Home Blog Page 58

Wheat crisis deepens for the third time in four years under Shehbaz Sharif Govt; KP Finance Adviser Muzzammil Aslam

Adviser to the KP Chief Minister on Finance Muzzammil Aslam has reacted to the ongoing wheat crisis and soaring wheat prices in the country, stating that this is the third major wheat crisis during the four years of the Shehbaz Sharif government, and that a significant part of the responsibility lies with the Punjab government’s flawed policies. He expressed these views in a statement issued from his office yesterday. Muzzammil Aslam said that public attention is being diverted from the wheat crisis by focusing on the petroleum levy. He noted that Pakistan is currently witnessing the highest wheat and flour prices in its history, despite the fact that only three months have passed since the wheat harvesting season. The KP Finance Adviser said that wheat is currently available from Karachi to Peshawar at around Rs. 11,600 per 100 kilograms, while in the retail market wheat is being sold at Rs. 115 per kilogram and flour at Rs. 130 to Rs. 150 per kilogram. He pointed out that in 2022, flour was available at Rs. 65 to Rs. 70 per kilogram. He added that despite wheat prices nearly doubling, farmers have become financially distressed and are facing bankruptcy. According to him, the increase in wheat prices is mainly due to the high costs of electricity, fertilizers, and diesel. Muzzammil Aslam further said that Pakistan is now being classified among food-insecure countries. He alleged that under the current critical circumstances, Punjab has continued an undeclared restriction on the supply of wheat and flour to Khyber Pakhtunkhwa. He also claimed that when efforts were made to transport wheat from Sindh through Balochistan, obstacles were created to prevent its movement.
He stated that Chief Minister Suhail Afridi, he himself, and the Chief Secretary have repeatedly raised this issue with both the federal government and the Punjab government.
The KP Finance Adviser said that the Khyber Pakhtunkhwa Finance Department has released Rs. 15.6 billion in cash to the Food department for wheat procurement. He added that the supply of 150,000 metric tons of wheat from PASSCO to Khyber Pakhtunkhwa will start shortly, while an additional agreement has also been finalized for the supply of another 50,000 metric tons of wheat from PASSCO.
He explained that Khyber Pakhtunkhwa produces only one-quarter (25%) of its wheat requirement, making the province heavily dependent on Punjab for wheat procurement. Muzzammil Aslam further said that the provincial government’s wheat stocks are expected to exceed 350,000 metric tons, which will fully utilize the storage capacity of the province’s warehouses. He emphasized that these will be the highest wheat reserves in Khyber Pakhtunkhwa’s history, accumulated through the province’s own resources without borrowing.
He also said that KP Chief Secretary Shahab Ali Shah and Secretary Food Shah Mahmood are making efforts to stabilize wheat prices by supplying 70,000 metric tons of wheat to the private sector.
Concluding his statement, Muzzammil Aslam said that Pakistan has not witnessed such a severe wheat crisis within the first three months of the wheat season in the country’s 78-year history.

مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان تاج محمد خان ترند نے تین اہم ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کر دیا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان تاج محمد خان ترند نے آج اپنے ترقیاتی فنڈ سے مکمل ہونے والے تین اہم عوامی منصوبوں کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ افتتاح کیے گئے منصوبوں میں کوزہ بانڈہ–چھتر پلین روڈ، گجبوڑی روڈ اور اجمیرہ پل (نزد تبلیغی مرکز) شامل ہیں، جن کی تکمیل سے مقامی آبادی کو آمدورفت کی بہتر سہولیات میسر آئیں گی اور علاقے کی سماجی و معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
افتتاحی تقریب میں چیئرمین ضلع زکوٰۃ کمیٹی بٹگرام عطاء اللہ خان بانیاں، سابق چیئرمین تحصیل بٹگرام عطاء اللہ خان ترند، خیال محمد خان ترند، مقامی عمائدین، مشران، پارٹی رہنماؤں، کارکنوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تاج محمد خان ترند نے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، معیاری انفراسٹرکچر کی تعمیر اور ضلع بٹگرام کی ہمہ جہت ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مالی سال کے بجٹ میں آر ایچ سی کوزہ بانڈہ کی اپ گریڈیشن کے لیے 50 کروڑ روپے جبکہ یونیورسٹی کیمپس کے لیے زمین کی خریداری کی مد میں 51 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سپورٹس کمپلیکس اور تحصیل سطح کے کرکٹ گراؤنڈ کی تعمیر بھی موجودہ بجٹ کا حصہ ہے، جو ضلع کے نوجوانوں کو کھیلوں کی جدید سہولیات فراہم کرنے اور مثبت سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
مشیر کھیل نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت عوامی خدمت پر یقین رکھتی ہے اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اس عزم کا عملی مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں، پلوں، صحت، تعلیم اور کھیلوں کے شعبوں میں جاری منصوبے عوام کی فلاح و بہبود اور علاقے کی پائیدار ترقی کے لیے سنگِ میل ثابت ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ بعض عناصر ترقیاتی عمل پر بے بنیاد الزامات لگا کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم حکومت کی شفاف کارکردگی اور مکمل ہونے والے منصوبے خود ان الزامات کا بہترین جواب ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی بھی محکمے میں بدعنوانی کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود ہے تو اسے سامنے لایا جائے، حکومت مکمل شفافیت کے ساتھ ہر سطح پر تحقیقات کے لیے تیار ہے۔
تاج محمد خان ترند نے کہا کہ بٹگرام کے عوام نے ہمیشہ ترقی کی سیاست پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور یہی اعتماد ہماری ذمہ داریوں میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع بٹگرام کی تعمیر و ترقی، عوامی فلاح و بہبود اور نوجوانوں کو بہتر مواقع کی فراہمی کے لیے ترقیاتی منصوبوں کا سلسلہ پوری رفتار سے جاری رکھا جائے گا تاکہ بٹگرام کو صوبے کے ترقی یافتہ اضلاع کی صف میں نمایاں مقام دلایا جا سکے۔
تقریب کے اختتام پر مشیر کھیل نے مختلف علاقوں کے عوام سے ملاقاتیں بھی کیں، ان کے مسائل سنے اور متعلقہ حکام کو عوامی مسائل کے فوری اور مؤثر حل کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔

خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کے معیار اور بروقت تکمیل پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، شکیل احمد

خیبر پختونخوا کے وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل احمد نے محکمہ مواصلات و تعمیرات کے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کی ہیں کہ صوبے بھر میں سڑکوں، ہائی ویز، سرکاری عمارتوں اور دیگر عوامی ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر میں اعلیٰ معیار پر ہرگز سمجھوتہ نہ کیا جائے اور جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے مؤثر اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو جلد از جلد ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات میسر آ سکیں۔
انہوں نے یہ ہدایات پشاور میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے میگا پراجیکٹس سے متعلق منعقدہ بریفنگ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔
اجلاس میں ارکانِ قومی اسمبلی ارباب شیر علی اوشاندانہ گلزار، سیکرٹری مواصلات و تعمیرات محمد ضیاء الحق، چیف انجینیئر سینٹر میگا انجینیئر شمشاد علی خان سمیت محکمہ مواصلات و تعمیرات کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران چیف انجینیئر میگاسینٹر انجینیئر شمشاد علی خان نے صوبے میں جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں، مختلف میگا پراجیکٹس، تعمیراتی سرگرمیوں اور محکمے کی مجموعی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر شکیل احمد نے کہا کہ حکومت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل سے نہ صرف عوام کو بہتر سفری اور بنیادی سہولیات میسر آئیں گی بلکہ صوبے کی معاشی و سماجی ترقی کو بھی نئی رفتار ملے گی۔
صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام منصوبوں کی مسلسل نگرانی کی جائے، تعمیراتی معیار کو ہر صورت برقرار رکھا جائے اور مقررہ مدت کے اندر منصوبوں کی تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی وسائل کے شفاف اور مؤثر استعمال کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا سے پولیو اوور سائٹ بورڈ کے اعلیٰ سطحی وفد کی ملاقات

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ سے پولیو اوور سائٹ بورڈ کے اعلیٰ سطحی وفد نے پشاور میں ملاقات کی، جس میں صوبے میں پولیو کے خاتمے اور معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات (روٹین امیونائزیشن) پروگرام کے تحت اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

