In a major success against narcotics trafficking, the Khyber Pakhtunkhwa Excise, Taxation & Narcotics Control Department thwarted a large-scale smuggling attempt in Mardan, recovering 300,000 grams (300 kilograms) of high-quality hashish concealed in a Mazda container. The seized narcotics are valued in crores of rupees.
Acting under the provincial government’s zero-tolerance policy against drugs, the Excise Intelligence Bureau (EIB) conducted the successful operation on the directives of Provincial Minister for Excise, Taxation & Narcotics Control, Syed Fakhar Jehan.
The operation was led by Provincial In-charge Excise Intelligence Bureau, Saud Khan Gandapur and Excise & Taxation Officer (Counter-Narcotics Operations), Majid Khan.
The team, including Inspectors Zarjan Khan and Ajmal Lodhi along with other field staff, acted swiftly on a tip-off and intercepted a suspicious Mazda Titan vehicle on Ring Road, Mardan.
A thorough search of the vehicle revealed several concealed compartments inside the mounted container, from which a huge quantity of hashish was recovered.
According to the Excise Department, the narcotics, worth crores, were being transported for inter-provincial smuggling.
A case has been registered against the accused, and further investigation has been handed over to Excise Police Station, Mardan Region. The department has reiterated its resolve that the crackdown against drug dealers, traffickers android facilitators will continue across the province without discrimination.
KP Excise Foils Major Drug-Smuggling Attempt; 300 KG of High-Quality Hashish Seized from Mazda Container in Mardan
خیبر پختونخوا کے آئینی حقوق کے لیے ایک بہادرانہ مقدمہ
تحریر: ڈاکٹر انجینئر اطہر سوری
اسلام آباد کا ہال! وہ مقام جہاں ملک کے مالیاتی فیصلے ہوتے ہیں، اور ہر صوبہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتا ہے۔ عام طور پر یہ اجلاس رسمی ہوتے ہیں، مگر 4 دسمبر 2025 کو فضا میں ایک خاص قسم کا برقی تناؤ تھا، جو کسی غیر معمولی واقعے کا پیش خیمہ تھا۔ میز پر اعداد و شمار اور قانون کی کتابیں رکھی تھیں، مگر اس کے پیچھے کروڑوں پاکستانیوں، بالخصوص غیور پختونوں کا مقدر داؤ پر تھا۔ ایک طرف مرکز کی بوجھل مالیاتی پالیسیاں تھیں، تو دوسری طرف خیبر پختونخوا کے وہ زخم تھے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی دہائیوں پرانی قیمت ادا کر رہے تھے۔
جب خیبر پختونخوا کے نوجوان اور پرعزم وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے مائیک سنبھالا تو ہال میں چھائی سرد خاموشی اچانک ایک فتح مند گرج میں بدل گئی۔ ان کا لہجہ لچکدار مگر حق پرستی کی طاقت سے لبریز تھا۔ وہ محض ایک سیاسی لیڈر نہیں، بلکہ عوامی وکیل کے طور پر آئے تھے، جو اپنے ساتھ صرف کاغذات نہیں، بلکہ اپنے صوبے کی شاندار تاریخ، عظیم قربانیوں اور روشن مستقبل کے خواب لے کر آئے تھے۔
ایک اچھا لیڈر وہی ہوتا ہے جو جہاں بھی جاتا ہے، خوب تیاری اور اپنی ٹیم سے بھرپور مشاورت کے بعد جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی نیشنل فائنانس کمیشن کے اجلاس میں آنے سے پہلے تمام مالی ماہرین، یونیورسٹیز کے طلباء، اساتذہ کرام اور ٹیم کے ساتھ ہفتوں مشاورت کی، اور سوچ سمجھ کر وطن اور قوم کے آئینی حقوق اور خوشحالی کی بات کی، جس سے ان کا مؤقف ناقابلِ تردید اور مضبوط چٹان کی طرح بن گیا۔
