Home Blog Page 370

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا: ریسکیو 1122 کو جدید مشینری اور ایمرجنسی گاڑیاں فراہم، موٹر بائیک ایمبولینس سروس کی توسیع کا اعلان

وزیر اعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے ریسکیو 1122 کیلئے خریدی گئی جدید ترین سپیشلاائزڈ مشینری اور ایمرجنسی گاڑیاں ریسکیو1122 کو حوالے کردی ہیں۔ اس سلسلے میں منگل کے روز وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیاجس میں وزیراعلیٰ نے باضابطہ طور پر مشینری اور دیگر آلات ریسکیو حکام کے حوالے کئے ۔ صوبائی وزیر میاں خلیق الرحمن ، وزیراعلیٰ کے مشیر زاہد چن زیب کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام اور ریسکیو اہلکاربھی تقریب میں شریک ہو ئے ۔ وزیراعلیٰ کو ریسکیو حکام کی جانب سے جدید مشینری بارے بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ سپیشلاائزڈ آلات اور مشینری نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ کے تعاون سے خریدے گئے ہیں جن میں سات عدد فور بائی فور ایمبولینس ، دو عدد فور بائی فورفائر ٹرک ، تین عدد سنو ریمول وہیکل ، ایک عدد ہیوی ڈیوٹی کرین ، پانچ عدد ریسکیو بوٹس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سات عدد آکسیجن ری فلنگ پلانٹس، چارعدد ریسکیو سرولینس ڈرونز ، تین عدد سائٹس سکین سونر ،30 سے 150 ٹن استعداد کے حامل 11 عدد لفٹنگ بیگز ، 50 سے 150 ٹن کی استعداد کے حامل نو عدد ہائیڈرلک جیکس اور سات عدد لائف اینڈ موشن ٹریسر بھی نئے آلات میں شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ کو بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ سپیشلاائز ڈ مشینری اور آلات صوبے کے سات ڈویژنز کو فراہم کئے جائیں گے ۔ وزیراعلیٰ نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے میں ریسکیو1122کے کردار کو قابل ستائش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان سپیشلاائزڈ آلات اور مشینری کی فراہمی سے ایمرجنسی خدمات فراہمی مزید موثر انداز میں ممکن ہو گی ۔ اُنہوںنے کہاکہ ریسکیو1122 کو مستحکم بنانا اور اسے تمام ہنگامی صورتحال سے موثر انداز میں نمٹنے کے قابل بنانا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے اور حکومت اس مقصد کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی ۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ریسکیو1122 صوبائی حکومت کا ایک اہم اور بہترین ادارہ ہے ، اس کو مزید مضبوط بنایا جائے گا ۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے موٹر بائیک ایمبولینس سروس کو صوبے کے تمام اضلاع تک توسیع دینے کی اُصولی منظوری دی ہے ۔ اس کے علاوہ اُنہوںنے صوبے کی تمام تحصیلوں میں فائر بریگیڈ گاڑیوں کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھانے کی بھی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے ریسکیو 1122 ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 50 سال سے بڑھا کر 60 سال کرنے اور ریسکیو ملازمین کورسک الاﺅنس دینے کی اُصولی منظوری دیتے ہوئے معاملہ حتمی منظوری کیلئے صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

ذہین طلباء کے لیے سنٹر آف ایکسیلنس پروگرام، مفت تعلیم اور سہولیات کی فراہمی کا اعلان

