Home Blog Page 46

خیبر پختونخوا میں سالانہ بھل صفائی مہم کا آغاز

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان نے شامی روڈ پشاور میں نہروں کی سالانہ بھل صفائی اور سالانہ مرمت و بحالی مہم کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے۔ افتتاحی تقریب میں ممبر صوبائی اسمبلی میاں شرافت علی خان، سیکرٹری محکمہ آبپاشی عبدالباسط، محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر محکمہ آبپاشی کے حکام نے صوبائی وزیر کو جاری بھل صفائی اور مرمت و بحالی منصوبوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ محکمہ آبپاشی خیبرپختونخوا صوبے بھر میں 4,060کلومیٹر طویل نہری نظام کی نگرانی اور دیکھ بھال کر رہا ہے جبکہ موجودہ مہم کے دوران2,030کلومیٹر نہروں کی بھل صفائی کی جا رہی ہے جو مجموعی نہری نظام کا 50 فیصد بنتا ہے۔ بھل صفائی کے لئے 441.27ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ نہروں کے پشتوں، لائننگ اور دیگر متعلقہ ڈھانچوں کی مرمت کے لئے 285.64 ملین روپے، ٹیوب ویلز اور لفٹ اریگیشن سکیموں (الیکٹریکل و مکینیکل ورک) کی بحالی کے لیے89.63ملین روپے جبکہ فلڈ پروٹیکشن اور ڈرینیج سے متعلق کاموں کے لئے83.47ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے کہا کہ محکمہ آبپاشی صوبے بھر میں نہروں، ڈسٹری بیوشن سسٹمز، ہیڈ ورکس، ٹیوب ویلز، لفٹ اریگیشن سکیموں اور فلڈ پروٹیکشن ڈھانچوں پر مشتمل اہم انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال کر رہا ہے، جو 25 لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی اراضی کو سیراب کر کے کسانوں کو روزگار اور صوبے کی غذائی تحفظ کو بنیاد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایات اور وژن کے مطابق ایک بھرپور انداز میں مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال جنوری تا فروری نہری بندش کے دوران مرمت و بحالی پروگرام کے تحت بھل صفائی، پشتوں کی مضبوطی اور ساختی مرمت کے کام انجام دیا جاتا ہے تاکہ کاشت کے موسم میں پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ بھل صفائی کا مقصد نہروں میں پانی کی گنجائشی صلاحیت کو بحال رکھنا، پانی کے ضیاع کو کم کرنا اور آخری سرے کے کسانوں تک منصفانہ پانی کی ترسیل کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نہروں سے نکالی جانے والی بھل عارضی طور پر دو سے تین دن نہری کناروں پر رکھی جاتی ہے، جس کے بعد اسے مقررہ طریقہ کار کے تحت منتقل کیا جاتا ہے جبکہ ماحولیاتی اصولوں اور حفاظتی ضوابط پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ریاض خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت وزیراعلی سہیل آفریدی کی قیادت میں نہری نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، دیکھ بھال کے معیار کو مزید بہتر بنانے اور ماحولیاتی تقاضوں کی تکمیل کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی و مرمتی کام شفاف، بروقت اور مقررہ معیار کے مطابق مکمل کیے جائیں اور کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی نہ برتی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات صوبے میں پانی کے بہتر انتظام، زرعی پیداوار میں اضافے اور کسانوں کے مسائل کے پائیدار حل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ آبپاشی عوام کی فلاح و بہبود کے لئے ہر وہ اقدام کرے گا جس سے عوام کو حقیقی سہولیات میسر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی مسائل کے حل پر یقین رکھتی ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ آبپاشی کے جانب سے صوبے بھر کے ہر سیکٹر میں بلاامتیاز ترقیاتی کام کئے جائیں گے تاکہ عوام کو بلا تفریق یکساں سہولیات فراہم ہوں۔

پشاور میں فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی بڑی کارروائیاں،جعلی کولڈ ڈرنکس کی بڑی کھیپ اور خشک خمیر بنانے والے یونٹ بے نقاب، بھاری جرمانے عائد

