خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت بانی چیئر مین عمران خان کے ویژن کے تحت وزیر اعلی خیبرپختونخوا کی قیادت میں عوامی مسائل کے فوری حل، شفاف طرزِ حکمرانی، مؤثر سروس ڈیلیوری اور شہریوں کو ان کی دہلیز پر معیاری سرکاری خدمات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نوجوان نسل کو منشیات، خصوصاً آئس، کی تباہ کاریوں سے محفوظ بنانے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بلاامتیاز کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی، جبکہ ضلع چارسدہ میں پولیس اور محکمہ ایکسائز کو ایک ماہ کے اندر آئس مافیا کے خلاف فیصلہ کن نتائج دینے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز ضلع چارسدہ میں محکمہ ایکسائز اور انسدادِ منشیات کے حوالے سے منعقدہ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کھلی کچہری میں صوبائی وزیر معدنیات عارف احمد زئی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے سماجی بہبود ملک لیاقت علی خان، معاون خصوصی برائے جیل خانہ جات افتخار اللہ جان، سیکریٹری ایکسائز خالد الیاس، سیکریٹری سماجی بہبود شریف حسین، ڈائریکٹر جنرل ایکسائز عبدالحلیم خان، ڈپٹی کمشنر چارسدہ ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چارسدہ رفعت اللہ خان، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر چارسدہ،محکمہ ایکسائز کے دیگر افسران، سول سوسائٹی کے نمائندوں، علاقہ مشران، سیاسی و سماجی شخصیات اور نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔صوبائی وزیر نے کھلی کچہری کے دوران عوام، علاقہ مشران، سیاسی و سماجی شخصیات اور نوجوانوں کے مسائل اور تجاویز تفصیل سے سنیں، متعدد شکایات کے فوری ازالے کے احکامات جاری کیے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوامی خدمت کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ویژن کے مطابق عوامی مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے، شفاف طرزِ حکمرانی کو فروغ دینے اور عوام دوست نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کھلی کچہریوں کا مقصد عوام اور حکومت کے درمیان براہِ راست رابطے کو فروغ دینا، شہریوں کے مسائل موقع پر سن کر ان کے فوری حل کو یقینی بنانا اور محکمہ ایکسائز کی خدمات کو مزید مؤثر بنانا ہے۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ شہریوں کو بروقت، شفاف اور باعزت انداز میں خدمات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے اور عوام کے جائز مسائل کے حل میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔صوبائی وزیر نے عوامی مفاد سے متعلق متعدد معاملات کے فوری حل کے احکامات جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو دیرپا اور مؤثر اقدامات کی ہدایت بھی کی۔منشیات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سید فخرجہان نے کہا کہ ہمارے خطے میں منشیات کا مسئلہ ایک منظم سازش کے تحت نوجوان نسل کو نشانہ بنا رہا ہے، جبکہ آئس جیسی مہلک منشیات نے بے شمار خاندانوں کی خوشیاں چھین لی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کے عادی افراد نہ صرف اپنی زندگی بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کے لیے بھی سنگین خطرہ بن جاتے ہیں، اس لیے اس ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے سخت فیصلے ناگزیر ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ ضلع چارسدہ میں پولیس اور محکمہ ایکسائز مشترکہ حکمت عملی کے تحت آئس اور دیگر منشیات کے مافیاز کے خلاف گرینڈ آپریشن شروع کریں گے اور متعلقہ اداروں کو ایک ماہ کے اندر نمایاں نتائج دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ منشیات فروشوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی، جبکہ اگر پولیس یا محکمہ ایکسائز کا کوئی افسر یا اہلکار منشیات کے دھندے میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے ملازمت سے برخاست کیا جائے گا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ منشیات کے عادی افراد کے علاج اور بحالی کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے تاکہ وہ معاشرے کا مفید شہری بن سکیں۔ انہوں نے والدین پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں، دوستوں اور نشست و برخاست پر خصوصی نظر رکھیں تاکہ وہ بری صحبت اور منشیات فروش عناصر کے جال میں پھنسنے سے محفوظ رہیں۔تمباکو کے کاشتکاروں کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاہدوں کے مطابق تمباکو کمپنیاں کاشتکاروں کی فصل خریدنے کی پابند ہیں اور اس سلسلے میں پاکستان ٹوبیکو بورڈ سے بھی رابطہ کیا جائے گا تاکہ کاشتکاروں کے حقوق کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ ایکسائز اس حوالے سے پاکستان ٹوبیکو بورڈ کو باقاعدہ مراسلہ ارسال کرے گا۔وامی مطالبے پر صوبائی وزیر نے مرچکی پل پر منشیات کی روک تھام کیلئے منشیات کی روک تھام اور سکیورٹی چوکی قائم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نوجوانوں کو باعزت روزگار کی فراہمی کو بھی منشیات کے خاتمے کی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت احساس روزگار سکیم کا آغاز کیا گیا تاکہ نوجوانوں کو معاشی طور پر خودمختار بنایا جا سکے اور بے روزگاری کے باعث منشیات کی طرف جانے کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس ماڈل کی افادیت کو دیکھتے ہوئے پنجاب حکومت نے بھی اسی طرز کی سکیم متعارف کرائی ہے۔کھلی کچہری سے معاون خصوصی برائے سماجی بہبود ملک لیاقت علی خان نے بھی خطاب کیا اور سماجی بہبود اور منشیات کے عادی افرادی افراد کی بحالی کیلئے حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالی۔
مشیر زراعت میاں محمد عمر کی صدارت میں ضلع سوات میں کھلی کچہری کا انعقاد، زمینداروں کے مسائل کا حل صوبائی حکومت اور محکمہ زراعت کی اولین ترجیح قرار
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر کاکا خیل کی زیر صدارت ضلع سوات میں محکمہ زراعت سوات کے دفتر میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری میں اراکین صوبائی اسمبلی فضل حکیم خان، سلطان روم خان، اختر خان ایڈوکیٹ، محکمہ زراعت کے افسران، کسانوں، سیاسی و سماجی شخصیات، معززین علاقہ اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔کھلی کچہری کے دوران شرکاء نے ضلع سوات میں زرعی شعبے کو درپیش مسائل، ترقیاتی ضروریات، کسانوں کے تحفظات، شکایات اور مختلف تجاویز سے مشیر زراعت کو آگاہ کیا۔ مشیر زراعت میاں محمد عمر نے تمام مسائل و تجاویز کو توجہ سے سنا اور متعدد شکایات کے فوری ازالے کے لیے موقع پر ہی متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کیں جبکہ دیگر معاملات کو قانونی اور انتظامی کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کے سپرد کرتے ہوئے ان پر جلد پیش رفت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے مشیر زراعت میاں محمد عمر نے کہا کہ زمینداروں کے مسائل کا حل صوبائی حکومت اور محکمہ زراعت کی اولین ترجیح ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کسان دوست پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اور زرعی شعبے کی ترقی، جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور کاشتکاروں کی خوشحالی کے لیے مؤثر اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسان ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے ان کے مسائل کا بروقت حل حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔میاں محمد عمر کاکا خیل نے واضح کیا کہ محکمہ زراعت میں کرپشن کے لیے کوئی گنجائش نہیں اور کسی بھی سرکاری افسر یا اہلکار کی بدعنوانی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کسانوں سے درخواست کی کہ اگر کوئی افسر یا اہلکار رشوت طلب کرے تو وہ فوری طور پر ان کے ای منسٹر پورٹل یا دفتر میں شکایت درج کرائیں تاکہ ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت اور بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ضلع سوات میں مختلف زرعی منصوبوں کے لیے درخواستیں جمع کرانے والے کسانوں کے کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے اور فنڈز کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے محکمہ زراعت کے افسران کو ہدایت کی کہ کسانوں کو درپیش مسائل کے حل، زرعی خدمات کی بہتری اور حکومتی سہولیات کی بروقت فراہمی کے لیے مربوط اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔علاؤہ ازیں مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر نے ایگریکلچر ریسرچ انسٹیٹیوٹ مینگورہ، سوات کا دورہ کیا جہاں پر مشیر زراعت میاں محمد عمر نے جدید مالیکیولر پلانٹ لیبارٹری کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ یہ لیبارٹری زرعی تحقیق کو جدید خطوط پر استوار کرنے، بیماریوں سے محفوظ اور زیادہ پیداوار فصلوں کی اقسام کی تیاری میں اہم کردار ادا کرے گی۔ مشیر زراعت نے ادارے کے مختلف تحقیقی سیکشنز کا تفصیلی معائنہ کیا اور جاری تحقیقی سرگرمیوں، زرعی منصوبوں اور ادارے کی مجموعی کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ حاصل کی۔ دورے کے دوران متعلقہ حکام نے مشیر زراعت کو جدید زرعی تحقیق، فصلوں کی بہتر اقسام کی تیاری، کاشتکاروں کو فراہم کی جانے والی تکنیکی معاونت اور جاری ترقیاتی منصوبوں سے آگاہ کیا۔ میاں محمد عمر نے ادارے کی تحقیقی کاوشوں کو زرعی شعبے کی ترقی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی کے فروغ سے زرعی پیداوار میں اضافہ اور کسانوں کی آمدن بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ میاں محمد عمر نے ادارے میں جاری تعمیراتی کاموں کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ معیار اور ٹائم لائن کے مطابق مکمل کیے جائیں تاکہ تحقیقی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔اس سے قبل مشیر زراعت نے محکمہ زراعت توسیع سوات کے دفتر میں اجلاس کی صدارت بھی کی، جس میں محکمہ زراعت سوات کے مختلف ونگز متعلقہ ڈائریکٹرز اور افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ زراعت کی مجموعی کارکردگی، جاری ترقیاتی منصوبوں اور کسانوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ میاں محمد عمر کاکا خیل نے محکمہ زراعت کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ صرف دفتری امور تک محدود نہ رہیں بلکہ باقاعدگی سے فیلڈ کے دورے کریں، کسانوں سے براہِ راست رابطہ رکھیں، ان کے مسائل سے آگاہی حاصل کریں اور شکایات کا فوری اور مؤثر ازالہ یقینی بنائیں تاکہ زرعی شعبے کو مزید مضبوط اور کسانوں کو حکومتی سہولیات کا حقیقی فائدہ پہنچایا جا سکے۔
مون سون شجرکاری مہم کے تحت 20 لاکھ جبکہ پشاور عظمت رفتہ بحالی پروگرام کے تحت چھ لاکھ پودے لگائے جائیں گے، شفیع جان
وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا شفیع جان نے کہا ہے کہ صوبے میں آج سے مون سون شجرکاری مہم کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے جس کے تحت صوبہ بھر میں 20 لاکھ پودے لگائے جائیں گے،انہوں نے کہا کہ یوم آزادی 14 اگست کے موقع پر بھی خصوصی شجرکاری مہم کے دوران 14 لاکھ پودے لگائے جائیں گے، شفیع جان نے بتایا کہ پشاور عظمت رفتہ بحالی پروگرام کے تحت سپین خاک کے مقام پر 10 ہزار کنال رقبے پر 5 لاکھ 40 ہزار پودے لگائے جائیں گے۔ اس منصوبے کے تحت 200 کنال رقبے پر پھلدار باغات قائم کیے جائیں گے جبکہ 20 ہزار زیتون کے پودے بھی لگائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پھلدار باغات پرندوں کے قدرتی مساکن، خوراک اور ماحولیاتی توازن کے استحکام میں بھی اہم کردار ادا کریں گے،انہوں نے مزید کہا کہ پشاور شہر میں 20 میاواکی جنگلات قائم کیے جائیں گے جبکہ تعلیمی اداروں اور دیگر سرکاری عمارتوں میں 40 ہزار پھلدار پودے بھی لگائے جائیں گے، جس سے شہری ماحول بہتر بنانے، آلودگی میں کمی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے میں مدد ملے گی،وزیر اطلاعات نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے سر سبز ویژن کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت جنگلات کے فروغ، ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا محکمہ جنگلات کی شجرکاری مہمات کے لیے رواں مالی سال کے بجٹ میں بھی خطیر فنڈز مختص کیے گئے ہیں،انہوں نے بتایا کہ “ٹین بلین ٹری اپ اسکیلنگ گرین پاکستان شجرکاری پروگرام” کے لیے ایک ارب روپے، “بلین ٹری پلس پروگرام” کے لیے 50 کروڑ روپے اور “بلین ٹری افاریسٹیشن سپورٹ پراجیکٹ” کے لیے بھی 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں،شفیع جان نے مزید کہا کہ شعبہ ماحولیات کے مختلف منصوبوں کے لیے 98 ملین روپے رکھے گئے ہیں، جن میں بھٹہ خشتوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کے لیے بھی فنڈز شامل ہیں تاکہ فضائی آلودگی میں کمی لائی جا سکے، وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا ملک کے مجموعی جنگلات کے تقریباً 45 فیصد رقبے کا حامل صوبہ ہے، اس لیے جنگلات کا تحفظ اور اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں عوامی شراکت داری کے ذریعے صوبے کو مزید سرسبز، شاداب اور ماحول دوست بنانے کے لیے اقدامات کا یہ سلسلہ بھرپور انداز میں جاری رکھا جائے گا۔
خیبرپختونخوا حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام 2026-27 کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کے لئے مجموعی طور پر 80.7 ارب روپے جاری کر دیئے ہیں۔ محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا
خیبرپختونخوا حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام 2026-27 کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کے لئے مجموعی طور پر 80.7 ارب روپے جاری کر دیئے ہیں سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کا 40 فیصد حصہ یکمشت جاری کیا گیا ہے۔ محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کی جانب سے گزشتہ روز جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ترقیاتی پروگرام میں شامل نئے منصوبوں کے لیے فنڈز ان منصوبوں کی منظوری پر جاری کیے جائیں گے اور فنڈز کے بروقت اجرا سے ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد یقینی ہو گا۔ محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے خطیر رقم کا اجراء صوبے کے مالی استحکام کا واضح ثبوت ہے اور بندوبستی اضلاع کے منصوبوں کے لیے 61 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں جبکہ ضم اضلاع کے لیے تیز رفتار ترقیاتی پروگرام کے تحت 11 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔ محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کے مطابق ضم اضلاع کی اے ڈی پی کے تحت 7.9 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں اور بندوبستی اضلاع سڑکوں کے لیے 12ارب، آبپاشی کے لیے 5.8 ارب،شہری ترقی کے لیے 8.8 ارب، لوکل گورنمنٹ کے لیے 2 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں اسی طرح ابنوشی کے لیے 3 ارب، ابتدائی و ثانوی تعلیم کے لیے 1.9 ارب، صحت کے لیے 4.5 ارب روپے، اعلیٰ تعلیم کے لیے 1.7 ارب روپے، امن و امان کے لیے 1.7 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔ محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا بیان کے مطابق ضم اضلاع کی اے آئی پی کے تحت جاری منصوبوں کے لیے سڑکوں کے شعبے میں 2.3 ارب، صحت کے لیے 1.2 ارب، ابتدائی و ثانوی تعلیم کے لیے 1 ارب جاری کیے گئے ہیں اسی طرح امن و امان کے لیے 1.6 ارب جبکہ ابنوشی کے لیے 705 ملین روپے جاری کیے گئے ہیں۔ ضم اضلاع اے ڈی پی کے تحت سڑکوں کے لیے 1.5 ارب روپے، آبپاشی کے لیے 46 کروڑ جاری کیے گئے ہیں جبکہ ضم اضلاع اے ڈی پی میں امن وامان کے لیے 1.3 ارب، ابنوشی کے لیے 33 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
وزیرِ مال خیبر پختونخوا طارق محمود آریانی کی زیرِ صدارت محکمہ ریونیو میں اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن اور ترقیاتی منصوبوں پر اجلاس۔
