Home Blog Page 55

یومِ سیاہ کشمیر کے حوالے سے ایبٹ آباد میں تقریب کا انعقاد

کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ کی زیرِ صدارت ایبٹ آباد میں یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر ایک پروقار اور پُرجوش تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد سرمد سلیم اکرم، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر گوہر علی، ضلعی افسران، تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تقریب میں کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر مختلف سرگرمیاں پیش کی گئیں، جن میں طلبہ کے ٹیبلو، ملی نغمے، تقاریر اور کشمیری ترانے شامل تھے۔ شرکاء نے اپنے کلمات اور فنکارانہ انداز میں مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی جدوجہدِ آزادی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ کمشنر ہزارہ ڈویژن کی صدارت میں ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی تاکہ شہدائے کشمیر کو یاد کیا جا سکے۔

کمشنر ہزارہ ڈویژن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”27 اکتوبر 1947 کا دن تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے جب بھارتی افواج نے کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کیا۔ آج کا دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کشمیری عوام اپنی آزادی کے لیے آج بھی قربانیاں دے رہے ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ ”پاکستانی عوام نے ہمیشہ کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہر فورم پر یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور کرتے رہیں گے۔ کشمیر ہماری شہ رگ ہے، اور جب تک کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت نہیں مل جاتا، ہم ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ”ہندوستان کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ظلم و جبر کے باوجود کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ یہ عزم و استقلال پوری دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔”

کمشنر ہزارہ ڈویژن نے کہا کہ ”حالیہ پاک بھارت تنازعات نے ثابت کیا ہے کہ پاکستانی قوم متحد ہے اور کسی بھی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ہمیں دنیا کو باور کرانا ہے کہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور کشمیری عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔”

ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد نے اپنے خطاب میں کہا کہ یومِ سیاہ ہمیں اس دن کی یاد دلاتا ہے جب کشمیری عوام کی آزادی سلب کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ”ہمیں بطور قوم اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری کے طور پر کشمیری عوام کی آواز بننا چاہیے اور ہر ممکن پلیٹ فارم پر ان کی حمایت جاری رکھنی چاہیے۔”

تقریب کے اختتام پر کشمیر یکجہتی واک کا اہتمام کیا گیا، جس میں کمشنر ہزارہ ڈویژن، ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد، ضلعی افسران، طلبہ اور شہریوں نے بھرپور شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیر کی آزادی اور بھارتی مظالم کے خلاف نعرے درج تھے۔ واک کے شرکاء کی جانب سے” کشمیر بنے گا پاکستان ” کے نعروں سے فضا گونج اٹھی

MDCAT 2025 Successfully Conducted Across Khyber Pakhtunkhwa

The Medical and Dental Colleges Admission Test (MDCAT-2025) for admission to public and private sector medical and dental colleges of Khyber Pakhtunkhwa was successfully conducted under the supervision of the provincial government and Khyber Medical University (KMU), Peshawar, in accordance with the guidelines of the Pakistan Medical and Dental Council (PMDC).

The test was simultaneously held in eight districts of the province — Peshawar, Mardan, Swat, Dir Lower, Kohat, Dera Ismail Khan, Malakand, and Abbottabad — at a total of 43 examination centers, where 39,986 candidates, including 20,266 male and 19,720 female students, appeared.

As per reports, 4,913 candidates appeared in Abbottabad, 2,381 in D.I. Khan, 537 in Dir Lower (Timergara), 1,920 in Malakand, 1,786 in Kohat, 5,093 in Mardan, 18,569 in Peshawar, and 4,787 in Swat.

The entire process was carried out in close coordination with the district administrations, police, FIA, IB, Special Branch, and other relevant institutions to ensure full implementation of the administrative and security plan. Parents, students, and the general public expressed satisfaction with the overall arrangements and appreciated KMU’s efforts for ensuring a transparent and merit-based examination process.

The Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa, Shahab Ali Shah, along with Secretary Health, Shahid Ullah, Vice Chancellor KMU, Prof. Dr. Zia Ul Haq, and senior officials from FIA, visited various examination centers in Peshawar. They appreciated the arrangements and congratulated all the examination and administrative staff especially ACS Home & Tribal Affairs Abid Majeed’s leading role for the smooth and successful conduct of the test.