مینجنگ ڈائریکٹر مرجڈ ایریاز ایجوکیشن فاؤنڈیشن میاں عین اللہ نے کہا ہے کہ قبائدی اضلاع کے کمیونٹی سکولز کے ذہین طلباء و طالبات کو سنٹر اف ایکسیلنس صوبے کے بہترین تعلیم اداروں میں پائلٹ پراجیکٹ کے تحت گریڈ-6 سے گریڈ-10 تک مفت تعلیم اور دیگر تمام سہولیات فراہم کی جائے گی۔ اور منتخب شدہ طلباء و طالبات کے تمام تر اخراجات مرجڈ ایریاز ایجوکیشن فاؤنڈیشن برداشت کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پائلٹ کے تحت تمام قبائلی اضلاع اور سب ڈویژن سے ایٹا ٹیسٹ کے ذریعے 20 طلباؤ و طالبات کو منتخب کیا جائے گا اور پراجیکٹ کی کامیاب تکمیل کے بعد پروگرام کو ایف اے ایف ایس سی لیول تک توصیع دی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرجڈ ایریاز ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کی۔ اجلاس میں ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران ایڈیشنل سیکرٹری فیاض خان، ایڈیشنل ڈائریکٹر شیردراز خان، ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر مرجڈ ایریاز ایجوکیشن فاؤنڈیشن ڈاکٹر شوکت حیات، ڈپٹی ڈائریکٹرز جاوید اقبال اور عبدالرحیم نے شرکت کی۔ اجلاس میں مرجڈ ایریاز ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے سال 2024-25 بجٹ کی منظوری دی گئی۔ اسی طرح اجلاس میں مڈل کمیونٹی سکولز پروگرام کی بھی منظوری دی گئی۔ جس کی تفصیل دیتے ہوئے ایم ڈی نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے کمیونٹی سکولز کے وہ طلباء و طالبات جو پرائمری تک تعلیم حاصل کرتے ہیں اور پھر ہائی لیول تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ان کو وزیر تعلیم اور سیکرٹری تعلیم کے ویژن کے مطابق مڈل سکول پروگرام کے تحت اپنے ہی علاقوں میں ہائی لیول تعلیم حاصل کرنے کے مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔ ڈراپ آؤٹ ریشو کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی اور قبائلی اضلاع میں شرح خواندگی بڑھانے میں بھی یہ پروگرام معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پرو گرام قبائلی اضلاع اور سب ڈویژن کے منتخب 25 سکولوں میں شروع کیا جائے گا جس کے لیے تمام تر انتظامات مکمل ہیں۔ فاؤنڈیشن کے تیسرے منظور شدہ پروگرام سباون سکول پروگرام کے حوالے سے مینجک ڈائریکٹر میاں عین اللہ نے کہا کہ اس پروگرام میں قبائلی اضلاع اور سب ڈویژنز کے منتخب 25 پرائمری اور مڈل سکولوں کے طلباء و طالبات کو ٹیوشن فیس کی مد میں پرائمری لیول پر 1500 اور مڈل لیول پر 2000 روپے فیس فاؤنڈیشن ادا کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پروگرام کے تحت وہ علاقے جہاں پر سرکاری اور کمیونٹی سکولز موجود نہ ہو وہاں پر نجی سکولوں میں طلباؤ و طالبات کو داخل کروا کر ٹیوشن فیس کی ادائیگی مرجڈ ایریاز ایجوکیشن فاؤنڈیشن کرے گی۔ مینیجنگ ڈائریکٹر میاں عین اللہ نے مزید کہا کہ ان نئے پروگرام سے قبائل اضلاع میں تعلیمی شرح میں بہتری آئے گی اور طلباء و طالبات کو بہترین تعلیمی سہولیات ان کے علاقوں میں ملے گی۔ اجلاس میں تینوں پروگرامز کی منظوری کے ساتھ ساتھ فاؤنڈیشن ملازمین کے لیے سال 2024 ایڈہاک ریلیف کی منظوری بھی دی گئی۔

وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے سول انتظامیہ کو عوامی ایجنڈا دے دیا، فوری عملدرآمد کا حکم

