خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان نے کہا ہے کہ ضلع بونیر کے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان اور عوام ہمارے لیے نہایت عزیز ہیں اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اور جائز اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی عوامی مسائل کے حل اور عوام کے درمیان موجودگی کو اپنی اولین ترجیح دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان کا وژن ہی ہماری سیاست کی بنیاد ہے اور صوبائی حکومت اسی وژن پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت، میرٹ اور عوامی خدمت ہی پی ٹی آئی حکومت کی پہچان ہے۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے اپنے حجرہ ملک پور پیر بابا بونیر میں پبلک ڈے کے موقع پر مختلف وفود اور علاقے کے معززین سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس دوران صوبائی وزیر نے عوام کے مسائل نہایت توجہ سے سنے اور متعدد مسائل موقع پر ہی حل کر دیے جبکہ باقی مسائل کے فوری حل کے لیے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کیں۔اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان اور عہدیداران نے بھی صوبائی وزیر ریاض خان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں سیاسی اور ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر ریاض خان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں اور حکومت عوامی اعتماد پر پورا اترنے کے لیے دن رات محنت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل اور صوبے کی ترقی کا یہ سفر اسی جذبے کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کی سٹریٹ موومنٹ انتہائی کامیابی کے ساتھ جاری ہے، جس نے مخالفین کو شدید بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا ہے۔ کارکنان اور عوام کی بھرپور شرکت نے اس تحریک کو ایک مضبوط عوامی طاقت میں تبدیل کر دیا ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ورکرز اور عوام نے اپنی منظم، پرامن اور بھرپور شرکت کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف آج بھی ملک کی سب سے بڑی اور مقبول سیاسی جماعت ہے۔ عوام کا جوش و جذبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے بیانیے اور قیادت پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔
سال 2025 میں پاکستان بھر میں ٹریکٹر فروخت پچھلے 20 سالوں سے کم ریکارڈ ہوئی ہے پنجاب و سندھ زراعت کا گڑھ تھے ان کو کس حال تک پہنچایا گیا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے ملکی معشیت، زراعت اور گندم سے متعلق اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال پاکستان بھر میں ٹریکٹر فروخت پچھلے 20 سالوں سے کم ریکارڈ ہوئی ہے پنجاب و سندھ زراعت کا گڑھ تھے ان کو کس حال تک پہنچایا گیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ملک کی 60 فیصد آبادی زراعت سے منسلک ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ مریم نواز نے جو اپنے تصویر والے ٹریکٹر دئیے انکا کیا بنا اور اپنی تصویر والے کسان کارڈ بھی منظر سے غائب ہے کوئی فائدہ نہیں دیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گزشتہ روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے کیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ملک میں کسان کے منہ کا نوالہ چھین لیا گیا اور مڈل مین کے ہاتھوں ملک میں تاریخ کی بلند ترین گندم کی قیمتیں ہوگئ ہیں۔ ملک میں گندم کی قیمت 5 ہزار پر پہنچ گئی مجال ہے کہ حکومت کا دھیان اس طرف ہو۔ مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت اپنی نجی محفلوں میں مگن ہیں اور شھباز شریف کے چار سالہ دور حکومت میں دوسری دفعہ گندم بحران ہے دوسری طرف ونڈر بوئے کا شوشا چھوڑ کر ان لاڈلوں کی بد انتظامی چھپائی جارہی ہے
Senior KPRA Officers Congratulate Newly Appointed DG KPRA
Senior officers of the Khyber Pakhtunkhwa Revenue Authority (KPRA) on Friday congratulated the newly appointed Director General KPRA, Ms. Irum Naz, on assuming charge of her office and presented her with a shield.
During the meeting, the officials appreciated the professional capabilities and skills of the Director General and assured her of their full cooperation.
Speaking on the occasion, DG KPRA Ms. Irum Naz said that she believes in collective teamwork and will work together with all officers for the progress and institutional strengthening of KPRA.