Speaking on the occasion, the Chief Secretary lauded KMU’s commitment to upholding merit and transparency in all academic and administrative matters. Responding to a question, Prof. Dr. Zia Ul Haq, Vice Chancellor KMU, announced that the university is planning to computerize the MDCAT from next year, and all necessary measures will be taken in this regard at the institutional level.

It was also announced that the official MDCAT answer key will be uploaded on the KMU website (https://cas.kmu.edu.pk) on the evening of the test, enabling candidates to calculate their provisional scores. The final results will also be available on the same portal, and candidates will be provided with an opportunity for rechecking their marks within three days of the result announcement to ensure transparency.

مقبوضہ جموں وکشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے اور نہتے کشمیری عوام پربھارتی فوج کے مظالم کے خلاف یومِ سیاہ

مقبوضہ جموں وکشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے اور نہتے کشمیری عوام پربھارتی فوج کے مظالم کے خلاف ہرسال27اکتوبر کو یومِ سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اسی سلسلے میں حکومت خیبر پختونخوا نے پیر کے روز پشاور میں ریلی/واک کا اہتمام کیا ہے۔محکمہ انتظامیہ کی جانب سے جاری کئے گئے اعلامیے کے مطابق تمام انتظامی سیکرٹری اپنے متعلقہ محکموں کے سٹاف کے ہمراہ نوبج کر بیس منٹ پر سول سیکرٹریٹ اعظم خان بلاک کے سامنے جمع ہوں گے جہاں سے ریلی کا آغاز ہوگا۔ریلی کے شرکاء وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کی جانب بڑھتی ہوئے گورنر ہاؤس پہنچیں گے جہاں پر دس بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی، جس کے بعد آل پاکستان حریت کانفرنس کے قائدین اور دیگر معزز شخصیات تقریریں کریں گے۔یومِ سیاہ کے انعقاد کا مقصد بھارتی قابض افواج کی جانب سے بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی خلاف ورزیوں اور کشمیریوں پر کئے جانے والے مظالم کو اجاگر کرنا ہے۔ اسی طرح کے جلوس اور سیمینار صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی منعقد کیے جائیں گے۔

صوبائی حکومت نے کان کنی کی غیر قانونی سرگرمیوں پر عائد پابندی میں توسیع کر دی

حکومت خیبر پختونخوا،محکمہ داخلہ وقبائلی امور نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت اضلاع صوابی، نوشہرہ، کوہاٹ اور ملحقہ علاقوں میں دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کناروں پر سونے کی غیر قانونی کان کنی کی تمام سرگرمیوں پرعائد پابندی میں توسیع کر دی ہے۔یہ حکم فوری طورپر نافذالعمل ہو کر عرصہ 30 دن کے لئے لاگو رہے گا۔ خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188کے تحت کارروائی کی جائے گی۔یہ اقدام ماحول کو ممکنہ طور پر پہنچنے والے نقصان، آبی وسائل کے آلود ہ ہونے اور غیر مجاز کان کنی کی سرگرمیوں سے وابستہ امن و امان کے مسائل کے حوالے سے درپیش خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیاہے۔

