضان پیکج تقسیم کرنے کا الزام سراسر جھوٹ اور منفی سیاسی پروپیگنڈا ہے۔انہوں نے عظمیٰ بخاری کو مشورہ دیا کہ رمضان پیکج پر تنقید سے پہلے قوم کو جعلی وزیراعلیٰ کے لیے خریدے گئے طیارے کا حساب دیں۔ عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر شاہانہ طرز حکمرانی مسلم لیگ (ن) کا وطیرہ رہا ہے۔شفیع جان نے کہا کہ پنجاب کے وزراء پہلے اپنے صوبے کی بدترین کارکردگی کا جواب دیں، اس کے بعد خیبرپختونخوا پر تنقید کریں۔ خیبرپختونخوا حکومت عوامی فلاح و بہبود اور مستحقین کو ریلیف دینے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے اور اپنی تمام تر توجہ عوام کو ریلیف دینے اور مسائل کے حل پر مرکوز کیے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ رمضان پیکج کی تقسیم شفاف طریقہ کار کے تحت جاری ہے اور اسے سیاسی رنگ دینا شرمناک عمل ہے۔ خیبرپختونخوا کے باشعور عوام جھوٹے پروپیگنڈے اور منفی سیاست کو بخوبی پہچانتے ہیں۔معاون خصوصی نے مزید کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان آج بھی مسلم لیگ (ن) کے وزراء کے اعصاب پر سوار ہیں۔ جعلی مقدمات میں پابند سلاسل رکھنے کے باوجود ن لیگ کے وزراء عمران خان کی عوامی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں۔
ہزارہ ڈویژن کے مریضوں کو بڑا ریلیف، اب فالج کے مریضوں کوایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد میں بروقت اور مفت علاج میسر ہوگا۔ ڈائریکٹر ڈاکٹر سجاد احمد آفریدی
ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کے ہسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر سجاد احمد آفریدی نے کہا ہے کہ ہزارہ ڈویژن کے مریضوں کو بڑا ریلیف، اب فالج کے مریضوں کوایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد میں بروقت اور مفت علاج میسر ہوگا اورادارے کا بنیادی مشن ہزارہ کی عوام کو قریب معیاری اور جدید طبی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ مریضوں کو علاج کے لئے دور دراز شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ فالج انجیکشن نہایت مہنگا ہوتا ہے تاہم ایوب ٹیچنگ ہسپتال کی انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اسے ہزارہ کے عوام کو بالکل مفت فراہم کیا جائے گا تاکہ ہر مریض کو بروقت علاج کی سہولت میسر آ سکے۔ انہوں نے فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کی کاوشوں کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کی محنت سے اس اہم اور زندگی بچانے والی دوا کی دستیابی
ممکن بنائی گئی۔ اسی طرح ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں فالج اور دل کے دورے کے مریضوں کے فوری علاج کے لئے 6 بیڈز پر مشتمل جدید اسٹروک اینڈ اکیوٹ چیسٹ پین یونٹ قائم کیا گیا ہے جو جدید مانیٹرز اور دیگر طبی سہولیات سے لیس ہے۔ یہ یونٹ مریضوں کو فوری اور مؤثر طبی امداد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا اور ہزارہ کے مریضوں کے لئے ایک بڑی سہولت ثابت ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عابد جمیل اور بورڈ ممبران کی رہنمائی میں ادارہ مسلسل ایسے اقدامات کر رہا ہے جن کا مقصد ہزارہ کی عوام کو جدید طبی سہولیات ان کے اپنے شہر میں فراہم کرنا ہے۔یہ ہزارہ کی عوام کے لئے ایک بڑی خوشخبری ہے کہ ایوب ٹیچنگ ہسپتال کی موجودہ انتظامیہ نے فالج (اسٹروک) کے مریضوں کے فوری اور مؤثر علاج کے لئے TPA انجیکشن ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں فراہم کر دیا ہے۔ ہسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر سجاد احمد آفریدی نے ایمرجنسی کا دورہ بھی کیا اور متعلقہ انچارج کو انجیکشن فراہم کیا۔سجاد احمد آفریدی نے کہا کہ ادارے کا بنیادی مشن ہزارہ کی عوام کو ان کے اپنے شہر میں معیاری اور جدید طبی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ مریضوں کو علاج کے لئے دور دراز شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ فالج کے مریضوں کے لئے TPA انجیکشن انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے جو فالج ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر لگایا جاتا ہے اور بروقت استعمال کی صورت میں مریض کی جان بچانے اور معذوری کے خطرات کم کرنے میں انتہائی مؤثر ثابت ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ انجیکشن نہایت مہنگا ہوتا ہے تاہم ایوب ٹیچنگ ہسپتال کی انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اسے ہزارہ کی عوام کو بالکل مفت فراہم کیا جائے گا تاکہ ہر مریض کو بروقت علاج کی سہولت میسر آ سکے۔ڈاکٹر سجاد احمد آفریدی نے اس موقع پر فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کی کاوشوں کو بھی سراہا جن کی محنت سے اس اہم اور زندگی بچانے والی دوا کی دستیابی ممکن بنائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں اس سہولت کی فراہمی مریضوں اور ان کے لواحقین کے لئے ایک بڑی سہولت ثابت ہوگی اور ہسپتال میں جدید ایمرجنسی کیئر کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔اس موقع پر ایسوسی ایٹ ہسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر داود اقبال، نرسنگ ڈائریکٹر مہتاب سکندر، ایمرجنسی انچارج ڈاکٹر جنید سرور ملک، ایچ او ڈی ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر خرم، فارمیسی ہیڈ آصف نواز اور دیگر شعبہ جات کیسربراہان بھی موجود تھے۔ماہرین کے مطابق فالج کے مریضوں کو بروقت TPA انجیکشن لگانے سے نہ صرف مریض کی حالت میں تیزی سے بہتری آنا شروع ہو جاتی ہے بلکہ مستقل معذوری کے امکانات بھی نمایاں حد تک کم ہو جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے دنیا بھر میں اسٹروک کے علاج میں اس انجیکشن کو انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔ہسپتال انتظامیہ کے مطابق بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عابد جمیل اور بورڈ ممبران کی رہنمائی میں ادارہ مسلسل ایسے اقدامات کر رہا ہے جن کا مقصد ہزارہ کی عوام کو جدید طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔دریں اثنا انتظامیہ نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی صحت کے شعبے میں مزید جدید سہولیات اور اہم منصوبے متعارف کروائے جائیں گے تاکہ ایوب ٹیچنگ ہسپتال حقیقی معنوں میں عوام کو بہترین طبی خدمات فراہم کرنے والا ادارہ بن سکے۔یہ اقدام درحقیقت ہزارہ کی عوام کے لئے ایک بڑی سہولت اور امید کی کرن ہے۔
