Home Blog Page 49

صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات کا اجلاس رکن صوبائی اسمبلی و چیئرمین قائمہ کمیٹی محمد عارف احمد زئی کی صدارت میں منعقد ہوا

صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات کا اجلاس رکن صوبائی اسمبلی و چیئرمین قائمہ کمیٹی محمد عارف احمد زئی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی و کمیٹی کے ممبران شیر علی آفریدی، احمد کریم کنڈی، افتخار علی مشوانی، عبدالسلام آفریدی، میاں شرافت علی اکرام اللہ غازی، نعیم خان، رجب علی عباسی، افشاں حسین اور مہر سلطان نے شرکت کی۔
اجلاس میں سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات جنید خان سمیت متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔ کمیٹی کے اجلاس میں صوبائی اسمبلی کی جانب سے بھیجے گئے سوالات کے جوابات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ قانونی سازی اور متعلقہ رولز پر تفصیلی بحث کی گئی۔چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی محمد عارف احمد زئی نے اجلاس میں اس بات پر زور دیا کہ محکمے کی ملکیتی اراضی کو لیز پر دینے کا عمل اوپن آکشن کے ذریعے شفاف انداز میں مکمل کیا جائے تاکہ محکمے کی آمدن میں اضافہ ہوسکے۔اجلاس میں شکار سے متعلق قوانین کو عوام دوست بنانے پر روز دیا گیا۔ اسطرح محکمہ معدنیات، محکمہ مال اور محکمہ ماحولیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات کے مابین اراضی کے تنازعات کے حل کے لیے کمیٹی کی تشکیل تجویز کیا گیا جو ان محکموں کے درمیان اراضی کی ملکیت کے حوالے مسائل کے حل میں کردار ادا کریں۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات اور جنگلی حیات سے وابستہ ذیلی اداروں کے کردار، کارکردگی اور متعلقہ رولز میں بہتری پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں طوفانوں یا دیگر وجوہات سے متاثرہ لکڑی کے حوالے سے مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ قدرتی وسائل کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

ہزاروں لیٹر غیر معیاری دودھ اور زائدالمعیاد مشروبات ضبط، دکان سیل، مالک پابند سلاسل

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی فوڈ سیفٹی ٹیموں نے کوہاٹ اور ہنگو میں بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے غیر معیاری اور مضرِ صحت خوراک میں ملوث عناصر کے خلاف سخت ایکشن لیا۔ترجمان فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز فوڈ سیفٹی ٹیموں نے ضلع ہنگو میں دودھ کی دکانوں اور کولڈ ڈرنکس شاپس پر چھاپے مارے، جہاں ایک کولڈ ڈرنکس شاپ سے 6000 لیٹر سے زائد زائدالمعیاد مشروبات برآمد کر کے ضبط کیے گئے جبکہ دکان کو موقع پر سیل کر دیا گیا۔ اسی طرح ایک دودھ کی دکان سے 50 لیٹر ملاوٹی دودھ برآمد ہوا جسے موقع پر تلف کر دیا گیا۔دوسری جانب فوڈ سیفٹی ٹیم کوہاٹ نے ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ کوہاٹ بازار میں خوراک کے مختلف کاروباروں کا معائنہ کیا۔ کارروائی کے دوران ایک دکان سے 2000 لیٹر سے زائد غیر معیاری اور ملاوٹی دودھ برآمد کر کے موقع پر تلف کیا گیا جبکہ دکان کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا۔ترجمان نے کہا کہ حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر متعدد دکانوں کو بھاری جرمانے عائد کیے گئے جبکہ ملوث عناصر کے خلاف مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کاشف اقبال جیلانی نے کامیاب کاروائیوں پر فوڈ سیفٹی ٹیموں کو سراہا اور کہا کہ شہری ملاوٹ مافیا جیسے عناصر کی فوری نشاندہی کر کے فوڈ اتھارٹی کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ صوبے سے غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ خوراک کا مکمل خاتمہ فوڈ اتھارٹی کا مشن ہے اور عوام کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیرِ صدارت محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے میگا پراجیکٹس سے متعلق اہم جائزہ اجلاس جمعرات کے روز منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیرِ صدارت محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے میگا پراجیکٹس سے متعلق اہم جائزہ اجلاس جمعرات کے روز منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ کے سیکرٹری مسعود یونس، ڈائریکٹر ٹیکنیکل، پراچیکٹ ڈائریکٹرز اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں صوبائی وزیر کو چائنہ اور سعودی عرب کی حکومت کے تعاون سے جاری مختلف منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں سی پیک پراجیکٹ کے تحت محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے واٹر سپلائی سکیموں کی سولرائزیشن پر اب تک ہونے والے پیش رفت کے بارے میں بتایاگیا جبکہ خیبر پختونخوا رورل انویسٹمنٹ اینڈ انسٹی ٹیوشنل سپورٹ پروگرام (KP RIISP) کے تحت جاری منصوبوں پر کام کی رفتار سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔صوبائی وزیر فضل شکور خان نے واضح ہدایات جاری کیں کہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے تمام میگا منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے تاکہ عوام کو بروقت سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جن سکیموں کی پی سی ون تاحال تیار نہیں ہو سکی، ان کی پی سی ون ترجیحی بنیادوں پر فوری طور پر مکمل کی جائے۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی موجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بندوبستی اور ضم قبائلی اضلاع میں واٹر سپلائی سکیموں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے اور منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔صوبائی وزیر نے مذید کہاکہ عوامی مسائل کے حل اور بہتر سروس ڈیلیوری کے لیے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے کے ہر علاقے میں محفوظ اور صاف پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کو یقینی بنا کر ہی عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے، اور اس مقصد کے لیے متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں پوری لگن اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں۔

