خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کے طلبہ کے لیے دو نئی بسوں کا تحفہ دیا ہے، جس کا مقصد طلبہ کی بروقت اور محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانا ہے۔بسوں کی چابیاں ایک سادہ مگر پُروقار تقریب کے دوران گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر کے حوالے کی گئیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان افریدی نے کہا کہ طلبہ کو بہترین تعلیمی اور سفری سہولیات فراہم کرنا صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ طلبہ قوم کا مستقبل ہیں اور انہیں غیر ضروری سرگرمیوں کے بجائے اپنی تعلیم، مقاصد اور کردار سازی پر توجہ دینی چاہیے تاکہ وہ ملک و صوبے کی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔وزیر اعلیٰ تعلیم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا کی جامعات میں سہولیات کی فراہمی اور تعلیمی ماحول کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا
سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کے وژن کے مطابق صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ میں افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں بہتری کے لیے دو ہفتوں پر مشتمل مینڈیٹری تربیتی پروگرام کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کے وژن کے مطابق صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ میں افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں بہتری کے لیے دو ہفتوں پر مشتمل مینڈیٹری تربیتی پروگرام کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔ اس تربیتی پروگرام میں صوبائی اسمبلی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افسران نے شرکت کی جبکہ پروگرام پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پارلیمانی سروسز کی سرپرستی میں منعقد کیا گیا۔تربیتی پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری خیبرپختونخوا اسمبلی سید وقار شاہ نے کہا کہ اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کے وژن کے مطابق اسمبلی ملازمین کے لیے باقاعدہ ایکٹ متعارف کروایا گیا ہے جس کے تحت تمام کیڈرز کے افسران کی ترقی کے لیے مینڈیٹری ٹریننگ کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تربیت کے دوران افسران کو آئینِ پاکستان کا جامع اوور ویو، خیبرپختونخوا اسمبلی قوانین، خیبرپختونخوا رولز آف گورننس، ریڈنگ اور رائٹنگ اسکلز، لیجسلیٹو ڈرافٹنگ، آفس مینجمنٹ، ڈیجیٹل ڈیموکریسی، پریزینٹیشن سکلز اور دیگر متعلقہ موضوعات پر تربیت فراہم کی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ اس تربیتی پروگرام کا بنیادی مقصد اسمبلی ملازمین کی استعدادِ کار میں اضافہ، ان کی خود اعتمادی کو فروغ دینا اور انہیں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا تھا، جبکہ مختلف شعبہ جات کے ماہرین نے افسران کو عملی اور نظریاتی دونوں سطحوں پر رہنمائی فراہم کی۔تربیتی پروگرام کی اختتامی تقریب میں اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے تربیت کامیابی سے مکمل کرنے والے افسران میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے۔ اس موقع پر ایم پی اے نزیز عباسی اور ایم پی اے ثوبیہ شاہد بھی اسپیکر کے ہمراہ موجود تھیں۔ اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پارلیمانی سروسز کے عملے کا شکریہ ادا کیا اور تربیت میں شریک تمام افسران کی کارکردگی کو سراہا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سپیکر بابر سلیم سواتی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا اسمبلی سیکریٹریٹ ایک مثالی اور بہترین ادارے کے طور پر سامنے آئے اور کوئی بھی ادارہ اسی وقت مضبوط بنتا ہے جب اس کے ملازمین پیشہ ورانہ مہارتوں سے آراستہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی ایک قانون ساز ادارہ ہے جس کی کارکردگی کا براہِ راست اثر عوام کی زندگیوں پر پڑتا ہے، اس لیے اس ادارے کو ہر سطح پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔تربیتی پروگرام کے آخری روز یادگاری گروپ فوٹو سیشن ہوا۔ یہ مینڈیٹری تربیتی پروگرام کا پہلا بیج تھا جبکہ مستقبل میں بھی اس سلسلے کو جاری رکھا جائے گا۔ تمام شرکاء نے اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس تربیت سے نہ صرف ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوا بلکہ انہوں نے بہت کچھ نیا سیکھا، اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنایا اور اپنی کمزوریوں کو پہچاننے میں بھی مدد ملی۔
خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیرِ صدارت قانون ساز کمیٹی کے دو اہم اجلاس منعقد ہوئے
خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیرِ صدارت قانون ساز کمیٹی کے دو اہم اجلاس منعقد ہوئے جن میں صوبے میں قانون سازی، عدالتی اصلاحات اور بلدیاتی انتخابات سے متعلق اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاسوں میں ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل اتمان خیل، سیکرٹری محکمہ قانون، سیکرٹری محکمہ بلدیات، سیکرٹری بورڈ آف ریونیو، سابق صوبائی محتسب جمال الدین شاہ، محکمہ قانون، محکمہ بلدیات اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔پہلے اجلاس میں خیبر پختونخوا کورٹ فیس (ترمیمی) بل 2025 کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران مجوزہ ترمیمی بل کے مختلف قانونی پہلوؤں، عدالتی فیسوں کے موجودہ ڈھانچے اور اس میں اصلاحات کی ضرورت پر سیر حاصل تبادلہ خیال کیا گیا۔ورچوئل ہیرنگ سے متعلق فیسوں میں ممکنہ تبدیلیوں پر سفارشات پیش کی گئیں، تاہم وزیرِ قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے اس امر پر زور دیا کہ کورٹ فیس ایکٹ کا ہائی کورٹ کی شمولیت سے جامع اور تفصیلی جائزہ لیا جائے تاکہ ضروری ترامیم کے ذریعے قانون کو مزید مؤثر اور مضبوط بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی کی تشکیل پر بھی اتفاق کیا گیا جس میں ہائی کورٹ کے نمائندگان کو شامل کیا جائے گا۔دوسرے اجلاس میں صوبے میں آئندہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں، متعلقہ قانونی ترامیم اور دیگر انتظامی و قانونی امور کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران ایجنڈے کے کلیدی نکات پر تفصیلی مشاورت کی گئی جن میں انتخابی عمل کو درپیش مسائل اور ان کے ممکنہ حل شامل تھے۔کمیٹی نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں مجوزہ ترامیم پر غور کیا تاکہ بلدیاتی انتخابات کو مزید شفاف، مؤثر اور عوامی امنگوں کے مطابق بنایا جا سکے۔ وزیرِ قانون نے اس موقع پر زور دیا کہ بلدیاتی نظام کے اسٹرکچر کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ کیا جائے اور اختیارات کی نچلی سطح تک مؤثر اور موزوں تقسیم کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچ سکے۔اجلاس میں قانون سازی کے عمل، مقدمات کی التواء، بعض علاقوں میں امن و امان کی صورتحال، برفباری کے باعث رسائی میں درپیش مشکلات اور ان عوامل کے نتیجے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں حائل رکاوٹوں پر بھی تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان اور مفتی محمود میموریل میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ ڈیرہ اسماعیل خان کے درمیان تعلیمی و تربیتی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے ہیں
گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان اور مفتی محمود میموریل میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ ڈیرہ اسماعیل خان کے درمیان تعلیمی و تربیتی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے ہیں، جس کے تحت فیکلٹی آف الائیڈ ہیلتھ سائنسز، گومل یونیورسٹی کے طلبہ کو اب مفتی محمود میموریل میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ میں انٹرنشپ کے مواقع حاصل ہوں گے۔مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب میں وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات خیبرپختونخوا مینا خان آفریدی سمیت دیگر حکام نے خصوصی شرکت کی۔ گومل یونیورسٹی کی جانب سے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر نے ایم او یو پر دستخط کیے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت خیبرپختونخوا میں الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے شعبے میں معیاری اور ہنر مند طبی ورک فورس تیار کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے گریجویٹس نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں بہترین طبی خدمات انجام دے رہے ہیں، جو صوبے کے لیے باعثِ فخر ہے۔وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے مزید کہا کہ الائیڈ ہیلتھ سائنسز سے وابستہ طلبہ کو درپیش تمام چیلنجز کو مرحلہ وار حل کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں بہتر تعلیمی، عملی تربیتی اور پیشہ ورانہ مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعات اور طبی اداروں کے درمیان اس نوعیت کے اشتراک سے طلبہ کی عملی مہارتوں میں اضافہ ہوگا اور صحت کے شعبے کو مضبوط بنیادیں فراہم ہوں گی۔تقریب کے اختتام پر وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات نے دونوں اداروں کے درمیان اس تعاون کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ اشتراک صوبے میں طبی تعلیم اور صحت کی خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔
خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمٰن کی زیر صدارت محکمہ صحت کے نیوٹریشن پروگرام سے متعلق ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا
خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمٰن کی زیر صدارت محکمہ صحت کے نیوٹریشن پروگرام سے متعلق ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبہ بھر میں غذائی خدمات کی مجموعی کارکردگی، نظامِ کی بہتری اور درپیش انتظامی و عملی مسائل پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔اجلاس کے دوران صوبائی وزیرِ صحت نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ صوبے کے تمام اضلاع میں قائم نیوٹریشن سٹیبلائزیشن سینٹرز (این۔ ایس۔ سی۔ ایس) اور آؤٹ پیشنٹ تھیراپیٹک سینٹرز کی مؤثر، مسلسل اور فعال کارکردگی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے غذائی خدمات کی فراہمی میں موجود خامیوں، خصوصاً کوریج، معیارِ علاج، نگرانی اور سطحِ سہولت رابطہ کاری میں پائے جانے والے نقائص پر سخت نوٹس لیا۔صوبائی وزیرِ صحت نے اس امر پر زور دیا کہ غذائی قلت بالخصوص خواتین اور بچوں میں ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے فوری اصلاحی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ نگرانی کے نظام کو مؤثر بنایا جائے، ضروری غذائی اشیاء اور ادویات کی دستیابی یقینی بنائی جائے، ریفرل سسٹم کو بہتر بنایا جائے اور فیلڈ ٹیموں اور صحت کی سہولیات کے مابین ہم آہنگی کو مزید مضبوط کیا جائے۔ خلیق الرحمٰن نے واضح کیا کہ احتساب اور کارکردگی کی بنیاد پر نظامِ انتظام کو سختی سے نافذ کیا جائے گا اور غذائی خدمات کی بہتری میں کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت نیوٹریشن پروگرام کو صحت اور انسانی ترقی کے مجموعی ایجنڈے کا ایک اہم ستون سمجھتی ہے۔صوبائی وزیرِ صحت نے ترقیاتی شراکت دار اداروں بشمول بی آئی ایس پی،بی این پی،ڈبلیو ایف پی،ڈبلیو ایچ او اور یونیسف کی جانب سے صوبے میں غذائی خدمات کے فروغ کے لیے فراہم کی جانے والی تکنیکی اور مالی معاونت کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مؤثر اشتراکِ عمل کے ذریعے غذائی پروگرامز کو وسعت دینا، رسائی بہتر بنانا اور ان کی پائیداری یقینی بنانا ممکن ہے۔اجلاس کے اختتام پر صوبائی وزیرِ صحت نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ وقت کے تعین کے ساتھ جامع ایکشن پلان مرتب کر کے پیش کیا جائے، تاکہ نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن اور آؤٹ پیشنٹ تھیراپیٹک سینٹرز کی کارکردگی میں واضح بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت کمزور طبقات خصوصاً ماؤں اور بچوں سمیت سب کو معیاری غذائی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام ممکن اقدامات کرے گی۔
ضم شدہ اضلاع کی لڑکیوں کے لیے مالم جبہ میں تاریخی گرلز سکیئنگ و اسنو بورڈنگ کیمپ کا انعقاد