وفد میں گاوی، دی ویکسین الائنس کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر ثانیہ نشتر، ڈاکٹر کرس الیاس اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔

ملاقات کے دوران چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے کہا کہ حکومت کی فوری ترجیح صوبے میں پولیو وائرس کی منتقلی و پھیلاؤ کا مکمل خاتمہ ہے، جبکہ طویل مدتی مقصد ایسا مضبوط حفاظتی ٹیکہ جات کا نظام قائم کرنا ہے جو صوبے کے ہر بچے تک مؤثر انداز میں پہنچ سکے اور ہر بچے کی صحت خطرات سے محفوظ ہو۔

انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے حکومت خیبر پختونخوا نے امیونائزیشن روڈ میپ پر عمل درآمد شروع کر رکھا ہے، جس کے تحت مارچ 2027 تک مکمل حفاظتی ٹیکہ جات کی شرح 85 فیصد تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روڈ میپ میں حفاظتی ٹیکہ جات کے مراکز کی کارکردگی بہتر بنانے، کمیونٹی سطح پر خدمات کا دائرہ وسیع کرنے اور ڈیٹا کی بنیاد پر مؤثر نگرانی اور جوابدہی کو ترجیح دی گئی ہے۔

اجلاس کو صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کوآرڈینیٹر شفیع اللہ خان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں روٹین امیونائزیشن کے شعبے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق مکمل حفاظتی ٹیکہ جات کی شرح 2022 میں 55 فیصد تھی جو بڑھ کر 2026 میں 71 فیصد ہو چکی ہے۔ اسی طرح حفاظتی ٹیکہ جات کے مراکز کی فعالیت 92 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ ویکسینیشن کی سہولت اب صوبے کی 86 فیصد آبادی تک پہنچ رہی ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے نے روایتی ای پی آئی ایم آئی ایس نظام سے نیشنل الیکٹرانک امیونائزیشن رجسٹری پر کامیاب منتقلی مکمل کر لی ہے۔ اس جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ہر بچے کے حفاظتی ٹیکوں کا ریکارڈ ہمہ وقت محفوظ کیا جا سکتا ہے، رہ جانے والے اور زیرو ڈوز بچوں کی نشاندہی ممکن ہوتی ہے اور بہتر منصوبہ بندی میں مدد ملتی ہے۔

اجلاس میں نومبر 2026 میں شروع ہونے والی انسداد سرویکل کینسر ویکسینیشن کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے اس موقع پر کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا پولیو کے مکمل خاتمے اور معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے اس قومی مقصد کے حصول میں تعاون پر تمام ترقیاتی شراکت داروں کا شکریہ بھی ادا کیا۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان نے کہا ہے کہ عوام کو معیاری سہولیات فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان نے کہا ہے کہ عوام کو معیاری سہولیات فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی ۔ انہوں نے کہا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے جس سے عوام مستفید ہونگے ۔ اس سلسلے میں مشیر جنگلات و ماحولیات کے خصوصی فنڈز سے ان کے خلقے کے گاوں خدو کلے روڈ پر اسفالٹ (بلیک ٹاپنگ) کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے یہ کام تیزی سے جاری ہے، جس کی تکمیل سے عوام کو معیاری، محفوظ اور جدید سفری سہولیات میسر آئیں گی۔ اس منصوبے سے آمدورفت میں آسانی، سفری وقت میں کمی اور علاقے کی سماجی و معاشی ترقی کو مزید فروغ ملے گا۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر پیر مصور خان کی ہدایت پر سابق تحصیل چیئرمین درگئی پیر اسلام غازی نے کام کا معائنہ کیا ، سٹرک کا جائزہ لیا اور کام کے معیار کا بھی معائنہ کیا ہے ۔ اس حوالے سے مشیر جنگلات نے کہاہے کہ ترقیاتی کاموں کا یہ سفر جاری رہے گا۔ صوبائی حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے ۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایت پر اراکین اسمبلی مراعات ایکٹ کی تمام قابل اعتراض شقیں واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا، شفیع جان