وزیرِ ریونیو خیبر پختونخوا طارق محمود آریانی کی زیرِ صدارت محکمہ ریونیو میں جاری اصلاحات، سالانہ ترقیاتی پروگراکے منصوبوں اور جاری ترقیاتی سکیموں کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ ریونیو کی کارکردگی، اصلاحاتی اقدامات اور مستقبل کی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ، لینڈ ریونیو منصوبوں کے پراجیکٹ ڈائریکٹرز، رکن قومی اسمبلی عاطف خان، رکن قومی اسمبلی ارباب شیر علی اور ٹیکنیکل ایکسپرٹ سعید نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران محکمہ ریونیو کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت جاری اور مجوزہ منصوبوں پر تفصیلی پریزنٹیشن دی گئی۔ شرکاء کو منصوبوں کی پیش رفت، اہداف اور درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا گیا، جبکہ ان کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں۔اجلاس میں محکمہ ریونیو کی ڈیجیٹلائزیشن کو اصلاحاتی عمل کا مرکزی ستون قرار دیا گیا۔ اس موقع پر زمینوں کے ریکارڈ کو جدید خطوط پر استوار کرنے، عوام کو شفاف، تیز رفتار اور آسان خدمات کی فراہمی، لینڈ ریکارڈ کے مکمل ڈیجیٹل نظام، اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے ذریعے ریونیو کے نظام کو مزید مؤثر اور عوام دوست بنانے پر تفصیلی غور کیا گیا۔وزیرِ ریونیو طارق محمود آریانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ ریونیو میں جدید اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام جاری منصوبوں کو مقررہ مدت اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو جدید، شفاف اور مؤثر ریونیو خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ریونیو نظام کی ڈیجیٹل تبدیلی نہ صرف سرکاری امور میں شفافیت اور استعداد کار میں اضافہ کرے گی بلکہ عوام کو سہولت فراہم کرنے، بدعنوانی کے امکانات کم کرنے اور خدمات کی بروقت فراہمی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسین مہم سے متعلق اے سی ایس ایم ذیلی کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد
خیبرپختونخوا میں سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسین مہم کے سلسلے میں ایڈووکیسی، کمیونیکیشن اینڈ سوشل موبلائزیشن ذیلی کمیٹی کا ایک اہم اجلاس ایڈیشنل سیکرٹری صحت و صوبائی کوآرڈینیٹر ایمرجنسی آپریشنز سینٹرکی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں آئندہ سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسین مہم کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور مہم کی کامیاب تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے آگاہی، ابلاغ، سماجی رابطوں اور کمیونٹی کی شمولیت سے متعلق مختلف حکمت عملیوں پر غور کیا گیا۔اجلاس کے دوران چیئرمین نے اس بات پر زور دیا کہ مہم کا ہدف 9 سے 14 سال کی عمر کی تمام بچیاں ہیں، خواہ وہ سکولوں میں زیر تعلیم ہوں، مدارس میں پڑھتی ہوں یا سکول سے باہر ہوں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ آگاہی، ابلاغ اور سماجی رابطوں کی تمام سرگرمیوں میں ان تینوں طبقات کو مکمل طور پر شامل کیا جائے تاکہ مہم کی رسائی زیادہ سے زیادہ بچیوں تک یقینی بنائی جا سکے۔اجلاس میں معلومات، تعلیم اور آگاہی سے متعلق نظرثانی شدہ مواد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اصولی طور پر اس کی توثیق کی گئی۔ فیصلہ کیا گیا کہ اجلاس کے دوران پیش کی جانے والی سفارشات اور متفقہ ترامیم کو شامل کرنے کے بعد حتمی مواد تیار کیا جائے گا۔کمیٹی نے ویکسین سے انکار کے تدارک کے مجوزہ فریم ورک پر بھی غور کیا، جس میں کم، درمیانے اور زیادہ خطرے کی درجہ بندی شامل تھی۔ فریم ورک کی اصولی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی گئی کہ ہر درجہ بندی کے تحت ردعمل کے لیے مقررہ مدت کو مزید مختصر کیا جائے تاکہ بروقت اور مؤثر اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔اجلاس میں متحدہ علماء بورڈ سے روابط کے مجوزہ لائحہ عمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ابتدائی مشاورت بورڈ کے مرکزی اراکین سے کی جائے گی، جس کے بعد تمام مکاتبِ فکر کے علماء پر مشتمل ایک وسیع اجلاس منعقد کیا جائے گا تاکہ سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسین مہم کے لیے بھرپور تعاون اور حمایت حاصل کی جا سکے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ضلعی ایکشن پلان کے ایڈووکیسی، کمیونیکیشن اینڈ سوشل موبلائزیشن کے حصے کا دوبارہ جائزہ لے کر اسے سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسین مہم کے لیے منعقد ہونے والے خصوصی سوشل اینڈ بیہیویئر چینج (SBC) اجلاس میں حتمی شکل دی جائے گی۔