محکمہ سیاحت، ثقافت و آثارِ قدیمہ خیبرپختونخوا کے زیر اہتمام عوامی شکایات و آراء کے لئے ای۔کچہری کا انعقاد

محکمہ سیاحت، ثقافت و آثارِ قدیمہ خیبرپختونخوا کے زیر اہتمام عوامی شکایات و آراء کے لئے ای۔کچہری کا انعقاد کیا گیا جس میں متعدد عوامی شکایات سنی گئیں اور ان کے حل کے لئے احکامات بھی جاری کئے گئے۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے محکمہ سیاحت، ثقافت و آثارِ قدیمہ خیبرپختونخوا کے ایڈیشنل سیکرٹری محمد نواز نے کہا ہے کہ محکمہ اپنے اہداف کے حصول کے لئے مؤثر اقدامات کر رہا ہے اور اس ضمن میں عوامی شکایات اور تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہیں تاکہ صوبے میں ثقافت کی بہتر ترویج،تاریخی آثار کو محفوظ بنایا اور پائیدار سیاحت کو فروغ دیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی آراء کو ترجیح دی جائے گی اور مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ محکمہ سیاحت، ثقافت و آثارِ قدیمہ کے زیر اہتمام منعقدہ ای کچہری میں تمام متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ ای کچہری کے دوران پہلے سے موصول ہونے والی شکایات اور تجاویز پر غور کیا گیا اور آن لائن جوابات دیے گئے، جبکہ موقع پر موصول ہونے والی شکایات اور تجاویز کا بھی فوری ازالہ کیا گیا۔ای کھلی کچہری میں کوہاٹ، ڈی آئی خان، کوہستان، دیر، چترال، پشاور، سوات، مردان، بنوں، ہزارہ، مانسہرہ اور بٹگرام سے شہریوں نے شرکت کی اور اپنے مسائل اور تجاویز سے حکام کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر صوبے کے مختلف علاقوں میں جاری اور مجوزہ محکمانہ اقدامات، سیاحتی مقامات پر سہولیات، بھرتی کے قواعد و ضوابط، اشتہارات، ونٹر فیسٹیولز، ایوبیہ چیئر لفٹ، کیلاش فیسٹیول، چترال میں محکمہ کی سرگرمیاں، بی ایس ٹورازم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ کے فریش گریجویٹس کے لیے مواقع، محکمہ کے زیر انتظام عمارات کی صورتحال، خیبر میزبان ٹورازم پراجیکٹ اور ٹورازم پولیس کی ریگولرائزیشن جیسے امور زیرِ بحث آئے۔ایڈیشنل سیکرٹری سیاحت نے متعلقہ افسران کو عوامی شکایات کے ازالے کے لئے ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے تاریخی ورثے کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کے گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت خیبرپختونخوا میں پائیدار سیاحت کے فروغ کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