یومِ سیاہ کشمیر۔ ظلم، جبر اور انسانی استقامت کی داستان

 اکتوبر 27 1947 کا دن تاریخِ کشمیر میں ایک سیاہ باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی روز بھارتی افواج نے ریاست جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کرکے کشمیری عوام کی آزادی، خودمختاری اور بنیادی انسانی حقوق کو پامال کیا۔ یہی وہ دن ہے جسے آج بھی دنیا بھر میں کشمیری عوام ”یومِ سیاہ“کے طور پر مناتے ہیں تاکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جا سکے اور یہ یاد دلایا جا سکے کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے باوجود کشمیری عوام کو آج تک ان کے حقِ خودارادیت سے محروم رکھا گیا ہے۔برصغیر کی تقسیم کے وقت، برطانوی حکومت نے ریاستوں کو یہ حق دیا کہ وہ جغرافیائی محلِ وقوع، عوامی امنگوں اور مذہبی وابستگی کی بنیاد پر پاکستان یا بھارت میں شمولیت کا فیصلہ کریں۔ ریاست جموں و کشمیر میں اس وقت 80 فیصد سے زائد آبادی مسلمان تھی، اس لئے قدرتی طور پر اس کا الحاق پاکستان سے ہونا چاہیے تھا مگر ڈوگرہ حکمران مہاراجہ ہری سنگھ نے ذاتی مفادات کی خاطر تاخیر سے فیصلہ کیا اور عوامی خواہشات کے خلاف بھارت کے ساتھ الحاق کا غیر قانونی معاہدہ کر لیا۔ 27 اکتوبر1947کی صبح بھارتی فوج کے دستے ہوائی جہازوں کے ذریعے سرینگر پہنچے اور ریاست جموں و کشمیر پر قابض ہو گئے۔ اس غیرقانونی قبضے کے خلاف کشمیری عوام نے بھرپور مزاحمت کی مگر بھارتی فوج نے ظلم و جبر، تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ذریعے تحریکِ آزادی کو دبانے کی کوشش کی۔ جب معاملہ شدت اختیار کر گیا تو پاکستان نے 1948 میں اس مسئلے کو اقوامِ متحدہ میں پیش کیا۔ سلامتی کونسل نے متعدد قراردادیں منظور کیں جن میں واضح طور پر کہا گیا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے کرنے کا حق حاصل ہے لیکن بھارت نے ان قراردادوں کو آج تک تسلیم نہیں کیا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ کشمیر پر اپنی گرفت مزید مضبوط کی۔ گذشتہ 7 دہائیوں میں مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں افراد بھارتی ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، خواتین کی بے حرمتی، نوجوانوں کی گرفتاریاں اور انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ 5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے آئین کی شق 370 اور 35-A کو منسوخ کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت بھی ختم کر دی، جو نہ صرف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی صریح خلاف ورزی تھی۔ اس کے بعد وادی کو ایک کھلی جیل میں بدل دیا گیا- انٹرنیٹ بند کر دیا گیا، سیاسی رہنماؤں کو قید کر دیا گیا، ذرائع ابلاغ پر پابندیاں لگا دی گئیں اور ہر آواز کو دبا دیا گیا۔ ان تمام مظالم کے باوجود کشمیری عوام کی جدوجہد اور استقامت قابلِ تحسین ہے۔ دہائیوں سے وہ آزادی اور حقِ خودارادیت کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں۔ ہزاروں نوجوانوں نے اپنی جانیں قربان کیں، ہزاروں خواتین نے اپنے پیارے کھوئے مگر ان کے حوصلے کم نہیں ہوئے۔کشمیری عوام کی مزاحمت انسانیت کیلئے ایک روشن مثال ہے کہ ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنا ممکن نہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکزی نکتہ قرار دیا۔ ان کا تاریخی جملہ ”کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے“آج بھی اس مسئلے کی حقیقت کو واضح کرتا ہے۔ قائداعظم کا مؤقف تھا کہ کشمیری عوام کو اپنی تقدیر خود طے کرنے کا حق حاصل ہے، اور کوئی طاقت ان کے حقوق سلب نہیں کر سکتی۔دنیا کی طاقتور اقوام اور بین الاقوامی تنظیموں پر یہ اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالیں تاکہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو ان کا پیدائشی حق دیا جا سکے۔ امن، انصاف اور انسانی حقوق کے علمبردار ممالک کیلئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ دہائیوں سے ظلم سہنے والے کشمیری عوام کے ساتھ انصاف کیوں نہیں کر پا رہے۔ ہر سال 27 اکتوبر کو دنیا بھر میں کشمیری عوام اور ان کے حامی ممالک اس دن کو ”یومِ سیاہ کشمیر“کے طور پر مناتے ہیں۔ اس موقع پر احتجاجی مظاہرے، سیمینارز اور ریلیاں منعقد کی جاتی ہیں تاکہ عالمی برادری کو یاد دلایا جا سکے کہ مسئلہ کشمیر ابھی بھی حل طلب ہے۔ پاکستان میں بھی سرکاری و عوامی سطح پر اس دن کی مناسبت سے خصوصی تقریبات، تصویری نمائشیں اور دعائیہ اجتماعات منعقد کئے جاتے ہیں۔ قومی پرچم سرنگوں رکھا جاتا ہے اور کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ 27 اکتوبر صرف کشمیر ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے۔ یہ دن اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ طاقت کے زور پر عوامی خواہشات کو دبایا نہیں جا سکتا۔ کشمیری عوام کی جدوجہد آج بھی جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انہیں ان کا حقِ خودارادیت نہیں ملتا۔ کشمیر کی آزادی صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی ضمیر کا امتحان ہے۔ کشمیری عوام کی قربانیاں اس بات کا اعلان ہیں کہ ظلم اور جبر کے مقابلے میں حریت کی آواز کبھی دبائی نہیں جا سکتی۔ پاکستان ہر سطح پر کشمیری عوام کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا کیونکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ اور اس شہ رگ کی آزادی ہی جنوبی ایشیا کے امن کی ضمانت ہے۔تحریر: ارشاد آفریدی، ریجنل انفارمیشن آفیسر، کوہاٹ