شرکاء نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ طبی ماہرین میں آگاہی اور استعداد کار کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تدریسی ہسپتالوں میں منعقد ہونے والی کلینیکل پیتھالوجیکل کانفرنسز (CPCs) میں سروائیکل کینسر سے بچاؤ اور اس سے متعلق آگاہی کو باقاعدہ شامل کیا جائے۔اجلاس کے اختتام پر آئندہ اجلاسوں اور سرگرمیوں کے لیے متعدد عملی اقدامات اور ٹائم لائنز طے کی گئیں تاکہ سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسین مہم کے کامیاب انعقاد کو یقینی بنایا جا سکے اور بروقت ویکسینیشن کے ذریعے نوعمر بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ بنایا جا سکے۔
خیبرپختونخوا میں جدید ٹورسٹ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (TMIS) کے قیام کے منصوبے پر اہم اجلاس
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سیاحت، ثقافت، آثارِ قدیمہ و عجائب گھر ملک عدیل اقبال کی زیرِ صدارت ٹورسٹ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (TMIS) کے قیام کے منصوبے سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں منصوبے کے تکنیکی خدوخال، ڈیجیٹل مانیٹرنگ، سیکیورٹی، سیاحوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری کے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ TMIS کے ذریعے سیاحوں کو ایک مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر سیاحتی مقامات، ہوٹلوں، سفری سہولیات، موسمی صورتحال، ٹریفک اپ ڈیٹس، ہنگامی رابطہ نمبرز، شکایات کے اندراج اور آن لائن رہنمائی کی سہولت میسر ہوگی۔اجلاس میں گلیات کے مختلف سیاحتی مقامات پر سولر پاورڈ اسمارٹ سرویلنس کیمرے نصب کرنے اور سیاحتی مقامات پر مفت وائی فائی کی فراہمی کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ بتایا گیا کہ ان اقدامات سے سیکیورٹی، ٹریفک مینجمنٹ اور سیاحوں کو ڈیجیٹل معلومات کی فراہمی مزید مؤثر بنائی جا سکے گی ملک عدیل اقبال نے ہدایت کی کہ TMIS کو ٹورازم پولیس 1422، ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل طور پر مربوط کیا جائے تاکہ ہنگامی حالات میں سیاحوں کو فوری مدد اور بروقت رہنمائی فراہم کی جا سکے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ٹورازم پولیس کو جدید وائرلیس کمیونیکیشن سسٹم فراہم کر دیا گیا ہے، جس سے فیلڈ اہلکاروں کے درمیان رابطہ مزید تیز اور مؤثر ہوگا۔معاونِ خصوصی نے مزید ہدایت کی کہ ٹورازم پولیس کے فیلڈ اہلکاروں کو باڈی کیمز فراہم کیے جائیں تاکہ شفافیت، جوابدہی اور سروس ڈلیوری کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ معاونِ خصوصی ملک عدیل اقبال نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے وژن اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایات کے مطابق صوبے میں سمارٹ ٹورازم کے فروغ کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس سے خیبرپختونخوا میں محفوظ، منظم اور عالمی معیار کا سیاحتی ماحول قائم ہوگا۔
مردان، پشاور، ڈی آئی خان اور چارسدہ میں کریک ڈاؤن، فارملین، پانی اور کیمیکلز کی ملاوٹ پر 6 ہزار لیٹر سے زائد دودھ تلف، 3500 لیٹر جعلی کولڈ ڈرنکس ضبط