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے اراکین اسمبلی مراعات ایکٹ سے متعلق صوبائی کابینہ کے دیگر اراکین کے ہمراہ اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت آج صوبائی کابینہ اراکین کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔شفیع جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایات اور اسپیکر صوبائی اسمبلی کی مشاورت سے اراکین اسمبلی مراعات ایکٹ کی تمام قابل اعتراض شقیں واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام قابل اعتراض شقوں کو 1988 کے ایکٹ کے مطابق بحال اور درست کیا جائے گا، پیر کے روز ایک اجلاس منعقد ہوگا جس میں تمام پارلیمانی لیڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا،وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں فارم 45 کی حکومت عوام کے حقیقی مینڈیٹ سے قائم ہوئی ہے، اس لیے حکومت ایسا کوئی فیصلہ نہیں کرے گی جو عوامی امنگوں کے منافی ہو،شفیع جان نے کہا کہ حکومت صحافی برادری اور عوام کی تمام تحفظات کو سنے گی

مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان خیبرپختونخوا تاخ محمد خان ترند سے حلقہ کے عوام کی ملاقات

مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان خیبرپختونخوا تاج محمد خان ترند سے ان کے حلقہ انتخاب سے آئے ہوئے عوامی وفود نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے اپنے اپنے علاقوں کو درپیش مسائل، عوامی ضروریات اور جاری و مجوزہ ترقیاتی منصوبوں سے متعلق مشیر کھیل کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان تاج محمد خان ترند نے عوام کے مسائل اور تجاویز کو انتہائی توجہ سے سنا اور متعلقہ حکام کو موقع پر ہی ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے مسائل کے فوری، مؤثر اور ترجیحی بنیادوں پر حل کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔اس موقع پر تاج محمد خان ترند نے کہا کہ عوامی خدمت حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور عوام کے مسائل کا بروقت ازالہ ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا عوام کی فلاح و بہبود اور علاقوں کی متوازن ترقی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام سے مسلسل رابطہ رکھنا اور ان کے مسائل کو براہِ راست سن کر حل کرنا ہی عوامی نمائندوں کی اصل ذمہ داری ہے، اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اور قائد ایوان خیبرپختونخوا اسمبلی کی مشاورت، نیز سول سوسائٹی کے تحفظات کی روشنی میں استحقاقات و مراعات سے متعلق بل پر پارلیمانی قائدین کا اجلاس طلب

اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی اور وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے مابین ہونے والی مشاورت، نیز سول سوسائٹی کی جانب سے سامنے آنے والے تحفظات اور تجاویز کے پیشِ نظر اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے پیر، 13 جولائی 2026 کو دوپہر 12:00بجے اسپیکر چیمبر، خیبرپختونخوا اسمبلی میں تمام پارلیمانی قائدین کا ایک اہم اجلاس طلب کر لیا ہے۔اجلاس میں اراکین خیبرپختونخوا اسمبلی کے استحقاقات و مراعات سے متعلق مجوزہ بل پر تفصیلی غور کیا جائے گا، جبکہ سول سوسائٹی، صحافیوں اور دیگر متعلقہ حلقوں کی جانب سے سامنے آنے والی آراء، تجاویز اور تحفظات کی روشنی میں بل کی مختلف شقوں پر مشاورت کی جائے گی تاکہ ایک متوازن، جامع، قابلِ عمل اور عوامی توقعات سے ہم آہنگ قانون سازی کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں خیبرپختونخوا اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی قائدین شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ صوبائی وزیر اطلاعات شفیع اللہ جان، صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم، چیف وہپ خیبرپختونخوا اسمبلی اکبر ایوب خان بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔ اجلاس کے دوران مجوزہ بل کی مختلف شقوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور تمام متعلقہ آراء اور تجاویز کی روشنی میں اتفاقِ رائے سے آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔اس موقع پر اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے کہا خیبرپختونخوا اسمبلی درحقیقت عوام کا ایوان ہے، اور اس ایوان میں ہونے والی ہر قانون سازی کا محور عوامی مفاد، شفافیت اور جمہوری اقدار ہیں۔ ہماری اولین ترجیح عوام کا اعتماد اور سول سوسائٹی کی مثبت آراء ہیں۔ اگر کسی مجوزہ قانون پر معاشرے کے مختلف طبقات کی جانب سے تجاویز یا تحفظات سامنے آئیں تو پارلیمان کی ذمہ داری ہے کہ انہیں سنجیدگی سے سنے، ان پر کھلے دل سے مشاورت کرے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی آراء کی روشنی میں ایسی قانون سازی کو یقینی بنائے جو عوامی امنگوں، آئینی تقاضوں اور جمہوری روایات سے مکمل ہم آہنگ ہو۔

