In compliance with the directives from the Peshawar High Court, a high-level meeting chaired by the Commissioner Kohat Division Syed Motasim Billah Shah decided to implement stringent safety and traffic management measures along the Indus Highway to prevent accidents and ensure public safety.
The meeting, held at the Commissioner’s office Kohat, brought together Regional Police Officer Kohat Abbas Majeed Marwat and officials from the National Highway Authority (NHA), NESPAK, the Provincial Transport Authority and commissioners, RPOs, and deputy commissioners from Peshawar, Bannu, and Dera Ismail Khan Divisions via video link.
The participants reviewed progress on the court’s directives and finalized a coordinated action plan. The court has appointed Commissioner Kohat as the focal person to oversee traffic regulation, load management and regular progress reporting to the judiciary.
It was decided that the police will fully cooperate with the Commissioners office in enforcing traffic laws, patrolling and regulatory control. The NHA will immediately install weigh stations at all entry points of the Indus Highway to prevent overloaded vehicles from entering.
Overloaded vehicles will face heavy fines, unloading requirements and cancellation of route permits and driving licenses. The meeting also recommended the immediate deployment of Motorway Police and directed drivers to strictly avoid driving in the wrong direction. Furthermore, the NHA was directed to accelerate the repair and maintenance work to improve the road’s condition and reduce accident risks.
Commissioner Shah reaffirmed that ensuring safe travel and protecting lives and property on the Indus Highway is the administration’s top priority. “Implementation of the High Court’s directives is a government commitment and all relevant institutions will work in close coordination,” he concluded.
TOUGH ROAD SAFETY PUSH—TOP OFFICIALS VOW TO ENFORCE STRICT MEASURES ON INDUS HIGHWAY
کمراٹ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی بورڈ کا اجلاس
کمراٹ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے بورڈ کا اہم اجلاس محکمہ سیاحت، ثقافت و آثارِ قدیمہ و عجائب گھر خیبرپختونخوا کے دفتر میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت سیکرٹری محکمہ سیاحت یبر پختونخوا ڈاکٹر عبدالصمد نے کی۔ اجلاس میں چیئرمین بورڈ نصر اللہ خان، ڈائریکٹر کمراٹ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی زمین خان، ممبر قومی اسمبلی صاحب زادہ صبغت اللہ اور مقامی رکنِ صوبائی اسمبلی ملک گل ابرہیم خان نے شرکت کی۔اجلاس میں ڈائریکٹر کمراٹ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے اتھارٹی کی اب تک کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اتھارٹی کو درپیش انتظامی و تکنیکی مسائل کے حل کے لیے عملے کی بھرتی، دفتر کے قیام کے لیے موزوں جگہ کی نشاندہی، اور حالیہ سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے اقدامات زیرِ غور ہیں۔سیکرٹری ڈاکٹر عبدالصمد نے ہدایت جاری کی کہ کمراٹ اور اس کے گردونواح میں نئے ہوٹلوں اور سیاحتی ڈھانچے کی تعمیر صرف منظورشدہ بلڈنگ کوڈ کے مطابق ہی کی جائے تاکہ علاقے کے قدرتی حسن اور ماحولیاتی توازن کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو دفتر کے قیام کے لیے موزوں جگہ کی جلد نشاندہی اور ضروری عملے کی بھرتی کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت دی۔اجلاس میں اتھارٹی کے لیے ضروری سازوسامان اور گاڑیوں کی فراہمی سے متعلق سفارشات بھی پیش کی گئیں۔ اس موقع پر سیکرٹری ڈاکٹر عبدالصمد نے یقین دہانی کرائی کہ محکمہ سیاحت کمراٹ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کو درکار وسائل اور تکنیکی معاونت کی فراہمی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا تاکہ کمراٹ کو ایک ماڈرن، پائیدار اور ماحول دوست سیاحتی مقام کے طور پر ترقی دی جا سکے۔مزید برآں، اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کے وژن کے مطابق صوبے میں سیاحت کے شعبے کو پائیدار ترقی، مقامی روزگار کے مواقع اور بین الاقوامی معیار کی سہولیات کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے گا۔ کمراٹ سمیت تمام سیاحتی مقامات کو عالمی سطح پر متعارف کرانے، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، ماحولیاتی تحفظ اور کمیونٹی بیسڈ ٹورازم کے فروغ کے لیے جامع حکمتِ عملی پر عمل جاری ہے۔
طلبہ معلومات تک رسائی کے قانون کو اپنا مستقل ساتھی بنائیں
طلبہ معلومات تک رسائی کے قانون کو اپنا مستقل ساتھی بنائیں۔ یہ قانون سرکاری امور خاص کر تعلیمی اداروں میں میرٹ کو یقینی بناتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر کمیونیکیشن سید سعادت جہان نے انسٹیٹیوٹ آف منیجمنٹ سائنز پشاور کے سکول آف بزنس ایڈمنسٹریشن میں طلبہ کو آر ٹی آئی پر سیشن دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹڑ وصیف جمال، ڈاکٹر شبانہ گل اور خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن کے ایڈمنسٹریٹیو آفیسر نور سید بھی موجود تھے۔سیشن میں سید سعادت جہان نے طلبہ کو معلومات تک رسائی کے قانون اور اس کے تحت خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن کے کردار اور ذمہ داریوں پر تفصیلی لیکچر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے استعمال سے طلبہ نہ صرف تعلیمی اداروں میں سکالرشپ اور دیگر مواقع کی شفافیت کو یقینی بناسکتے ہیں بلکہ مستقبل میں سرکاری اداروں میں بھرتی کے عمل میں اپنی میرٹ کا دفاع کرسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ اپنے ریسرچز کیلئے اس قانون کا استعمال کرکے سرکاری اداروں سے مستند ڈیٹا حاصل کرسکتے ہیں۔ اس موقع پر طلبہ کے سوالات کے جواب میں خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن کے ایڈمنسٹریٹیو آفیسر نے کہا کہ آر ٹی آئی کے تحت فراہم کردہ معلومات صحیح اور تصدیق شدہ ہوتی ہیں۔ غلط معلومات کی صورت میں کمیشن کو ذمہ دار افسران کے خلاف قانونی کاروائی کرنے اور جرمانہ لگانے کا اختیار حاصل ہے۔ پروگرام کے اختتام پر پروفیسر ڈاکٹر وصیف جمال نے انفارمیشن کمیشن کا شکریہ ادا کیا اور آر ٹی آئی سے متعلق آگاہی میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
مردان میں ماڈل گوشت کی دکانوں کو جدید آلات فراہم کرنے کی تقریب
صاف اور محفوظ گوشت کی فراہمی عوامی صحت کے تحفظ اور مقامی منڈیوں میں صارفین کے اعتماد کو فروغ دینے کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں جہاں مویشی بانی کا شعبہ دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، وہاں گوشت کی صفائی اور معیار کو بہتر بنانے کے اقدامات پائیدار غذائی تحفظ اور معاشی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔اسی مقصد کے تحت محکمہ لائیو اسٹاک خیبر پختونخوا کی جانب سے بدھ کے روز مردان میں “کمیونٹی ڈیری اینڈ میٹ ڈویلپمنٹ ان خیبر پختونخوا” منصوبے کے تحت گوشت کے ماڈل دکانوں کو جدید آلات فراہم کرنے کی ایک تقریب منعقد کی گئی۔ اس منصوبے کا مقصد مقامی گوشت کی دکانوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا، صفائی کے معیارات کو فروغ دینا اور صوبے میں گوشت کی فراہمی کے نظام کو پائیدار بنیادوں پر مضبوط بنانا ہے۔یہ تقریب ڈسٹرکٹ لائیو اسٹاک آفس مردان میں منعقد ہوئی جس میں سید فہد افتخار، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (فنانس اینڈ پلاننگ) مردان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد اقبال، ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر لائیو اسٹاک مردان، ڈویژنل ڈائریکٹر، سینیئر ویٹرنری افسران، ویٹرنری افسران اور لائیو اسٹاک پروڈکشن افسران بھی موجود تھے۔