خیبرپختونخوا کے وزیر برائے بلدیات مینا خان آفریدی نے سوشل میڈیا پر زیر گردش دو ویڈیوز میں سامنے آنے والی رشوت اور کرپشن سے متعلق اطلاعات پر فوری نوٹس لیتے ہوئے محکمہ بلدیات کے دو ملازمین کے خلاف ایکشن لے لیا ہے۔ وزیر بلدیات کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق سوشل میڈیا کے ذریعے دونوں ملازمین کے خلاف شکایات موصول ہوئی تھیں، جنہیں انتہائی سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ویلج کونسل دولت پورہ چارسدہ کے ویلج سیکرٹری کو مبینہ کرپشن کے الزامات پر فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ نائیبرہوڈ کونسل 59 مندوزئی پشاور کے نائب قاصد کو بھی رشوت لینا کے الزام میں معطل کر دیا گیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں معطل ملازمین کے خلاف باقاعدہ انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جو تمام شواہد کا جائزہ لے کر مقررہ مدت کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔وزیر بلدیات مینا خان آفریدی نے کہا کہ محکمہ بلدیات میں رشوت اور کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری ہے اور کسی بھی سطح پر بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی خدمت میں غفلت، دھوکہ دہی یا اختیارات کے غلط استعمال پر سخت قانونی کارروائی ہوگی۔وزیر بلدیات نے مزید کہا کہ محکمہ بلدیات کو شفاف، فعال اور عوام دوست ادارہ بنانے کے لیے اصلاحات جاری ہیں اور ہر شکایت کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے بلاامتیاز کارروائی کی جا رہی ہے۔
محکمہ بلدیات میں کرپشن اور نااہلی کے خلاف کارروائیاں وزیر بلدیات مینا خان آفریدی نے سوشل میڈیا ویڈیوز کا فوری نوٹس لے لیا
خیبرپختونخوا میں زراعت کے شعبے میں ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں جن سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے گڈ گورننس روڈمیپ کے تحت مختلف اقدامات پر عملدرآمد میں تیزی لائی جائے، چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں محکمہ ذراعت کے گڈ گورننس اقدامات پر جائزہ اجلاس کا انعقاد ہوا جس میں سیکرٹری محکمہ ذراعت اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ضم اضلاع میں ایک لاکھ پچاس ہزار زیتون کے درختوں پر قلم لگانے کا ہدف کامیابی سے مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ کسانوں کی معاشی حالت میں بہتری کیلئے جدید زرعی ٹیکنالوجی، تربیت اور وسائل فراہم کرنے پر کام جاری ہے۔ اسی طرح کسانوں کو ایک چھت تلے سہولیات کی فراہمی کیلئے 97 فارم سروسز سینٹرز میں ون ونڈو آپریشن جاری ہے۔ مزید بتایا گیا کہ مختلف منصوبوں کے ذریعے پانچ ہزار ایکڑ قابلِ کاشت بنجر زمین کی بحالی اور گندم، مکئی، چاول، گنے اور پھلوں سمیت بڑی فصلوں کی جی آئی ایس میپنگ جیسے منصوبے بھی حکومت خیبرپختونخوا کے گڈ گورننس روڈ میپ کا اہم حصہ ہیں۔چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات صوبے میں زرعی ترقی اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
کیپٹل میٹروپولیٹن گورنمنٹ پشاور کے امور پراہم اجلاس
خیبرپختونخوا کے وزیر بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت پشاور میں منعقد ہوا، جس میں میٹروپولیٹن کی مجموعی کارکردگی، شہری سہولیات اور جاری تعمیراتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری لوکل کونسل بورڈ وحید الرحمن اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔سیکرٹری لوکل کونسل بورڈ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ میٹروپولیٹن کے زیر انتظام بس ٹرمینلز، سٹی فائر بریگیڈ، تعلیمی ادارے، وومن اسکلڈ سینٹرز، میونسپل انڈسٹریل ہومز، پارکس اور دیگر شہری خدمات شامل ہیں۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ میٹروپولیٹن کے پاس 518 کنال اراضی، سینکڑوں میونسپل پراپرٹی یونٹس، زیر تعمیر کمرشل پلازے اور متعدد جاری منصوبے موجود ہیں جبکہ شہر کے چار بڑے بس ٹرمینلز سے رواں سال 62 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی جا چکی ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ فائر بریگیڈ مالی طور پر میٹروپولیٹن پر بوجھ بن چکا ہے جبکہ میٹروپولیٹن پشاور کے احاطے میں کوئی ریڑھی بان یا اسٹال ہولڈر رجسٹرڈ نہیں، جس پر وزیر بلدیات نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر تمام ریڑھی بانوں اور اسٹالز کا مکمل ریکارڈ تیار کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس کے دوران شہر میں زیر تعمیر کمرشل پلازوں، فیملی پارکس، صفائی کے نظام، نکاسی آب، سڑکوں کی مرمت اور بیوٹیفکیشن سمیت مختلف شہری خدمات پر بھی بات ہوئی۔ مینا خان آفریدی نے کہا کہ میٹروپولیٹن کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے اور وزیر باغ میں کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود خدمات کی صورتحال ناگفتہ بہ ہے، جس پر متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا گیا۔انہوں نے ہدایت جاری کی کہ سرکلر روڈ پر لائٹنگ، بیوٹیفکیشن اور تجاوزات کے خاتمے کا عمل آئندہ ہفتے سے فوری طور پر شروع کیا جائے۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ پشاور شہر کی بنیادی سہولیات کو جدید معیار کے مطابق بہتر بنانا ناگزیر ہے اور میٹروپولیٹن کو فعال، شفاف اور عوام دوست ادارہ بنایا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ عوامی خدمت میں غفلت برتنے والوں کے لیے میٹروپولیٹن میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ حکومت پشاور کو ایک جدید، صاف اور منظم شہر بنانے کے لیے تمام ضروری اصلاحات نافذ کرے گی۔
لیبارٹی ٹیسٹوں کے نرخنامے ہسپتالوں میں نمایاں مقامات پر آویزاکئے جائیں۔ وزیر صحت کی ہدایت
خیبرپختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمان اور سیکرٹری صحت شاہد اللہ خان نے صوبے کے تمام اضلاع کے صحت افسران اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت کی ہے کہ معیاری لیبارٹری ٹیسٹوں کے نئے جاری شدہ نرخنامے(چارجزز) عوام کی آگہی کے لئے ہسپتالوں خاص کر آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ بلاک، ایمرجنسی بلاک، ہسپتال لیبارٹریوں کی فرنٹ جگہوں اور دیگرنمایاں مقامات پر آویزاں کئے جائیں تا کہ شفافیت، یکسانیت اور مریضوں کی آسانی کو یقینی بنایا جا سکے۔اس حوالے سیمحکمہ صحت نے واضح کیا ہے کہ تمام متعلقہ ادارے سختی کے ساتھ ان احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ عوام سرکاری تشخیصی اخراجات سے مکمل طور پر آگاہ رہیں اور کسی بھی قسم کی غیر مجاز قیمتوں کا اطلاق نہ ہو سکے۔وزیرِ صحت نے صوبہ بھر میں تشخیصی خدمات سے متعلق ایک اہم اصلاحاتی اقدام بھی متعارف کرایا ہے اوروزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمدسہیل آفریدی کے اصلاحاتی وژن اور وزیرِ صحت و سیکرٹری صحت کی خصوصی کاوشوں کے تحت صوبے میں لیبارٹری ٹیسٹوں کی قیمتوں کی طویل عرصے سے منتظر جامع نظرِ ثانی کامیابی سے مکمل کر لی گئی ہے اور 1996 کے بعد پہلی مرتبہ لیبارٹری ٹیسٹ کے نرخوں میں اس نوعیت کی بڑی اور ہمہ گیر تبدیلی متعارف کرائی گئی ہے۔ اس سلسلے میں مجموعی طور پر تریسٹھ لیبارٹری ٹیسٹوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جن میں سے چھتیس ٹیسٹوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے، جس سے عوام کو براہِ راست مالی ریلیف ملے گا۔ مزید برآں تقابلی تجزیے کے مطابق تینتیس ٹیسٹ ایسے ہیں جن کی قیمتیں دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم مقرر کی گئی ہیں، جس سے خیبر پختونخوا کے عوام کو زیادہ سستی اور بہتر صحت سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔محکمہ صحت نے واضح کیا ہے کہ یہ اصلاحات عوام کو ریلیف فراہم کرنے، صحت مراکز میں احتساب کو مضبوط بنانے اور تشخیصی خدمات کو یکساں اور معیار کے مطابق لانے کے لیے متعارف کرائی گئی ہیں۔ حکومت خیبر پختونخوا خدمت کی فراہمی میں بہتری، شفافیت کے فروغ اور ہر شہری تک معیاری، قابلِ استطاعت اور یکساں صحت سہولیات پہنچانے کے عزم پر ثابت قدم ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان کی زیر صدارت پاکستان میں آبی وسائل کے احتساب (ڈبلیو آر اے پی) پروگرام سے متعلق اہم اجلاس
خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان کی زیر صدارت پاکستان میں آبی وسائل کے احتساب (ڈبلیو آر اے پی) پروگرام سے متعلق اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس کا مقصد آبی وسائل کے احتساب (ڈبلیو آر اے پی) پروگرام کے تحت سرکاری سطح پر انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ(ائی ڈبلیو۔ایم آئی) کی ٹیم کا صوبائی وزیر کو بریفنگ دینا تھا۔ انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے وفد میں سائنس اینڈ پالیسی ایڈوائزر انجینئر محمد نعیم، ٹیم لیڈر (ڈبلیو آر اے پی)پروگرام انجینئر کفایت زمان، مرشد خان، ڈائریکٹر جنرل واٹر ریسورسز ریگولیٹری اتھارٹی (ڈبلیو آر اے پی)اور انجینئر روح المحسن شامل تھے۔ اس موقع پر انجینئر محمد نعیم نے صوبائی وزیر ریاض خان کوائی ڈبلیو۔ایم آئی کے مجموعی کام سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ ائی ڈبلیو۔ایم آئی ایک بین الاقوامی تحقیق برائے ترقی کا ادارہ ہے جس کا حکومت پاکستان کے ساتھ 1986 سے دیرینہ تعاون ہے۔ برطانوی حکومت کے تعاون سے آبی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے ڈبلیو آر اے پی پروگرام شروع کیا گیا ہے جس میں پانی کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانا اور موسمیاتی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کوبڑھانا ہے۔ائی ڈبلیو۔ایم آئی کی ترجیحات وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور کلیدی ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ قریبی ہم آہنگی سے تشکیل دینا ہے تاکہ پانی، خوراک اور آب و ہوا سے متعلق ثبوت پر مبنی پالیسیوں کی حمایت کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران وضاحت کی گئی کہ WRAP project کی کاوشیں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی ان ہدایات کے مطابق ہیں جو ان کی محکمہ آبپاشی سے صرف ایک روز قبل ہوئی میٹنگ کے دوران دی گئی تھیں اور یہ محکمہ خیبرپختونخوا کے صوبے کے ٹیوب ویل، چھوٹے ڈیموں اور نہروں کے انفراسٹرکچر کے ڈیٹا بیس کی ڈیجیٹائزیشن اور ڈیولپمنٹ میں معاون ثابت ہوں گی یہ بھی بتایا گیا کہ ضلع چارسدہ اور ضلع مانسہرہ کو پراجیکٹ کی سرگرمیوں کے لیے پائلٹ اضلاع کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ انجینئر نعیم خان نے صوبائی وزیر آبپاشی کو پروگرام کے اہم پہلوؤں کے بارے میں تفصیلی آگاہ کیا، جس میں صوبے میں زیر زمین پانی کے وسائل کی سٹریٹجک اہمیت پر زور دیا اور صوبے میں زیر زمین پانی کی کمی اور پانی کے معیار کو بگڑنے سے متعلق چیلنجز کی طرف توجہ مبذول کروائی۔ انجینئر کفایت زمان نے بھی خیبر پختونخوا میں WRAP کے تحت ہونے والی پیش رفت اور آپریشنل سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی تکنیکی بریفنگ دی۔ انہوں نے صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان کو بتایا کہ IWMI نے صوبے میں چار مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں خاص طور پر محکمہ آبپاشی، محکمہ زراعت، ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (UET) مردان کے ساتھ ادارہ جاتی تعاون، تحقیقی شراکت داری اور متعدد سطحوں پر تکنیکی تعاون کو مضبوط بناناہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ IWMI نے مردان اور مانسہرہ میں فلیکس ٹاورز نصب کیے ہیں اور چارسدہ میں فلو گیجز تعینات کیے ہیں انجینئر روح المحسن نے صوبائی وزیر کو آگاہ کیا کہ IWMI، محکمہ آبپاشی اور دیگر لائن ادارے WRAP پروگرام کے تحت متعد ٹریننگز اور فیلڈ آپریشنز میں حصہ لے کر IWMI کے پروگرام میں بھرپور شرکت کرنی چاہیئے? انہوں نے خیبرپختونخوا واٹر ایکٹ کے لیے رولز/ریگولیشن تیار کرنے میں آئی ڈبلیو ایم آئی کے تعاون کو سراہا? صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے IWMI کی کاوشوں کو سراہا اور خیبر پختونخوا میں WRAP پروگرام کے اجزاء کے مقاصد اور پیش رفت پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے لائن ڈپارٹمنٹ کو مشورہ دیا کہ وہ IWMI کے ساتھ قریبی کوآرڈینیشن برقرار رکھیں تاکہ صوبے میں آبی نظام کو مزید بہتر اور آ بی وسائل کے استعمال میں جدت کو یقینی بنایا جا سکے۔ صوبائی وزیر نے طویل مدتی آبی وسائل کی پائیداری کے لیے WRAP پروگرام کو خیبرپختونخوا کے دیگر آبی دباؤ والے اضلاع تک پھیلانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