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان کی خصوصی ہدایات پر خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے صوبہ بھر میں ملاوٹ مافیا کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ہزاروں لیٹر ملاوٹی دودھ، جعلی کولڈ ڈرنکس اور غیر معیاری آئس کریم ضبط کرکے تلف کر دی، جبکہ متعدد ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی بھی شروع کر دی گئی۔ترجمان فوڈ اتھارٹی نے بڑی کاروائیوں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ مردان، پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان اور چارسدہ میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کے ذریعے موقع پر دودھ، مشروبات اور دیگر اشیائے خورونوش کے نمونوں کی جانچ کی۔ مردان فوڈ سیفٹی ٹیم نے رشکئی انٹرچینج اور دیگر داخلی راستوں پر ناکہ بندیوں کے دوران دودھ بردار گاڑیوں اور دودھ کی دکانوں کی سخت چیکنگ کی۔مردان میں ایک دودھ بردار ٹینکر کے دودھ میں فارملین کی خطرناک ملاوٹ ثابت ہونے پر 5 ہزار لیٹر ملاوٹی دودھ موقع پر تلف کر دیا گیا اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔ اسی طرح موٹروے رشکئی انٹرچینج پر کارروائی کے دوران 3500 لیٹر سے زائد جعلی کولڈ ڈرنکس ضبط کر لی گئیں۔پشاور میں علی الصبح فوڈ سیفٹی ٹیموں نے مشترکہ ناکہ بندی کے دوران دودھ میں پاؤڈر کی ملاوٹ ثابت ہونے پر 200 لیٹر سے زائد ملاوٹی دودھ تلف کیا گیا، جبکہ غیر معیاری آئس کریم کے 6 نمونے فیل ہونے پر 60 کلوگرام آئس کریم بھی ضبط کرکے تلف کر دی گئی۔تفصیلات کیمطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں بھکر پل کے مقام پر ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ مشترکہ ناکہ بندی کے دوران ایک دودھ بردار گاڑی کے دودھ میں پانی اور کیمیکلز کی ملاوٹ ثابت ہونے پر 800 لیٹر ملاوٹی دودھ تلف کر دیا گیا۔اسی طرح چارسدہ میں فوڈ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کی مشترکہ کارروائی کے دوران دودھ، جوسز اور چائے کے نمونوں کی موقع پر جانچ کی گئی۔ دودھ کے نمونوں میں پانی کی ملاوٹ ثابت ہونے پر 70 لیٹر ملاوٹی دودھ تلف کرتے ہوئے ذمہ دار افراد پر جرمانے بھی عائد کیے گئے۔معاون خصوصی ڈاکٹر محمد اسرار خان نے کامیاب کاروائیوں پر فوڈ سیفٹی ٹیموں کو سراہا اور کہا کہ فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت ملاوٹ مافیا کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور شہریوں کی صحت سے کھیلنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی حکومت خیبرپختونخوا کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
کابینہ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس، سرکاری جامعات کی اراضی کے حصول سے متعلق ڈکریٹل واجبات کی ادائیگی کا جامع پلان طلب
خیبرپختونخوا کے وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیرِ صدارت کابینہ کی تشکیل کردہ قائمہ کمیٹی کا اہم اجلاس بدھ کے روز محکمہ اعلیٰ تعلیم کے کمیٹی روم، پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مردان میں واقع مختلف سرکاری جامعات اور تعلیمی اداروں کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے ڈکریٹل واجبات اور ان کی بروقت ادائیگی سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں کابینہ اراکین مینا خان آفریدی، فضل شکور خان، مزمل اسلم، رکن صوبائی اسمبلی ظاہر شاہ طورو، سیکرٹری محکمہ اعلیٰ تعلیم ڈاکٹر عنبر علی خان، ایم ڈی پی کے ایچ اے عثمان غنی، ڈسٹرکٹ اٹارنی مردان، انعام یوسفزئی (اے اے جی)، محمد سلیم، اعجاز الحسن (اے ایس ری/ڈیپ/آئی بی)، شاہد اصغر (اے ڈی جی/ڈی ایس ایل اے)، قیصر عالم (سالیسٹر، محکمہ قانون)، ظہور رحمان (سینئر سی پی او، محکمہ زراعت)، حسن خان (رجسٹرار، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان)، پروفیسر ڈاکٹر جواد احمد (ڈین، بی کے ایم سی مردان)، پروفیسر ڈاکٹر محمد عثمان اور پروفیسر ڈاکٹر صدیق الجن (یو ای ٹی مردان)، ڈاکٹر عبدالسلام (رجسٹرار، زرعی یونیورسٹی پشاور)، پروفیسر سرزمین خان، پروفیسر ڈاکٹر گلزار (وائس چانسلر، ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز یونیورسٹی) سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان، زرعی یونیورسٹی پشاور، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) مردان، باچا خان میڈیکل کالج مردان اور امیر محمد خان کیمپس مردان کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے ڈکریٹل واجبات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ تمام واجبات