Home Blog Page 420

خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات اور ڈائریکٹر جنرل اطلاعات و تعلقات عامہ کا پشاور پریس کلب کا دورہ

خیبر پختونخوا کے سیکرٹری محکمہ اطلاعت سید جبار شاہ اور ڈائریکٹر جنرل اطلاعات و تعلقات عامہ محمد عمران خان نے پیر کے روز پشاور پریس کلب کا دورہ کیا، اور پشاور پریس کلب کے نو منتخب صدر اور ان کی نو منتخب کابینہ کے ارکان کے ساتھ ملاقات کی اس موقع پر انہوں نے پشاور پریس کلب کے نو منتخب صدر ارشد عزیز ملک اور ان کے کابینہ ارکان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت اور محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ، صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کئی عدد اقدامات کر رہے ہیں،انہوں نے امید ظاہر کی کہ نو منتخب صدر اور ان کے کابینہ ارکان صوبے میں مثبت صحافت کے فروغ کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے اور غیر ضروری سنسنی خیز ی کی بجائے حکومت اور عوام کے مابین پل کا کردار ادا کرتے ہوئے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے حکومتی فلاحی و ترقیاتی اقدامات کو بہتر طور پر اجاگر کریں گے تاکہ حکومتی ترقیاتی و فلاحی اقدامات سے عام لوگ بہتر طور پر استفادہ حاصل کر سکیں جبکہ نو منتخب صدر اور کابینہ ارکان صحافی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے بھی مثبت سوچ کے ساتھ مزید جدوجہد کریں گے، اس سلسلے میں صحافی برادری اور ان کے نو منتخب نمائندوں کو سیکرٹری محکمہ اطلاعت و تعلقات عامہ اور ڈائریکٹر جنرل اطلاعات و تعلقات عامہ کی جانب سے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائیگا اور ان کی بھرپور حوصلہ افزائی بھی کی جائے گی۔

ضم اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں اور مختلف شعبوں میں بہتری کے لئے مختلف تجاویز پر غور۔

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے امور ضم اضلاع،صنعت وحرفت اور فنی تعلیم ڈاکٹر عامر عبد اللہ کی زیر صدارت پیر کے روز کیبنٹ روم سول سیکریٹیریٹ پشاور میں ضم اضلاع کیلئے قائم کردہ خصوصی سٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات سید امتیاز حسین شاہ،سیکریٹری صحت محمود اسلم وزیر،سیکریٹری مواصلات و تعمیرات محمد ادریس خان،سیکریٹری ریلیف عنایت اللہ وسیم،سیکریٹری صنعت سید ذوالفقار علی شاہ،سپیشل سیکریٹریز محکمہ داخلہ محمد ذبیر،منصوبہ بندی وترقیات کامران آفریدی سمیت کمیٹی میں شامل پولیس،پاک آرمی اور دیگر محکموں کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں سٹیرنگ کمیٹی کے گزشتہ منعقدہ اجلاسوں اور وزیر اعلی کی سربراہی میں تشکیل کردہ صوبائی ٹاسک فورس کے فیصلوں کے بارے میں مختلف محکموں کو دئیے گئے اہداف پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ضم اضلاع میں محکمہ پولیس کی استعداد کو بڑھانے کیلئے متعلقہ محکمہ کو دی گئی ہدایات پر عملدرآمد کے حوالے سے فورم کو بتایا گیا کہ ان اضلاع میں پولیس فورس کی ترقیوں کا عمل جاری ہے۔پولیس کے 19 ڈی ایس پیز اور 85 انسپکٹرز کو اگلے گریڈز میں ترقی دی گئی ہے جبکہ1571 نوجوانوں کی ایٹا کے ذریعے بھرتی کا عمل بھی جلد مکمل ہوگا۔اسی طرح ان اضلاع میں پولیس سے 513 گھوسٹ ملازمین کو بھی نکالا گیا ہے۔فورم نے اس موقع پر بعض اضلاع میں پولیس کی تعمیراتی سائٹس کی نشاندھی کی بعد انھیں مواصلات و تعمیرات کو تعمیراتی کام جلد شروع کرنے کی غرض سے حوالہ کرنے کہ ہدایت کی۔اس موقع پر شمالی وزیرستان،جنوبی وزیرستان اور اورکزئی میں جوڈیشل دفاتر کے قیام کا عمل بھی تیز کرنے کی ہدایت کی گئی۔نگران وزیر نے اجلاس میں ضم اضلاع کے بچوں کیلئے شرع کردہ تعلیمی وظیفہ سکیم کے مالی معاملات محکمہ خزانہ سے دو دن کے اندر اندر نمٹانے کی ہدایت کی۔انھوں نے اس موقع پر ضم اضلاع میں قائم گورنر ماڈل سکولوں کو بہتر انتظام اور معیار کیساتھ چلانے کی غرض سے محکمہ تعلیم کو ٹاسک فورس کے آئندہ اجلاس میں معقول تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ محکمہ نجی شعبے کی شراکت داری پر مبنی دیگر صوبوں میں مناسب اخراجات کے حامل اداروں کے ماڈلز کو پیش کرے۔