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت سول انتظامیہ کا اہم اجلاس پیر کے روز سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ چیف سیکرٹری، آئی جی پی، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز اور انتظامی سیکرٹریز کے علاوہ تمام ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز نے اجلاس میں شرکت کی جس میں وزیر اعلیٰ نے سول انتظامیہ کو اپنی حکومت کا ایجنڈا دے دیا اور اس پر عمل درآمد کے سلسلے اہم ہدایات جاری کیں ۔ اجلاس میں اس عوامی ایجنڈے پر عملدرآمد کے لئے ڈپٹی کمشنرز کو ٹائم لائنز کے ساتھ ذمہ داریاں تفویض کی گئیں اور اُنہیں مزید مالی و انتظامی اختیارات بھی دے دیئے گئے۔ ایجنڈے پر عملدرآمد کے سلسلے میں تمام انتظامی محکمے ضلعی انتظامیہ کو بھر پور سپورٹ فراہم کریں گے۔صوبائی سطح کے معاملات سے متعلق ڈپٹی کمشنرز کی رپورٹ اور تجاویز پر انتظامی سیکرٹریز فوری کارروائی عمل میں لائیں گے۔ اجلاس میں کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو وزیر اعلیٰ کے ‘عوامی ایجنڈے’ کے تمام پہلوو¿ں، عملدرآمد کے طریقہ کار، ٹائم لائنز، ذمہ داریوں اور اختیارات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کے شرکاءکو بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ کا یہ’ عوامی ایجنڈا’ صوبے میں گڈ گورننس کو یقینی بنانے کے لئے ایک جامع پروگرام ہے۔ عوامی ایجنڈا گڈ گورننس کے لئے گیارہ مختلف نکات پر مشتمل ہے جس میں سروس ڈیلیوری کے تمام شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ان نکات میں عوامی خدمات کے عمومی معاملات کے علاوہ صفائی ستھرائی، عوامی سہولت، ریونیو معاملات، پبلک سروس ڈیلیوری، کوالٹی کنٹرول، فوڈ اینڈ پرائس کنٹرول اور دیگر شامل ہیں۔ ڈپٹی کمشنرز اضلاع کی سطح پر تمام سرکاری دفاتر میں وقت کی پابندی اور عملے کی حاضری کو ہر صورت یقینی بنائیں گے۔ اوپن ڈور پالیسی کے تحت سرکاری دفاتر اور حکام تک عوام کی رسائی آسان بنائی جائے گی۔ علاوہ ازیں کھلی کچہریوں کا انعقاد باقاعدگی سے کیا جائے گا۔اضلاع کی سطح پر تمام خالی آسامیوں کو جلد سے جلد پر کیا جائے گا۔ تمام سرکاری امور اور کیسز مقررہ مدت کے اندر نمٹائے جائیں گے۔ مزید برآں ڈپٹی کمشنرز اپنے اضلاع میں تمام صوبائی محکموں کے علاوہ وفاقی اداروں کے بارے میں صوبائی حکومت کو رپورٹس بھیجیں گے۔ تمام اضلاع میں ٹی ایم ایز کی سطح پر سنییٹیشن پلانز ترتیب دئے جائیں گے۔ اسی طرح شہری علاقوں میں صفائی کی خصوصی مہمات چلائی جائیں گی جبکہ اسپورٹس گراو¿نڈزز اور پبلک پارک سمیت تمام سرکاری عمارتوں بشمول ہسپتالوں اور اسکولوں کی بحالی، تزین و آرائش اور مرمت کے لئے ایکشن پلانز ترتیب دے کر مقررہ مدت میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ سڑکوں پر نصب کھمبوں پر تشہیری مواد لگانے پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ تمام عمارتوں میں پانی کی ٹینکیوں کی صفائی اور کلورینیشن کی جائے گی۔ اس کے علاوہ پروگرام کے تحت بس اڈوں میں صفائی اور وہاں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔ تمام غیر فعال اسٹریٹ لائٹس کو ٹھیک کیا جائے گا اور سڑکوں سے غیر ضروری اسپیڈ بریکرز ہٹائے جائیں گے۔ تمام غیر قانونی پارکنگ اسٹینڈ زختم کئے جائیں گے اور غیر قانونی بل بورڈز ہٹائے جائیں گے۔ تمام وال چاکنگز ختم کی جائیں گے اور دیواروں پر خوبصورت پینٹنگز بنائی جائیں گی۔ سڑکوں پر بنے کھڈوں کو ختم کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔ اس سال نومبر تک لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن کو 100 فیصد مکمل کیا جائے گا جبکہ صوبہ بھر میں سرکاری زمینوں اور اوقاف کی جائیدادوں کی نشاندہی اور جی آئی ایس میپنگ کی جائے گی۔ سرکاری زمینوںسے غیر قانونی قبضہ ختم کرنے کے لئے مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ محافظ خانوں میں ریکارڈ کو محفوظ بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔ تمام اضلاع میں ماہانہ ریونیو دربار منعقد کئے جائیں گے اور پٹوار خانوں کا باقاعدگی سے معائنہ کیا جائے گا۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ تمام پٹوار خانے متعلقہ حلقوں میں منتقل کئے جائیں گے، کوئی بھی پٹوار خانہ متعلقہ حلقے سے باہر نہیں ہوگا۔ دورہ عام کے شیڈولز تمام ریونیو آفسز میں آویزاں کئے جائیں گے اور سوشل میڈیا پر ان کی تشہیر کی جائے گی۔ دو سالوں سے زائد ایک جگہ پر تعینات تمام ریونیو عملے کو تبدیل کیا جائے گا۔ ریونیو سے متعلق تمام سرکاری سروس چارجز کی تفصیل عام کی جائے گی۔ اسی طرح ضلعی انتظامیہ کے حکام ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، جیلوں، یتیم خانوں، بحالی مراکز، فنی تربیتی اداروں سمیت عوامی خدمات کے دیگر تمام مراکز کا معائنہ کریں گے۔ عطائیوں، جعلی ادویات، غیر رجسٹرڈ ہسپتالوں اور لیبارٹریوں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔ سڑکوں اور نہروں کے کناروں سمیت تمام سرکاری مقامات پر تجاوزات کی نشاندہی کرکے انہیں ہٹانے کے لئے پلانز بنائے جائیں گے۔ سکولوں اور ہسپتالوں میں ناپید سہولیات کی نشاندہی کی جائے گی۔ ڈسٹرکٹ کونسل کی تمام سڑکوں اور گلیوں کی حد بندی کی جائے گی۔