یہ بات تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائے گی کہ ملک کی تاریخ میں یہ پہلی دفعہ تھا کہ کسی صوبے کے وزیر اعلیٰ نے محض مطالبہ کرنے کے بجائے، اتنی ٹھوس، مدلل اور جامع تیاری کے ساتھ اپنے صوبے کے آئینی حقوق کے لیے وفاق کے سامنے مقدمہ پیش کیا، اور صوبائی خودمختاری کی ایک نئی بنیاد رکھی۔
انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز ایک ایسی للکار سے کیا جس نے پورے ملک کی توجہ کھینچ لی: “جناب چیئرمین! ہم اس میز پر بھیک مانگنے یا رعایت لینے نہیں آئے ہیں۔ ہم اپنے آئینی حق کے حصول کے لیے یہاں سینہ تان کر کھڑے ہیں۔ خیبر پختونخوا نے گزشتہ دو دہائیوں میں پوری قوم کی سیکیورٹی کی وہ قیمت ادا کی ہے جس کا تصور بھی محال ہے۔ ہم نے اپنے بازار، اپنے گھر اور اپنے پیارے کھوئے ہیں۔ کیا ان عظیم قربانیوں کا کوئی مالیاتی اعتراف بھی ہوگا یا نہیں؟
یہ مقدمہ صرف سرکاری اہلکاروں کا نہیں تھا وزیراعلیٰ نے نہایت خوبی سے صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں اور عوامی نمائندوں کے یکجا موقف کو پیش کیا، جس نے وفاقی حکام کو یہ پیغام دیا کہ صوبے کے حقوق کے معاملے پر خیبر پختونخوا مکمل طور پر متحد ہے، اور یہی اتحاد ان کی سب سے بڑی طاقت تھی۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت ایک ایسے ماڈل کے طور پر ابھری جہاں سیاست صرف اقتدار کی جنگ نہیں، بلکہ اصولی مؤقف، شفافیت اور عوامی مفاد کی عظیم خدمت ہے۔ انہوں نے اپنے مقدمے کا سب سے مضبوط حصہ نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع پر مرکوز کیا اور ان کا مقدمہ دلائل کی قوت سے جیتا۔
انہوں نے پوری وضاحت سے بتایا کہ ان اضلاع کو خیبر پختونخوا میں شامل ہوئے کئی سال ہو چکے ہیں، مگر ان کی ترقی کے لیے مختص 100 ارب روپے سالانہ کا وعدہ تاحال پورا نہیں ہوا۔ انہوں نے مرکز کو چیلنج کیا کہ یہ علاقے اب پاکستان کی مرکزی دھارے کا حصہ ہیں اور انہیں NFC فارمولے میں مکمل طور پر ضم کیا جائے۔ یہ پیسہ صرف تعمیرات کے لیے نہیں، بلکہ لاکھوں بے روزگار نوجوانوں کو امن کی معیشت میں شامل کرنے اور انہیں قلم اور کتاب تھمانے کی ضمانت ہے۔
وزیر اعلیٰ نے خالص ہائیڈل منافع کے بقایاجات کا معاملہ بھی پوری قوت سے اٹھایا، جو صوبے کا قانونی حق ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر جذباتی بیان بازی کے بجائے آئینی اور قانونی دلائل کی طاقت کو استعمال کیا، اور مرکزی حکومت کے لیے ان واجبات کو مزید نظر انداز کرنا ناممکن بنا دیا۔
سہیل آفریدی کا مقدمہ صرف فنڈز کے حصول تک محدود نہیں تھا۔ انہوں نے ایک واضح ویژن دیا کہ ہر اضافی روپیہ ترقی، خوشحالی اور پائیدار امن کی طرف ایک ٹھوس قدم ثابت ہوگا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ یہ فنڈز تعلیمی وظائف، صحت کے منصوبوں اور چھوٹے کاروباروں کی ترقی پر خرچ ہوں گے، جو براہ راست عام آدمی کی زندگی میں انقلاب لائیں گے۔
آخر میں، اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اس تاریخی اجلاس میں صرف ایک مقدمہ نہیں جیتا، بلکہ انہوں نے پورے صوبے کو یہ فخر محسوس کرایا کہ ان کا حق مانگنے والا ایک نڈر اور مضبوط وکیل موجود ہے۔ یہ مقدمہ مرکز اور صوبوں کے درمیان مالیاتی تعلقات کے ایک نئے اور مثبت دور کی بنیاد ہے، اور توقع کی جاتی ہے کہ مرکزی حکومت بھی اس مقدمے کو قومی یکجہتی کے تناظر میں دیکھے گی اور صوبے کے حقوق کی مکمل ادائیگی کو یقینی بنائے گی۔ یہ ایک ایسی حکمرانی کی جھلک تھی جو عوام کے اعتماد کو مضبوط کرتی ہے، اور پختونخوا کے روشن مستقبل کی نوید سناتی ہے۔