سال نو کی مناسبت سے لاہور میں داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کے دربار میں دعائیہ تقریب۔

نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ، ثقافت و سیاحت خیبرپختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے لاہور دورے کے موقع پر نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی و پنجاب صوبائی نگران کابینہ اراکین کے ہمراہ حضرت ابو الحسن علی بن عثمان المعروف داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔اس موقع پر سال نو کی مناسبت سے خصوصی دعا کا اہتمام کیا گیا تھا۔تقریب کا مقصد سال 2024 کی آمد کو سادگی سے مناتے ہوئے سال کا آغاز پرخلوص دعاؤں کے ساتھ کرنا تھا۔تقریب میں ملک میں معاشی استحکام، تنگدستی سے نجات، پائیدار امن، باہمی اتحاد و اتفاق کے لئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔اس موقع پر شہداء اور ان کے خاندانوں کی لازوال قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے انھیں خراج عقیدت پیش کیا گیا اور رب العالمین کے حضور شہداء کے درجات اور مسلح افواج، پولیس و دیگر سیکورٹی اداروں کے عزم و حوصلے کی بلندی کے لئے بھی دعائیں کی گئیں. دعائیہ تقریب میں مظلوم فلسطینیوں اور کشمیریوں کی آزادی اور جدوجہد میں کامیابی کے لئے بھی خصوصی دعائیں کی گئیں۔ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل کا کہنا تھا کہ حضرت داتا گنج بخشؒ کی شخصیت اور افکارواحوال کو تاریخ، تصوّف میں نہایت معتبرمقام حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ درگاہ میں دعائیہ تقریب کا اہتمام کرتے ہوئے سال نو کا استقبال پنجاب نگران حکومت کا نہایت عمدہ قدم ہے جس میں شرکت کرکے انہیں دلی سکون ملا اور رب العالمین کے حضور ملک کی ترقی کے لئے دعا کرنے کا اہم موقع نصیب ہو۔انہوں نے کہا کہ اسلامی اقدار کے تحت نئے سال کا آغاز خصوصی دعاؤں کے ساتھ کیا گیا ہے۔اس سے پہلے درگاہ آمد پر نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے خیبر پختونخوا کے نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل کو خصوصی چادر پیش کی اور دعائیہ تقریب میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا صحافتی معاشرے کی مضبوطی میں میڈیا کا کردار پر ہوتے ہوئے اظہارِ یکجہتی۔

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس( ر) سید ارشد حسین شاہ نے کہا ہے کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں جو معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں کی نشاندہی کرنے، عوام کو آگہی دینے اور جمہوریت کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ میڈیا کو ریاست کا چو تھا ستون مانا جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز اپنے دورہ ایبٹ آباد کے موقع پر ایبٹ آباد پریس کلب اور ایبٹ آباد یونین اف جرنلسٹس کے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کیا۔ کمشنر ہزارہ ڈویژن سید ظہیر الاسلام ، ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد خالد اقبال اور ڈی پی او ایبٹ آباد عمر طفیل بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صحافی ملک کو کرپشن سے پاک اور بحرانوں سے نکالنے میں مدد دے سکتے ہیں، صحافیوں کو آپس میں اتحاد اور اتفاق کے ساتھ عوام کی رہنمائی اور معاشرے سے برائیوں کے خاتمے کے لئے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ جس معاشرے میں لوگوں کے درمیان اتفاق ہو اور وہ آپس میں محبت و ہمدردی رکھتے ہوں تو وہاں اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں اس کے برعکس جس معاشرے میں اتفاق، محبت اور ہمدردی نہ ہو تو ایسے معاشرے پر اللہ تعالی اپنی رحمتوں کا نزول روک دیتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ ایبٹ آباد کے صحافی معاشرے کی فلاح وبہبود کے لیے اپنا کردار مزید بہتر انداز میں ادا کرتے رہیں گے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت صحافیوں کے مسائل کے حل اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے ہر ممکن اقدامات اُٹھائے گی

خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے ہزارہ ریجن کے کیمپس کا افتتاح: میڈیکل تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز۔

ہزارہ ریجن میں خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے کیمپس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے کیمپس میں اگلے مہینے سے باقاعدہ کلاسز کا اجراءکیا جائے گا۔ نگرا ں وزیراعلی خیبر پختونخوا جسٹس( ریٹائرڈ) سید ارشد حسین شاہ نے گزشتہ روز اپنے دورہ ایبٹ آباد کے دوران نو قائم شدہ کیمپس کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر کیمپس میں شروع کی جانے والی تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں وزیراعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کیمپس میں میڈیکل ایجوکیشن کے مختلف شعبوں میں طلبہ کو تعلیم و تربیت فراہم کی جائے گی جن میں الائیڈ ہیلتھ سائنسز، نرسنگ اور فارمیسی وغیرہ میں انڈر گریجویٹس ، پوسٹ گریجویٹس پروگرام شامل ہیں۔ علاوہ ازیں کیمپس میں میڈیکل گریجویٹس کو پبلک ہیلتھ ، ہیلتھ ریسرچ ،ایپڈ یمیالوجی اور بیسک میڈیکل سائنسز میں پوسٹ گریجویٹس ڈگری پروگرامز بھی کروائے جائیں گے ۔ مزید بتایا گیا کہ کیمپس میڈیکل کے مختلف شعبوں میں پوسٹ گریجویٹس ڈگر ی کیلئے پورے ہزارہ ریجن کے طلبہ کی ضروریات کو پورا کرے گا اور طلبہ کو اپنے ہی علاقے میں یہ تعلیمی سہولیات دستیاب ہوں گی ۔
خیبرمیڈیکل یونیورسٹی انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ سائنسز ہزارہ کے قیام کو اور علاقے میں میڈیکل کی تعلیم کے فروغ کیلئے اہم اقدام قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ اس کیمپس کے قیام سے علاقے کے میڈیکل گریجویٹس کو یہ تربیتی سہولت اُن کے گھر کی دہلیز پر دستیاب ہو ںگی اور اُنہیں اس مقصد کیلئے دیگر علاقوں کا سفر نہیں کرنا پڑے گا۔ میڈیکل کے شعبے میں تربیت یافتہ افرادی قوت کی تیاری میں خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے کردار کو سراہتے ہوئے وزیراعلیٰ نے اُمید ظاہر کی کہ یہ یونیورسٹی اپنی سرگرمیاں مزید بہتر انداز میں جاری رکھے گی ۔ وائس چانسلر خیبر میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ضیاءالحق ، کمشنر ہزارہ ڈویژن ظہیر السلام کے علاوہ ضلعی انتظامیہ اور خیبر میڈیکل میڈیکل یونیورسٹی کے دیگر اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے ۔

نگران وزیر عامر عبداللہ کی حکومتی اداروں اور نجی تعلیمی اداروں کے نیٹ ورک کی بہتری پر تبادلہ خیال

