Home Blog Page 43

Strong Field Strategy Delivers High Polio Vaccination Coverage Across Khyber Pakhtunkhwa

Khyber Pakhtunkhwa has recorded substantial and encouraging household coverage progress in its fight against poliovirus, owing to an effective, data-driven strategy and strong administrative leadership under the supervision of the provincial government.

A high-level review meeting chaired by the Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa Shahab Ali Shah discovered that the province has achieved exceptional vaccination coverage during recent National Immunization Days, reflecting improved planning, enhanced field supervision, and growing community trust. The meeting was attended by senior officials of the Health Department, while Deputy Commissioners participated via video link.

According to official data, 99 percent household coverage was achieved in the majority of the province, while South Khyber Pakhtunkhwa recorded 93 percent coverage, despite operating in traditionally high-risk and hard-to-reach areas.

The meeting noted that the use of real-time digital monitoring systems, independent post-campaign assessments, and rigorous data verification mechanisms has significantly improved transparency and accountability. On the directions of the Chief Secretary, Independent Monitoring Unit assessments were conducted in selected districts, ensuring that campaign outcomes are objectively verified and continuously improved.

It was highlighted that vaccinators have already accessed 64 percent of communities in January 2026, demonstrating expanded immunization outreach and improved access, particularly in previously underserved localities. Moreover, improvements in routine immunization indicators, including BCG, Penta, MR, and OPV coverage, show that polio campaigns are strengthening the overall health system.

While acknowledging localized challenges in a few districts, Chief Secretary emphasized that targeted interventions, focused micro-planning, and enhanced community engagement are being actively implemented to address remaining gaps.

The Chief Secretary reaffirmed the provincial government’s unwavering commitment to a polio-free Khyber Pakhtunkhwa, stating that coordinated field operations, and community partnership will remain the cornerstone of the province’s strategy. He applauded the team performances in districts and said that the outreach ratio to communities and household coverage was remarkable during the December 2025 campaign.

With February 2026 National Immunization Days preparations well underway, Khyber Pakhtunkhwa continues to move forward with confidence, determination, and measurable results toward the complete eradication of polio, he said.