سیکرٹری ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن محمد خالد خان کے زیر صدارت محکمہ تعلیم گڈ گورننس روڈ میپ جائزہ اجلاس۔
سیکرٹری محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا محمد خالد خان کی زیرِ صدارت گڈ گورننس روڈ میپ جائزہ اجلاس منعقد پساور میں منعقد ہوا جسمیں محکمہ تعلیم اور ذیلی اداروں کیلئے جاری گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت اٹھائے گئے اقدامات اور دیگر اہم معاملات کے حوالے سے تفصیلی بحث ہوئی۔ اس موقع پر شعبہ تعلیم میں اصلاحات، گورننس بہتر بنانے، سروس ڈیلیوری کو مؤثر بنانے اور جاری منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سپیشل سیکرٹری ایجوکیشن مسعود، ایڈیشنل سیکرٹریز، ڈائریکٹر ایجوکیشن نغمانہ سردار، چیف پلاننگ آفسر زین اللہ شاہ، اور محکمہ تعلیم کے زیلی اداروں کے دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مختلف شعبہ جات کے افسران نے اپنی پیش رفت رپورٹس پیش کیں جبکہ آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی مشاورت کی گئی۔ شرکاء کو گورننس فریم ورک کے تحت جاری اقدامات، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، مانیٹرنگ سسٹم کی بہتری اور فیلڈ سطح پر درپیش چیلنجز کے حل کے لیے مجوزہ اقدامات پر بریفنگ لی گئی۔محکمہ تعلیم کی قیادت نے واضح کیا کہ شفافیت، کارکردگی اور سہولیات کی فراہمی میں بہتری محکمہ تعلیم کی اولین ترجیح ہے۔ اور اس سلسلے میں تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مربوط حکمتِ عملی کے تحت کام جاری رہے گا۔آخر میں مستقبل کے اہداف اور ٹائم لائنز کا تعین کرتے ہوئے تمام متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کی گئیں۔ تاکہ گڈ گورننس روڈمیپ کے تحت اصلاحات کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
IMF’s 186-page report on Pakistan is a charge sheet against the government: KP Finance Advisor Muzzammil Aslam
Advisor to the KP Chief Minister on finance Muzzammil Aslam has said that the IMF’s 186-page report on Pakistan is a charge sheet against the government. He said the IMF had given this report to the government in July, but the government was not releasing it, and the July report was finally published by the government in November, in the darkness of night. Muzzammil Aslam said that if the PTI government had been in power, they would have released this report in broad daylight instead of under the cover of darkness.
These views were expressed by the Advisor to the Chief Minister on Finance, Muzzammil Aslam, at a press conference held in Islamabad on Thursday.
KP Finance Advisor Muzzammil Aslam said that the IMF report raised questions about the 26th Constitutional Amendment—how judges will be appointed has also been written about in detail, and concerns have been expressed. He said the report was also delayed so that the 27th Constitutional Amendment could be passed. Muzzammil Aslam said that the government would never have released this report had the IMF not imposed the condition that the next tranche would not be released otherwise, and perhaps the IMF board meeting scheduled for December 8 was fixed on the basis of this assurance.
The Finance Advisor said that Why is the government hiding behind this report? The government should have held a proper press conference. The government holds press conferences on every minor issue, so on this matter the Prime Minister and ministers should have addressed the nation.