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے امور ضم اضلاع،صنعت وحرفت اور فنی تعلیم ڈاکٹر عامر عبد اللہ کی دعوت پر نجی تعلیمی اداروں کے نٹ ورک ”دارارقم سکولز سسٹم پاکستان” کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور الغزالی ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے چیئرمین وقاص جعفری نے جمعرات کے روز وزیر موصوف سے انکے دفتر سول سیکریٹریٹ پشاور میں ملاقات کی اور نگران وزیر کے ساتھ صوبے اور خصوصی طور پر ضم اضلاع میں تعلیمی نظام کی بہتری کے حوالے سے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔ملاقات کے دوران الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے صوبائی صدر خالد وقاص چمکنی بھی موجود تھے۔اس موقع پر نگران وزیر اور نجی تعلیمی اداروں کے سربراہ کے مابین ضم اضلاع میں مذکورہ سکولوں کے نیٹ ورک کو پھیلانے اور بعض سرکاری تعلیمی اداروں میں نجی شراکت داری کے ذریعے ان کے بہتر انتظام و انصرام کے امکانات پر غور و خوض ہوا۔ملاقات میں نگران وزیر نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم اضلاع میں قائم 10 گورنر ماڈل سکولوں کے اعلی معیار کو برقرار رکھنے اور انھیں بہتر انداز میں چلانے کیلئے کئی مفید تجاویز پر غور کررہی ہے جن میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے انھیں نجی شعبے کے حوالہ کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر مذکورہ سکول سسٹم اس ضمن میں ان اداروں کو طیکیئے گئے طریقہ کار کے تحت ان میں پارٹنرشپ کا خواہاں ہے تو وہ اس ضمن میں اپنی تجاویز پیش کرے۔نگران وزیر نے اس موقع پر ضم اضلاع میں اچھے پرائیویٹ سکولوں کی فرنچائزز کو پھیلانے کے سلسلے میں بھی حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی اور بتایا کہ یہ پیش کش تمام اچھے سکولوں کے نیٹ ورکس کیلئے ہے۔ملاقات میں تعلیمی اداروں کے سربراہ نے نگران وزیر کی پیشکش پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے اس ضمن میں اپنے ادارے کی جانب سے ممکنہ خدمات کی فراہمی کا یقین دلایا۔

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے نارتھ ویسٹ سکول آف میڈیسن گریجویشن تقریب میں شرکت کی۔

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس( ر) سید ارشد حسین شاہ نے جمعرات کے روز نارتھ ویسٹ سکول آف میڈیسن پشاور میں گریجویشن تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے سیشن 2022-2017 کے تحت ایم بی بی ایس مکمل کرنے والے 148 گریجویٹس میں اسناد تقسیم کیں اور امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے گریجویٹس کو گولڈ میڈلز پہنائے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ، انکے والدین اور اساتذہ کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ آج ایک طرف ان ہونہار طلبہ کا تعلیمی مرحلہ اختتام پذیر ہو رہا ہے تو دوسری طرف پیشہ ورانہ سفر کا آغاز ہو رہا ہے۔ نگران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلاشبہ ان تمام گریجویٹس نے یہاں تک پہنچنے کے لیے بڑی محنت کی ہے، اب وہ ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے پیشہ ورانہ زندگی میں قدم رکھنے جا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے نئے ڈاکٹرز سے کہا کہ وہ عوام کی خدمت  کو اپنا شعار بنائیں، اور خلوص نیت سے خلق خدا کی خدمت کریں، ہمارے لوگوں کی صحت اور بھلائی ان کے ہاتھوں میں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ فارغ التحصیل ہونے والے طلباءو طالبات عملی اور پیشہ ورانہ زندگی میں اس اعلیٰ معیار کو آگے بڑھانے میں شامل ہونگے جو نارتھ ویسٹ سکول نے قائم کیا ہے۔ اعلیٰ اخلاقی اقدار اور کردار کو عملی زندگی میں کامیابی کیلئے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے انہوں نے گریجویٹس پر زور دیا کہ وہ عملی زندگی کے آغاز ہی سے پیشہ ورانہ اخلاقیات اور اعلیٰ کردار کے اصولوں پر سختی سے کاربند رہیں۔ موجودہ صوبائی حکومت کی شعبہ صحت سے متعلق ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے سید ارشد حسین شاہ نے کہا کہ صوبے میں ہیلتھ کیئر پریکٹیشنرز کی تعداد کو کئی گنا بڑھانے پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نوجوان ہماری ترقی کا زینہ ہیں، انہیں دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے،نوجوانوں کو جدید خطوط پر تربیت دینے اور بیرون ممالک میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ صوبائی وزیر مسعود شاہ، وزیر اعلیٰ کے مشیر ریاض انور، فیکلٹی اراکین اور کثیر تعداد میں طلباءو طالبات نے تقریب میں شرکت کی۔