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے پشاور میں جعلی، غیر معیاری اور مضرِ صحت خوراک کے خلاف بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے جعلی کولڈ ڈرنکس اور خشک خمیر تیار کرنے والے یونٹ بے نقاب کر دیے۔ترجمان فوڈ اتھارٹی نے کاروائیوں کے حوالے سے تفصیلات جاری کی اور کہا کہ گزشتہ روز فوڈ سیفٹی ٹیم نے ڈپٹی ڈائریکٹر پشاور ذیشان محسود کی نگرانی میں خفیہ اطلاع پر پھندو روڈ اور پشاور انڈسٹریل زون میں چھاپے مارے۔ پھندو روڈ پر واقع ایک گودام سے تقریباً 2000 لیٹر جعلی کولڈ ڈرنکس برآمد کر کے سرکاری تحویل میں لے لی گئیں۔اسی طرح پشاور انڈسٹریل زون میں قائم ایک پروڈکشن یونٹ پر چھاپے کے دوران یونٹ کو رنگے ہاتھوں جعلی خشک خمیر تیار کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ کارروائی کے دوران تقریباً 1000 کلوگرام خام اور تیار شدہ جعلی خشک خمیر قبضے میں لے لیا گیا۔ترجمان نے مزید بتایا کہ معروف برانڈز کے نام پر جعلی خشک خمیر پیک کرنے اور تیار کرنے میں استعمال ہونے والی مشینری بھی سرکاری تحویل میں لے لی گئی ہے۔ ملوث مالکان پر بھاری جرمانے عائد کرتے ہوئے فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت مزید قانونی کارروائی کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کاشف اقبال جیلانی نے کامیاب کارروائیوں پر فوڈ سیفٹی ٹیموں کو سراہا اور کہا کہ جعلی، غیر معیاری اور مضرِ صحت خوراک کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل جاری ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ عوام کی صحت سے کھیلنے والوں کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔ کاشف اقبال جیلانی نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ایسے عناصر کی فوری نشاندہی کریں جو غیر معیاری خوراک یا جعلی مشروبات تیار یا فروخت کر رہے ہوں تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

سینئیر ممبر بورڈ آف ریوینیو عامر سلطان ترین کا پراجیکٹ ڈائیریکٹر ضم اضلاع واصل خٹک کے ہمراہ ضلع خیبر کا اچانک دورہ، ایس ڈی ایل آر منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ لیا

سینئر ممبر بورڈ آف ریونیوعامر سلطان ترین نے پراجیکٹ ڈائریکٹر سیٹلمنٹ اینڈ ڈیجیٹائزیشن آف لینڈ ریکارڈز پراجیکٹ کے ہمراہ ضلع خیبر میں سیٹلمنٹ آفیسر کے دفتر کا اچانک دورہ کیا۔ دورے کے دوران پراجیکٹ ڈائریکٹر نے ضلع خیبر میں جاری سیٹلمنٹ کارروائیوں کے بارے میں ایس ایم بی آر کو تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں ایس ڈی ایل آر منصوبے کے اہم پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا جن میں اب تک کی پیش رفت، فیلڈ سرگرمیاں، ڈیٹا کی تصدیق کے مراحل اور زمین کے ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن میں شفافیت اور درستگی کو یقینی بنانے کے لیے اختیار کیے گئے اقدامات شامل تھے،ایس ایم بی آر نے خاص طور پر مستفیدین کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نمبرز کے اندراج اور تصدیق کے طریقہ کار کے بارے میں استفسار کیا اور اس کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ اصل ملکیت کو یقینی بنایا جا سکے، جعلی اندراجات کا خاتمہ ہو اور ڈیجیٹل زمین کے ریکارڈ کی ساکھ مضبوط بنائی جا سکے۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر نے آگاہ کیا کہ سخت تصدیقی نظام نافذ ہے اور سی این آئی سی کا اندراج منظور شدہ قواعد و ضوابط کے مطابق یقینی بنایا جا رہا ہے ایس ایم بی آر نے سیٹلمنٹ کارروائیوں کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور سیٹلمنٹ سٹاف اور ایس ڈی ایل آر پراجیکٹ ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ایس ڈی ایل آر منصوبہ ایک اہم اصلاحاتی اقدام ہے جس کا مقصد عوام کو محفوظ، شفاف اور چھیڑ چھاڑ سے پاک زمین کا ریکارڈ فراہم کرنا ہے، دورے کے اختتام پر ایس ایم بی آر نے فیلڈ سٹاف کو کام کی رفتار برقرار رکھنے کی تلقین کی اور مقررہ طریقہ کار کی سختی سے پابندی کرتے ہوئے سیٹلمنٹ سرگرمیوں کی بروقت تکمیل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایس ڈی ایل آر منصوبے کے تحت زمین کے ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن کے ذریعے زمین کے انتظامی نظام کو جدید بنایا جائے اور عوام کو سہولیات فراہم کی جائیں۔