خیبر پختونخوا کے وزیرِ تعلیم ارشد ایوب خان کی زیرِ صدارت ایبٹ آباد پبلک سکول کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان کی زیرِ صدارت ایبٹ آباد پبلک سکول ایبٹ آباد کے بورڈ آف گورنرز (BoG) کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سکول پرنسپل اختر علی قریشی نے ادارے کی مجموعی کارکردگی، درپیش مسائل اور آئندہ کے لیے مجوزہ سفارشات سے بورڈ کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔اجلاس میں بورڈ ممبران سمیت ڈپٹی کمشنر ایبٹ اباد کیپٹن ریٹائرڈ سرمد سلیم اکرم نے بھی شرکت کی اجلاس میں سکول کے انتظامی امور کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ورکنگ کمیٹی کے قیام کی منظوری دی گئی جبکہ کمیٹی کے ممبران کا بھی تعین کر دیا گیا۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ بورڈ آف گورنرز کے اجلاس مقررہ وقت پر باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں۔ صوبائی وزیر کو گزشتہ اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد سے متعلق بریفنگ بھی دی گئی۔سکول انتظامیہ نے اساتذہ کی ترقی (پروموشن) کے عمل سے متعلق بھی آگاہ کیا۔ اجلاس میں طلبہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے آئی ٹی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) لیب کے قیام، ڈویلپمنٹ فنڈز اور سولر انفراسٹرکچر کی فراہمی کی باقاعدہ منظوری دی گئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر ارشد ایوب خان نے کہا کہ ایبٹ آباد پبلک سکول کو خود انحصاری کی جانب بڑھنا ہوگا اور اپنے تمام اخراجات اپنے وسائل سے پورے کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سکول کو اپنی تعلیمی استعداد اور معیار کو مزید بہتر بنانا ہوگا اور سرکاری وسائل پر انحصار کرنے کے بجائے طلبہ کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ ادارے افراد کی خواہشات کے مطابق نہیں بلکہ پالیسی اور قواعد کے تحت چلتے ہیں، اس لیے سکول انتظامیہ کو اپنی پالیسیوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانا چاہیے۔ اجلاس میں آڈٹ پیراز کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
مزید یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سکول کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلا کر بعض معاملات کو واضح کیا جائے گا، جس کے بعد انہیں منظوری کے لیے بورڈ آف گورنرز کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ داخلہ و قبائلی امور کا اجلاس جمعرات کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ داخلہ و قبائلی امور کا اجلاس جمعرات کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین اور رکن صوبائی اسمبلی طارق سعید نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی اراکین افتخار علی مشوانی، آصف خان، فرح خان، عدنان وزیر، احمد کنڈی، مخدوم زادہ محمد آفتاب حیدر، محترمہ شاہدہ بی بی، محترمہ ثوبیہ شاہد، محترمہ شازیہ جدون اور محترمہ فائزہ ملک اور سابقہ ڈپٹی سپیکر محمود جان نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ سیکرٹری محکمہ داخلہ و قبائلی امور، محکمہ قانون، محکمہ خزانہ اور صوبائی اسمبلی کے متعلقہ افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی اصف خان کے توجہ دلاؤ نوٹس پر سیکرٹری محکمہ داخلہ و قبائلی امور نے بتایا کہ جنوبی وزیرستان میں بم دھماکوں کے شہداء اور زخمیوں کے لواحقین کو قانون کے مطابق مالی معاونت اور معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی نے محکمہ داخلہ کو ہدایت کی کہ صوبے کے تمام اضلاع میں زیر التوا کیسوں کی تفصیلی رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے۔ سابقہ ڈپٹی سپیکر محمود جان کے سوال کے جواب میں پولیس کے اعلیٰ حکام نے یقین دہانی کرائی کہ اپ کے خاندان اور اپ کے کسانوں پرحملوں میں ملوث عناصر کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ رکن اسمبلی عدنان خان کے سوالات پر حکام نے بتایا کہ سی ٹی ڈی کی خالی اسامیوں کے لیے دوبارہ تشہیر کی جائے گی، جبکہ وہ امیدوار جنہوں نے پہلے ٹیسٹ پاس کیا تھا، انہیں دوبارہ ٹیسٹ میں ترجیح دی جائے گی۔ مزید برآں، لوئر کوہستان میں دو تھانے اور پانچ چوکیاں قائم ہیں اور سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ان میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
اجلاس میں محترمہ شاہدہ بی بی کے سوال پر پولیس حکام نے تنگی چارسدہ میں ریپ کیس سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم گرفتار ہو چکا ہے اور مقدمہ اب عدالت میں زیر سماعت ہے۔ رکن اسمبلی احمد کنڈی کے سوال پر محکمہ داخلہ نے بتایا کہ صوبائی سطح پر غیر ملکی باشندوں کی سیکیورٹی کے لیے مؤثر انتظامات موجود ہیں۔ جبکہ فر ح خان کے سوال پر پولیس حکام نے آگاہ کیا کہ صوبے کے ہر ضلع کے تھانے میں خواتین کے لیے علیحدہ ڈیسک اور لاک اپ قائم ہیں، جہاں ڈیوٹی خواتین اہلکار انجام دے رہی ہیں۔

وزارت ہیومن رائٹس, محکمہ قانون و انسانی حقوق خیبرپختونخوا اور فاؤنڈیشن فار ایجنگ اینڈ اِنکلیوسِو ڈیولپمنٹ (FAID) کے باہمی اشتراک سے پشاور میں قومی پالیسی برائے عمر رسیدگی کے حوالے سے دو روزہ صوبائی مشاورتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا