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت پرائمری سکول کے بچوں کیلئے سکول میل پروگرام ( سکول کے بچوں کیلئے کھانے کی فراہمی) پر اجلاس منعقد

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت پرائمری سکول کے بچوں کیلئے سکول میل پروگرام ( سکول کے بچوں کیلئے کھانے کی فراہمی) پر اجلاس منعقدہوا۔ جس میں سیکرٹری محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم اور سیکر ٹری محکمہ خزانہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں سکول میل پروگرام کے فوائد اور بچوں پر اسکے مثبت اثرات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو اللہ والے ٹرسٹ کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس پروگرام کی بدولت سکولوں کے بچوں کی صحت پر مثبت اثرات آنے کی ساتھ سکولوں کے اندر داخلوں میں بھی بہتری متوقع ہے اور اس پروگرام سے غریب بچوں کے لئے تعلیم جاری رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔ اجلاس کو سکول میل پروگرام کے طریقہ کار کے بارے میں بھی تفصیلی بتایا گیا جس میں مرکزی کچن میں خوراک کی تیاری سے سکول تک کھانا پہنچانے کے مراحل شامل ہیں۔
پروگرام کے سکول کے طلباء کی مجموعی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور آوٹ آف سکول چلڈرن کے سکولوں میں داخلے سمیت ان کی آنکھوں کی بینائی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ مزید برآں ہر چھ ماہ بعد بچوں کے بی ایم آئی یعنی باڈی ماس انڈیکس کی جانچ کی جائے گی تاکہ خوراک سے انکی صحت پر پڑنے والے اثرات کو جانچا جاسکے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سکول میل پروگرام کیساتھ ساتھ سکول وژن پروگرام کے تحت بچوں کی نظر کا معائنہ کرکے انہیں مفت عینک بھی فراہم کی جاتی ہے۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے اس موقع پر اللہ والے ٹرسٹ کی تعلیم کے شعبے کیلئے کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی حکومت خیبرپختونخوا کی ترجیحات میں شامل ہے اور یہ گڈ گورننس روڈمیپ کا اہم جز ہے۔ چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ حکومت کی توجہ آف سکول چلڈرن کے سکولوں میں داخلے پر ہے اور اس حوالے سے حکومت مختلف منصوبوں پر کام کررہی ہے جس سے بچوں کی سکولوں میں داخلے کی شرح میں نمایاں بہتری آئے گی۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں 27 اکتوبر 2025 (بروز پیر) صبح 10:00 بجے کشمیر کے یوم سیاہ کے موقع پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی

صوبہ خیبر پختونخوا میں 27 اکتوبر 2025 (بروز پیر) صبح 10:00 بجے کشمیر کے یوم سیاہ کے موقع پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی تاکہ اس دن کو “یومِ سیاہ” کے طور پر منایا جا سکے۔ یہ دن کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور غیر قانونی بھارتی قبضے کے خلاف ان کی جائز جدوجہد کی حمایت میں منایا جائے گا۔اس حوالے سے سرکاری و نیم سرکاری دفاتر، اداروں کے لوگ اور عوام دن کی مناسبت سے ریلیوں اور تقاریب میں شرکت کر کے کشمیری عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی کو یقینی بنائیں گے۔

سیلاب زدہ بونیر میں موبائل لیب کی واپسی، 10,100 ٹیسٹ مکمل : سیکرٹری صحت شاہد اللہ خان