پشاور ہائیکورٹ کے ججز کی حلف برداری کی تقریب کا انعقاد

پشاور ہائیکورٹ کے کورٹ روم۔1 میں پیر کے روز ججز کی حلف برداری کی تقریب من عقد ہوئی جس میں چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے چھ ایڈیشنل ججز سے ان کے عہدوں کا حلف لیا۔حلف اٹھانے والے ججز میں جسٹس محمد طارق آفریدی، جسٹس عبدالفیاض، جسٹس صلاح الدین، جسٹس صادق علی، جسٹس سید مدثر امیر اور جسٹس قاضی جواد احسان اللہ شامل ہیں۔حلف برداری کے حوالے سے منعقدہ پر وقار تقریب میں متعلقہ حکام اور وکلاء نے بڑی تعداد میں شرکت کی

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان کے دفتر پشاور میں محکمہ آبپاشی سے متعلق آن لائن کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان کے دفتر پشاور میں محکمہ آبپاشی سے متعلق آن لائن کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری کے دوران صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے بذریعہ ٹیلیفون صوبہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے عوام کی فون کالز سنیں اور انہیں درپیش مسائل سے براہ راست آگاہی حاصل کی۔ اس موقع پر سیکرٹری محکمہ آبپاشی عبدالباسط سمیت محکمہ کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ کھلی کچہری میں موصول ہونے والی تمام شکایات کو باقاعدہ ریکارڈ پر لیا گیا جبکہ تمام شکایت کنندگان کے موبائل نمبرز نوٹ کیے گئے۔ صوبائی وزیر آبپاشی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات کے مکمل حل کے لیے ایک سے دو ہفتوں پر مشتمل واضح ٹائم لائن کے اندر عملی اقدامات یقینی بنائے جائیں اور شکایت کنندگان کو پیش رفت سے باقاعدہ آگاہ رکھا جائے۔ صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے کہا کہ محکمہ آبپاشی ایک عوامی خدمت کا ادارہ ہے اور عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ شکایات کے فوری اور مؤثر ازالے کو یقینی بنایا جائے اور ذمہ داری میں غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کھلی کچہری کا انعقاد قائد عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے وژن کا عملی مظہر ہے، جس کا مقصد نچلی سطح پر عوام کے ساتھ براہ راست رابطہ قائم کرنا اور ان کے مسائل فوری طور پر سن کر حل کرنا ہے۔ ریاض خان کا کہنا تھا کہ قائد عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی ہمیشہ عوامی مسائل کے حل پر یقین رکھتے ہیں اور کھلی کچہری کا نظام اسی عوام دوست پالیسی کا تسلسل ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ کھلی کچہری جیسے اقدامات سے نہ صرف عوام کو اپنی شکایات اور تجاویز پیش کرنے کا موقع ملتا ہے بلکہ حکومتی اداروں کی کارکردگی میں شفافیت اور بہتری بھی آتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت عوامی خدمت کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور کھلی کچہریوں کے ذریعے عوامی مسائل کو ان کی دہلیز پر حل کیا جا رہا ہے۔ ریاض خان نے عوام کی جانب سے کھلی کچہری میں بھرپور شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد، شفافیت اور باہمی رابطے کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ آبپاشی میں میرٹ اور انصاف کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے اور کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ محکمہ آبپاشی میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی، اقربا پروری یا اختیارات کے ناجائز استعمال کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور محکمہ کو مزید شفاف، فعال اور عوام دوست ادارہ بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

وزیر اعلی خیبرپختونخوا کے مشیربرائے خزانہ مزمل اسلم نے بی آر ٹی پشاور کارنامہ سے متعلق اہم بیان جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ٹرانس پشاور کو ایک بار پھر ڈی کاربنائزنگ ٹرانسپورٹ ایوارڈز 2026 میں فائنلسٹ کے طور پر شارٹ لسٹ کردیا گیا ہے