Muzzammil Aslam said the government should have taken the nation into confidence—how much of this report is true and how much is not—because this report has been written by the IMF. Why is the government silent on it? Muzzammil Aslam said that the report states that the government recovered 5,300 billion rupees in corruption-related funds over the past two years, which the IMF says is only a fraction of corruption, meaning these are irregularities. Muzzammil Aslam said these funds are so large that all of Pakistan’s dams could be built twice over, and government employees could be given tax exemptions for five years.
Muzzammil Aslam said that the irregularities in Pakistan caused by “elite capture” amount to 6.5 percent of GDP, which means the government could have increased the growth rate by 6.5 percent through its own resources. The Khyber Pakhtunkhwa Finance Advisor said that discussions on the 28th Amendment also revolve around the NFC, with the claim that the federal government does not have funds and all funds go to the provinces. He said the federation does have funds, but the federal government itself is making mistakes, causing resources to be wasted and funds not being used properly.
Muzzammil Aslam said that Shehbaz Sharif used to claim that not even a single penny of corruption was proven during his government so what is this 5,300 billion rupees of corruption over the past two years? He said that during Shehbaz Sharif’s government there were many corruption scandals, and the recent scandals include the wheat scandal, power scandal, LNG scandal, sugar scandal, and the Audit General’s report in Punjab showing one billion rupees, what is all this then?
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات سے روکنا قابل مذمت ہے، شفیع جان
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا بانی چیئرمین عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کرنا ان کا آئینی اور قانونی حق ہے لیکن آج ایک مرتبہ پھر وزیراعلیٰ کو اپنے قائد سے ملنے نہیں دیا گیا جو قابل مذمت ہے،وہ صوبے کے عوام کے منتخب وزیراعلیٰ ہیں جبکہ عمران خان سے ملاقات کے لیے ہمارے پاس اسلام آباد ہائیکورٹ کے واضح احکامات بھی موجود ہیں، اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو بار بار عمران خان سے ملاقات سے روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی قید تنہائی پر ہمیں گہری تشویش ہے اور ہم واضح کرتے ہیں کہ بانی چیئرمین عمران خان کو کسی صورت قید تنہائی میں نہیں رہنے دیں گے۔انھوں نے مسلم لیگ ن پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب نواز شریف وزیراعظم تھے تو پوری کابینہ ان سے ملاقات کے لیے لندن جایا کرتی تھی لیکن اب صوبے کے ایک منتخب وزیراعلیٰ کو بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات سے بھی روکا جا رہا ہے، احتجاج سے متعلق ایک سوال کے جواب میں معاون خصوصی شفیع جان نے بتایا کہ احتجاج کے حوالے سے پارٹی، عمران خان کے پیغام کی منتظر ہے اور جیسے ہی عمران خان کی جانب سے پیغام موصول ہوا تو خیبرپختونخوا سے لاکھوں لوگ احتجاج میں شرکت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں پوری پارٹی متحد ہو چکی ہے
یونیسف کے تعاون سے بچوں کے عالمی دن کے موقع پر خیبر پختونخوا اسمبلی میں ایک خصوصی اور معلوماتی سیشن منعقد ہوا، جس میں مختلف نجی تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات نے بھرپور شرکت کی