نرسنگ کیڈر کے مسائل کے حل کے لیے ہنگامی اجلاس

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمٰن کی سرپرستی میں نرسنگ کیڈر کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبہ بھر سے نرسنگ قیادت، سینئر نرسز، نرسنگ ایجوکیشن سے وابستہ ماہرین اور مختلف نرسنگ ایسوسی ایشنز کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران نرسنگ کمیونٹی نے متفقہ طور پر نرسنگ ڈائریکٹریٹ کے قیام، دو ہزار اکیس سے پبلک سروس کمیشن میں موجود خالی اسامیوں کو پر کرنے، نئی اسامیوں کی تخلیق، سروس رولز میں ضروری ترامیم، اور گورنمنٹ نرسنگ کالجز میں خالی آسامیوں کو پر کرنے جیسے مسائل پیش کئے۔ اس کے ساتھ ایم ٹی آئی اداروں میں نرسز کو درپیش مسائل کے حل کے لیے موجودہ ایم ٹی آئی ایکٹ میں ترامیم پر بھی زور دیا گیا۔صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمٰن نے نرسنگ کمیونٹی کو یقین دلایا کہ ان کے مسائل پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا اور باہمی مشاورت کے ذریعے قابلِ عمل اور پائیدار حل نکالے جائیں گے۔ڈسٹرکٹ نرسنگ ایسوسی ایشن دیر کے صدر ہدایت خان نے تمرگرہ ہسپتال میں پیش آنے والے واقعے پر صوبائی وزیرِ صحت کو تفصیلی بریفنگ دی اور فوری دادرسی کی درخواست کی۔ڈاکٹر بی بی سلطانیہ نے کہا کہ مریض کی صحت یابی میں نرس کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور صحت مند معاشرے کے قیام میں نرسز کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ ان کے مطابق نرسز کے مسائل کے حل سے صحت کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔اجلاس کے اختتام پر نرسنگ افسران اور نمائندگان نے صوبائی وزیرِ صحت کا شکریہ ادا کیا۔

صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخرِجہان کی ای کھلی کچہری — عوامی مسائل کے حل کیلئے فوری احکامات

خیبر پختونخوا کے وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخرِجہان کی زیر صدارت محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول پشاور میں ای کھلی کچہری کا انعقاد ہوا۔محکمہ ایکسائز کے حوالے سے عوام کے شکایات اور معروضات براہ راست سننے اور اس کے بروقت ازالہ کرنے کیلئے یہ پہلی کھلی کچہری تھی جس میں سیکرٹری ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خالد الیاس سمیت محکمہ کے تمام شعبوں کے اعلی افسران نے شرکت کی۔ کھلی کچہری کے دوران صوبہ بھر اور صوبے سے باہر سے مجموعی طور پر 46 فون کالز موصول ہوئیں، جبکہ فیس بک لائیو سیشن کے دوران عوام کی جانب سے 280 پیغامی تاثرات (کمنٹس) موصول ہوئے۔ ان شکایات اور تجاویز میں گاڑیوں کی رجسٹریشن، انسدادِ منشیات کے حوالے سے شکایات و مہمات کے آغاز کی درخواستیں، ناکوں پر گاڑیوں اور مسافروں کو درپیش مسائل، مختلف مقامات پر ایکسائز عملے کی تعیناتی اور دیگر امور شامل تھے۔صوبائی وزیر نے کھلی کچہری کے دوران عوامی شکایت پر ناکوں پر شہریوں کے موبائل فون چیک کرنے کے عمل کا سخت نوٹس لیتے ہوئے واضح ہدایات جاری کیں کہ دورانِ چیکنگ عوام کی عزت و احترام کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کے ذاتی موبائل فون چیک کرنا غیر قانونی عمل ہے اور اگر کوئی افسر یا اہلکار اس میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔صوبائی وزیر نے کہا کہ اس ضمن میں محکمہ ایکسائز کے حوالے سے عوام اپنی شکایات ان کے آفیشل سوشل میڈیا پیجز پر درج کرا سکتے ہیں، جن پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔صوبائی وزیر سید فخرِجہان نے موقع پر ہی عوامی مسائل کے فوری حل کیلئے متعلقہ حکام کو مؤثر اقدامات اٹھانے کے احکامات جاری کیے۔انہوں نے شکایت کنندگان کی نشاندہی پر واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ دورانِ ڈیوٹی ناکوں پر تعینات افسران و اہلکار کسی صورت ٹک ٹاک یا دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کیلئے ویڈیوز نہیں بنائیں کیونکہ محکمہ ایکسائز کی اصل ذمہ داری منشیات کے خاتمے کی ہے، نہ کہ اس کی آڑ میں ذاتی برانڈنگ یا فلمی مناظر بنا کر عوام کی تذلیل کرنا۔ اگر آئندہ کوئی افسر یا اہلکار اس عمل میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔کھلی کچہری کے دوران صوبے کے طول و عرض سے عوام نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت اور صوبائی وزیر ایکسائز سید فخرِجہان کی سرپرستی میں زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت انسدادِ منشیات کے خلاف جاری مؤثر آپریشن کو ایک احسن اقدام قرار دیا۔ عوام کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت میں محکمہ ایکسائز نے پہلی مرتبہ منشیات کے ناسور کے خلاف اس نوعیت کا مؤثر اور نتیجہ خیز آپریشن شروع کیا ہے۔ عوام نے صوبائی وزیر ایکسائز کی انتھک کوششوں کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔صوبائی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ منشیات کے خلاف محکمہ ایکسائز کی جانب سے ڈیلرز، منشیات فروشوں اور اس کے عادی افراد کے خلاف بلا امتیاز آپریشن جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ گھناونا دھندا ہماری نئی نسل کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے، اس لیے اس میں ملوث عناصر کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے وژن اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت ’اختیار عوام کا‘ کے وژن پر عمل پیرا ہے اور عوام کی ہر جائز شکایت پر بروقت اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کی میڈیا بریفننگ