سیکرٹری صحت خیبر پختونخوا شاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ بونیر کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں موبائل لیبارٹری کی تعیناتی ایک بروقت اور مؤثر اقدام ثابت ہوا، جس نے مقامی صحت مراکز کو تشخیص اور علاج میں بھرپور سہولت فراہم کی۔
‎انہوں نے بتایا کہ موبائل لیب نے 62 دن تک بونیر میں خدمات انجام دیں اور اس دوران 10,100 عوامی صحت کے لیبارٹری ٹیسٹ مکمل کیے گئے۔ ان میں CBC، ملیریا، ڈینگی، خون و فضلے کے کلچرز، ہیپاٹائٹس اور دیگر آفات کے بعد عام وائرل انفیکشنز کے ٹیسٹ شامل تھے۔
‎سیکرٹری صحت کے مطابق، موبائل لیب نے ضلعی اسپتالوں، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس اور موبائل کلینکس کے ساتھ مل کر متاثرہ افراد کو بروقت اور درست تشخیص کی سہولت فراہم کی، جس سے بیماریوں کی روک تھام اور علاج میں نمایاں بہتری آئی۔
‎انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ صحت آئندہ بھی ایسے اقدامات جاری رکھے گا تاکہ قدرتی آفات کے بعد عوام کو فوری طبی سہولیات میسر آ سکیں

قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس ایم ٹی آئی نوشہرہ میں عالمی یوم برائے اوسٹیپوروسس منایا گیا۔

قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس ایم ٹی آئی کے ارتھوپیڈک ڈپارٹمنٹ اور ہیلئین فارما کے زیر انتظام عالمی یوم برائے اوسٹیپوروسس کی مناسبت سے آگاہی واک کا اہتمام کیا گیا۔ مذکورہ دن منانے کا مقصد عوام الناس کو انسانی جسم میں ہڈیوں کی کمزوری وغیرہ والی بیماریوں سے بچاو شامل ہیں۔نوشہرہ میڈیکل کالج کے ڈین/چیف ایکزیکٹیو آفیسر و ہسپتال ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر حمزاللہ خان اور میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر عثمان حقانی نے عالمی یوم دن برائے اوسٹیپوروسس کے مناسبت سے عوام الناس کو خصوصی پیغام دیا۔ آگاہی واک میں کثیر تعداد میں ہسپتال سٹاف نے شرکت کی جن میں نرسنگ ڈائریکٹر تحمینہ تاج ، ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف نے شرکت کی۔

خیبرپختونخوا حکومت کی ہدایت پر، سینٹ لوک چرچ سوات میں تعمیراتی کام کا آغاز کر دیا

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی صاحب کی خصوصی ہدایت پر، سابق مشیر، سابق ایم پی اے اور صدر انصاف منارٹی ونگ خیبر پختونخوا وزیر زادہ، بیشپ پیٹر سرفراز ہمفری اور سینئر وائس پریزیڈنٹ پردیپ کمار کے ہمراہ سوات چرچ کا دورہ کیا اور چرچ کی تعمیر و تزئینِ نو کے کام کا افتتاح کیا۔ چرچ کی تعمیر کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے پچھتر لاکھ روپے کی رقم منظور کی جا چکی ہے، جبکہ مزید ضروری کاموں کے لیے کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس منصوبے کی تفصیلی لاگت کا تخمینہ تیار کر کے اوقاف ڈیپارٹمنٹ کو ارسال کرے تاکہ اضافی فنڈز کی منظوری عمل میں لائی جا سکے۔اس موقع پر وزیر زادہ نے کہا کہ عمران خان کے ویژن کے مطابق صوبائی حکومت، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں اقلیتی برادری کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 51کروڑ روپے کے فنڈ سے صوبے بھر میں چرچز، مندروں، گردواروں، ٹیمپلز اور اقلیتی کالونیوں میں ترقیاتی کام جاری ہیں۔ گزشتہ سال چھ کروڑ روپے کے اسکالرشپس تقسیم کیے گئے، جبکہ رواں سال مزید آٹھ کروڑ روپے کے اسکالرشپس کے فنڈ رکھے گئے ہیں تاکہ اقلیتی طلبائ کو بہتر تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔وزیر زادہ نے بتایا کہ اقلیتی برادری کے شمشان گھاٹوں اور قبرستانوں کی خریداری اور تعمیر کے لیے دس کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے، جبکہ مرجڈ اضلاع کے چرچز، مندروں اور گردواروں کے لیے بھی دس کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سوات میں مسیحی برادری کے قبرستان کی زمین خریدنے کے لیے ڈپٹی کمشنر کو پچاس لاکھ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔وزیر زادہ نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کے دوران اقلیتی برادری کے افراد کو مختلف اہم سرکاری عہدوں پر تعینات کیا گیا، جو کہ ماضی میں پہلی بار ممکن ہوا۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ اقلیتی نوجوانوں کی استعداد بڑھانے کے لیے 20 کروڑ روپے کا خصوصی فنڈ رکھا گیا ہے ۔