KP Minister Fazal Shakoor Khan chairs high-level review meeting on the Gravity Flow Water Supply Scheme of district Mansehra

The Khyber Pakhtunkhwa Minister for Public Health Engineering (PHE) Fazal Shakoor Khan chaired a high-level review meeting on the Gravity Flow Water Supply Scheme of district Mansehra, being implemented with the financial assistance of the Saudi Fund for Development (SFD).

The meeting was attended by Secretary Public Health Engineering Department Masood Younis, the Project Director, and other concerned officials.

During the meeting, participants were given a comprehensive briefing on the project’s overall progress, ongoing construction activities, financial and technical matters, key challenges, and the proposed way forward.

The Project Director apprised the Provincial Minister of the various phases of the project, the implementation timeline, and the progress achieved so far.

Addressing the meeting, Provincial Minister Fazal Shakoor Khan said that the provision of safe, clean, and sustainable drinking water to the people of district Mansehra remains one of the foremost priorities of the current KP government. He emphasized that the concerned water supply scheme will play a vital role in ensuring a reliable and sustainable supply of clean drinking water to the residents of the area.

He directed the authorities concerned to further accelerate the pace of work, ensure that all construction activities are carried out in accordance with the highest quality standards, and utilize all available resources to complete the project within the stipulated timeframe.

He urged that timely completion of the project must be ensured so that its benefits can reach the public without delay.

جیلوں میں قائم ٹریڈ سنٹرز کو جدید خطوط پر استوار کرکے قیدیوں کی مؤثر بحالی یقینی بنائی جائے گی، محمد عثمان خان بیٹنی

معاونِ خصوصی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی، محمد عثمان خان بیٹنی کی زیرِ صدارت جیلوں میں قائم ٹریڈ سنٹرز کے پرنسپلز کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں جیلوں میں فراہم کی جانے والی فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے نظام، ادارہ جاتی کارکردگی اور درپیش انتظامی و تکنیکی مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں مردان، بنوں اور ہری پور جیلوں میں قائم ٹریڈ سنٹرز کے پرنسپلز نے شرکت کی۔ شرکاء نے اپنے اپنے اداروں کی کارکردگی، جاری تربیتی پروگراموں، مختلف ٹریڈز میں جاری سرگرمیوں اور مستقبل کے منصوبوں پر مشتمل تفصیلی پریزنٹیشنز پیش کیں، جبکہ ٹریڈ سنٹرز کو درپیش انتظامی، تکنیکی اور دیگر مسائل سے بھی معاونِ خصوصی کو آگاہ کیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے معاونِ خصوصی محمد عثمان خان بیٹنی نے کہا کہ جیلوں میں قائم ٹریڈ سنٹرز قیدیوں کی اصلاح، بحالی اور انہیں باعزت روزگار کے قابل بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ خیبرپختونخوا فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے فروغ کے ذریعے قیدیوں کو ہنر مند بنا کر انہیں معاشرے کا مفید اور خودمختار شہری بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ٹریڈ سنٹرز کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ، مزید فعال اور مؤثر بنایا جائے تاکہ تربیت کا معیار مزید بہتر ہو سکے۔محمد عثمان خان بیٹنی نے متعلقہ مسائل کے فوری اور مؤثر حل کے لیے محکمہ جیل خانہ جات کے وزیر اور انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کے ساتھ مشترکہ اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ دونوں محکمے باہمی مشاورت سے جیلوں میں قائم ٹریڈ سنٹرز کو درپیش مسائل کے مستقل حل، تربیتی سہولیات کی بہتری اور ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے کے لیے جامع حکمتِ عملی مرتب کریں گے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی صوبے بھر میں معیاری فنی تعلیم کے فروغ کے ساتھ ساتھ جیلوں میں قائم ٹریڈ سنٹرز کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی تاکہ قیدیوں کی مؤثر بحالی اور انہیں باعزت روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