وزارت ہیومن رائٹس, محکمہ قانون و انسانی حقوق خیبرپختونخوا اور فاؤنڈیشن فار ایجنگ اینڈ اِنکلیوسِو ڈیولپمنٹ (FAID) کے باہمی اشتراک سے پشاور میں قومی پالیسی برائے عمر رسیدگی کے حوالے سے دو روزہ صوبائی مشاورتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس نشست کا مقصد بزرگ شہریوں کے حقوق، ضروریات اور درپیش چیلنجز کے تناظر میں قومی پالیسی کو صوبائی حالات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے جامع مشاورت کا انعقاد تھا۔ورکشاپ کے دوران مس رخسانہ عمر، ڈپٹی ڈائریکٹر ہیومن رائٹس، انٹرنیشنل کوآپریشن ونگ اسلام آباد مس تنزیلہ، ایف۔ اے۔ آئی۔ ڈی کے غلام علی، ڈائریکٹر جنرل ہیومن رائٹس، اور عبدالجلیل خان ایف۔ اے۔ آئی۔ ڈی نے موضوع پر اظہارِ خیال کیا اور شرکاء کو تربیتی و پالیسی نکات سے آگاہ کیا۔تربیتی ورکشاپ کے پہلے روز عمر رسیدگی کے عالمی و قومی تناظر، پاکستان میں آبادیاتی تبدیلیوں، میڈرڈ انٹرنیشنل پلان آف ایکشن آن ایجنگ اور اس حوالے سے پاکستان کے عزم و ذمہ داریوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس کے علاوہ خیبر پختونخوا میں بزرگ شہریوں کی ترجیحات پر کھلے مباحثے کا انعقاد کیا گیا، جس میں سرکاری محکموں کے افسران اور ماہرین نے اپنی آراء پیش کیں۔ورکشاپ میں قومی پالیسی برائے عمر رسیدگی کے مسودے کا جائزہ لیا گیا، پالیسی کے مختلف ابواب پر گروپ اور اوپن ڈسکشن منعقد کی گئی، جبکہ صوبائی تناظر میں پالیسی کو ہم آہنگ کرنے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر شرکاء کی جانب سے قابلِ عمل سفارشات مرتب کی گئیں اور آئندہ کے لائحہ عمل پر اتفاقِ رائے پیدا کیا گیا۔ورکشاپ میں خیبر پختونخوا کے مختلف سرکاری محکموں کے افسران، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے بھرپور شرکت کی۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ بزرگ شہری معاشرے کا اہم اور تجربہ کار طبقہ ہیں، جن کے لیے سماجی تحفظ، صحت، قانونی معاونت اور باوقار زندگی کو یقینی بنانا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔آخر میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اس نوعیت کی صوبائی مشاورت قومی سطح پر پالیسی سازی کے عمل کو مضبوط بنانے اور بزرگ شہریوں کے حقوق کے مؤثر تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات کا اجلاس رکن صوبائی اسمبلی و چیئرمین قائمہ کمیٹی محمد عارف احمد زئی کی صدارت میں منعقد ہوا

صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات کا اجلاس رکن صوبائی اسمبلی و چیئرمین قائمہ کمیٹی محمد عارف احمد زئی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی و کمیٹی کے ممبران شیر علی آفریدی، احمد کریم کنڈی، افتخار علی مشوانی، عبدالسلام آفریدی، میاں شرافت علی اکرام اللہ غازی، نعیم خان، رجب علی عباسی، افشاں حسین اور مہر سلطان نے شرکت کی۔
اجلاس میں سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات جنید خان سمیت متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔ کمیٹی کے اجلاس میں صوبائی اسمبلی کی جانب سے بھیجے گئے سوالات کے جوابات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ قانونی سازی اور متعلقہ رولز پر تفصیلی بحث کی گئی۔چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی محمد عارف احمد زئی نے اجلاس میں اس بات پر زور دیا کہ محکمے کی ملکیتی اراضی کو لیز پر دینے کا عمل اوپن آکشن کے ذریعے شفاف انداز میں مکمل کیا جائے تاکہ محکمے کی آمدن میں اضافہ ہوسکے۔اجلاس میں شکار سے متعلق قوانین کو عوام دوست بنانے پر روز دیا گیا۔ اسطرح محکمہ معدنیات، محکمہ مال اور محکمہ ماحولیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات کے مابین اراضی کے تنازعات کے حل کے لیے کمیٹی کی تشکیل تجویز کیا گیا جو ان محکموں کے درمیان اراضی کی ملکیت کے حوالے مسائل کے حل میں کردار ادا کریں۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات اور جنگلی حیات سے وابستہ ذیلی اداروں کے کردار، کارکردگی اور متعلقہ رولز میں بہتری پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں طوفانوں یا دیگر وجوہات سے متاثرہ لکڑی کے حوالے سے مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ قدرتی وسائل کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