She further stated that she would utilize all her professional abilities and acquired skills to fulfill the responsibilities entrusted to her by the Government of Khyber Pakhtunkhwa and make concerted efforts to not only achieve the assigned revenue targets but also to exceed them.
The meeting was attended by Collector Sales Tax on Services Syed Kazim Hussain Shah, Advisor Tax Enforcement Fazal Amin Shah, Director Finance Asma Khyber, Director Inquiry and Investigation Pir Muhammad Mehsud, and Deputy Director H R Aftab Ghazi.
Govt Raises Petroleum Levy by Rs5 to Rs85: KP Finance Adviser Muzzammil Aslam
Advisor to the KP Chief Minister on Finance Muzzammil Aslam, reacting to the petroleum levy and prices, said that the government has further increased the petroleum levy by Rs5, raising it to Rs80. He stated that the government itself blocks opportunities to provide relief to the public; although a reduction of Rs5 per litre in petroleum product prices was expected, it did not happen. These views were expressed by KP Finance Adviser Muzzammil Aslam in a statement issued from his office yesterday.
Muzzammil Aslam said that the intention to reduce gas circular debt has quietly been fulfilled today. It is worth noting that only 27 percent of the country’s population has access to gas pipelines, while 100 percent of the public will pay off the gas circular debt in the form of higher petrol prices. He added that the gas circular debt is also a result of the PML-N’s 2015 LNG agreements.
He said that the PML-N government is trying to get rid of the LNG agreements, and that the government will suspend 45 LNG cargoes from Qatar and Eni until 2027, for which any loss incurred in the international market will be borne by the government, and this cost will be recovered from the public by imposing a Rs5 tax levy. “In any case, one has to acknowledge the vision of the PML-N,” he remarked.
سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کا غازی اور ہری پور میں صحت کے منصوبوں کا جائزہ
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کی ہدایات پر سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، حکومتِ خیبر پختونخوا عدیل شاہ نے ہزارہ ڈویژن میں جاری صحت کے اہم ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کیا تاکہ ان کی پیش رفت کے ساتھ بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔سیکرٹری پی اینڈ ڈی نے غازی میں کیٹیگری ڈی ہسپتال کو کیٹیگری سی ہسپتال میں اپ گریڈ کرنے کے منصوبے اور ہری پور میں ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال کی تعمیر کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے جاری تعمیراتی کام کی رفتار اور معیار کا جائزہ لیا، پیش رفت پر اطمینان کا اظہار
کیا تاہم مزید تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا۔سیکرٹری عدیل شاہ نے متعلقہ محکموں اور عملدرآمدی اداروں کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کام کو تیز کیا جائے، منظور شدہ نقشوں اور مقررہ ٹائم لائنز پر سختی سے عمل کیا جائے اور معائنے کے دوران نشاندہی شدہ خامیوں کوفوری طور پر دور کیا جائے۔ انہوں نے نئے انفراسٹرکچر کی تکمیل تک موجودہ ہسپتال عمارتوں میں سہولیات کی بہتری کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔سیکرٹری پی اینڈ ڈی نے منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے کو مضبوط بنانے اور بالخصوص خواتین اور بچوں کے لیے معیاری صحت کی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔دورے کے موقع پر ڈائریکٹر جنرل مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن (ایم اینڈ ای) عثمان زمان، ڈپٹی کمشنر ہری پور وسیم احمد اور ڈویژنل مانیٹرنگ آفیسر (ڈی ایم او) ہزارہ سید علی رضا شاہ سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ افسران نے سیکرٹری کو منصوبوں کی تفصیلات، پیش رفت کی صورتحال اور درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔یہ منصوبے مکمل ہونے کے بعد خطے میں صحت کی سہولیات میں نمایاں بہتری لائیں گے اور غازی، ہری پور اور گرد و نواح کے عوام کو بہتر طبی خدمات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