نگران کابینہ نے خیبر پختونخوا میڈیکل ٹرانسپلانٹیشن ریگولیٹری اتھارٹی کے لیے 60 ملین روپے کی فراہمی کی منظوری دی۔

خیبرپختونخوا کی نگران کابینہ کا اجلاس جمعرات کے روز نگران وزیراعلیٰ جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کابینہ کے اراکین اور انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی اور صوبے میں صحت، توانائی، کمیونیکیشن، سیاحت، مالیات، ہنگامی حالات، گڈ گورننس اور ترقیاتی معاملات سے متعلق اہم فیصلے کئے گئے. صحت عامہ سے متعلق اہم امور پر فیصلہ کرتے ہوئے نگران کابینہ نے خیبرپختونخوا میڈیکل ٹرانسپلانٹیشن ریگولیٹری اتھارٹی کے لیے 60 ملین روپے کی فراہمی کی منظوری دی۔ اتھارٹی کا مقصد تمام انسانی اعضاء کی پیوندکاری اور میڈیکل ٹرانسپلانٹیشن ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ 2014 کے تحت تشکیل دی گئی مختلف کمیٹیوں کو ریگولیٹ کرنا، کنٹرول کرنا اور نگرانی کرنا ہے۔ کابینہ کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اتھارٹی طبی اداروں، ہسپتالوں اور ٹرانسپلانٹ سرجنز/ فزیشنز کا تعین کرتا ہے۔ ٹرانسپلانٹیشن میں آپریٹو سرجری کی مشق، انسانی اعضاء، بافتوں اور خلیات کی پیوند کاری کے لیے، پیوند کاری کے معیار کی جانچ کے لیے تسلیم شدہ طبی اداروں اور ہسپتالوں کا معائنہ، عطیہ دہندگان اور وصول کنندگان کی طبی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ قانون کی خلاف ورزی کے الزامات کی تحقیقات اور انکوائری بھی کرتا ہے۔ اتھارٹی کا مقصدٹرانسپلانٹیشن سے متعلق مذہبی، ثقافتی اور اخلاقی مسائل کو بھی پرکھنا اور حل نکالنا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اتھارٹی کے تحت گردے کی پیوند کاری کے لیے پانچ، قرنیہ کی پیوند کاری کے لیے چھ اور بون بینک کے لئے ایک ادارہ تسلیم شدہ ہے جبکہ تین طبی اداروں کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے کے تسلیم شدہ طبی اداروں میں 421 سے زائد کڈنی ٹرانسپلانٹس، 450 کارنیل ٹرانسپلانٹس، 41 ہڈیوں کی پیوند کاری ریگولیٹڈ طریقہ کار کے ذریعے کی گئی ہے۔سیاحت کے شعبے سے متعلق امور کا جائزہ لیتے ہوئے نگران کابینہ نے خیبرپختونخوا گورنمنٹ ریسٹ ہاؤسز اینڈ ٹورازم پراپرٹیز (ڈویلپمنٹ، مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن) ایکٹ 2020 کے تحت تکنیکی کمیٹی کی تشکیل نو کی منظوری دی۔ تکنیکی طور پر، صوبائی کابینہ میں ردوبدل اور سیکٹر میں دئگر بحالی اقدامات کی وجہ سے اس کی تشکیل نو کی ضرورت تھی۔کابینہ اجلاس میں یہ بھی ہدایت کی گئی کہ ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن کے کمشنرز کو ان کے اپنے دائرہ اختیار میں موجود جائیدادوں کے بارے میں کوآپٹ ممبر کے طور پر شامل کیا جائے. اسی طرح کابینہ نے خصوصی مقصد کمراٹ اینڈ کالاش ڈویلپمنٹ اتھارٹی رولز 2020 میں ترمیم کی منظوری دی۔ خیبر پختونخوا ٹورازم ایکٹ 2019 کے سیکشن 19 (2) کے تحت خصوصی مقصد کمراٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے بعد خصوصی مقصد کمراٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔

ای سٹیمپنگ کے اجراسے صوبے میں جعلی سٹامپ پیپرز کا سدباب ممکن ہوسکے گا،نگران صوبائی وزیر خزانہ