ہزاروں لیٹر غیر معیاری دودھ اور زائدالمعیاد مشروبات ضبط، دکان سیل، مالک پابند سلاسل

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی فوڈ سیفٹی ٹیموں نے کوہاٹ اور ہنگو میں بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے غیر معیاری اور مضرِ صحت خوراک میں ملوث عناصر کے خلاف سخت ایکشن لیا۔ترجمان فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز فوڈ سیفٹی ٹیموں نے ضلع ہنگو میں دودھ کی دکانوں اور کولڈ ڈرنکس شاپس پر چھاپے مارے، جہاں ایک کولڈ ڈرنکس شاپ سے 6000 لیٹر سے زائد زائدالمعیاد مشروبات برآمد کر کے ضبط کیے گئے جبکہ دکان کو موقع پر سیل کر دیا گیا۔ اسی طرح ایک دودھ کی دکان سے 50 لیٹر ملاوٹی دودھ برآمد ہوا جسے موقع پر تلف کر دیا گیا۔دوسری جانب فوڈ سیفٹی ٹیم کوہاٹ نے ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ کوہاٹ بازار میں خوراک کے مختلف کاروباروں کا معائنہ کیا۔ کارروائی کے دوران ایک دکان سے 2000 لیٹر سے زائد غیر معیاری اور ملاوٹی دودھ برآمد کر کے موقع پر تلف کیا گیا جبکہ دکان کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا۔ترجمان نے کہا کہ حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر متعدد دکانوں کو بھاری جرمانے عائد کیے گئے جبکہ ملوث عناصر کے خلاف مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کاشف اقبال جیلانی نے کامیاب کاروائیوں پر فوڈ سیفٹی ٹیموں کو سراہا اور کہا کہ شہری ملاوٹ مافیا جیسے عناصر کی فوری نشاندہی کر کے فوڈ اتھارٹی کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ صوبے سے غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ خوراک کا مکمل خاتمہ فوڈ اتھارٹی کا مشن ہے اور عوام کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیرِ صدارت محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے میگا پراجیکٹس سے متعلق اہم جائزہ اجلاس جمعرات کے روز منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیرِ صدارت محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے میگا پراجیکٹس سے متعلق اہم جائزہ اجلاس جمعرات کے روز منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ کے سیکرٹری مسعود یونس، ڈائریکٹر ٹیکنیکل، پراچیکٹ ڈائریکٹرز اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں صوبائی وزیر کو چائنہ اور سعودی عرب کی حکومت کے تعاون سے جاری مختلف منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں سی پیک پراجیکٹ کے تحت محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے واٹر سپلائی سکیموں کی سولرائزیشن پر اب تک ہونے والے پیش رفت کے بارے میں بتایاگیا جبکہ خیبر پختونخوا رورل انویسٹمنٹ اینڈ انسٹی ٹیوشنل سپورٹ پروگرام (KP RIISP) کے تحت جاری منصوبوں پر کام کی رفتار سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔صوبائی وزیر فضل شکور خان نے واضح ہدایات جاری کیں کہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے تمام میگا منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے تاکہ عوام کو بروقت سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جن سکیموں کی پی سی ون تاحال تیار نہیں ہو سکی، ان کی پی سی ون ترجیحی بنیادوں پر فوری طور پر مکمل کی جائے۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی موجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بندوبستی اور ضم قبائلی اضلاع میں واٹر سپلائی سکیموں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے اور منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔صوبائی وزیر نے مذید کہاکہ عوامی مسائل کے حل اور بہتر سروس ڈیلیوری کے لیے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے کے ہر علاقے میں محفوظ اور صاف پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کو یقینی بنا کر ہی عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے، اور اس مقصد کے لیے متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں پوری لگن اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں۔

محکمہ سیاحت، ثقافت و آثارِ قدیمہ خیبرپختونخوا کے زیر اہتمام عوامی شکایات و آراء کے لئے ای۔کچہری کا انعقاد

