Home Blog Page 416

نگران وزیر اعلی خیبر پختونخوا: شہداء کو خراجِ عقیدت پیش، پولیس جوانوں کی بہادری پر فخر

نگران وزیر اعلی خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس کی تاریخ قربانیوں سے عبارت ہے ، صوبے کے عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے پولیس کانسٹیبلز سے لیکر آفیسر تک نے قربانیاں دی ہیں جن پر پوری قوم فخر محسوس کرتی ہے۔ پولیس جوان ، عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے جان ہتھیلی پر رکھ کر فرائض سرانجام دے رہے ہیں، یہ اس قوم پر پولیس فورس کا احسان ہے۔ اُنہوںنے مزید کہاکہ خیبرپختونخوا پولیس کے جوان جس جوانمردی اور بہادری کے ساتھ دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں، اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت اور پوری قوم پولیس فورس کے شانہ بشانہ کھڑے ہیںاور ہم مل کر اس ناسور اور فتنے کو جڑسے ختم کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوںنے بدھ کے روز پولیس لائنز پشاور میں،پولیس لائنز دھماکے کے شہداءکو خراج عقید ت پیش کرنے کیلئے منعقدہ ایک تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نگران صوبائی وزراءبیرسٹر فیروز جمال شاہ کا کا خیل اور انجینئر احمد جان کے علاوہ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری اور انسپکٹر جنرل آف پولیس اختر حیات خان گنڈا پور نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ نگران وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہاکہ جو قومیں اپنے محسنوں کو بھول جاتی ہیں وہ صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں۔ ہمارے شہداءہمارے محسن ہیں ،ہماری داستان شہداءکی عظیم قربانیوں سے عبارت ہے ۔ اُنہوںنے مزید کہاکہ دشمن کے بزدلانہ حملوں سے خیبرپختونخوا پولیس کے حوصلے پست نہیں ہوں گے اور پولیس جوانوں کا مورال ہمیشہ کی طرح بلند ہے ۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پولیس فورس کو سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ، پولیس فورس کو درپیش مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے اور ان کی تمام تر ضروریات کو بروقت پورا کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اُٹھائے جائیں گے ۔علاوہ ازیں پولیس زخمیوں کے علاج معالجے کے اخراجات بھی صوبائی حکومت برداشت کرے گی، متعلقہ محکموں کو اس سلسلے میں ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے پولیس شہداءویلفیئر فنڈ میں ایک کروڑ روپے جمع کرانے کا اعلان بھی کیا ۔ وزیراعلیٰ نے پولیس لائنز دورہ کے موقع پر یادگار شہداءپر حاضری دی ، یاد گار پر پھول رکھے اور شہداءکے درجات کی بلندی کیلئے فاتحہ خوانی کی۔
قبل ازیں وزیراعلیٰ نے پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام پشاور لائرز یونٹی سپورٹس گالا 2023-24 کی تقریب ِ تقسیم انعامات میں شرکت کی اور خطاب کیا۔ وزیراعلیٰ نے مختلف کھیلوں میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں میڈلز اور ٹرافیاں بھی تقسیم کیں۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کیلئے 30 لاکھ روپے خصوصی گرانٹ کا اعلان بھی کیا۔ وزیر اعلی نے پشاور میں وکلاء کے لئے کمیونٹی ہال اور ہاسٹل کی تعمیر کے لئے زمین فراہم کرنے کی یقین دہانی کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔ اپنے خطاب میں وزیراعلی نے وکلاء کو اپنی فیملی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وکلاء معاشرے کا انتہائی اہم حصہ اور لیڈر ہیں جو مختلف معاملات میں معاشرے کی رہنمائی کرتے ہیں، انصاف کی فراہمی کے عمل میں وکلاء کا کلیدی کردار ہے ، ملک میں جمہوریت کی مضبوطی اور عدلیہ کی بحالی میں وکلاء کا کردار ناقابل فراموش ہے۔

نگران وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی رہنمائی میں اسلام آباد میں اہم اجلاس میں اربن موبیلیٹی پلان پر غور۔