نوجوان وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ہزارہ ڈویژن میں تاریخی و عظیم الشان عوامی ریلی کی قیادت کریں گے- شفیع جان
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ نوجوان وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی بروز ہفتہ ہزارہ ڈویژن میں تاریخی و عظیم الشان عوامی ریلی کی قیادت کریں گے جو حطار انٹرچینج سے شروع ہوکر جی ٹی روڈ سے مانسہرہ تک جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ ریلی کے دوران کانگڑہ، سرا? صالح، شاہ مقصود، لورا چوک، منڈیاں اور قلندرآباد میں شاندار استقبالیے دیے جائیں گے جبکہ پنیاں چوک، حویلیاں دوراہا، فوارہ چوک اور مانسہرہ بازار میں وزیراعلیٰ عوامی اجتماعات سے خطاب کریں گے۔ چمبا پل پر یوتھ کی جانب سے خصوصی استقبال بھی کیا جائے گا۔معاون خصوصی شفیع جان مزید کہا کہ عام انتخابات کے بعد سے اب تک ملک بھر میں پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی سرگرمیوں پر غیر اعلانیہ پابندیاں عائد ہیں۔ بانی چیئرمین عمران خان سمیت پارٹی قیادت اور کارکنوں کو ناحق قید و بند کا سامنا ہے۔ کئی مہینوں سے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقاتیں بند کی گئی ہیں۔ جبکہ پارٹی کو جمہوری اور آئینی سرگرمیوں کے لیے مناسب سیاسی اسپیس بھی فراہم نہیں کی جا رہی۔انہوں نے اسٹریٹ مومنٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان حالات میں نوجوان وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں شروع کی جانے والی اسٹریٹ موومنٹ سیاسی جمود کو توڑنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوئی ہے۔ ہزارہ ڈویژن کی یہ ریلی عوامی شعور کی بیداری اور جمہوری حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کا تسلسل ہے۔معاون خصوصی شفیع جان نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بانی چیئرمین عمران خان کی قیادت میں عوامی حقوق کی جدوجہد جاری رکھے گی اور کسی بھی قسم کے سیاسی جبر کے سامنے سر نہیں جھکائے گی۔
گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور سی اینڈ ڈبلیو اصلاحات کا جائزہ
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے جمعہ کے روز صوبائی حکومت کے گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) اور محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) میں جاری اصلاحاتی اقدامات کا جائزہ لیا۔ اجلاسوں میں ڈیجیٹائزیشن، شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی اصلاحاتی اقدامات پر خصوصی توجہ دی گئی۔چیف سیکرٹری نے دونوں محکموں کے الگ الگ جائزہ اجلاسوں کی صدارت کی جن میں صوبے بھر میں پانی کی فراہمی، انفراسٹرکچر کے پائیدار نظام اور سڑکوں کے بہتر انتظام سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاسوں میں سیکرٹریز پی ایچ ای اور سی اینڈ ڈبلیو سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ پانی کے بلوں کی وصولی اور ریکارڈ کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جس سے شفافیت میں اضافہ ہوگا اور موبائل و بینکنگ کے ذریعے ادائیگی کو فروغ ملے گا۔ اجلاس میں پانی کے معیار کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا گیا، جس میں ٹیسٹنگ کے دائرہ کار میں توسیع، مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایم آئی ایس) کی بہتری اور بروقت اصلاحی اقدامات شامل ہیں۔چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ مرمت اور دیکھ بھال کے کام شواہد کی بنیاد پر کیے جائیں اور پانی میں مضر صحت اجزاء کی شمولیت کی وجوہات کو انفراسٹرکچر خامیوں کو دور کر کے حل کیا جائے۔ انہوں نے اضلاع کی سطح پر مستند ڈیٹا کی دستیابی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بجٹ کی بہتر تیاری اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوگی۔