اپنے خطاب میں سید فہد افتخار نے محکمہ لائیو اسٹاک کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ گوشت کے شعبے کی بہتری اور صارفین کو صاف ستھرا اور محفوظ گوشت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام صوبائی حکومت کے اس وژن کا حصہ ہے جس کا مقصد فوڈ سیفٹی کے عالمی معیارات کو فروغ دینا، لائیو اسٹاک مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانا اور مقامی مارکیٹ میں مسابقت کو بڑھانا ہے۔انہوں نے کہا، “حکومت مقامی کاروباری طبقے کو تکنیکی اور انفراسٹرکچرل سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ جدید آلات کی فراہمی قصابوں کے لیے بہتر کام کے حالات پیدا کرے گی، صفائی کے اصولوں پر عمل درآمد میں مدد دے گی اور عوامی صحت کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔”ڈاکٹر محمد اقبال، ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر لائیو اسٹاک مردان، نے کہا کہ کمیونٹی ڈیری اینڈ میٹ ڈویلپمنٹ پروجیکٹ دودھ اور گوشت دونوں شعبوں میں نمایاں ترقی کے لیے سنگِ میل ثابت ہو رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ماڈل فارم، جدید ذبح خانے اور تربیتی پروگرام متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ مقامی کاروباری طبقہ جدید سائنسی طریقے اختیار کر سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ گوشت کی ماڈل دکانیں دیگر دکانداروں کے لیے ایک مثال قائم کریں گی تاکہ وہ بھی گوشت کی تیاری، ذخیرہ کرنے اور فروخت کے جدید اور محفوظ طریقے اپنائیں۔ “ہمارا مقصد یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کا ہر شہری صاف، محفوظ اور اعلیٰ معیار کا گوشت حاصل کر سکے،” تقریب میں شریک افسران نے اس بات پر زور دیا کہ اس نوعیت کے اقدامات نہ صرف صارفین کے مفاد میں ہیں بلکہ گوشت فروشوں کی آمدنی میں اضافے اور ان کی مارکیٹ میں ساکھ کو مضبوط بنانے کا باعث بھی بنیں گے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ محکمہ لائیو اسٹاک آئندہ مہینوں میں دیگر اضلاع میں بھی ایسے منصوبے شروع کرے گا۔تقریب کے اختتام پر منتخب دکانداروں میں گوشت کی تیاری اور ہینڈلنگ کے جدید آلات تقسیم کیے گئے۔ دکانداروں نے حکومت اور محکمہ لائیو اسٹاک کی کاوشوں کو سراہا اور معیار کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
سپیکر صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا بابر سلیم سے ڈائریکٹر جنرل نیب خیبر پختونخوا نے منگل کے روز سپیکر چیمبر میں ملاقات کی
سپیکر صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا بابر سلیم سے ڈائریکٹر جنرل نیب خیبر پختونخوا نے منگل کے روز سپیکر چیمبر میں ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران ڈائریکٹر جنرل نیب نے سپیکر کو آگاہ کیا کہ تمام کارروائیاں قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے تحت شفاف انداز میں جاری ہیں۔ بتایا گیا کہ تمام نوٹسز سپیکر آفس میں قائم اکاؤنٹیبلٹی فسیلیٹیشن سیل (AFC) کے ذریعے باضابطہ طور پر جاری کیے گئے ہیں اور نیب و اسمبلی کے مابین تمام خط و کتابت منظور شدہ ایس او پیز کے مطابق کی جا رہی ہے۔
سپیکر کو مزید بتایا گیا کہ ڈاکٹر امجد علی، ایم پی اے، کو جاری تمام نوٹسز اے ایف سی کے ذریعے پہنچائے گئے ہیں اور مقررہ قانونی طریقہ کار سے کوئی انحراف نہیں کیا گیا۔ اسی طرح ڈاکٹر امجد علی کی جانب سے نیب کو جمع کرائے گئے تمام دستاویزات بھی اے ایف سی کے ذریعے ارسال کیے گئے، جب کہ آئندہ کی تمام خط و کتابت بھی اسی چینل کے ذریعے انجام دی جائیں گی۔