خیبرپختونخوا کے وزیرِ آبپاشی عاقب اللہ خان کا ضلع صوابی میں طغیانی سے متاٹرہ علاقوں کا دورہ و نقصانات کا جائزہ

سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے بروقت اقدامات یقینی بنائے جائیں، عاقب اللہ خان
خیبرپختونخوا کے وزیرِ آبپاشی عاقب اللہ خان نے گزشتہ رات مون سون بارشوں و سیلابی صورتحال سے متاثرہ ضلع صوابی کے مختلف علاقوں، مانیری بالا، مانیری پایاں اور گوہاٹی کا دورہ کیا اور ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا،ایکسین اریگیشن صوابی، ریسکیو ٹیم اور دیگر متعلقہ حکام بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے متاثرہ لوگوں سے حال احوال معلوم کئے اور موقع پر حکام کو ہدایت جاری کیں کہ ریلیف سرگرمیاں جلد از جلد مکمل کی جائیں اور ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگاکر بحالی کیلئے بھی اقدامات عمل میں لائے جائیں۔صوبائی وزیر نے ریسکیو 1122 کے اور محکمہ آبپاشی کے بہادر جوانوں کا شکریہ ادا کیا کہ وہ پوری ایمانداری سے بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں، انہوں نے کہا کہ تمام محکمے اور لوگ عوام کی خدمات کے لیے ہیں۔عاقب اللہ خان نے مقامی لوگوں سے بھی بھر پور تعاون یقینی بنانے پر زور دیا۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کا متعارف کردہ آئی پی پیز ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے، آئی پی پی پیز اشرافیہ کے غضب کرپشن کا دوسرا نام ہے، 90 کی دہائی میں سیاسی اشرافیہ نے آئی پی پیز کیساتھ معاہدے کرکے عوام پر مسلط کیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ 1994، 2002 اور 2015 میں آئی پی پی پیز کوکون لایا اور معاہدوں کی تجدید کس نے کی، حکومت اور آئی پی پیز کیساتھ معاہدے کرکے کن سیاستدانوں اور اہم شخصیات نے پیسہ بنایا۔ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ بااثر خاندانوں اور شخصیات کی وجہ سے 30 سالوں میں ایک بار بھی آئی پی پیز کا آڈٹ نہیں کرایا گیا حالانکہ آڈٹ ہونا چاہیے کہ جن آئی پی پیز کے معاہدے ختم ہوئے ان کے دوبارہ کس کے کہنے پر نئے کنٹریکٹ ہوئے۔مشیر اطلاعات نے کہا کہ آئی پی پی پیز کے کنٹریکٹ فوری فی الفور منسوخ کر کے ان کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیئے، آئی پی پی پیز ملک کی معاشی تباہی کی علامت بن چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بالکل واضح ہے کہ تحقیقات کے نتیجے میں مشہور زمانہ شریف اور زرداری خاندان اور انکے حواری ہی نکلیں گے۔انہوں نے کہا کہ 2012 میں سپریم کورٹ نے آئی پی پی پیز کی مد میں اشرافیہ کی کرپشن آشکارا کی تھی تاہم اشرافیہ اتنے مضبوط ہیں کہ آج بھی آئی پی پی پیز کے ذریعے ملکی دولت لوٹ رہے ہیں۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ نا اہل مینڈیٹ چور حکمرانوں کے پاس انرجی سیکٹر میں ریفارمز لانے کے لئے کوئی پلان نہیں اسی لئے انرجی سیکٹر میں نااہل ٹولے کی غلط پالیسیوں اور معاہدوں کی وجہ سے عوام رل رہے ہیں اور عوام اوور بلنگ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سامنے کررہے ہیں۔مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ آئی پی پی پیز کا مینڈیٹ ملک سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ تھا، لوڈشیڈنگ بھی ختم نہ ہوئی اور آئی پی پی پیز کو دھڑا دھڑ پیسے بھی دئیے جارہے ہیں۔