اجلاس میں پانی کی فراہمی کے نظام کو دیرپا بنانے کے لئے سروس ڈیلیوری، لیبارٹریز اور وسائل کے انتظام کے لئے علیحدہ یونٹس قائم کرنے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ پانی کے تحفظ سے متعلق مجوزہ پائلٹ منصوبوں، جن میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنا اور زیرِ زمین پانی کی سطح کی بہتری کے لئے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔اسی طرح جاری ترقیاتی منصوبوں کے تحت پانی کی فراہمی کی اسکیموں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کے عمل کا جائزہ لیا گیا اور حتمی منصوبے تیار کرنے، مقامی مسائل حل کرنے اور مرحلہ وار عملدرآمد کی ہدایات جاری کی گئیں۔ چیف سیکرٹری نے باہمی تعاون، بروقت فیصلوں اور کارکردگی کی نگرانی پر زور دیا تاکہ عوام کو بہتر پانی کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔محکمہ مواصلات و تعمیرات کے جائزہ اجلاس میں چیف سیکرٹری کو ہری پور، ڈیرہ اسماعیل خان اور پشاور میں روڈ ایسٹ مینجمنٹ سسٹم (رامز) کے نفاذ سے آگاہ کیا گیا۔ اس نظام کے ذریعے سڑکوں کی حالت کا درست ڈیٹا حاصل ہوگا، جس کی بنیاد پر مرمت اور ترقیاتی فیصلے کیے جائیں گے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اسکولوں اور صحت کے مراکز کی عمارتوں کو سیلاب سے محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ضلع کرم میں تھل۔پاراچنار روڈ پر جاری کام کا بھی جائزہ لیا گیا اور بتایا گیا کہ منصوبے پر عملی کام شروع ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ ایریل روپس وے ایکٹ پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا، جس کا مقصد عوامی کیبل کار نظام کی تعمیر، نگرانی اور حفاظت کے لیے جامع قانونی فریم ورک فراہم کرنا ہے۔ مجوزہ قانون میں عوامی تحفظ اور بہتر سروس کی فراہمی کے لیے حکومتی نگرانی کو یقینی بنایا گیا ہے۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان کا سی این جی اسٹیشنز کو گیس بندش پر تشویش کا اظہار
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان سے آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کی نمائندہ وفد نے جمعہ کے روز انکے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وفد نے سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی فراہمی کی بندش کے حوالے سے معاون خصوصی شفیع جان کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ بندش کے سبب درپیش مسائل و نقصانات سے آگاہ کیا گیا۔ معاون خصوصی شفیع جان نے خیبر پختونخوا میں سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ جو اپنی ضرورت سے کئی گنا زیادہ قدرتی گیس پیدا کر رہا ہے۔ صوبے کی مجموعی گیس پیداوار 480 ایم ایم سی ایف ڈی سے زائد ہے جبکہ ملک میں سی این جی سیکٹر کی کل کھپت 190 ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔ خیبرپختونخوا کے سی این جی اسٹیشنز 48 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کا استعمال کر رہے ہیں۔ آئین پاکستان گیس پیدا کرنے والے صوبے کو استعمال کا پہلا حق دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی این جی کی بندش سے غریب ٹیکسی، رکشہ اور سوزوکی ڈرائیورز متاثر ہورہے ہیں۔ جن کی کمر پہلی ہی سے فارم – 47 کی وفاقی حکومت کی مہنگائی نے توڑ دی ہے۔ بندش سے صوبے میں کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہورہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا کے کوٹے اور حق کے مطابق سی این جی سیکٹر کو گیس کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔
ملاکنڈ میں تعلیمی نظام کی بہتری کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ارشد ایوب خان نے ضلع ملاکنڈ میں تعلیمی نظام کو درپیش مسائل کے فوری اور مؤثر حل کے لیے متعلقہ حکام کو تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے یہ ہدایات ضلع ملاکنڈ میں تعلیمی مسائل کے حوالے سے منعقدہ ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔ اجلاس میں ضلع ملاکنڈ سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی شکیل احمد اور پیر مسور غازی، تحصیل چیئرمین افضل حسین اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔اس موقع پروزیر تعلیم کو ضلع میں تعلیمی سہولیات، اساتذہ کی کمی، سکولوں کی حالتِ اور دیگر درپیش چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ صوبائی وزیر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے اور ملاکنڈ میں تعلیمی شعبے کی بہتری کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ تعلیمی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے، طلبہ کو سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنے اور جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ وہاں کے طلباء کو علم کے حصول کے لیے اپنے علاقوں سے دور جانا نہ پڑے اور وہ اپنے علاقوں میں نزدیک معیاری تعلیم حاصل کر سکیں۔
وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمن نے پاکستان انٹرنیشنل میڈیکل کالج حیات آباد میں منعقدہ وائٹ کوٹ تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی
وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمن نے پاکستان انٹرنیشنل میڈیکل کالج حیات آباد میں منعقدہ وائٹ کوٹ تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع ادارے کیڈین، پرنسپل، اساتذہ، والدین اور بڑی تعداد میں طلبہ نے اُن کا پرتپاک استقبال کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ وائٹ کوٹ تقریب طلبہ کے پیشہ ورانہ سفر کا ایک تاریخی اور اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ سے لیا جانے والا حلف محض چند الفاظ نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت، دیانت داری، پیشہ ورانہ مہارت اور اخلاقی اقدار سے وابستگی کا تاحیات عہد ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طب ایک باعزت اور مقدس پیشہ ہے جسے لالچ اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اختیار کیا جانا چاہیے۔وزیرِ صحت نے کہا کہ محکمہ صحت کو نوجوان،باصلاحیت، متحرک اور دیانت دار افراد کی ضرورت ہے تاکہ صحت کے نظام کو مؤثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ صحت کے شعبے میں نااہلی، غفلت اور بددیانتی کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ اس پیشے کا تعلق براہِ راست انسانی جانوں سے ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنے کیریئر میں اعلیٰ اخلاقی معیار کو ہمیشہ ملحوظ رکھیں۔وزیرِ صحت نے والدین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ ملک بھر میں لاکھوں باصلاحیت نوجوان مالی مشکلات کے باعث طبی تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں، لہٰذا جن طلبہ کو یہ موقع ملا ہے وہ اسے ایک قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے معاشرے کی خدمت کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی توجہ معیاری صحت کی سہولیات اور مثبت نتائج پر مرکوز ہے۔ محکمہ صحت کے شعبے میں دیرپا اور مؤثر بہتری کے لیے جامع اور طویل المدتی پالیسیوں پر کام کیاجاہا ہے۔ ان پالیسیوں کا مقصد طبی سہولیات، انسانی وسائل، انفراسٹرکچر اور آلات کی بہتری کو یقینی بنانا ہے۔صوبائی وزیرِ صحت نے احتیاطی صحت (Preventive Healthcare)کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی طرزِ زندگی اور خوراک کی عادات میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں پر مریضوں کا بڑھتا ہوا دباؤ تشویشناک ہے اور بیماریوں سے بچاؤ ہی اس مسئلے کا مؤثر حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والی نسلوں کے محفوظ، صاف اور صحت مند مستقبل کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔انہوں نے بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز کو اپنی مقامی سطح پر خدمات سرانجام دینی چاہئیں تاکہ بنیادی صحت مراکز (BHUs) اور دیہی صحت مراکز (RHCs) کو فعال بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرائمری ہیلتھ کیئر کو مضبوط بنا کر ہی بڑے ہسپتالوں پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔وزیرِ صحت خلیق الرحمن نے کہا کہ محکمہ صحت تمام خامیوں کو دور کرنے کے لیے شب و روز کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سطح پر صحت کے مراکز میں ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف، ادویات اور جدید آلات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مشترکہ کوششوں اور باہمی تعاون سے صحت کے نظام میں نمایاں اور مثبت تبدیلی لائی جائے گی۔