بالائی خیبر پختونخوا میں 5 دسمبر کو ہلکی بارش اور پہاڑی علاقوں میں برفباری کا امکان – پی ڈی ایم اے کا انتباہ جاری
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی خیبر پختونخوا نے پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ ریجنل میٹ آفس پشاور کی پیش گوئی کی بنیاد پر موسم سے متعلق ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ جس کے مطابق 4 دسمبر کی رات سے ایک کمزور مغربی ہواؤں کا سلسلہ ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہوگا جس کا آج 5 دسمبر 2025 تک جاری رہنے کا امکان ہے۔اس سسٹم کے تحت چترال (اپر و لوئر)، دیر (اپر و لوئر)، سوات، بونیر، کوہستان (اپر و لوئر)، کولئی پالس، شانگلہ، بٹگرام، تورغر، مانسہرہ اور ایبٹ آباد کے پہاڑی علاقوں میں ہلکی بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے۔ پشاور، چارسدہ، صوابی، مردان اور ڈیرہ اسماعیل خان کے میدانی علاقوں میں سموگ اور دھندکی صورتحال برقرار رہنے کی توقع ہے۔جس کے پیش نظر پی ڈی ایم اے نے عوام الناس کو احتیاط برتنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پی ڈی ایم اے کے صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر سے ہیلپ لائن: 1700 رابطہ کی ہدایت کی ہے۔ اس امر کا اعلان پی ڈی ایم اے کے جاری کردہ اعلامیہ میں کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بانی چیئرمین عمران خان سے نویں بار ملاقات سے روکنا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے، شفیع جان
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو آج مسلسل نویں بار اڈیالہ جیل میں بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی،وزیراعلیٰ کو جیل کے اندر داخلے سے روکنا نہ صرف آئین و قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ عدالت کے واضح احکامات کو بھی پامال کرنے کے مترادف ہے،اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں شفیع جان نے کہا کہ پنجاب حکومت اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کا طرز عمل مکمل طور پر سیاسی انتقام کی واضح علامت ہے، ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو ایک سیاسی قیدی بنا کر رکھا گیا ہے اور ان پر درج تمام مقدمات جعلی، من گھڑت اور بے بنیاد ہیں،عدالتی احکامات موجود ہونے کے باوجود وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور دیگر سیاسی قیادت کو ملاقات سے روکنا افسوسناک، غیرقانونی اور غیرجمہوری اقدام ہے،معاون خصوصی نے کہا کہ پنجاب حکومت کے اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈے کسی صورت قبول، عمران خان سے ملاقات سے روکنے کے مسلسل اقدامات قوم اور پارٹی قیادت سے انھیں دور رکھنے کی منظم کوشش کی جارہی ہے، آخر میں معاون خصوصی شفیع جان نے مطالبہ کیا کہ عدالت کے فیصلوں پر فوری عمل درآمد کروایا جائے اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سمیت پارٹی قیادت کو عمران خان سے ملاقات کرنے دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کا غیرآئینی رویہ جمہوری اقدار کی توہین ہے۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے قومی مالیاتی کمیشن اجلاس میں صوبے کا مقدمہ مؤثر اور مضبوط انداز میں پیش کیا، شفیع جان