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینک آف خیبر کو ای سٹیمپنگ ایجنٹ قرار دیدیاہے۔ اس مقصد کیلئے ایجنسی ایم او یو پر دستخط ہوچکے ہیں۔ ای سٹیمپنگ کے اجراسے صوبے میں جعلی سٹامپ پیپرز کا سدباب بھی ممکن ہوسکے گا۔اس اقدام سے موصول ہونے والے محاصل بینک آف خیبر کے ذریعے صوبے کے اکاؤنٹ ون میں جمع ہونگے۔ ای سٹیمپنگ صوبے میں گڈ گورننس کی جانب بھی ایک اہم اقدام ہے۔نگران وزیربرائے ریونیو، خزانہ اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن احمد رسول بنگش نے کہا ہے کہ ای سٹیمپنگ کے اجراسے صوبے میں جعلی سٹامپ پیپرز کا سدباب ممکن ہوسکے گا۔اس اقدام سے موصول ہونے والے محاصل بینک آف خیبر کے زریعے صوبے کے اکاونٹ ون میں جمع ہونگے۔ ای سٹیمپنگ صوبے میں گڈ گورننس کی جانب ایک اہم اقدام ہے۔ وہ بینک آف خیبر اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مابین ایجنسی معاہدے پر دستخط کیلئے منعقدہ تقریب میں بطور مہمان خصوصی شریک تھے۔ سیکرٹری خزانہ عامر سلطان ترین، ڈائریکٹر ریونیو اور ڈائریکٹر فنانس سٹیٹ بینک آف پاکستان قادر بخش سمیت بینک آف خیبر کے ہیڈ کنونشنل بینکنگ شیرمحمد سمیت دیگر متعلقہ اہلکاروں نے بھی شرکت کی۔ وزیر خزانہ احمد رسول بنگش نے ای سٹیمپنگ لانچنگ تقریب سے اپنے خطاب میں کہا کہ اس اقدام کے پیچھے بڑا مقصد اسٹامپ پیپرز تک بغیر کسی پریشانی کے فوری رسائی فراہم کرنا اور دھوکہ دہی کی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔ اس سے قبل مینول نظام کے ساتھ، کسی کو عدالتی اور غیر عدالتی اسٹامپ پیپر جاری کرنے میں دو سے تین دن لگتے تھے۔ ای سٹیمپنگ نے دو آسان مراحل کے ساتھ اس عمل کو چند گھنٹوں تک محدود کردیا ہے۔ اس نظام سے دھوکہ دہی کا خاتمہ ممکن ہوگا کیونکہ اس نظام سے ای اسٹامپ کی آن لائن تصدیق ممکن ہوسکے گی۔ہیڈ کنونشنل بینکنگ شیر محمد اور ڈائریکٹر سٹیٹ بینک آف پاکستان قادر بخش نے اس مد میں ایجنسی ایم او یو پر دستخط کئے۔ ای سٹیپمنگ لانچنگ تقریب سے اپنے خطاب میں گروپ ہیڈ کنونشنل بینکنگ شیر محمد نے بتایا کہ ای سٹیمپنگ بینک آف خیبر اور کے پی آئی ٹی بورڈ کے تعاون سے پیش کیا جارہاہے۔ اب صرف 15 منٹ میں صوبے کے کسی بھی حصے سے آپ ای سٹیمپ حاصل کرسکتے ہیں۔ ای سٹیپمنگ کو حاصل کرنے کیلئے آن لائن چالان میں تفصیلات بھرکے بعد بینک میں فیس جمع کرکے ای سٹیمپ پرنٹ کیا جا سکتا ہے۔ ڈائریکٹر سٹیٹ بینک آف پاکستان قادر بخش نے کہا کہ بینک آف خیبر سٹیٹ بینک آف پاکستان کا چوتھا ایجنسی بینک ہے جسے حکومت کے ریونیوز حاصل کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ ای سٹیمپ کے اجرا سے رئیل سٹیٹ کے کاروبار میں بھی مزید سہولت فراہم ہوگی۔ کسی پراپرٹی کی فروخت یا خریداری کی صورت میں، سٹیمپ ڈیوٹی کی قیمت کا تعین ڈی سی ویلیوایشن ٹیبلز کے ذریعے لوکیشن، کورڈ ایریا اور پراپرٹی کی قسم یعنی رہائشی یا کمرشل کے ڈیٹا کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ یہ خصوصیت جائیداد کی قیمت کو کم کرنے کے نتیجے میں ٹیکس چوری کو روکنے میں بھی مدد کرتی ہے۔ ان خصوصیات کے نتیجے میں، اس نظام کے آغاز کے بعد سے اسٹامپ ڈیوٹی کی وصولی میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ واضح رہے کہ بینک آف خیبر صوبے بھر میں 235 برانچوں کے ساتھ کام کررہاہے جن میں 122 اسلامی بینکنگ برانچز شامل ہیں۔