نگران وزیر اعلی خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ کی زیر صدارت منگل کے روز اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈویڑنل ہیڈکوارٹر ایبٹ آباد کے لئے اربن موبیلیٹی پلان سے متعلق امور پر غوروخوض کیا گیا۔ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی، پلاننگ کمیشن اور دیگر متعلقہ وفاقی محکموں کے اعلی حکام کے علاوہ متعلقہ صوبائی حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کو ہزارہ موٹروے پر ایبٹ شہر کے لئے انٹرچینج کی تعمیر کے لئے مجوزہ آپشنز پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو حویلیاں تا قلندر آباد این ایچ اے روڈ کی ڈویلائزیشن اور دیگر امور پر بھی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ این ایچ اے نے ایبٹ آباد اور شیروان روڈ کو ملانے کے لئے انٹرچینج تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کر لی ہے جبکہ سی ڈی ڈبلیو پی نے مذکورہ انٹرچینج کے لئے پی سی ون کی منظوری بھی دیدی ہے۔ شرکاءکو آگاہ کیا گیا کہ انٹرچینج کی تعمیر کے علاوہ ایک فلائی اور اور ٹنل کی تعمیر بھی منصوبے میں شامل ہے۔ منصوبے کے لئے زمین کی خریداری کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر مزید بتایا گیا کہ ایبٹ آباد شہر میں ٹریفک کے مسائل کو حل کرنے کے لئے حویلیاں تا قلندر آباد این اے 35 کی ڈویلائزیشن کے منصوبے کو تین پیکجز میں تقسیم کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے این ایچ اے اور متعلقہ صوبائی حکام کو فوری طور پر ایبٹ کا دورہ کرکے ان منصوبوں پر عملدرآمد کے لئے حکمت عملی کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اس سلسلے میں زمین کی خریداری اور دیگر معاملات سے متعلق تجاویز کو جلد حتمی شکل دے کر صوبائی کابینہ کی منظوری کے لئے پیش کیا جائے۔ وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ ایبٹ آباد میں ٹریفک کا مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے جس کو کل وقتی طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے، اس مقصد کے لئے تمام متعلقہ اداروں اور محکموں کو اپنی ذمہ داریاں بروقت مکمل کرنا ہوں گی،صوبائی حکومت اس سلسلے میں تمام تعاون ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیر صدارت میڈیکل اور نرسنگ کالجز میں سیٹوں کی بڑھوتری پر غور

نگران وزیر اعلی خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ کی زیر صدارت منگل کے روز اسلام آباد میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کے میڈیکل اور نرسنگ کالجز میں سیٹوں کو بڑھانے سے متعلق اُمور پر غوروخوض کیا گیا ۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ریاض انور اور وزیر اعلی کے ترجمان بریگیڈیئر ریٹائرڈ سید مجتبیٰ ترمذی کے علاوہ وفاقی وزارت صحت ، پاکستان نرسنگ کونسل اور صوبائی حکومت کے متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے کے میڈیکل اور نرسنگ کالجز میں سیٹوں کو بڑھانے کے علاوہ صوبے کے سرکاری نرسنگ کالجز میں سکینڈ شفٹس شروع کرنے پر اصولی اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سیٹوں میں اضافے کے خواہشمند میڈیکل اور نرسنگ کالجز متعلقہ وفاقی اداروں میں باضابطہ درخواستیں جمع کریں گے،متعلقہ وفاقی اداروں کی ٹیمیں جلد سے جلد ان کالجوں کا معائنہ کریں گی اور معیار پر پورا اُترنے والے کالجوں کی سیٹیں بڑھانے کی منظوری دی جائے گی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیراعلیٰ سیدارشد حسین شاہ نے کہا ہے کہ تربیت یافتہ افرادی قوت میں خاطر خواہ اضافہ وقت کی اشد ضرورت ہے،صوبائی حکومت اس مقصد کے لئے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات اٹھا رہی ہے۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہماری آبادی کا 60 فیصد سے زیادہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، ان نوجوانوں کو صحیح معنوں میں قوم کا اثاثہ بنانے کی ضرورت ہے۔انہوںنے کہاکہ تربیت یافتہ افرادی قوت ہی قوم کا اصل سرمایہ ہوتی ہے،صوبائی حکومت نوجوانوں کو جدید تربیت فراہم کرکے انہیں روزگار کے لئے بیرون ملک بھیجنے پر کام کررہی ہے،اس طرح نہ صرف نوجوانوں کو باروزگار بنایا جاسکتا ہے بلکہ ملک کے لئے قیمتی زر مبادلہ بھی کمایا جاسکتا ہے۔وزیراعلیٰ نے مزید کہاکہ خیبر پختونخوا میں صحت کے شعبے میں افرادی قوت کو بڑھانے کی بہت زیادہ صلاحیت موجود ہے، ہم معیار پر سمجھوتہ کئے بغیر صحت کے شعبے میں افرادی قوت کو بڑھانا چاہتے ہیں۔نگران وزیراعلیٰ نے اس موقع پر متعلقہ وفاقی اداروںسے کہاکہ وہ اس سلسلے میںصوبائی حکومت کے ساتھ تعاون کریں،
یہ ایک قومی کاز ہے جس میں سب کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہیے۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اُن کی کوشش ہے کہ آنے والے سیشن سے ہی نرسنگ اور میڈیکل کالجز کی سیٹوں میں اضافہ کیا جائے۔