سپیکر نے اے ایف سی کو ہدایت کی کہ نیب کے ساتھ قریبی اور بروقت رابطہ برقرار رکھا جائے اور تمام امور کو طے شدہ ایس او پیز کے مطابق آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صوبائی اسمبلی کے ارکان کے حقوق اور مراعات کو قانون کے مطابق مکمل طور پر تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ڈائریکٹر جنرل نیب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام امور میں شفافیت، میرٹ اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے گا اور کسی رکن یا شہری کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔ انہوں نے اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ بھی سپیکر کو پیش کی۔ملاقات مثبت ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔
سیکریٹری محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان خیبر پختونخوا اور ڈائریکٹرامورِ نوجوانان کی خصوصی ہدایات پر صوبے کے نوجوانوں کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے ”جوان مرکز” (یوتھ سینٹرز) اور یوتھ ہوسٹلز کے قیام کے لیے عملی کام تیزکر دیا گیا
سیکریٹری محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان خیبر پختونخوا اور ڈائریکٹرامورِ نوجوانان کی خصوصی ہدایات پر صوبے کے نوجوانوں کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے ”جوان مرکز” (یوتھ سینٹرز) اور یوتھ ہوسٹلز کے قیام کے لیے عملی کام تیزکر دیا گیا ہے، جو جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ ان منصوبوں کا مقصد نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں شامل کرنا، ان کی قائدانہ و تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنا، اور انہیں جدید تربیت و رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ترجمان محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان خیبر پختونخوا کے مطابق ان جوان مراکز میں نوجوانوں کو تربیت، رہنمائی، مشاورت، ٹیم ورک اور قیادت کے مزید مواقع فراہم کیے جائیں گے اور ٹیکنالوجی، کاروبار، اسپورٹس، کمیونٹی سروس، اور سماجی ترقی جیسے شعبوں میں تربیتی پروگرامز، ورکشاپس اور سیمینارز منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ نوجوان اپنے مستقبل کے لیے عملی طور پر تیار ہوں۔مزید براں، محکمہ نوجوانان کی جانب سے شفافیت اور عوامی شمولیت کے لیے اسپانسرشپ فارم اور آن لائن شکایتی رجسٹریشن سسٹم بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے نوجوان اور ادارے اپنی تجاویز، شکایات، یا اسپانسرشپ کے لیے درخواستیں آن لائن جمع کرا سکیں گے جن پر بروقت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ سیکریٹری محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان خیبر پختونخوا اور ڈائریکٹرامورِ نوجوانان خیبر پختونخوا کی خصوصی ہدایت پر نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔ جوان مرکز اور یوتھ ہوسٹلز کے قیام سے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار، تربیت اور قیادت کے لیے ایک با مقصد پلیٹ فارم میسر کیا جا رہا ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ یہ منصوبے صوبے کے تمام اضلاع کے نوجوانوں کو یکساں مواقع فراہم کرنے، ان کے مسائل کے حل، اور انہیں قومی ترقی کے عمل میں شمولیت دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔محکمہ نوجوانان کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوان با آسانی اسپانسرشپ فارم جمع کرا سکتے ہیں، شکایات درج کرا سکتے ہیں، اور رجسٹریشن کے عمل سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
واپڈا ہائیڈرو سوسائٹی کوہاٹ نے آفریدی چیمپئن لیگ فٹبال ٹورنامنٹ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا
آفریدی چیمپئن لیگ فٹبال ٹورنامنٹ کے پانچویں سیشن کا فائنل سپاہ منڈی کس گراونڈ باڑہ میں نہایت پروقار انداز میں منعقد ہوا، تقریب کے مہمانِ خصوصی ایڈیشنل سیکرٹری کھیل و امورِ نوجوانان، خیبر پختونخوا پیر عبداللہ شاہ تھے، جس میں واپڈا ہائیڈرو سوسائٹی کوہاٹ نے گلیڈی ایٹر کوہاٹ کو ایک گول سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔ فاتح ٹیم کو دو لاکھ روپے جبکہ رنر اپ ٹیم کو ایک لاکھ روپے کیش انعام دیا گیا۔