وزیر اعلی خیبرپختونخوا کے مشیربرائے خزانہ مزمل اسلم نے بی آر ٹی پشاور کارنامہ سے متعلق اہم بیان جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ٹرانس پشاور کو ایک بار پھر ڈی کاربنائزنگ ٹرانسپورٹ ایوارڈز 2026 میں فائنلسٹ کے طور پر شارٹ لسٹ کردیا گیا ہے۔ مزمل اسلم نے مزید بتایا کہ عالمی ماحولیاتی تناظر میں یہ پاکستان کے لیے ایک نہایت اہم خبر ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ بی آر ٹی پشاور پہلے ہی 5 بین الاقوامی ایوارڈز جیت چکی ہے جو پاکستان میں کسی بھی میٹرو بس سروس کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔

Free, mobile and fearless

On the busy streets of Peshawar, where traffic moves slowly and horns never stop honking, a woman riding a scooter still catches attention. It is not because of speed or noise, but because of what the scene represents. For many, it is a simple ride. For others, it is a quiet challenge to old habits and fears.

This is the story of Saba Yamin, a resident of Peshawar, who chose a scooter to solve her daily problems. In the process, she inspired many other women to reconceptualize the city and what it means to be mobile and fearless.

Saba is a content creator by profession. Her work requires her to travel to meetings, appointments and events in different parts of the city. Like many working women, she wanted to manage her time better and reach these places on schedule.

At first, she used her car for the daily commute. But Peshawar’s traffic is a serious problem. Roads are crowded. Congestion, traffic jams and bottlenecks often cause delays. Even short trips could take hours. Being stuck in traffic caused stress and made her late for work. Over time, this became part of her daily routine.

Public transport was not a real solution either. In Peshawar, buses and wagons are often overcrowded. The female commuters on board complain that pushing and shoving is common. Another issue is lack of personal boundaries. Then, there is harassment. For many women, traveling this way is uncomfortable. Saba saw these problems not only in her own life but also in the lives of women around her.

“I saw women struggling every day,” she says, “it felt unfair.”

During this time, Saba started noticing something else. On social media, she saw women riding scooters in Lahore and Islamabad. In those cities, scooters had become a normal and useful way for women to travel. They were easy to ride and cost-effective.
This inspired Saba, but she realized that, in Peshawar, women riding scooters was still rare. The idea had not caught on. If women can do this in other cities, why not in Peshawar? The answer to the question was transformative.

Saba says deciding to ride a scooter in Peshawar was not easy. The city is often described as traditional and conservative. Women’s movements in public spaces are closely watched. A woman riding a scooter would attract undesirable attention. Saba knew she would face criticism. She did.

When she first started riding her scooter, some people asked questions and made comments. A few warned her that it was unsafe. She was told that such things were “not done” in Peshawar.

“There were days when the comments were very discouraging,” Saba recalls. “Some people tried to scare me, but I wouldn’t stop.“

Instead, Saba focused on her purpose. She followed traffic rules, wore a helmet and rode carefully. She made riding a scooter part of her daily life. Slowly, things began to change. People started seeing her regularly riding her scooter. Other drivers became more respectful. The shock was replaced first by curiosity and, eventually, acceptance.

Saba says the image of Peshawar as a “backward” city is outdated. The city is changing. More women are now working and visible. Opportunities are still limited, but growing.

“Peshawar has clearly not stagnated. It is moving forward,” she says. “The mindsets are changing. It will take time, but it is definitely changing.”

She says she wanted to show the world through her blog that Peshawar was peaceful and its women strong and capable. The response surprised her. Women from Peshawar and other parts of the country started sending her messages. Many said her example had inspired them. Some shared their fears. Others said they had wanted to ride a scooter too but had been waiting for social acceptance.

“For me, these messages meant everything,” she says. “They showed that many women were watching and thinking about doing the same thing.”

She says that most of the encouragement came from women who praised her courage. Some told her that they planned to buy a scooter, once it becomes more common.

On the road, Saba says, most people give her space. Some still act surprised, but she ignores them. “I focus on my ride and safety,” she says. “I don’t let negative reactions bother me.”

Saba is careful to add that riding a scooter entails responsibility. “If women want to be accepted on the road, they must show responsibility,” she says. “Safety comes first.”

She also says the government can help normalize the sight of female motorists. She says it should support women by providing free or subsidized scooters.

“Mobility is empowering. It can completely change lives. When women can move freely, they can work, study and grow.”

Saba says life does not grow easier on its own. Women must take steps to improve their lives, even when the path seems difficult.

As she continues to ride her scooter through Peshawar’s streets, for many she has become a symbol of change, confidence and hope.

Her story is no longer just about a woman riding scooter. It is also about a city changing, about women finding new ways to claim space and about a future where mobility is not a privilege, but a right.