ایم بی بی ایس سال اول کے طلباء طالبات کے لیے وائٹ کوٹ تقریب کا رحمان میڈیکل کالج میں منعقد۔

رحمان میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس سال اول کے طلباء طالبات کو خوش آمدید کہنے کے لیے وائٹ کوٹ تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ریاض انور تھے۔ تقریب میں طلباء و طالبات کے ساتھ ساتھ انکے والدین نے بھی شرکت کی۔ طلباء و طالبات نے شجر کاری مہم میں حصہ لیا اور اپنے شعبے کے ساتھ مخلص رہنے کے حوالے سے حلف اٹھایا۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ریاض انور کا کہنا تھا کہ رحمان میڈیکل کالج کا شمار ملک کے بہترین کالجز میں ہوتا ہے اور میڈیکل کالجز میں داخلوں کے حوالے سے رحمان میڈیکل کالج ہمیشہ سے طلباء کی پہلی ترجیح رہاہے۔ ڈاکٹر ریاض انور نے طلباء سے کہاکہ رحمان میڈیکل کالج میں بہترین انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بہترین میڈیکل فیکلٹی موجود ہے۔ انہوں نے کہاکہ رحمان میڈیکل کالج میں میڈیکل پروفیشن کے حوالے سے وہ سب کچھ موجود ہے جو کسی بین الاقوامی میڈیکل کالج میں ہوتاہے۔ڈاکٹر ریاض انور نے والدین سے بھی کہا کہ انہیں اس بات پر فخر کرنا چاہیے کہ ان کے بچے اس کالج کا حصہ بننے جارہے ہیں جس کا خیبر پختونخوا میں کوئی ثانی نہیں۔اس موقع پر پرنسپل آر ایم سی ڈاکٹر مختیار زمان کا کہنا تھا کہ حالیہ خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے زیر اہتمام تمام پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں سب سے ہائی میرٹ لسٹ رحمان میڈیکل کالج کی رہی ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خیبر پختونخوا کے بچوں کی آج بھی میڈیکل کے شعبے میں اولین ترجیح رحمان میڈیکل کالج ہی ہے۔

نگران وزیر اعلی خیبر پختونخوا نےمانسہرہ اور ہری پور کا دورہ، معزز شخصیات کی وفات پر تعزیتی ملاقاتیں