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان نے محکمہ ایکسائز کا قلمدان سنبھالنے کے بعد ڈیڑھ ماہ کے محدود عرصے میں محکمے کی نمایاں کارکردگی سے عوام کو آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان نسل کی حفاظت،تعلیمی اداروں اور معاشرے کو منشیات کے خطرناک ناسور سے بچانے کا تہیہ رکھتے ہوئے مثالی کاروائیاں عمل میں لائی گئی۔ منشیات فروشوں،ڈیلرز،سمگلرز اور سہولت کاروں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی اور 4 نومبر 2025 سے 15 جنوری 2026 کے دوران کل 91 کاروائیاں کی گئی، جس میں مجموعی طور پر 1762 کلوگرام منشیات برآمد کرکے 112 ملزمان گرفتار کئے گئے۔ انھوں نے ان کاروائیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کل 91ایف آئی آرز درج ہوئے، جس میں 47کلوگرام آئس، تقریبا 1702کلوگرام چرس، تقریبا 12 کلو گرام ہیروئن تقریبا،1 کلو گرام افیون، 7 بوتل شراب اور911عدد نشہ آور گولیاں ضبط کی گئی اور 112 ملزمان گرفتار کئے گئے۔محکمہ اطلاعات کے اطلاع سیل،سول سیکرٹریٹ پشاور میں محکمانہ کارکردگی کے حوالے سے میڈیا بریفنگ کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ تاریخ میں اتنی مقدار میں بڑی مقدار میں منشیات نہیں پکڑی گئیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم منشیات کے حوالے سے قوانین بھی سخت کررہے ہیں اور جرمانے بھی بڑھا رہے ہیں تاکہ ہماری نسلوں کو برباد کرنے والے بچ نہ سکیں اور سلاخوں کے پیچھے ہی رہیں۔انھوں نے کہا کہ صوبے میں نئے ایکسائز پولیس اسٹیشن بھی قائم کررہے ہیں اور اور اگر کوئی بھی آفیسر یا اہلکار منشیات کے معاملات میں ملوث پایا گیا تو اسکو گھر بھیج دیں گے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں انسداد منشیات کے حوالے سے آگاہی پروگرام شروع کریں گے اور اگر کسی بھی یونیورسٹی میں منشیات فروشی یا عادی طلبہ کا پتہ چلا تو وہاں کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ایکسائز میں پہلے ریہب والانظام نہیں تھا اب کوشش کررہے ہیں کہ عادی افراد کو ایکسائز کے ذریعے بحالی مراکز تک پہنچائیں۔ انھوں نے مزید کہا اگر کسی بھی بحالی ادارے یا ہسپتال میں اگر علاج کے بجائے کوئی اور مقصد معلوم ہوا تو ہسپتال اور عملے کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ انھوں نے کہا آج ہی ان لائن کھلی کچہری کے موقع پر چھوٹے اور بڑے منشیات فروشوں کے خلاف بلا امتیاز کارؤائی کے احکامات جاری کیئے ہیں۔محصولات،ٹیکس ریکوری میں نومبر اور دسمبر کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ کہ منشیات کی روک تھام کے علاوہ محکمہ ایکسائزکو صوبائی محاصل کی وصولی میں بھی کلیدی کردار حاصل ہے۔ محصولات کی بہتری، شفافیت، اور وصولیوں میں مؤثر کارکردگی کے تحت محکمے کی جانب سے دو ماہ نومبر اور دسمبر کے اعداد و شمار میں واضح اضا فہ آیا ہے۔نومبر اور دسمبرکے دو ماہ کے دوران 2025 میں 1013 ملین روپے کی وصولی ہوئی ہے۔ جو گزشتہ سال کے اسی دورانئے کے مطابق تقریبا 12 فیصد 113 ملین اضافے کو ظاہر کرتی ہے، جو محکمے کی بہتر حکمت عملی، نگرانی اور فیلڈ کارکردگی کا نتیجہ ہیاور انشاء اللہ مالی سال 26-2025 کا مقررہ ہدف 7 بلین ہے اور مقررہ ہدف سے ذیادہ ریکوری کر لی جائیگی۔قانونی اصلاحات اور عوامی سہولیات کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول عوامی سہولت، شفافیت، بہتر حکمرانی اور ریونیو میں اضافے کے لیے متعدد قانونی اصلاحات اور ڈیجیٹل سہولیات متعارف کرا رہا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد عوام کو تیز، آسان اور شفاف خدمات فراہم کرنا اور قومی خزانے کے لیے محصولات کی وصولی کو مؤثر بنانا ہے۔اس سلسلے میں پرسنلائزڈ رجسٹریشن مارک کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ پراپرٹی ٹیکس کا آنلائن سافٹ ویئر اور موبائل ایپلیکیشن کا نظام بھی محکمہ میں نافذ کیا گیا ہے جبکہ پروفیشنل ٹیکس کے آنلائن سافٹ ویئر اور موبائل ایپلیکیشن پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ عوامی شکایات اور مسائل کے حل کیلئے اوپن ڈے کا آغاز کیا گیا ہے اور اس کے تحت سینکڑوں شکایات کا ازالہ کیا گیا، شکایات ملنے پر متعدد افسران و اہلکار معطل کیئے گئے ہیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ آج سے پہلی ای کھلی کچہری کا آغاز کردیا گیاہے جس میں عوام نے بھرپور شرکت کرکے 46 لاؤ کال موصول ہوئیں۔عوام نے محکمہ کے حوالے سے تقریبا 280 تاثراتی پیغامات بھیجے جس پر بروقت احکامات جاری کئے گئے۔سید فخرجہان نے کہا کہ بہترین عوامی مفاد اور ریوینو میں اضافہ کیلئے گاڑیوں کے یونیک /پسندیدہ نمبر وں کا قانون پاس کر کے باقاعدہ آغاز کر دیا گیاہے، جس کی پہلی نیلامی 27 جنوری 2026 ہو گی۔اس طرح اربن امووایبل پراپرٹی ٹیکس کے تحت 4 لاکھ سے زائد پراپرٹیز ڈیجیٹلائز کی گئی جبکہ رپورٹ کے مطابق صوبے کے 13 شہروں میں GIS سروے مکمل ہوا ہے۔