“Every woman faces life’s challenges,” she says. “Courage helps us move forward.”

Saba says Peshawar’s women are brave, talented and capable. All they need is support from their families and the society.

A little encouragement, she says, can lead to big changes. “When you support one woman, you help many.“

وادی تیراہ سے مقامی آبادی کی نقل مکانی پر وفاقی حکومت کا بیان بے بنیاد، من گھڑت اور حقائق کے منافی ہے، شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے وادی تیراہ سے مقامی آبادی کی نقل مکانی سے متعلق وفاقی حکومت کے بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وادی تیراہ سے لوگوں کے انخلاء کے حوالے سے وفاقی حکومت کا بیان بے بنیاد، من گھڑت، حقائق کے منافی اور عوام کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش ہے جو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی، یہاں سے جاری بیان میں شفیع جان نے کہا کہ وفاقی حکومت وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی اور جاری آپریشن کا سارا ملبہ صوبائی حکومت پر ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ ان کا مقصد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی حکومت کو بدنام کرنا ہے تاہم خیبرپختونخوا کے عوام باشعور ہیں اور وفاقی حکومت کے کسی جھوٹے بیانئے اور پراپیگنڈے میں نہیں آئیں گے،معاون خصوصی نے کہا کہ پوری قوم جانتی ہے کہ وادی تیراہ کے لوگ آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ آپریشن سے متعلق وفاقی وزراء خواجہ آصف اور طلال چوہدری کی قومی اسمبلی میں تقاریر ریکارڈ پر موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی وادی تیراہ آپریشن کے حوالے سے اپنا مؤقف متعدد بار واضح کر چکے ہیں۔ اس سلسلے میں صوبائی اسمبلی میں امن جرگہ کے دوران تمام سیاسی جماعتوں نے بھی آپریشن کی مخالفت کی تھی،شفیع جان نے کہا کہ وفاقی حکومت کو چاہیے تھا کہ آپریشن سے قبل خیبرپختونخوا حکومت، تمام سیاسی جماعتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جاتا لیکن بدقسمتی سے وفاقی حکومت اپنے فیصلے قوم پر مسلط کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب مشکل وقت میں متاثرین کو بھی تنہا چھوڑ دیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے چار ارب روپے کے اجراء پر وفاقی حکومت کا بیان انتہائی مضحکہ خیز ہے،صوبائی حکومت کی جانب سے فنڈز کے اجراء کا مقصد متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کرنا تھا مگر افسوس کہ وفاقی حکومت نے اس معاملے پر بھی سیاست کرنے کی کوشش کی،شفیع جان نے سوال اٹھایا کہ کیا صوبائی حکومت نقل مکانی پر مجبور ہونے والے متاثرین کو بے یارو مددگار چھوڑ دیتی؟ صوبائی حکومت نے انخلاء کرنے والے متاثرین کو بروقت ریلیف فراہم کرنے کے لیے بھی فنڈز جاری کیے جبکہ اس معاملے پر وفاقی حکومت کی بے حسی قابل افسوس ہے،معاون خصوصی نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت دراصل پاکستان تحریک انصاف کی کامیاب اسٹریٹ موومنٹ سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایات پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کامیابی کے ساتھ اسٹریٹ موومنٹ کی قیادت کر رہے ہیں۔ پشاور ریجن کے بعد آج ملاکنڈ ڈویژن میں اسٹریٹ موومنٹ کے دوران عوام کے جم غفیر نے ثابت کر دیا کہ عوام وفاق اور پنجاب پر مسلط جعلی حکومت کو کسی صورت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ عوام نے اپنا فیصلہ بانی چیئرمین عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کے حق میں سنا دیا ہے۔

محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ حکومتِ خیبر پختونخوا کی جانب سے عوامی مسائل کے فوری اور مؤثر حل کے لیے ایک اہم اقدام کے تحت فیس بک کے ذریعے آن لائن کھلی کچہری کا انعقاد کیا جا رہا ہے آن لائن کھلی کچہری 27 جنوری کل (منگل) کو دن 11 بجے سے 12 بجے تک منعقد ہوگی

محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ حکومتِ خیبر پختونخوا کی جانب سے عوامی مسائل کے فوری اور مؤثر حل کے لیے ایک اہم اقدام کے تحت فیس بک کے ذریعے آن لائن کھلی کچہری کا انعقاد کیا جا رہا ہے آن لائن کھلی کچہری 27 جنوری کل (منگل) کو دن 11 بجے سے 12 بجے تک منعقد ہوگی۔
آن لائن کھلی کچہری میں صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان اور سیکریٹری محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ براہِ راست شرکت کریں گے اور صوبے بھر کے صارفین کو درپیش پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب سے متعلق مسائل، شکایات اور صارفین کے سوالات کے جوابات دیں گے۔
کھلی کچہری کے انعقاد کا بنیادی مقصد عوام کو اعلیٰ حکام تک براہِ راست رسائی فراہم کرنا، ان کے مسائل کو سننا اور شفاف، بروقت اور مؤثر انداز میں ان کا حل یقینی بنانا ہے۔ آن لائن کھلی کچہری کے ذریعے عوام بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے مسائل متعلقہ اعلیٰ حکام کے سامنے رکھ سکیں گے۔

محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی شکایات اور مسائل وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے شکایات پورٹل“اختیار عوام کا”پر پہلے سے درج کروائیں تاکہ متعلقہ شکایات کا جائزہ لے کر ان کے جوابات آن لائن کھلی کچہری کے دوران دیے جا سکیں جبکہ 9210933-091 پر لائیو ٹیلفونک کال کے زریعے بھی اعلیٰ حکام کو اپنی شکایات اور مسائل سے آگاہ کیا جاسکتا ہے۔
اس حوالے سے صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت عوامی مسائل کے حل کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور آن لائن کھلی کچہری جیسے اقدامات عوام اور محکمہ کے درمیان فاصلے کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صاف پینے کے پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور عوامی شکایات کے بروقت ازالے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں اسٹریٹ موومنٹ جوش و خروش سے جاری ہے، شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ وادی تیراہ سمیت صوبے کے مختلف پہاڑی علاقوں میں گزشتہ چند دنوں کے دوران شدید برفباری ہوئی ہے، جس کے پیشِ نظر صوبائی حکومت نے فوری طور پر ریسکیو، ریلیف اور روڈ کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے۔
یہاں سے جاری اپنے بیان میں شفیع جان نے کہا کہ ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹگرام، سوات، دیر، چترال سمیت دیگر پہاڑی اضلاع میں تمام سرکاری مشینری مکمل طور پر متحرک ہے، جبکہ تمام متعلقہ محکمے ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔ برف سے بند سڑکوں کو کھولنے کے لیے بھاری مشینری کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا فوری ازالہ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ وادی تیراہ میں شدید برفباری کے باعث پھنسے افراد کو ریسکیو کرنے کے لیے مختلف اضلاع کے ریسکیو اہلکاروں نے حصہ لیا۔ ریسکیو آپریشن کے دوران متاثرہ افراد کو بروقت عارضی کیمپوں میں بحفاظت منتقل کیا گیا، جہاں خوراک سمیت دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
شفیع جان نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی خود تیراہ سمیت تمام اضلاع میں جاری ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ محکمہ اطلاعات کے تمام ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز بھی عوام کو بروقت آگاہی فراہم کرنے کے لیے خصوصی نشریات نشر کر رہے ہیں۔
اسٹریٹ موومنٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے معاونِ خصوصی نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے آج اسٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں پشاور سے مردان تک ریلی کی قیادت کی، جس کا مقصد عوامی مینڈیٹ کی بحالی اور قوم پر مسلط فارم 47 کی جعلی حکومت کے خلاف بھرپور احتجاج ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوشہرہ اور مردان کے مختلف مقامات پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کارکنان نے والہانہ اور تاریخی استقبال کیا۔ وزیراعلیٰ کی قیادت میں ہونے والی ریلی میں ہزاروں کارکنان نے شرکت کی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام اب مزید ظلم، جبر اور فسطائیت کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔
یہ اسٹریٹ موومنٹ بانی چیئرمین عمران خان پر قوم کے غیر متزلزل اعتماد کا عملی اظہار ہے۔ معاونِ خصوصی نے کہا کہ یہ اسٹریٹ موومنٹ جعلی حکومت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی۔ قوم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ نہ فارم 47 کو مانتی ہے اور نہ ہی عوامی مینڈیٹ چرانے والوں کو مزید مہلت دے گی۔ وفاق پر مسلط کرپٹ ٹولے کے دن گنے جا چکے ہیں، اور عوام جلد حقیقی جمہوریت کو واپس حاصل کریں گے۔