نگران وزیر اعلی خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے اتوار کے روز مانسہرہ کا مختصر دورہ کیا جہاں انہوں نے مفتی محمد ایاز کے انتقال پر ان کے بھائی محمد اعجاز اور دیگر اہل خانہ سے تعزیت کی۔ وزیر اعلی نے مرحوم کی معفرت کے لئے دعا اور فاتحہ خوانی کی۔ وہ کچھ دیر سوگوار خاندان کے ساتھ رہے اور مفتی محمد ایاز کے انتقال پر اظہار دلی رنج و غم اور افسوس کرتے ہوئے لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی اور کہا کہ وہ سوگوار خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ بعد ازاں نگران وزیر اعلی نے ہری پور کا بھی مختصر دورہ کیا جہاں انہوں نے سابق صوبائی وزراء یوسف ایوب، اکبر ایوب اور ارشد ایوب سے ان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کی۔ وزیر اعلی نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے مرحومہ کی مغفرت کے لئے فاتحہ خوانی جبکہ پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی۔
درایں اثناء نگران وزیر اعلی نے بالاکوٹ مانسہرہ کی مشہور مذہبی شخصیت قاضی خلیل کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ یہاں سے جاری اپنے تعزیتی بیان میں وزیر اعلی نے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی معفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔ وزیر اعلی نے مرحوم کی دینی و مذہبی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نےچشمہ رائٹ بینک لفٹ کینال منصوبے کی ترقی اور فنانسنگ پر اہم اجلاس

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ کی زیر صدارت چشمہ رائٹ بینک لفٹ کینال سے متعلق ایک اجلاس گزشتہ روز وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں منعقد ہوا جس میں منصوبے کے لئے فنانسنگ کے علاوہ دیگر متعلقہ امور پر غوروخوص کیا گیا۔ چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سید امتیاز حسین شاہ، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، سیکرٹری ایریگیشن طاہر اورکزئی اور محکمہ آبپاشی کے دیگر حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ منصوبے کے مختلف پہلووں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ منصوبے کا تخمینہ لاگت 189 ارب روپے ہے جس میں سے 65 فیصد وفاقی جبکہ 35 فیصد صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔ منصوبے کی تکمیل سے جنوبی اضلاع کی لاکھوں ایکڑ بنجر اراضی زیر کاشت آئے گی۔ وزیر اعلیٰ نے سی آر بی سی منصوبے کو صوبے کی زرعی خود کفالت کے لئے انتہائی اہم منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ منصوبے پر عمل درآمد سے جنوبی اضلاع کی لاکھوں ایکڑ بنجر زمین زیر کاشت آئے گی ، صوبہ زرعی اجناس میں خود کفیل ہو گا، لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے اور علاقے میں دیر پا خوشحالی آئے گی ۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے پر عملدرآمد کے لئے صوبائی حکومت کے حصے کی فنڈنگ کی فراہمی کے لئے دستیاب مختلف آپشنز پر ورکنگ کرکے آنے والی منتخب حکومت کو قابل عمل تجاویز پیش کی جائیںتاکہ مزید کسی تاخیر کے بغیر اس اہم منصوبے پر عملی کام شروع کیا جا سکے۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ منصوبے کے لئے بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جائے اور اگر ممکن ہو تو یہ منصوبہ اسپیشل انوسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے ایجنڈے میں بھی شامل کروانے کےلئے متعلقہ وفاقی حکام کے ساتھ معاملہ اٹھایا جائے۔