کے پی فوڈ اتھارٹی کا صوبہ بھر میں دودھ فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن، اب تک 72 دودھ کی دوکانیں سیل، لائیسنسز منسوخ، مزید کاروائیاں جاری

ڈائریکٹر جنرل اور ڈپٹی کمشنر پشاور کی نگرانی میں دودھ میں ملاوٹ مافیا پر چھاپے
دودھ میں ملاوٹ جیسے گھناؤنے کاروبار میں ملوث عناصر نے اگر کاروائیوں کے دوران کار سرکار میں مداخلت کی تو مزید سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی، ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید
خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے دودھ سامپلز کلکشن اور ٹیسٹنگ مہم کے اختتام پر صوبہ بھر میں دودھ فروشوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے اور دودھ کے نمونوں کے تجزیے کی تفصیلی رپورٹ میں بلیک اور ریڈ کیٹگری کے دودھ فروشوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ترجمان فوڈ اتھارٹی نے کاروائیوں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ فوڈ سیفٹی ٹیموں نے اب تک صوبے میں 72 دودھ سے وابستہ کاروباروں کو سیل کر دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پشاور ڈویژن میں ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید اور ڈپٹی کمشنر پشاور سرمد سلیم اکرم کی نگرانی میں چھاپے مارے گئے جس کے نتیجے میں 23 دودھ کی دوکانیں سربمہر کی گئیں اسکے علاوہ مردان ڈویژن میں 14، سوات میں 8، ہزارہ میں 21، کوہاٹ میں 1 اور ڈی آئی خان میں 5 دودھ فروشوں کی دوکانیں سیل کی گئی ہیں۔ترجمان نے مزید بتایا کہ بلیک اور ریڈ کیٹگری کے دودھ فروشوں کے لائسنسز بھی منسوخ کر دئیے گئے ہیں اور بھاری جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے خبردار کیا ہے کہ دودھ میں ملاوٹ جیسے گھناؤنے کاروبار میں ملوث عناصر نے اگر کاروائیوں کے دوران کار سرکار میں مداخلت کی تو مزید سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔واضح رہے کہ کے پی فوڈ اتھارٹی نے دس روزہ دودھ سامپلز کلکشن اور ٹیسٹنگ مہم کے دوران صوبہ بھر سے بڑے اور درمیانی سطح کے دودھ سے وابستہ کاروباروں سے 583 دودھ کے نمونے ٹیسٹ کیے اور ٹوٹل نمونوں کا تقریباً 93 فیصد یعنی 541 دودھ کے نمونے غیر معیاری اور مضر صحت رپورٹ ہوئے تھے جبکہ صرف 7 فیصد یعنی 42 نمونے تسلی بخش قرار پائے گئے۔ترجمان نے بتایا کہ غیر معیاری اور ملاوٹی دودھ فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور اس مہم کا مقصد عوام کو معیاری اور خالص دودھ کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔

صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ پیرامیڈیکل سٹاف محکمہ صحت کے شعبے کا ایک اہم جز ہے

صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ پیرامیڈیکل سٹاف محکمہ صحت کے شعبے کا ایک اہم جز ہے اور فرسٹ ایڈ کے ساتھ ساتھ مریضوں کی صحت یابی کے لیے پیرامیڈیکل سٹاف کی کوششیں قابل تعریف ہیں، صوبائی حکومت ہسپتالوں کے مسائل کو حل کرنے اور صحت کے معیار کوبہتر بنانے کیلئے بھر پورکوشش کررہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سنٹرل ہسپتال سیدو شریف میں سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال کے انصاف پیرا میڈیکس/ الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز فورم ایسوسی ایشن کے نومنتخب عہدیداران کی حلف برداری کے موقع پر منعقدہ تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر چیئرمین ڈیڈیک سوات اختر خان ایڈوکیٹ، سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو پروفیسر ڈاکٹر اسرار الحق، ایم ایس ڈاکٹر شرافت علی خان، پیرا میڈیکل انسٹیٹیوٹ کے سربراہ ڈاکٹر شیراز، ڈی ایم ایس سنٹرل ہسپتال ڈاکٹر فاروق، طارق خان، ایاز خان، برکت خان سمیت میڈیکل سٹاف اور ڈاکٹروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے نو منتخب عہدیداروں سے حلف لیا۔ انہوں نے کہا کہ انصاف پیرامیڈیکس فورم سیاست سے بالاتر ہو کر صحت کے شعبے میں اپنی خدمات کا سلسلہ جاری رکھے، سیدو ٹیچنگ ہسپتال کی بہتری کیلئے ہمیں مشترکہ طور پر جدوجہد کرنا ہوگی۔ تقریب میں نو منتخب انصاف پیرا میڈیکس/ الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز فورم ایسوسی ایشن کے صدر طارق خان اور جنرل سیکرٹری محمد ایاز نے سپاس نامہ پیش کیا۔

بنوں واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کے لئے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کو خط لکھیں گے، بیرسٹرڈاکٹر سیف

 وزیراعلی آج بروز جمعہ بنوں کا دورہ کرینگے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف کی پریس کانفرنس