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امورنوجوانان تاج محمدترند نے کہا ہے کہ ضم شدہ اضلاع (سابقہ فاٹا) سے تعلق رکھنے والی بچیوں کے لیے مالم جبہ کی برف پوش ڈھلوانوں پر گرلز سکیئنگ اورسنو بورڈنگ کیمپ کا انعقاد ایک تاریخی اور خوش آئند اقدام ہے، جو نہ صرف کھیلوں کے فروغ بلکہ صحت مند سرگرمیوں کی جانب اہم قدم ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے ڈائریکٹوریٹ آف اسپورٹس ضم شدہ اضلاع کے زیر اہتمام منعقدہ تین روزہ کیمپ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کے موقع پر کیا، کھیلو ں میں ضم شدہ اضلاع سے تعلق رکھنے والی 34 باہمت اور پُرعزم نوجوان لڑکیوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے تاج محمدترند نے کہا کہ یہ اقدام محض کھیل تک محدود نہیں بلکہ ضم اضلاع کی خواتین کو مواقع کے دائرہ کار کو وسعت دینے، سرمائی کھیلوں کے تعارف اور قدامت پسند علاقوں کی لڑکیوں کو اعتماد اور خودمختاری فراہم کرنے کی عملی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیمپ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو ہماری بچیاں ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتی ہیں۔مشیر کھیل نے مالم جبہ اسکی ریزورٹ، جو پاکستان کا واحد سرکاری اسکی ریزورٹ ہے، کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا قدرتی وسائل اور برف پوش پہاڑوں سے مالا مال صوبہ ہے، جہاں سرمائی کھیلوں کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ حکومت مستقبل میں بھی ایسے پروگرامز کے انعقاد کے ذریعے نوجوانوں بالخصوص خواتین کو کھیلوں کی جانب راغب کرتی رہے گی۔واضح رہے کہ کیمپ کی تکنیکی معاونت سمر کیمپ کی جانب سے فراہم کی گئی، جوپیشہ ور خاتون سمر کی نگرانی میں منعقد ہوا۔ سمر خیبر پختونخوا کی پہلی پیشہ ور خاتون سنو بورڈر اور پاکستان کی بین الاقوامی نمائندہ ہیں، جنہوں نے کوچ اور مینٹور کی حیثیت سے شرکاء کی بھرپور رہنمائی کی۔
خیبر پختونخوا کے وزیرِ ابتدائی وثانو ی تعلیم ارشدایوب نے ضلع ہر پور میں بھٹری ڈیم (ریحانہ) پراجیکٹ کا دورہ
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے ضلع ہری پور میں واقع بھٹری ڈیم (ریحانہ) پراجیکٹ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران نے صوبائی وزیر کو منصوبے کی پیش رفت اور مجوزہ ترقیاتی کاموں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔صوبائی وزیر نے بتایا کہ بھٹری ڈیم (ریحانہ) ایک اہم عوامی ترقیاتی منصوبہ ہے جس پر 3 کروڑ 62 لاکھ روپے کی لاگت سے ضروری مرمت اور تزئین و آرائش کا کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے علاقے میں پانی کی قلت پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور مقامی آبادی کو پینے اور دیگر ضروریات کے لیے پانی کی بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔ارشد ایوب خان نے مزید کہا کہ بھٹری ڈیم کے منصوبے کی بدولت علاقے میں سیاحت کو فروغ ملے گا اور عوام کے لیے تفریحی سہولیات بھی دستیاب ہوں گی، جس سے نہ صرف مقامی معیشت مستحکم ہوگی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کر رہی ہے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جا سکیں۔
خیبر میں وزیر اعلی سہیل آفریدی کا تاریخی امن جرگہ عوامی اعتماد کا مظہر ہے، شفیع جان
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ وفاقی وزراء عطا تارڑ اور طلال چودھری کی حالیہ پریس کانفرنسز حقائق کو مسخ کرنے کی ناکام کوششوں کے سوا کچھ نہیں،موجودہ نازک ملکی سیکیورٹی حالات میں جعلی وفاقی وزراء کی بار بار پریس کانفرنسز اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ وفاقی حکومت کی اولین ترجیح ملکی مفاد نہیں بلکہ محض منفی سیاست ہے۔یہاں سے جاری کردہ ایک بیان میں شفیع جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں خیبر میں منعقد ہونے والا تاریخی امن جرگہ عوامی اعتماد اور صوبائی حکومت کی سنجیدہ کاوشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے، تاہم اس مثبت پیش رفت کو بھی وفاقی حکومت سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی نذر کر رہی ہے،وفاقی حکومت کی جانب سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بار بار تنقید کا نشانہ بنانا درحقیقت خیبرپختونخوا کی منتخب قیادت اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے جسے خیبرپختونخوا کے عوام کبھی بھی قبول نہیں کریں گے،انہوں نے کہا کہ ملکی سالمیت کو داؤ پر لگانے والے یہی نااہل حکمران آج وفاق پر مسلط ہیں جو خیبرپختونخوا کے معاملات پر مسلسل منفی سیاست کر رہے ہیں۔ معاون خصوصی نے یاد دلایا کہ پہلے جعلی وفاقی وزراء نے تیراہ کے متاثرین کے معاملے پر صوبائی حکومت کی جانب سے چار ارب روپے ریلیز کرنے پر ڈرامہ رچایا اور اب انہی چار ارب روپے پر کرپشن کا واویلا مچا کر قوم کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں جو وفاقی حکومت کے کھلے تضاد کو بے نقاب کرتا ہے،شفیع جان نے وفاقی حکومت کے حوالے سے آئی ایم ایف رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پانچ ہزار تین سو ارب روپے کی کرپشن پر وفاقی حکومت کی خاموشی اور صوبائی وسائل پر شور مچانا وفاق کے دوہرے معیار کا واضح ثبوت ہے،ملک کے باشعور عوام نے تیراہ کے معاملے پر بھی وفاقی حکومت کے جھوٹے پروپیگنڈے کو مسترد کر دیا ہے۔ مسترد شدہ ٹولہ اپنی کرسی بچانے کے لیے روز نیا سیاسی ڈرامہ رچاتا ہے جسکو باشعور عوام نے بری طرح مسترد کردیا ہے،انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیر قیادت اسٹریٹ موومنٹ محض احتجاج نہیں بلکہ عوامی جنون بن چکی ہے۔ بانی چیئرمین عمران خان کی صحت پر وفاقی حکومت کے ڈرامے کو قوم کبھی معاف نہیں کرے گی، پارٹی کی تمام تر توجہ عمران خان کی رہائی اور ان کے خلاف قائم غیر قانونی مقدمات کے خاتمے پر مرکوز ہے، شفیع جان نے کہا کہ وفاق اور پنجاب پر مسلط مسترد شدہ ٹولے کے دن گنے جا چکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی پرامن سیاسی تحریک جعلی حکمرانوں کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی، اور یہی عوامی جنون ملک میں حقیقی اور پائیدار تبدیلی کا پیش خیمہ بنے گا۔
وادی تیراہ کے بعض علاقوں سے آبادی کی نقل و حرکت کے تناظر میں متاثرہ خاندانوں کی سہولت کیلئے 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں
وادی تیراہ کے بعض علاقوں سے آبادی کی نقل و حرکت کے تناظر میں متاثرہ خاندانوں کی سہولت کیلئے 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان میں سے اب تک متاثرہ خاندانوں کیلئے صرف ٹرانسپورٹ اور ان کے دورانِ سفر تیار خوراک کی فراہمی پر 31 جنوری 2026 تک 92 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ ان اخراجات کا مکمل ریکارڈ ترتیب دیا گیا ہے جس میں ضلعی انتظامیہ اور مقامی مشران کی تصدیق اور وصول کنندہ کے دستخط بمعہ شناختی کارڈ شامل ہیں، تاکہ کسی بھی وقت مکمل آڈٹ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ 2 ارب 40 کروڑ روپے کی رقم متاثرین کو امدادی معاوضہ پیکیج اور ماہانہ معاونت کی مد میں مختص ہے۔ جو خاندانوں کی نادرا کے ذریعے مکمل رجسٹریشن اور تصدیق کے بعد ان کے اکاؤنٹ میں ڈیجیٹل ادائیگی کے ذریعے دی جائیں گی۔ معاوضہ کی ادائیگی میں شفافیت اور مکمل آڈٹ ایبل ریکارڈ ترتیب دیا جا رہا ہے۔ منظور شدہ طریقہ کار کے تحت آلات کی فہرست سازی، سکیننگ، ریکارڈنگ، تنصیب کے بعد تصدیق اور ضلعی انتظامیہ کی نگرانی کو یقینی بنایا گیا ہے، تاکہ ریکارڈ، وسائل اور عوامی فنڈز کا تحفظ یقینی ہو۔
اس امر کاا علان محکمہ امداد، بحالی و آبادکاری خیبر پختونخواکی جانب سے آج یہاں کیاگیا۔
صدر ورلڈ بینک اجے بنگا کا خیبرپختونخوا کے آثار قدیمہ سائٹ خانپور کا دورہ، مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے استقبال کیا
ورلڈ بینک کے صدر نے اہلیہ اور سنئیر حکام کے ہمراہ خیبرپختونخوا کے آثار قدیمہ سائٹ جولیان بدھ مت خانپور کا دورہ کیا۔ اس موقع پر مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم اور ایم این اے فیصل آمین گنڈہ پور نے صدر ورلڈ بینک اجے بنگا کا پرتپاک استقبال کیا۔ دورے میں وفاقی وزیر خزانہ اورنگزیب نے اہلیہ کے ہمراہ شرکت کی۔ اس موقع پر کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ اور ڈائریکٹر جنرل آثار قدیمہ خیبرپختونخوا ڈاکٹر عبد الصمد کے علاؤہ سینئر حکام موجود تھے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے صدر ورلڈ بینک اجے بنگا کو شیلڈ پیش کیا اور صوبے کے معاشی امور بارے اہم تبادلہ خیال کیا۔ ڈائریکٹر جنرل آثار قدیمہ ڈاکٹر عبد الصمد نے ورلڈ بینک صدر کو خیبرپختونخوا کے مختلف آثار قدیمہ سائٹس اور بلخصوص جولیان بدھا سائٹ کے بارے میں تفصیلی بریفننگ دی۔ جس پر صدر ورلڈ بینک نے خیبرپختونخوا میں آثار قدیمہ کے انتظامات اور خدمات کو سراہا اور ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبد الصمد کی تعریف کی۔ ڈاکٹر عبد الصمد نے بریفینگ دیتے ہوئے بتایا کہ قدرت نے خیبرپختونخوا کو آثار قدیمہ کے بےشمار ذخیروں اور مراکز سے بھی نوازا ہے۔ صدر ورلڈ بینک نے خیبرپختونخوا کو ہر ممکن تعاون کی یقین دھانی بھی کرائی اور مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے صدر ورلڈ بینک اجے بنگا کو باقی آثار قدیمہ سائٹس و نورادات دیکھنے کی دعوت بھی دی