نگران وزیر خیبر پختونخوا کا باجوڑ کا ایک روزہ دورہ، آئی ٹی ٹریننگ سنٹر کا افتتاح اور ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی۔

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے امور ضم اضلاع، صنعت وحرفت اور فنی تعلیم ڈاکٹر عامر عبداللہ نے بدھ کے روز ضلع باجوڑ کا ایک روزہ دورہ کیا جہاں پر انھوں نے تحصیل اتمانخیل قذافی میں صوبائی حکومت کی جانب سے ضم اضلاع کے نوجوانوں کے آئی ٹی سکلز کے فروغ کیلئے شروع کردہ بڑے منصوبے ڈیجیٹل کنکٹ کے تحت قائم کردہ آئی ٹی ٹریننگ سنٹرکا افتتاح کرنے کیساتھ ساتھ انتظامیہ،پولیس اور ملحقہ محکمہ جات سے ضلع میں انتظامی امور،امن وعامہ اور ترقیاتی عمل کے مجموعی صورتحال پر بریفنگ لی۔نگران وزیر نے دورے کے دوران صحافی برادری اور ایوان صنعت وتجارت کے صدر سے بھی ملاقات کی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر باجوڑ انوارالحق،ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کاشف ذوالفقار،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر حمزہ ظہور سمیت دیگر انتظامی افسران بھی موجود تھے۔نگران وزیر نے انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تحت قائم ہونے والے آئی ٹی ٹریننگ سنٹر کا افتتاح کرنے کے موقع پرنوجوانوں اور مقامی عمائدین کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضم اضلاع میں نوجوانوں کو آئی ٹی سکلز کی تربیت اور انھیں متعلقہ شعبے میں کام کیلئے موقع فراہم کرنے کے حوالے سے سات اضلاع میں اس طرح کے مراکز قائم کئے جارہے ہیں کیونکہ یہ اضلاع ڈیجیٹل لیٹریسی میں دیگر علاقوں سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ باجوڑ سے اس کا آغاز کیا گیا ہے جبکہ اورکزئی میں بھی یہ تربیتی سنٹر تیارہے اوراسی طرح دیگر اضلاع میں بھی یہ منصوبہ پھیلایا جائے گاجس میں مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق آئی ٹی تربیت دی جائے گی جن میں خواتین کیلئے بھی الگ اہتمام کیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ پراجیکٹ میں نہ صرف تربیت گاہ کی سہولت فراہم کی گئی ہے بلکہ زیر تربیت نوجوانوں کو مشترکہ طور پر کام کرنے یا کوئی پراجیکٹ بنانے کیلئے سہولیاتی مقام اوران نوجوانوں کو آئی سی ٹی کی ضرورت مفت پوری کرنے کیلئے آئی سی ٹی کمیونٹی سنٹر بھی قائم کیا گیا ہے۔اس طرح ان نوجوانوں کو ماہانہ وظیفہ بھی دیا جائے گا۔نگران وزیر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ مرکز باجوڑ کے نوجوانوں کو اپنے کاروبار شروع کرنے اور اپنے سکلز دوسروں کو منتقل کرنے کا بنیادی ذریعہ ثابت ہوگا۔قبل ازیں نگران وزیر نے باجوڑ جاتے ہوئے ضلع مہمند میں ڈھنڈو سر تا پیر قلعہ زیر تعمیر سڑک کا معائنہ کرکے ہدایت کی کہ سڑک کی تعمیر میں اعلی معیار کا خاص خیال رکھا جائے کیونکہ یہ اس علاقے کی اہم شاہراہ ہے۔