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اپنی ٹیم کے ہمراہ قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس میں بھرپور تیاری کے ساتھ شرکت کی اور صوبے کا مقدمہ مؤثر، مدلل اور مضبوط انداز میں پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ کہ وزیراعلیٰ نے اجلاس میں این ایف سی شیئرز اور وفاق کے ذمے پن بجلی منافع کے بقایا جات کا معاملہ بھی تفصیل سے اٹھایا۔ وزیراعلیٰ نے فنڈز کی کم تقسیم اور ’وار آن ٹیرر کے لیے ناکافی وسائل پر اپنے تحفظات واضح طور پر رکھے۔ وزیر اعلی نے گیارہویں این ایف سی اجلاس میں مالیاتی طور پر سابق فاٹا کو ضم کرنے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ 1 فیصد سے 3 فیصد تک بڑھانے اور صوبے کے این ایف سی کے مجموعی شئیرز کو14.62سے19.62تک بڑھانے کا مطالبہ کیا،معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ صوبے کے حقوق کے لیے ہر فورم پر بھرپور انداز میں آواز اٹھائی جائے گی۔یہاں سے جاری ایک بیان میں شفیع جان نے کہا کہ وفاق نے سابق فاٹا کے انضمام کے وقت ہر سال 100 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا تھا، وفاق نے سات سال میں صرف 168 ارب روپے دئیے لیکن بدقسمتی سے ضم اضلاع کے لئے 700 ارب روپے میں وفاق کے ذمے ابھی تک 532 ارب روپے کے بقایاجات ہے، وفاق کی جانب سے طے شدہ فنڈز جاری نہ ہونے سے صوبے کو بھاری مالی بوجھ برداشت کرنا پڑا، انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے نیٹ ہائیڈل و دیگر بقایا جات کی مد میں وفاق کے ذمے تقریباً 3500 ارب روپے واجبات ہیں لیکن وفاق صوبے کے بقایا جات ادا نہیں کر رہا،انہوں نے مزید کہا کہ انتظامی انضمام کے باوجود این ایف سی شیئر میں اضافہ نہیں کیا گیا جس سے قبائلی اضلاع کی ترقی کا عمل شدید متاثر ہوا ہے،شفیع جان نے کہا کہ وزیر اعلی نے ضم شدہ اضلاع کی آبادی اور رقبہ کو شامل کرکے صوبے کے شیئر کا ازسرنو تعین کا بھی مطالبہ کیا کیونکہ اس وقت این ایف سی شیئر عملاً ساڑھے تین صوبوں میں تقسیم ہو رہا ہے جو آئین کی روح کے خلاف ہے، وفاق کی مالی تاخیر سے ضم شدہ اضلاع میں امن و امان کے مسائل بھی جنم لے رہے ہیں،معاون خصوصی نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں شیئرز کے معاملے پر صوبے میں حکومت اور اپوزیشن یکساں مؤقف رکھتی ہے۔ نوجوان وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبے کو اس کے جائز مالی حقوق دلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا وہ صوبہ ہے جس نے دہشت گردی، بدامنی اور قدرتی آفات کے سبب شدید معاشی دباؤ برداشت کیا مگر تمام چیلنجز کے باوجود صوبے نے ہمیشہ ملک کی مجموعی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے،شفیع جان نے کہا کہ این ایف سی اجلاس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی شرکت اور صوبے کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کرنا ایک تاریخی موقع ہے،وزیراعلیٰ کی ہدایت پر صوبے کی جامعات میں این ایف سی شیئرز اور صوبے کو درپیش مالی چیلنجز سے متعلق آگاہی سیمینارز بھی منعقد کیے گئے جن کا مقصد نوجوانوں کو صوبائی وسائل، این ایف سی شیئرز اور مالی مسائل کے بارے میں آگاہ کرنا تھا تاکہ معاشرے کا ہر طبقہ صوبے کے جائز مالی حقوق کے حصول کے عمل میں مؤثر کردار ادا کر سکے، انھوں نے امید ظاہر کی کہ وفاق صوبے کے بقایا جات اور دیگر جائز مالی حقوق کے مطالبات تسلیم کرینگے کیونکہ کیونکہ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے میں صوبوں کے آئینی و مالی حقوق کا تحفظ قومی یک جہتی کی بنیاد ہے اسی مقصد کے لیے این ایف سی ایوارڈ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے
نوجوانوں کی بہتری کے لئے و زیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے وژن کے مطابق سیکریٹری سپورٹس اینڈ یوتھ افیئز و ڈائریکٹر یوتھ افیئز کی قیادت میں یوتھ افیئز ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے ایک روزہ“یوتھ لیڈرشپ کانفرنس و کیپیسیٹی بلڈنگ ورکشاپ”کا انعقاد کیا گیا