نگران وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نےعالمی بینک کے ساتھ تعاون میں ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ سے بدھ کے روز پاکستان میں تعینات عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ناجی بن حسن کی قیادت میں ایک وفد نے وزیراعلیٰ ہاو¿س پشاور میں ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور خصوصاً خیبرپختونخوا میں عالمی بینک کے تعاون سے جاری ترقیاتی منصوبوں سے متعلق معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ نگران کابینہ اراکین بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکا خیل ، سید مسعود شاہ، انجنیئر احمد جان، انجنیئر عامر ندیم درانی ، ڈاکٹر نجیب اللہ ، ڈاکٹر سید سرفراز علی شاہ، وزیراعلیٰ کے ترجمان بریگیڈئیر (ر) سید مجتبیٰ ترمذی کے علاوہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سید امتیاز حسین شاہ بھی ملاقات میں موجود تھے۔ ملاقات میں صوبے میں ورلڈ بینک کے تعاون سے جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور ان کے زیادہ سے زیادہ ثمرات عوام تک پہنچانے سے متعلق امور پر بھی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر مستقبل میں باہمی اشتراک کے امکانات خصوصاً ضم اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے اپنی گفتگو میں کہا کہ عالمی بینک خیبرپختونخوا میں عوامی فلاح و بہبود کے مختلف منصوبوں میں تعاون فراہم کر رہا ہے۔ جس کو صوبائی حکومت اور صوبے کے عوام قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا باالخصوص ضم شدہ اضلاع بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ عسکریت پسندی صرف صوبے کا نہیں بلکہ پورے ملک اور عالمی برادی کا بھی مسئلہ ہے ، خیبرپختونخوا کے عوام دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہےں ، اس جنگ میں معیشت اور امن و امان سمیت زندگی کا ہر شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ضم اضلاع کی تیز رفتار ترقی صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے ، صوبائی حکومت مشکل صورتحال کے باوجود ضم اضلاع کی ترقی کے لئے خصوصی کوششیں کر رہی ہے جبکہ اس سلسلے میں صوبائی حکومت کو عالمی ڈونر ایجنسیوں اور ترقیاتی اداروں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ عسکریت پسندی کے تدارک کا بہترین اورمو¿ثر طریقہ اقتصادی ترقی اور معاشی خوشحالی ہے ۔ صوبائی حکومت نے نوجوانوں کو روزگار دینے کے لئے ہیومن ریسورس ایکسپورٹ اسٹریٹیجی ترتیب دی ہے جس کے تحت نوجوانوں کو جدید مارکیٹ کی ضروریا ت کے مطابق کریش کورسز کروائے جائیں گے تاکہ انہیں روزگار کے قابل بنایاجاسکے۔ ارشد حسین شاہ کا کہنا تھا کہ صوبے کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں جبکہ نوجوانوں کے ان صلاحیتوں کے مثبت استعمال کے لئے انہیں مارکیٹ ڈیمانڈ ز کے مطابق تربیت فراہم کرنا وقت کی ضرورت ہے اس سلسلے میں صوبائی حکومت کو ڈونر ایجنسیوں کا تعاون درکار ہوگا۔

پاکستان لیکروس چیمپیئن شپ کامیابی کا ایونٹ، کھلاڑیوں کی محنت اور فیڈریشن کا اہم کردار

نگران صوبائی وزیر سماجی بہبود و ترقی نسواں جسٹس ریٹائرڈ ارشاد قیصر نے پہلی ویمن نیشنل لیکروس چیمپیئن شپ کے انعقاد پر انتظامی کمیٹی کو مبارکباد یش کی ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے منعقد کی گئی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک بہت ہی شاندار اور یادگار ایونٹ تھا۔ جس میں پورے پاکستان سے کھلاڑیوں اور آفیشلز نے شرکت کی۔انہوں نے خاص طور پر ان تمام کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جنہوں نے اس ایونٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے آفیشلز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایونٹ کو کامیابی سے منعقد کرنے میں ان کا اہم کردار ہے۔ آفیشلز کی محنت اور لگن سے اس ایونٹ کو یادگار بنا دیا گیا۔نگران صوبائی وزیر نے پاکستان لیکروس فیڈریشن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس ایونٹ کے انعقاد میں فیڈریشن نے ایک ایسا ایونٹ منعقد کیا جو پاکستان میں لیکروس کے کھیل کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ نگران صوبائی وزیر نے ایشیا پسیفک لیکروس یونین کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مسٹر کرس جنو کرس ماسونی کی ایونٹ میں شرکت کوسراہا اور پاکستان میں لیکروس کے کھیل کو فروغ دینے کے لیے اپنی خدمات پیش کیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ایونٹ پاکستان میں لیکروس کے کھیل کے فروغ کے لیئے نئی راہ کھولے گا۔۔ تقریب کے اختتام میں نگران صوبائی وزیر سماجی بہبود و ترقی نسواں جسٹس ریٹائرڈ ارشاد قیصر نے فاتح ٹیم اور کھلاڑیوں میں انعامات بھی تقسیم کیے۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کا پشاور صدرمیں آتشزدگی کے بعد دکانداروں اور تاجروں سے ملاقات