کی ادائیگی شفاف، قانونی تقاضوں کے مطابق اور جامع مالی منصوبہ بندی کے تحت یقینی بنائی جائے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ صوبائی حکومت عدالتی فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد، سرکاری اداروں کے مالی مفادات کے تحفظ اور اراضی مالکان کے جائز حقوق کی بروقت ادائیگی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے کے ذریعے درست اعداد و شمار اور قابلِ عمل مالی حکمت عملی مرتب کریں تاکہ مستقبل میں قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔کمیٹی کے چیئرمین نے ڈپٹی کمشنر آفس مردان کو، جو اس معاملے میں کولیٹر کی حیثیت رکھتا ہے، ہدایت جاری کی کہ آئندہ اجلاس کے لیے ایک جامع پریزنٹیشن تیار کی جائے۔ پریزنٹیشن میں اصل واجب الادا رقم (Principal Amount) کے ساتھ 2 فیصد، 3 فیصد اور 4 فیصد مارک اپ کی بنیاد پر چار، پانچ اور چھ سالہ ادائیگی کے مختلف شیڈولز پیش کیے جائیں تاکہ مالی بوجھ اور ادائیگی کے ممکنہ طریقہ کار کا تقابلی جائزہ لیا جا سکے۔مزید برآں کمیٹی نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں مجموعی طور پر واجب الادا اراضی کا رقبہ، اراضی مالکان کی کل تعداد، اب تک کی جانے والی ادائیگیوں کی مکمل تفصیلات، بقایا واجبات کی مالیت، مجموعی مالی تخمینہ اور باقی ماندہ ادائیگیوں کا جامع ریکارڈ بھی پیش کیا جائے تاکہ حقائق پر مبنی فیصلہ سازی ممکن ہو۔وزیر قانون آفتاب عالم نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت عوامی وسائل کے مؤثر استعمال، قانونی ذمہ داریوں کی بروقت تکمیل اور ترقیاتی منصوبوں کو درپیش مالی و قانونی رکاوٹوں کے مستقل حل کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔
وزیراعلیٰ کی ہدایت پر سیاحتی مقامات پر حفاظتی اقدامات مزید سخت، تمام اضلاع سے تین روز میں رپورٹ طلب
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایت پر صوبائی حکومت نے سیاحتی مقامات پر آنے والے سیاحوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے اور ان کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے اقدامات مزید تیز کر دیے ہیں۔ اس سلسلے میں تمام ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں. دریاؤں، ندی نالوں اور دیگر آبی مقامات پر حفاظتی انتظامات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے سیاحتی سیزن کے پیش نظر تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ حکومتی احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔ اس سے متعلق ایک اجلاس میں عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا جس کی صدارت چیف سیکٹری خیبرپختونخوا نے کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ حفاظتی اقدامات کے تحت آبی مقامات کے قریب لائف جیکٹس کی دستیابی، مسافر کشتیوں کی جانچ، حساس مقامات پر دفعہ 144 کے نفاذ، ریڈ فلیگ سسٹم، موسم سے متعلق پیشگی اطلاعات کے نظام اور عوامی آگاہی مہم پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ریسکیو کشتیاں، غوطہ خوروں (ڈائیورز) اور دیگر ضروری امدادی آلات کی فراہمی بھی یقینی بنائی گئی ہے۔حکام کے مطابق گزشتہ چند دنوں کے دوران صوبے کے 99 آبی اور سیاحتی مقامات پر تقریباً 10 لاکھ سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی۔ بڑھتی ہوئی سیاحوں کی تعداد کے پیش نظر صوبائی حکومت نے تمام اہم آبی مقامات کی خصوصی میپنگ بھی مکمل کر لی ہے تاکہ وہاں مؤثر حفاظتی انتظامات برقرار رکھے جا سکیں۔اجلاس میں تمام اضلاع کو ہدایت کی گئی ہے کہ آئندہ تین روز کے اندر حکومتی احکامات پر عملدرآمد کی تفصیلی رپورٹ چیف سیکرٹری آفس کو ارسال کی جائے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیاحتی سیزن کے دوران نگرانی اور حفاظتی اقدامات کا یہ سلسلہ مسلسل جاری رکھا جائے گا۔دریں اثنا صوبے بھر میں مسافر کشتیوں کی پروفائلنگ بھی کی جا رہی ہے، جبکہ ان کشتیوں میں لائف جیکٹس اور دیگر ضروری حفاظتی سامان کی فراہمی کی ہدایت کی گء ہے تاکہ سیاح محفوظ ماحول میں سیاحت سے لطف اندوز ہو سکیں۔