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں صوبے میں امن و امان اور بنوں واقعے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بنوں میں دو نا خوشگوار واقعات پیش آئے ایک واقعہ 15جولائی کو بنوں کینٹ پر دہشتگردوں کے حملے کا تھا جس کا مقابلہ کرتے ہوئے سیکیورٹی اہلکاروں نے تمام حملوں آوروں کو ہلاک کیا۔ دہشتگردوں کیساتھ مقابلے میں فوجی جوان بھی شہید ہوئے جبکہ 19 جولائی کو مقامی تاجروں نے بنوں میں غیر سیاسی امن مارچ کی کال دی جس میں مقامی افراد نے بھرپور شرکت کی۔ امن مارچ کے اختتام پر دوسرا ناخوشگوار ا واقعہ پیش آیا،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ نے مظاہرین کے نامزد کردہ قبائلی عمائدین پر مشتمل وفد سے مذاکرات کئے جبکہ اس تمام عمل کی نگرانی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا خود کررہے تھے۔قبائلی عمائدین پر مشتمل وفد کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے اپیکس کمیٹی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔ اپیکس کمیٹی اجلاس کے فیصلوں کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے بیرسٹر سیف نے کہا کہ دہشتگرد ہر روپ میں قابل مذمت ہیں اور ان کے خلاف بلا تفریق کاروائی کی جائے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ نے پولیس کو احکامات دئیے ہیں کہ اگر کوئی بھی غیر سرکاری شخص مسلح پایا گیا تو اسے گرفتار کر کے سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔ مزید براں، کسی بھی غیر سرکاری مسلح گروہ کے دفاتر، اڈے یا چیکنگ غیر قانونی ہے اور ان کے خلاف پولیس بلا تفریق ایکشن لے گی۔ یہ امر تمام صوبے کیلئے ہے۔ آپریشن کے متعلق عسکری اداروں نے واضح بتادیا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں اس لئے صوبے میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا۔ مقامی طور پر دہشتگرد عناصر کے خلاف کاروائی پولیس اور سی ٹی ڈی کریں گی جس مقصد کیلئے انکی استعداد بشمول نفری، گاڑیاں، بکتر بند، آتشیں ہتھیار بڑھائیں جارہے ہیں۔ البتہ کچھ علاقوں کی نوعیت، جغرافیہ اور بارڈر سے نزدیکی ایسی ہے کہ افواج پاکستان کی مدد کے بغیر کاروائی ممکن نہیں۔ ایسی صورت میں حالات کے مطابق کاروائی کی جائے گی تاکہ سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کی استعداد اس قابل ہوسکے۔پولیس کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ فوری طور پر باقاعدہ اور ہمہ وقت گشت کو یقینی بنائے اور موجودہ نفری اور گاڑیوں کے تمام صوبہ بشمول جنوبی اضلاع کو ترجیحی بنیادوں پر اضافی مدد فراہم کرے۔ نئی آسامیوں کی تخلیق میں بھی ان تمام علاقوں کو ترجیح دی جارہی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ مشکوک علاقہ جات و مدارس پر کاروائی CTD کی ذمہ داری ہے اور یہ کاروائی CTD کرے گی۔چونکہ سرحدی قبائلی اضلاع کے عوام مقامی قبائل کے ساتھ تجارت پر انحصار کرتے ہیں جس کیلئے مختلف سرحدوں پر نقل و حرکت ہوتی رہی ہے۔ جیسے کہ طورخم، خرلاچی، انگوراڈہ۔ اسی طرح غلام خان اور باجوڑ و مہمند کے روایتی بارڈرز پر بھی تجارت کی اجازت دی جائے(اس سلسلے میں کیس وفاقی حکومت کے پاس پہلے سے پیش ہے)۔ اس سے مقامی روزگار ملے گا اور خوشحالی بھی آئے گی اور قانونی کاروبار سے سمگلنگ کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی اور محصولات میں بھی آمدن ہوگی۔عوام اور اداروں کے مابین بعض اوقات غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں جن کا فوری اور مقامی حل نہایت ضروری ہے۔ ہر کمشنر کی سطح پر کمیٹیاں مقرر ہونگی جن میں عوامی نمائندے، سول، عسکری اور پولیس کے نمائندے ہونگے جو ایسے کسی بھی واقعہ یا مسئلہ پر فوری جرگہ بلائیں گے اور قابل عمل حل نکالیں گے۔ تاکہ عوام اور تمام ادارے ملکی امن اور ترقی کیلئے ہم آہنگی سے مشترکہ لائحہ عمل بناکر آگے بڑھ سکیں۔ ایسی کمیٹیاں ضلعی سطح پر بھی تشکیل دی جائیں گی۔ بنوں واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کیلئے عدلیہ کو درخواست دی جائے گی۔ تاہم حکومت اپنی انکوائری بھی کرائے گی اور ذمہ داران کا تعین کر ے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت اور خصوصا وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے عزم استحکام کی طرح بنوں واقعے پر بھی سیاست چمکانے کی کوشش کی اور انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیانات دئے۔ اتنے اہم قومی معاملے پر غیر ذمہ دارانہ بیانات دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس ٹولے نے ہمیشہ سیاسی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دی حالانکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈاپور کی بروقت مداخلت سے بنوں میں حالات سازگار ہوگئے تھے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف عملی اقدامات کی بجائے صرف سیاسی بیان بازی سے کام لے رہے ہیں ملکی سرحدات پر وفاقی ادارے تعینات ہیں مگر وفاقی حکومت خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف زہریلہ پروپیگنڈا کر رہی ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و پرو چانسلر میناخان آفریدی کی زیر صدارت یونیورسٹی آف سوات کے سینیٹ اراکین