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے پشاور صدرمیں آگ سے متاثرہ کمرشل پلازہ کا دورہ کیاجہاں انہوں نے تاجروں اور دکانداروں سے ملاقات کی۔اس موقع پرکمشنر پشاور محمد زبیر اور ڈپٹی کمشنر آفاق وزیر بھی ان کے ہمراہ تھے۔ چیف سیکرٹری نے آتشزدگی کے سانحہ پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے البتہ اللہ کا شکر ہے کہ اس آگ لگنے کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن متعدد دکانیں اور سٹالز کے خاکستر ہونے کے باعث تاجروں اور دکانداروں کا کافی نقصان ہوا جس پر ہم سب افسردہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نقصانات کی تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں اور واقعے کے حوالے سے رپورٹ کے آنے کا انتظار ہے۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ قریبی عمارتیں اس آگ سے محفوظ رہیں اور انھیں نقصان نہیں پہنچا۔چیف سیکر ٹری نے اس موقع پر عمارتوں میں باہر نکلنے کے لئے ایمرجنسی راستے اور آگ بجانے کے آلات نصب کرنے کو لازمی قرار دیا اور کہا کہ وہ اس حوالے سے پہلے ہی ہدایات دے چکے ہیں۔

نگران وزیر خیبر پختونخوا کا بنوں اکنامک زون کا افتتاح: اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے اہم اقدام

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے صوبے میں اقتصادی سرگرمیوں کے فرو غ اور نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے ایک اہم قدم کے طور پر بنوںاکنامک زون کا افتتاح کر دیا ہے ۔ اس سلسلے میں منگل کے روز وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی نگران وزیراعلیٰ تھے ۔ نگران صوبائی وزیر برائے صنعت ڈاکٹر عامر عبد اﷲ کے علاوہ سیکرٹری انڈسٹریز سید ذوالفقار علی شاہ، خیبرپختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کے بورڈ اراکین ، سی ای او کے پی ازمک جاوید خٹک اور دیگر نے بھی تقریب میں شرکت کی ۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے بنوں اکنامک زون میں انڈسٹریل یونٹس لگانے کےلئے سرمایہ کاروں میں پلاٹس کے الاٹمنٹ لیٹرز بھی تقسیم کئے ۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ کو بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 415 ایکٹر رقبے پر محیط بنوں اکنامک زون میں 265 چھوٹی بڑی صنعتیں قائم کی جائیں گی جبکہ مذکورہ اکنامک زونز میں تقریباً10 ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے ۔ مزید بتایا گیا کہ اس زون سے16 ہزار بلاواسطہ اور 48 ہزار بالواسطہ ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔وزیراعلیٰ کو کمپنی کی مجموعی کارکردگی ، صوبے میں موجود اکنامک زونز اور نئے قائم کئے جانے والے اکنامک زونز کے بارے میں تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔ بتایا گیا کہ اس وقت صوبے میں مجموعی طور پر 14اکنامک زونز قائم ہیں جن میں 346 ارب روپے کی سرمایہ کاری موجود ہے ۔ مزید بتایا گیا کہ چار مزید اکنامک زونز کے قیام پر بھی کام جاری ہے ۔وزیراعلیٰ ارشد حسین شاہ نے بنوں اکنامک زون کی کمرشل لانچنگ پر اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کے حکام کو مبارکباد پیش کی اور کہاکہ بنوں اکنامک زون صوبے میں اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے ایک سنگ میل ثابت ہو گا۔ اس اکنامک زون کی کمرشل لانچنگ ترقی کی علامت ہے جس سے اقتصادی ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی ۔ اُنہوںنے مزید کہاکہ محل و قوع کے لحاظ سے بنوں اکنامک زون انتہائی اہمیت کا حامل ہے ، یہ نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ دیگر صوبوں اور وسطی ایشیائی ریاستوں کیلئے بھی اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز بن سکتا ہے ۔ بنوں اکنامک زون جنوبی اضلاع اور ملحقہ ضم اضلاع کی ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا ۔ جنوبی اور ضم اضلاع کی پسماندگی کو دور کرنا اور انہیں ترقی کے میدان میں آگے لانا وقت کی اشد ضرورت ہے ۔ نگران حکومت ان پسماندہ اضلاع کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے اقدامات اُٹھا رہی ہے ۔ اُنہوںنے واضح کیا کہ صوبے میں سرمایہ کاری کا فروغ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ۔ نگران حکومت خیبرپختونخوا میں سرمایہ کاری کے خواہشمند سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرے گی ۔