محکمہ سیاحت، ثقافت و آثارِ قدیمہ خیبرپختونخوا کے زیر اہتمام عوامی شکایات و آراء کے لئے ای۔کچہری کا انعقاد کیا گیا جس میں متعدد عوامی شکایات سنی گئیں اور ان کے حل کے لئے احکامات بھی جاری کئے گئے۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے محکمہ سیاحت، ثقافت و آثارِ قدیمہ خیبرپختونخوا کے ایڈیشنل سیکرٹری محمد نواز نے کہا ہے کہ محکمہ اپنے اہداف کے حصول کے لئے مؤثر اقدامات کر رہا ہے اور اس ضمن میں عوامی شکایات اور تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہیں تاکہ صوبے میں ثقافت کی بہتر ترویج،تاریخی آثار کو محفوظ بنایا اور پائیدار سیاحت کو فروغ دیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی آراء کو ترجیح دی جائے گی اور مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ محکمہ سیاحت، ثقافت و آثارِ قدیمہ کے زیر اہتمام منعقدہ ای کچہری میں تمام متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ ای کچہری کے دوران پہلے سے موصول ہونے والی شکایات اور تجاویز پر غور کیا گیا اور آن لائن جوابات دیے گئے، جبکہ موقع پر موصول ہونے والی شکایات اور تجاویز کا بھی فوری ازالہ کیا گیا۔ای کھلی کچہری میں کوہاٹ، ڈی آئی خان، کوہستان، دیر، چترال، پشاور، سوات، مردان، بنوں، ہزارہ، مانسہرہ اور بٹگرام سے شہریوں نے شرکت کی اور اپنے مسائل اور تجاویز سے حکام کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر صوبے کے مختلف علاقوں میں جاری اور مجوزہ محکمانہ اقدامات، سیاحتی مقامات پر سہولیات، بھرتی کے قواعد و ضوابط، اشتہارات، ونٹر فیسٹیولز، ایوبیہ چیئر لفٹ، کیلاش فیسٹیول، چترال میں محکمہ کی سرگرمیاں، بی ایس ٹورازم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ کے فریش گریجویٹس کے لیے مواقع، محکمہ کے زیر انتظام عمارات کی صورتحال، خیبر میزبان ٹورازم پراجیکٹ اور ٹورازم پولیس کی ریگولرائزیشن جیسے امور زیرِ بحث آئے۔ایڈیشنل سیکرٹری سیاحت نے متعلقہ افسران کو عوامی شکایات کے ازالے کے لئے ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے تاریخی ورثے کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کے گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت خیبرپختونخوا میں پائیدار سیاحت کے فروغ کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

نرسنگ کیڈر کے مسائل کے حل کے لیے ہنگامی اجلاس

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمٰن کی سرپرستی میں نرسنگ کیڈر کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبہ بھر سے نرسنگ قیادت، سینئر نرسز، نرسنگ ایجوکیشن سے وابستہ ماہرین اور مختلف نرسنگ ایسوسی ایشنز کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران نرسنگ کمیونٹی نے متفقہ طور پر نرسنگ ڈائریکٹریٹ کے قیام، دو ہزار اکیس سے پبلک سروس کمیشن میں موجود خالی اسامیوں کو پر کرنے، نئی اسامیوں کی تخلیق، سروس رولز میں ضروری ترامیم، اور گورنمنٹ نرسنگ کالجز میں خالی آسامیوں کو پر کرنے جیسے مسائل پیش کئے۔ اس کے ساتھ ایم ٹی آئی اداروں میں نرسز کو درپیش مسائل کے حل کے لیے موجودہ ایم ٹی آئی ایکٹ میں ترامیم پر بھی زور دیا گیا۔صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمٰن نے نرسنگ کمیونٹی کو یقین دلایا کہ ان کے مسائل پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا اور باہمی مشاورت کے ذریعے قابلِ عمل اور پائیدار حل نکالے جائیں گے۔ڈسٹرکٹ نرسنگ ایسوسی ایشن دیر کے صدر ہدایت خان نے تمرگرہ ہسپتال میں پیش آنے والے واقعے پر صوبائی وزیرِ صحت کو تفصیلی بریفنگ دی اور فوری دادرسی کی درخواست کی۔ڈاکٹر بی بی سلطانیہ نے کہا کہ مریض کی صحت یابی میں نرس کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور صحت مند معاشرے کے قیام میں نرسز کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ ان کے مطابق نرسز کے مسائل کے حل سے صحت کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔اجلاس کے اختتام پر نرسنگ افسران اور نمائندگان نے صوبائی وزیرِ صحت کا شکریہ ادا کیا۔

صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخرِجہان کی ای کھلی کچہری — عوامی مسائل کے حل کیلئے فوری احکامات

خیبر پختونخوا کے وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخرِجہان کی زیر صدارت محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول پشاور میں ای کھلی کچہری کا انعقاد ہوا۔محکمہ ایکسائز کے حوالے سے عوام کے شکایات اور معروضات براہ راست سننے اور اس کے بروقت ازالہ کرنے کیلئے یہ پہلی کھلی کچہری تھی جس میں سیکرٹری ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خالد الیاس سمیت محکمہ کے تمام شعبوں کے اعلی افسران نے شرکت کی۔ کھلی کچہری کے دوران صوبہ بھر اور صوبے سے باہر سے مجموعی طور پر 46 فون کالز موصول ہوئیں، جبکہ فیس بک لائیو سیشن کے دوران عوام کی جانب سے 280 پیغامی تاثرات (کمنٹس) موصول ہوئے۔ ان شکایات اور تجاویز میں گاڑیوں کی رجسٹریشن، انسدادِ منشیات کے حوالے سے شکایات و مہمات کے آغاز کی درخواستیں، ناکوں پر گاڑیوں اور مسافروں کو درپیش مسائل، مختلف مقامات پر ایکسائز عملے کی تعیناتی اور دیگر امور شامل تھے۔صوبائی وزیر نے کھلی کچہری کے دوران عوامی شکایت پر ناکوں پر شہریوں کے موبائل فون چیک کرنے کے عمل کا سخت نوٹس لیتے ہوئے واضح ہدایات جاری کیں کہ دورانِ چیکنگ عوام کی عزت و احترام کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کے ذاتی موبائل فون چیک کرنا غیر قانونی عمل ہے اور اگر کوئی افسر یا اہلکار اس میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔صوبائی وزیر نے کہا کہ اس ضمن میں محکمہ ایکسائز کے حوالے سے عوام اپنی شکایات ان کے آفیشل سوشل میڈیا پیجز پر درج کرا سکتے ہیں، جن پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔صوبائی وزیر سید فخرِجہان نے موقع پر ہی عوامی مسائل کے فوری حل کیلئے متعلقہ حکام کو مؤثر اقدامات اٹھانے کے احکامات جاری کیے۔انہوں نے شکایت کنندگان کی نشاندہی پر واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ دورانِ ڈیوٹی ناکوں پر تعینات افسران و اہلکار کسی صورت ٹک ٹاک یا دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کیلئے ویڈیوز نہیں بنائیں کیونکہ محکمہ ایکسائز کی اصل ذمہ داری منشیات کے خاتمے کی ہے، نہ کہ اس کی آڑ میں ذاتی برانڈنگ یا فلمی مناظر بنا کر عوام کی تذلیل کرنا۔ اگر آئندہ کوئی افسر یا اہلکار اس عمل میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔کھلی کچہری کے دوران صوبے کے طول و عرض سے عوام نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت اور صوبائی وزیر ایکسائز سید فخرِجہان کی سرپرستی میں زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت انسدادِ منشیات کے خلاف جاری مؤثر آپریشن کو ایک احسن اقدام قرار دیا۔ عوام کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت میں محکمہ ایکسائز نے پہلی مرتبہ منشیات کے ناسور کے خلاف اس نوعیت کا مؤثر اور نتیجہ خیز آپریشن شروع کیا ہے۔ عوام نے صوبائی وزیر ایکسائز کی انتھک کوششوں کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔صوبائی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ منشیات کے خلاف محکمہ ایکسائز کی جانب سے ڈیلرز، منشیات فروشوں اور اس کے عادی افراد کے خلاف بلا امتیاز آپریشن جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ گھناونا دھندا ہماری نئی نسل کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے، اس لیے اس میں ملوث عناصر کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے وژن اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت ’اختیار عوام کا‘ کے وژن پر عمل پیرا ہے اور عوام کی ہر جائز شکایت پر بروقت اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