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و پرو چانسلر میناخان آفریدی کی زیر صدارت یونیورسٹی آف سوات کے سینیٹ اراکین نے یونیورسٹی کے سال 25-2024 کیلیے 900.709 ملین روپے کے بجٹ کی متفقہ طور پر منظوری دیدی جمعرات کے روز کے یوینورسٹی آف سوات کی سینیٹ اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں صوبائی وزیر لائیوسٹاک اینڈ فشریز فضل حکیم خان، یونیورسٹی وائس چانسلر، محکمہ اعلی تعلیم، خزانہ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آبادکے نمائندہ سمیت سینیٹ کے دیگر اراکین نے شرکت کی اجلاس میں یونیورسٹی کی سال25 -2024 بجٹ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ یونیورسٹی کی سال 24-2023 کا بھی جائزہ لیا گیا بریفنگ میں یونیورسٹی کی عملے کی تنخواہوں اور دوسرے اخراجات پر تفصیل سے گفتگو ہوئی صوبائی وزیر میناخان آفریدی نے یونیورسٹی کی سال 24-2023 کے بجٹ کو اے جی اور تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کے احکامات جاری کئے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی اور پاکستان تحریک انصاف ضلع دیر کے صدر ملک لیاقت علی خان نے کہا

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی اور پاکستان تحریک انصاف ضلع دیر کے صدر ملک لیاقت علی خان نے کہا ہے کہ بہبود آبادی کا براہِ راست تعلق عوام سے ہے محکمہ بہبود آبادی کے تمام پروگراموں کا مقصد عوام کی فلاح اور آنے والی نسلوں کی بہترین نشوونما کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مانع حمل ادویات کے درست استعمال اور صحت مندانہ زندگی کی بسر کے لیے لوگوں میں آگاہی اور شعور پیدا کرنے کے لیے بہترین اور موثر انداز میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں مختلف مکتبہ فکر کے وفود سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں محکمہ بہبود آبادی کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔معاون خصوصی نے کہا کہ آبادی میں بے تحاشہ اضافے کو کنٹرول کرنے کے لیے محکمہ بہبودِ آبادی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے آبادی کے اضافے پر کنٹرول حاصل کرنے سے عوام کی اجتماعی صحت اور معاشی و معاشرتی حالت میں بہتری لائی جا سکتی ہیں۔ ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ عوامی فلاح کے لیے موجودہ وسائل کی تقسیم اور عوام میں بہبودِ آبادی کے حوالے سے شعور مزید بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھا رہے ہیں پورے صوبے میں بہبودِ آبادی کے مراکز کی عوام کیلئے دستیابی کومزید قریب کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر متعلقہ سہولیات میسر ہو سکیں۔