خیبرپختونخوا کے پہلے سینٹر آف ایکسیلنس فار اسٹیم (STEAM) کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا

خیبرپختونخوا میں اعلیٰ تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور نئی نسل کو عصری علمی و تحقیقی طریقہ کار کے تحت تعلیم فراہم کرنے کے لیے ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے۔ صوبے میں پہلے سینٹر آف ایکسیلنس فار اسٹیم (STEAM) کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس اور ریاضی کے شعبوں میں جدید تحقیق، تربیت اور تعلیمی معیار کو فروغ دینا ہے۔
سینٹر آف ایکسیلنس فار اسٹیم کی افتتاحی تقریب خیبرپختونخوا ہائر ایجوکیشن اکیڈمی آف ریسرچ اینڈ ٹریننگ (HEART)، حیات آباد پشاور میں منعقد ہوئی، جس کے مہمانِ خصوصی خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان افریدی تھے۔ تقریب میں محکمہ اعلیٰ تعلیم کے اعلیٰ حکام، تعلیمی ماہرین، اساتذہ اور مختلف اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان افریدی نے کہا کہ سینٹر آف ایکسیلنس فار اسٹیم کا قیام صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اپنی نوعیت کی ایک نمایاں اور دور رس اثرات رکھنے والی پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرکز کے قیام سے طلبہ کو جدید سائنسی و تحقیقی مہارتیں حاصل کرنے کے مواقع میسر آئیں گے اور وہ قومی و بین الاقوامی سطح پر مسابقت کے قابل بن سکیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیم ماڈل جدید دنیا کی تعلیمی ضروریات سے ہم آہنگ ہے، جس کے ذریعے طلبہ میں تخلیقی صلاحیتوں، تنقیدی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی مہارتوں کو فروغ دیا جائے گا۔ یہ مرکز نہ صرف اساتذہ کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ تحقیق اور اختراعات کے نئے در بھی کھولے گا۔وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت خیبرپختونخوا تعلیمی اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے، تحقیق کو فروغ دینے اور نوجوان نسل کو مارکیٹ بیسڈ اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ تعلیم فراہم کرنے کے لیے ایسے مزید اقدامات جاری رکھے گی تاکہ صوبہ علمی و تعلیمی میدان میں ایک نمایاں مقام حاصل کر سکے۔

صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی کے گھر پر ہینڈ گرنیڈ حملہ قابل مذمت ہے، شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی کے گھر پر ہینڈ گرنیڈ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس واقعہ کو ایک بزدلانہ فعل قرار دیا ہے،اپنے بیان میں معاون خصوصی نے کہا کہ ایسی کارروائیوں کے ذریعے نہ تو صوبائی حکومت کو خوفزدہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی منتخب عوامی نمائندوں اور عوام کے حوصلے پست کیے جا سکتے ہیں شفیع جان نے کہا کہ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔تاہم صوبائی وزیر کے گھر کو نقصان پہنچا ہے،انہوں نے بتایا کہ پولیس اور دیگر متعلقہ محکموں کو واقعے کی فوری اور جامع تحقیقات کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور صوبائی حکومت اس حملے میں ملوث عناصر کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت امن دشمن عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے،معاون خصوصی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیاں دی ہیں،خیبرپختونخوا ایک طویل عرصے سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور پاکستان تحریک انصاف کے منتخب اراکین اسمبلی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کی قیادت، ہزاروں پولیس اہلکار، سیکیورٹی فورسز کے جوان اور بے گناہ شہری دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں،انہوں نے کہا کہ صوبے کو اربوں روپے کے معاشی اور انفراسٹرکچر نقصانات اٹھانا پڑے لیکن بدقسمتی سے وفاق پر مسلط حکمران ٹولہ نہ صرف خیبرپختونخوا کے بقایا جات روکے ہوئے ہے بلکہ روزانہ کی بنیاد پر صوبائی حکومت پر بے بنیاد، غیر ذمہ دارانہ اور سیاسی الزام تراشی کر کے دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں اور شہداء کی قربانیوں کی کھلی توہین کر رہا ہے جو ہمیں کسی صورت قابل قبول نہیں،معاون خصوصی نے کہا کہ دہشت گردی جیسے حساس قومی مسئلے پر وفاقی حکومت کا یہ رویہ انتہائی افسوسناک، غیر سنجیدہ اور نیشنل ایکشن پلان کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے،وفاقی حکومت صوبے کو اس کے آئینی اور مالی حقوق دے رہی ہے، نہ ہی صوبے کے حوالے سے کیے جانے والے فیصلوں میں صوبائی حکومت کو اعتماد میں لے رہی ہے جو یہاں کے عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہے،انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کی جان و مال کے تحفظ، امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لاتی رہے گی۔

سول سیکرٹریٹ ورسک روڈ میں ڈے کیئر سینٹر کا افتتاح

معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے سول سیکرٹریٹ ورسک روڈ میں قائم ڈے کیئر سینٹر کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب میں سیکرٹری اطلاعات و تعلقاتِ عامہ ڈاکٹر محمد بختیار خان، ڈائریکٹر جنرل اطلاعات محمد عمران خان، ایڈیشنل سیکرٹری حضرت علی، ڈپٹی سیکرٹری بینش اقبال، ڈپٹی سیکرٹری انور اکبر اور دیگر افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ ڈے کیئر سینٹر کا قیام خواتین ملازمین کے لیے ایک اہم سہولت ہے، جس سے سرکاری دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کو اپنے بچوں کی بہتر دیکھ بھال کا موقع ملے گا۔ انہوں نے بتایا کہ سول سیکرٹریٹ ورسک روڈ میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی سہولت ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں بہتر کام کرنے کا ماحول فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ڈے کیئر سینٹر کے قیام سے خواتین ملازمین اپنی ذمہ داریاں زیادہ توجہ اور اطمینان کے ساتھ انجام دے سکیں گی۔معاون خصوصی نے ڈے کیئر سینٹر کے قیام میں ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات بینش اقبال کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ورسک روڈ سول سیکرٹریٹ میں کام کرنے والی خواتین ملازمین اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گی اور مستقبل میں ایسی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