ترجمان محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان، خیبر پختونخوا کے مطابق ٹورنامنٹ میں کل 12 ٹیموں نے حصہ لیا جن میں آٹھ ٹیمیں ضلع خیبر سے جبکہ چار ٹیمیں خیبر پختونخوا، پنجاب اور بلوچستان سے شامل تھیں۔ مہمانان میں کمانڈنٹ باڑہ رائفلز کرنل عامر توصیف، اسسٹنٹ کمشنر باڑہ طلحہ رفیق، اور ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر خیبر محمد حسین اورکزئی شامل تھے۔ترجمان نے کہا کہ مہمانانِ خصوصی نے نوجوانوں کی کھیلوں میں دلچسپی کو سراہا اور کہا کہ ایسے ایونٹس علاقے میں امن، ہم آہنگی اور مثبت سرگرمیوں کو فروغ دیتے ہیں۔ لیگ کا مقصد نوجوانوں کو صحت مند تفریح فراہم کرنا اور ان کے ٹیلنٹ کو اجاگر کرنا ہے تاکہ وہ ملکی و بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں۔ اس موقع پر مہمانِ خصوصی پیر عبداللہ شاہ نے ایونٹ کے کامیاب انعقاد پر ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر محمد حسین اورکزئی، آرگنائزر جاوید آفریدی اور اسماعیل آفریدی کی کاوشوں کو سراہاتے ہوئے کہا کہ محکمہ کھیل ضلع خیبر کی کوششوں سے نہ صرف کھلاڑیوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھا جا رہا ہے بلکہ ہزاروں تماشائیوں کے لیے تفریح کے مواقع بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔
یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر پشاور میں ایک بڑی ریلی کا انعقاد
مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے اور کشمیری عوام پر جاری مظالم کے خلاف ملک بھر کی طرح پشاور میں بھی 27 اکتوبر کو یومِ سیاہ پورے جوش و جذبے کے طور پر منایا گیا۔ اس موقع پر حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے پشاور میں ایک عظیم الشان ریلی کا اہتمام کیا گیا، جس میں صوبے کی اعلیٰ قیادت، سرکاری افسران، آل پاکستان حریت کانفرنس کے رہنما ئوں، میڈیا برادری اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ریلی کا آغاز سول سیکرٹریٹ پشاوراعظم خان بلاک کے سامنے سے ہوا جہاں تمام انتظامی سیکرٹریز، افسران اور اہلکار جمع ہوئے۔ یہ ریلی وزیرِاعلیٰ سیکرٹریٹ سے ہوتی ہوئی گورنر ہاؤس کے سامنے پہنچی جہاںتمام شرکائ نے کشمیری شہدائ کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کے بعد کشمیری عوام کی جدوجہد کو سراہتے ان کے حق میں نعرے لگائے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیر برائے سماجی بہبود قاسم علی شاہ ، ڈپٹی کمشنر پشاور کیپٹن (ر) ثنا ئ اللہ خان، آل پاکستان حریت کانفرنس کے رہنما اور دیگر معزز شخصیات نے کہا کہ کشمیری عوام کی جدو جہد آزادی کے لئے دی گئی قربانیاں رئیگاں نہیں جائےں گی، کشمیر ضرور آزاد ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے بلکہ امن کے خواہاں ہیں۔ اقوامِ متحدہ کو چا ہئے کہ وہ بھارتی مظالم بندکراتے ہوئے کشمیری عوام کو ان کا حق دلانے میں اپنے وعدے پورے کرے ۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم رکوانے اور کشمیری عوام کو حقِ خود ارادیت دلانے کے لیے ا پنا کردار ادا کرے۔ یومِ سیاہ کے حوالے سے صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی ریلیاں، سیمینارز اور تقریبات کا انعقاد ہوا جن میں کشمیری عوام سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور ملک کے سلامتی و ترقی کے لئے دعائیں کی گئیں۔
صوبے میں اشیائے خورونوش کی دستیابی یقینی بنا ئی جائے اور ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کاروائیاں جاری ر کھی جائیں۔چیف سیکرٹری
صوبے میں عوامی مسائل کے حل اور عوامی خدمات کی فراہمی میں مزید بہتری کے لیے شکایات اب سوشل میڈیا پلیٹ فارم X کے ذریعے بھی وصول کی جارہی ہیں ۔ شہری اپنی شکایات کے لیے @CSKPOfficial کو ٹیگ کر سکتے ہیں۔چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے گورننس امور پر منعقدہ ہفتہ وار اجلاس کا آغاز عوامی شکایات کے ازالے سے کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے تمام ضلعی انتظامیہ اور محکموں سے عوامی مسائل کے حل کو یقینی بنائیں گے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ناجائز تجاوزات کیخلاف آپریشن میں کل 1024 کنال اراضی واگزار ہوئی ہے اور گزشتہ ہفتے میں 200 کنال سرکاری اراضی واگزار کروائی گئی اور ناجائز تجاوزات کیخلاف کاروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔ اسی طرح پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی صوبائی دارلحکومت پشاور کی بیوٹیفکیشن پر کام کررہی ہے، حکومت نجی شعبے کی کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی کے تحت پشاور میں مختلف مقامات پر خوبصورتی اور بحالی کے کاموں کو ممکن بنا رہی ہے۔ پشاور جی ٹی روڈ سمیت رنگ روڈ اور پشاور کے دیگر علاقوں میں صفائی، بحالی اور بیوٹیفکیشن کے اقدامات تیزی سے جاری ہیں۔ 30 نومبر کے بعد کسی بھی آفس میں کاغذ کا استعمال نہیں ہوگا۔ ای آفس سسٹم کے مکمل طور پر نفاذ کیلئے کام تیزی سے جاری ہے ۔ ای آفس کے تحت سمریز اور نوٹس پہلے ہی ڈیجیٹائز کردیئے گئے ہیں۔ چیف سیکرٹری کو گندم، آٹے کی دستیابی اور ٹماٹر سمیت دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پرچیف سیکرٹری نے اشیائے خورونوش کی دستیابی یقینی بنانے اور ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کاروائیاں جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
چترال میں معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے دوسری چترال ایکسپو و اکنامک ڈویلپمنٹ کانفرنس کامیابی سے انعقاد
دوسری چترال ایکسپو اور اکنامک ڈویلپمنٹ کانفرنس 2025” کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی جس کا مقصد خطے میں معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کو اجاگر کرنا اور فروغ دینا تھا۔ دو روزہ کانفرنس کی تقریب لوئر چترال کی ایک مقامی ہوٹل میں 25 اور 26 اکتوبر کو خیبرپختونخوا بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ (KP-BOIT) کے زیر اہتمام، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) اور چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (CCCI) کے باہمی اشتراک سے منعقد ہوئی۔کانفرنس اور نمائش کا مقصد چترال اور خیبرپختونخوا کے شمالی اضلاع میں تجارت و سرمایہ کاری کے امکانات کو اُجاگر کرنا تھا۔ اس موقع پر مختلف سرکاری محکموں، سرمایہ کاروں، کاروباری رہنماؤں، مالیاتی اداروں، ماہرینِ معیشت اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔چترال اور پشاور سے تعلق رکھنے والے نمائش کنندگان نے سیاحت، زراعت، دستکاری، خوراک، معدنیات اور سروسز کے شعبوں سے متعلق مصنوعات کی نمائش کی جس سے ان کے فروغ اور مارکیٹنگ کے لیے مؤثر پلیٹ فارم فراہم ہوا۔اس موقع پر مہمانِ خصوصی ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم عظیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چترال قدرتی وسائل سے مالامال ہے اور سیاحت، توانائی، معدنیات اور زراعت کے شعبوں میں بے پناہ مواقع رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان شعبوں میں سرمایہ کاری سے نہ صرف مقامی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ صوبے کی مجموعی معاشی ترقی میں بھی اضافہ ہوگا۔ڈائریکٹر بزنس فسیلیٹیشن خیبرپختونخوا بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ اقبال سرور نے اپنی پریزنٹیشن میں کہا کہ صوبائی حکومت شمالی اضلاع کی ترقی کے لیے سرمایہ کار دوست پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چترال اکنامک ڈویلپمنٹ کانفرنس سرمایہ کاروں کو خطے کی معاشی استعداد سے روشناس کرانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔صدر چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری محبوب اعظم نے اپنےخطاب میں چترال کی معاشی ترقی کے فروغ کے لیے صوبائی حکومت کی کوششوں کو سراہا۔دیگر کاروباری تنظیموں کے نمائندوں نے بھی کے پی بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کی اس کاوش کو سراہا کہ اس نے مختلف شعبوں کے اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا تاکہ تجربات کا تبادلہ اور کاروباری روابط کو مضبوط بنایا جا سکے۔