یونیسف کے تعاون سے بچوں کے عالمی دن کے موقع پر خیبر پختونخوا اسمبلی میں ایک خصوصی اور معلوماتی سیشن منعقد ہوا، جس میں مختلف نجی تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات نے بھرپور شرکت کی۔ سیشن میں خصوصی بچوں نے بھی اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہوئے مکالموں کے مختلف پہلو پیش کیے، جنہیں شرکاء نے بے حد سراہا۔اس موقع پر طالبات کی جانب سے ایک علامتی اسمبلی اجلاس بھی منعقد کیا گیا جو جرگہ ہال میں اپوزیشن اور حکومتی اراکین کے طرز پر مکمل پارلیمانی طریقہ کار کے مطابق چلایا گیا۔ طلبہ نے سپیکر، وزراء، اپوزیشن ارکان اور دیگر اہم پارلیمانی کردار ادا کرتے ہوئے قانون سازی اور ایوانی کارروائی کا عملی تجربہ حاصل کیا۔تقریب میں معاون خصوصی برائے فنانس مزمل اسلم، چیف فیلڈ آفیسر یونیسف مسٹر رادِک، سپیشل سیکرٹری ایڈمن خیبر پختونخوا اسمبلی سید وقار شاہ، سابق رکن اسمبلی عائشہ بانو اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔سپیشل سیکرٹری ایڈمن سید وقار شاہ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کے وژن اور رہنمائی کے تحت نوجوانوں کو پارلیمانی نظام، قانون سازی کے عمل اور جمہوری اقدار سے روشناس کرانے کے لیے سٹڈی ٹورز اور تعلیمی سیشنز کا سلسلہ کامیابی سے جاری ہے۔انہوں نے یونیسف کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام نہ صرف طلبہ کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنتے ہیں بلکہ ان میں قائدانہ صلاحیتیں، خود اعتمادی اور جمہوری شعور کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یونیسف مستقبل میں بھی اسی طرح کے مثبت اور تعمیری ایونٹس کے انعقاد میں اپنا کردار جاری رکھے گا۔آخر میں شرکاء کو یادگاری شیلڈز بھی پیش کی گئیں جبکہ طلبہ نے اسمبلی کا عملی تجربہ حاصل کرنے پر خوشی کا اظہار کیا۔
ڈاکٹر سمیرا شمس کی زیرصدارت خیبرپختونخوا ایسڈ اینڈ برن کرائمز کی روک تھام اور متاثرہ افراد کی بحالی کے حوالے سے اہم مشاورتی اجلاس کا انعقاد
چیئرپرسن خیبر پختونخوا کمیشن آن دی سٹیٹس آف وومن ڈاکٹر سمیرا شمس کی زیرصدارت خیبرپختونخوا ایسڈ اینڈ برن کرائمز کے (روک تھام اور متاثرہ شخص کی بحالی) تجویز کردہ بل(ایکٹ) کے حوالے سے مشاورتی اجلاس کا انعقادہوا جس میں سیکرٹری وومن کمیشن شازیہ عطاء، ڈائریکٹر پروگرام آمنہ درانی، سابقہ ایم پی ایز عائشہ نعیم، آسیہ خٹک، سیکرٹری سوشل ویلفئیر، سپیشل سیکرٹری ایجوکیشن اینڈ ویمن امپاورمنٹ ڈیپارٹمنٹ، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پراسیکیوشن اور مختلف محکموں کے آفسران نے شرکت کی۔اجلاس میں خیبرپختونخوا برن اینڈ ایسڈکرائمز ایکٹ ڈرافٹ پر مشاورت کی گئی جسے حتمی شکل دینے کے بعد سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے خیبرپختونخوا اسمبلی کو بھیجا جائے گا۔اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرپرسن وومن کمیشن ڈاکٹر سمیرا شمس نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت خواتین کے حق میں مختلف قوانین لا رہی ہے۔ جو خیبرپختونخوا کی خواتین کو ہر قسم کے تشدد سے تحفظ فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ ایکٹ کا مقصد تیزاب کے غیر ضروری / غیر قانونی استعمال کی روک تھام اور متاثرہ شخص کی بحالی کے لئے اقدامات کرنا ہے۔اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے دیگر شرکاء نے کہا کہ برن اینڈ ایسڈکرائمز ایکٹ ڈرافٹ کافی عرصے سے زیر التوا تھا اور چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس نے خیبرپختونخوا کمیشن برائے وقار نسواں کا چارج سنبھالنے کے بعد اس بل پر کام شروع کیا ہے اور امید ہے کہ یہ ایکٹ بہت جلد خیبرپختونخوا اسمبلی سے پاس ہو جائے گا۔ چیئر پرسن نے کہا کہ ایسڈ حملے نہ صرف جسمانی نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ متاثرہ افراد کی زندگیوں پر گہرے نفسیاتی اثرات چھوڑتے ہیں، اسی لیے یہ ایکٹ متاثرین کو قانونی، طبی، مالی اور نفسیاتی مدد فراہم کرنے کا مضبوط نظام مہیا کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وومن کمیشن اس عزم کے ساتھ کام کر رہا ہے کہ صوبے کی خواتین کو ہر طرح کے تشدد سے محفوظ رکھا جائے اور انہیں باوقار زندگی کے لیے مضبوط سہارا فراہم کیا جائے۔واضح رہے کہ مجوزہ ایکٹ کے تحت ایک اعلیٰ سطح مانیٹرنگ اینڈ ایڈوائزی بورڈ تشکیل دیا جائے گا۔یہ بورڈ پالیسی سازی، نفاذ اور نگرانی میں اہم کردار ادا کرے گا۔