نوجوانوں کی بہتری کے لئے و زیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے وژن کے مطابق سیکریٹری سپورٹس اینڈ یوتھ افیئز و ڈائریکٹر یوتھ افیئز کی قیادت میں یوتھ افیئز ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے ایک روزہ“یوتھ لیڈرشپ کانفرنس و کیپیسیٹی بلڈنگ ورکشاپ”کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں سول سوسائٹی، نوجوان رہنماؤں اور مختلف شعبہ جات زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ ترجمان محکمہ امور نوجوانان کے مطابق اس کانفرنس میں نوجوانوں کی ذہنی نشوونما، قیادت، کاروباری رہنمائی، ماحولیاتی تبدیلی اور ٹریفک قوانین سے متعلق آگاہی فراہم کی گئی۔ اس دوران ٹریفک رولز کی پاسداری، ذہنی صحت اور اسٹریس مینجمنٹ، ماحولیاتی ذمہ داری، لیڈرشپ اسکلز کی ترقی اور چھوٹے کاروبار کے آغاز جیسے موضوعات پر سیشنز منعقد کیے گئے۔ شرکاء کے لیے سوال و جواب کا خصوصی سیشن بھی رکھا گیا، جس میں انہوں نے اپنے سوالات اور تجاویز پیش کیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں نوجوانوں کو بااختیار بنانے، ان میں سماجی شعور اجاگر کرنے اور انہیں عملی زندگی میں قیادت کا کردار ادا کرنے کے قابل بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے وژن کے مطابق نوجوانوں کی رہنمائی اور ترقی کے لیے ایسے پلیٹ فارمز مستقبل میں بھی فراہم کیے جاتے رہیں گے، تاکہ نوجوان معاشرے کی بہتری اور ترقی میں مرکزی کردار ادا کرسکیں۔ ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز نے تعاون پر تمام شرکاء، سول سوسائٹی اور متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا بھی ادا کیا۔
خیبرپختونخوا کے وزیر قانون، پارلیمانی امور اور انسانی حقوق آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کااجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں مختلف قانونی مسودوں میں ضروری ترامیم پر غور کیا گیا
خیبرپختونخوا کے وزیر قانون، پارلیمانی امور اور انسانی حقوق آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کااجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں مختلف قانونی مسودوں میں ضروری ترامیم پر غور کیا گیا۔اجلاس میں سیکرٹری محکمہ قانون اختر سعید ترک، سیکرٹری محکمہ اسٹیبلشمنٹ سید ذوالفقار شاہ،سیکرٹی محکمہ منصوبہ بندی و ترقی عدیل شاہ،سیکریٹری معدنیات و معدنی ترقی عامر لطیف سمیت ایڈوکیٹ جنرل آفس، خزانہ، قانون، اوقاف، بورڈ آف ریونیو, معدنیات و معدنی ترقی اورلائیو اسٹاک سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا کلائمٹ ایکشن بورڈ (ترمیمی) ایکٹ، 2025 پر غور کیا گیا، جس کا مقصد صوبے کے ماحولیاتی انتظامی ڈھانچے کو مزید فعال کرنا ہے۔ بریفنگ دیتے ہوئے محکمہ ماحولیات کے حکام نے بتایا کہ مذکورہ نظرثانی شدہ ایکٹ صوبے کے لیے خیبر پختونخوا کلائمیٹ کونسل کا قیام، ایمرجنسی اینڈ ریہیبلیٹیشن فنڈ کا تعارف، اور کلائمیٹ ایکشن بورڈ (CAB) کو ایک ایگزیکٹو بورڈ کے طور پر تشکیل دینے کا عمل شامل کرتا ہے۔ یاد رہے کہ اصل کلائمیٹ ایکشن بورڈ ایکٹ، 2025 کو صوبائی اسمبلی نے 02 ستمبر 2025 کو منظور کیا ہے، جو ایک متوازن حکومتی اور نجی شعبے کی نمائندگی کا حامل اپنی نوعیت کا پہلا ذیلی قومی ادارہ ہے، جو مؤثر فیصلہ سازی کے لیے تکنیکی مدد فراہم کرتا ہے اور مالی طور پر آزاد ہے جس سے حکومتِ خیبر پختونخوا پر کم سے کم بوجھ پڑتا ہے۔ ترمیم میں سیکشن 2(c)-i اور سیکشن 8-A کے ذریعے خیبر پختونخوا کلائمیٹ کونسل کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔۔ شرکائے اجلاس نے مجوزہ قوانین کے مختلف پہلوؤں، قانونی تقاضوں، تکنیکی امور اور عملدرآمدی پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور بہتری کے لیے اپنی سفارشات پیش کیں۔خیبر پختونخوا منرلز ڈیولپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی بل 2025 کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس کا مقصد صوبے میں معدنی وسائل کے مؤثر استعمال، شفاف انتظام اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔ مجوزہ قانون کمپنی کی ساخت، طریقہ کار، مالیاتی نظم و ضبط اور وسائل کے منصفانہ استعمال کے حوالے سے جامع فریم ورک فراہم کرے گا۔خیبر پختونخوا اینیمل ہیلتھ بل 2025 پر گفتگو کرتے ہوئے متعلقہ حکام نے بتایا کہ یہ بل صوبے میں جانوروں کی صحت کے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق استوار کرنے، بیماریوں کی روک تھام، ویٹرنری خدمات کی بہتری اور لائیو اسٹاک سیکٹر کو مضبوط بنانے کے لیے نہایت اہم ہے، جس سے زرعی معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔وزیر قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت عوام کے وسیع تر مفاد میں جامع اور موثر قانون سازی کے لیے پرعزم ہے، اور کمیٹی میں زیر بحث آنے والے تمام مسودات کو درپیش قانونی و تکنیکی مسائل کو حل کرنے کے بعد جلد ہی صوبائی کابینہ کو ارسال کر دیا جائے گا۔
کینابیس پلانٹ کے میڈیسنل اور تحقیققی استعمال کیلئے ریگولیٹری فریم ورک کیلئے قائم کینابیس ریگولیٹری کمیٹی کا دوسرا اجلاس جمعرات کے روز منعقد ہوا
کینابیس پلانٹ کے میڈیسنل اور تحقیققی استعمال کیلئے ریگولیٹری فریم ورک کیلئے قائم کینابیس ریگولیٹری کمیٹی کا دوسرا اجلاس جمعرات کے روز منعقد ہوا۔اجلاس کی صدارت خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان نے کی جبکہ صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان اور وزیر قانون آفتاب عالم کے علاؤہ سیکرٹری ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خالد الیاس،ڈی جی ایکسائز عبدالعلیم خان، محکمہ ایکسائز کے مختلف شعبوں کے متعلقہ افسران،کمیٹی میں شامل محکمہ زراعت،صحت،قانون و دیگر محکموں کے حکام،جامعہ پشاور شعبہ فارمیسی کے چیئرمین ڈاکٹر فضل ناصر،پی سی آء آر لیبارٹریز کی سینئر سائنٹفک آفیسر ڈاکٹر حرا فضل،اور ماہر ڈاکٹر سروت اسماعیل،ڈپٹی کمشنر خیبر،ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں صوبائی کابینہ کی جانب سے طبی و تحقیقی اور دیگر مفید استعمال کے مقاصد کیلئے کینابیس کیلئے منظور شدہ قواعد وضوابط کے تحت ریگولیٹری کمیٹی کے متعین ذمہ داریوں کے حوالے سے کئی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور فورم کو اس ضمن میں محکمہ کی جانب سے تفصیلی بریفننگ دی گئی جس میں محکمہ ایکسائز کی جانب سے لائسنس کے اجراء کے امور اور دیگر ذمی داریوں سے فورم کو آگاہ کیا گیا۔اجلاس میں صوبائی وزراء،کمیٹی کے ممبران اور متعلقہ ماہرین نے اس سلسلے میں اپنی مفید تجاویز اور ریگولیٹری فریم ورک کو ہر لحاظ سے موثر و منظم کرنے کیلئے اپنی آراء پیش کیں۔اس موقع پر کمیٹی کے چیئرمین و صوبائی وزیر ایکسائز سید فخرجہان نے ڈی جی ایکسائز کی سربراہی میں تمام متعلقہ اداروں کے افسران پر مشتمل ایک سب کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ طبی مقاصد کیلئے استعمال میں لانے والے میڈیسنل پلانٹ ہیمپ کیلئے لائسنس کے اجراء کے سلسلے میں ضروری امور کی ڈکومنٹیشن کی جائے اور کابینہ سے منظوری کیلئے ہوم ورک مکمل کیا جائے۔ کمیٹی نے یہ فیصلہ بھی کیاکہ یہ سب کمیٹی میڈیسنل پلانٹ کینابیس کے حوالے سے بھی تفصیلی سفارشات مرتب کرے گی جس کے جائزہ کیلئے پندرہ دن بعد اجلاس منعقد کیا جائے گا۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے کہا ہے کہ صوبہ بھر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے بہتر نظام سے متعلق تمام ترقیاتی سکیموں کو عوامی مفاد کے پیش نظر ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے کہا ہے کہ صوبہ بھر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے بہتر نظام سے متعلق تمام ترقیاتی سکیموں کو عوامی مفاد کے پیش نظر ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی ترقیاتی سکیمیں تمام اضلاع اور حلقوں میں مساوی بنیادوں پر تقسیم کی جائیں گی اور کسی بھی علاقے یا حلقے کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی صوبائی وزیر نے یہ بات اپنے دفتر میں جنوبی اضلاع سے منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں جاری سکیموں کی پیشرفت، نئے منصوبوں، فیلڈ میں درپیش مسائل اور فنڈز کے استعمال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ملاقات میں جنوبی اضلاع سے منتخب نمائندگان شریک تھے جن میں ایم این اے داور خان کنڈی،ایم پی اے و سابق صوبائی وزیر زراعت میجر(ریٹائرڈ) سجاد بارکوال، ایم پی اے زاہد اللہ، محمد عثمان اور جوہر محمد شامل تھے جبکہ اس موقع پر محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔منتخب نمائندگان نے اپنے اپنے حلقوں میں جاری واٹر سپلائی سکیموں، اے ڈی پی کے تحت منظور شدہ منصوبوں، سست روی کے شکار ترقیاتی کاموں اور منصوبوں کی تکمیل میں درپیش مسائل سے متعلق صوبائی وزیر کو تفصیل سے آگاہ کیا بعض سکیموں میں پرانے پائپ نیٹ ورک کی خرابی، بجلی کے مسائل اور دوسری رکاوٹوں کی نشاندہی کی گئی صوبائی وزیر نے منتخب اراکین کو تمام سکیموں کی بروقت تکمیل کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ عوامی فلاح و بہبود سے متعلق کوئی بھی منصوبہ تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا محکمہ تمام جاری اور اے ڈی پی ترقیاتی منصوبوں کو شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کے اصولوں کے تحت مکمل کرے گا انہوں نیمذید کہا کہ کسی بھی ضلع یا حلقے کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی فنڈز اور سکیموں کی تقسیم مکمل طور پر میرٹ اور عوامی ضرورت کی بنیاد پر کی جائے گی صوبائی وزیر نے کہا کہ جہاں کہیں کام میں رکاوٹ ہے، اسے فوری طور پر دور کیا جائے تاکہ منصوبے التواء کا شکار نہ ہوں انہوں نے متعلقہ ایکسین کو ضلع ٹانک میں موجودہ پائپ لائن کی بحالی اور سولرائزیشن کی اے ڈی پی سکیم کی پی سی ون ایک ہفتہ کے اندر تیار کرنے کی ہدایت جاری کی صوبائی وزیر نے نمائندگان کو یقین دلایا کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی جاری سکیموں کے لیے مختص فنڈز کو بروقت جاری کیا جائے گا تاکہ کوئی منصوبہ فنڈز کمی کے باعث تاخیر کا شکار نہ ہو انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کو صاف پانی اور بہتر نکاسی آب کی سہولت فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
خیبر میڈیکل یونیورسٹی میں خیبر پختونخوا جاب فیئر 2025 کاکامیاب انعقاد
خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور میں خیبر پختونخوا جاب فیئر 2025 کا شاندار انعقاد کیا گیاجس کا افتتاح صوبائی وزیر صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمٰن نے کیا۔ اس موقع پرایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد اور وائس چانسلر کے ایم یو پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق بھی موجود تھے۔ اس بڑے روزگار میلے میں کے ایم یو کے طلبہ و فارغ التحصیل نوجوانوں کو براہ راست سرکاری و نجی اداروں، صنعتوں،ہسپتالوں، ریکروٹمنٹ ایجنسیوں اور مختلف کارپوریٹ تنظیموں سے جڑنے کا منفرد موقع فراہم کیا گیا۔تقریب میں بڑی تعداد میں اساتذہ، طلبہ، پالیسی ساز شخصیات، ہیلتھ سیکٹر سے وابستہ سٹیک ہولڈرز اور مختلف آجر اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے اس اقدام کو قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نوجوانوں کو ان کی دہلیز پر روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے اور جاب فیئرز کا یہ سلسلہ اسی وژن کا حصہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل صوبائی حکومت کی ہدایت پر نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع کی فراہمی کے لئے پاک آسٹریا انسٹی ٹیوٹ آف ایپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی ہری پور اور یو ای ٹی پشاور میں بھی جاب فیئرز منعقد کیے جا چکے ہیں جبکہ کے ایم یو میں منعقد ہونے والا یہ تیسرا بڑا روزگار میلہ ہے جو صوبے کی واحد سرکاری میڈیکل یونیورسٹی میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبی شعبے میں ڈاکٹرز، ڈینٹسٹ، نرسز، فزیوتھراپسٹ، پیرامیڈیکس، آپٹومیٹرسٹ، پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ، سائیکالوجسٹ، آڈیولوجسٹ، آکیوپیشنل تھیراپسٹ سمیت درجنوں کیرئیر مواقع موجود ہیں جن کے لیے اس جاب فیئر نے نوجوانوں کو بہترین پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے اپنے خطاب میں کہا کہ کے ایم یو نہ صرف اعلیٰ معیار کی طبی تعلیم وتحقیق فراہم کر رہی ہے بلکہ اپنے طلبہ کو مستقبل کی منڈیِ روزگار کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے بھی عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاب فیئر کا یہ سلسلہ طلبہ کے لیے ہنر مندی، کیرئیر پلاننگ اور عملی دنیا کے چیلنجز سے نمٹنے میں رہنمائی کا اہم ذریعہ ہے۔دریں اثناء تقریب کے شرکاء سے بطور اعزازی مہمان خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ حکومت خیبر پختونخوا کیپٹن(ر) کامران آفریدی نے کہا کہ جاب فیئرز کا یہ سلسلہ اعلیٰ تعلیمی ٹاسک فورس کی سفارشات کی روشنی میں پائلٹ بنیادوں پر شروع کیا گیا ہے جس کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگلے سال سے اس سلسلے کو صوبے کی تمام جامعات تک توسیع دی جائے گی جس کا مقصد اگر ایک طرف طلباء کو باعزت روزگار کے پلیٹ فارمز مہیا کرنا ہے تو دوسری جانب اس سے جامعات کو بامقصد تعلیمی پروگرامات کی ترغیب بھی ملے گی۔بعد ازاں انہوں نے بعض امیدواران میں موقع پرجاب لیٹرز بھی تقسیم کئے۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ کے ایم یو جاب فیئر 2025 میں 100 سے زائدسٹالز لگائے گئے جنہیں چار اہم زمروں تعلیمی ادارے، صنعتیں، ہسپتال و کلینکس اور فارماسیوٹیکل سیکٹرمیں تقسیم کیا گیا تھا۔ مختلف قومی و بین الاقوامی اداروں نے طلبہ کو انٹرنشپس، آن اسپاٹ انٹرویوز، روزگار کے مواق، اور کیرئیر گائیڈنس فراہم کی۔ اس کے علاوہ جاب فیئر کی ایک اور خاص بات طلبہ کے لیے کیرئیر کونسلنگ سیشنز، پیشہ ورانہ رہنمائی اور سی وی سکل ورکشاپس کا انعقاد تھا ۔طلبہ اور آجر تنظیموں نے جاب فیئر کے انعقاد کو نہایت مفید قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا جس سے صوبے میں ہنر مند ہیومن ریسورس کی ترقی اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔
