Home Blog Page 59

صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی خیبر پختونخوا کا سال 2026-27 کا پہلا اجلاس محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات میں منعقد ہوا

۔ اجلاس میں مختلف منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں 26 ارب سے زائد کے 23 اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ منظور شدہ منصوبوں میں سڑکوں کی تعمیر و بحالی، پانی کی فراہمی، صحت، اعلیٰ تعلیم، اوقاف اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کے منصوبے شامل ہیں۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت پر صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے آبپاشی کے شعبے میں زراعت اور پانی کے وسائل کو بہتر بنانے کے لیے اہم منصوبوں کی منظوری دی ہے۔ ان میں ضم اضلاع میں شمسی توانائی پر مبنی 118 ٹیوب ویلز کی تنصیب اور موجودہ ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن شامل ہے جس سے 2752 ایکڑ اراضی سیراب ہوگی اور کسانوں کو سستی آبپاشی کی سہولت میسر آئے گی۔ اسی طرح ضلع مہمند میں 17 سب سکیموں کے تحت فلڈ پروٹیکشن ورکس، آبپاشی چینلز اور 3 چیک ڈیمز تعمیر کیے جائیں گے جن سے 925 ایکڑ زرعی رقبہ سیراب ہوگا۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت پر صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے صوبے میں رابطہ سڑکوں کی بہتری کے لیے 4 اہم منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔ ان میں کوہاٹ ڈویژن، کرک اور دیگر اضلاع میں بلیک ٹاپ روڈز کی تعمیر و توسیع شامل ہے جس سے تقریباً 13.5 لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔ ایبٹ آباد میں گلیات کے سیاحتی کوری ڈور ایبٹ آباد-نتھیاگلی-باڑیاں اور کوزاگلی،ایوبیہ،خانسپور روڈ کی بحالی و توسیع کی منظوری دی گئی ہے تاکہ سیاحت اور مقامی آبادی کی آمدورفت بہتر ہو سکے۔ ضلع ایبٹ آباد کی مختلف دیہی سڑکوں جن میں تاجوال، مچنہ، سرین، بگنوتر اور نملی میرا کی سڑکیں شامل ہیں کی تعمیر و بحالی سے پہاڑی علاقوں میں صحت، تعلیم اور کاروبار تک رسائی آسان ہوگی۔ ضلع کرک میں بانڈہ داؤد شاہ سے گرگوری تک 38 کلومیٹر روڈ کی مرمت و بحالی کا منصوبہ بھی منظور کیا گیا ہے جس سے مقامی آبادی کو محفوظ اور آرام دہ سفری سہولیات میسر آئیں گی۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ منصوبہ بندی و ترقی خیبرپختونخوا اسلام زیب کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں فورم ممبران اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔جس میں کوہاٹ ڈویژن میں بلیک ٹاپ سڑکوں کی تعمیر، بہتری، بحالی اور توسیع کے منصوبے کی منظوری دی گئی۔ آبپاشی کے شعبے میں ضم شدہ اضلاع میں شمسی توانائی پر مبنی آبپاشی ٹیوب ویلز کی تعمیر اور ضلع مہمند میں چیک ڈیمز، آبپاشی نہروں اور حفاظتی بندات کی تعمیر کے منصوبوں کو منظوری دی گئی۔ پینے کے پانی میں ضلع کوہاٹ کے لاچی سٹی، خدر خیل، گل شاہ خیل، ملگین، در تپی اور ملحقہ دیہاتوں کے لیے میگا واٹر سپلائی سکیم کی تعمیر کی بھی منظوری دی گئی۔صحت کے شعبے میں ضلع بنوں میں آر ایچ سی ڈومیل کو کیٹیگری ڈی ہسپتال میں اپگریڈیشن، ڈی ایچ کیو ہسپتال کوہاٹ میں ایمرجنسی اور ٹراما سینٹر کی اپگریڈیشن، خیبر پختونخوا میں ٹی بی کنٹرول پروگرام فیز-II کو مضبوط بنانے، خیبر پختونخوا میں انٹیگریٹڈ ڈیزیز نگرانی رسپانس سسٹم اور خیبر ایجنسی میں تیراہ باغ میدان میں ٹائپ ڈی ہسپتال کے قیام کے منصوبے منظور کیے گئے۔ اس کے علاوہ جمرود خیبر میں موجودہ عمارت میں میڈیکل کالج کے قیام کی بھی منظور ی دی گئی۔اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا سائنس وغیرہ پر طلبہ اور اساتذہ کے لیے اعلیٰ تعلیمی اقدامات،تحقیق، تربیتی پروگرامز،ڈپلومہ اور ضلع ملاکنڈ بٹ خیلہ میں گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کے قیام کی منظوری دی گئی۔محکمہ اوقاف میں خیبر پختونخوا میں قبرستانوں کے لیے زمین کی خریداری اور باؤنڈری وال اور صوبہ بھر بشمول ضم شدہ میں اضلاع مساجد، مدارس اور دارالعلوم کی تعمیر، تعمیر نو، بحالی اور بہتری کے لیے خصوصی پیکج منظور کیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی لینڈ یوز پلان خیبر پختونخوا کو بھی منظوری دی گی۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے اجلاس میں متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ منظور شدہ منصوبوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور انہیں مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے تاکہ عوام جلد از جلد ان کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔

حکومت خیبرپختونخوا جیلوں میں قیدیوں کو بنیادی حقوق فراہم کر رہی ہے، معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان نے ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کاشف اقبال جیلانی کے ہمراہ پشاور سنٹرل جیل کا دورہ کیا، جہاں آمد پر جیل حکام نے ان کا استقبال کیا، سلامی پیش کی اور گلدستہ بھی پیش کیا۔دورے کے دوران جیل انتظامیہ نے معاون خصوصی کو قیدیوں کے لیے روزانہ خوراک کے مینیو، غذائی معیار، تیاری کے طریقہ کار اور مجموعی انتظامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بعدازاں ڈاکٹر محمد اسرار خان نے جیل کچن، فوڈ اسٹوریج، صفائی اور حفظانِ صحت کے انتظامات کا تفصیلی معائنہ کیا اور قیدیوں کو فراہم کی جانے والی خوراک کے معیار کا جائزہ لیا۔معاون خصوصی نے قیدیوں کو فراہم کی جانے والی خوراک کے مجموعی معیار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ خوراک کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے اور قیدیوں کو ہر صورت معیاری، متوازن اور صحت بخش خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خوراک کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ڈاکٹر محمد اسرار خان نے کہا کہ قیدی بھی انسان ہیں اور انہیں معیاری خوراک سمیت تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی ان کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا جیلوں میں قیدیوں کی فلاح و بہبود اور معیاری خوراک کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے جیل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ خوراک کے معیار، صفائی اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ قیدیوں کو ہر وقت محفوظ، معیاری اور صحت بخش خوراک فراہم کی جا سکے۔

خیبر پختونخوا میں سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ، عوامی سہولت اولین ترجیح ہے۔ وزیر مواصلات و تعمیرات

خیبر پختونخوا کے وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل احمد نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ خیبر پختونخوا میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے زیر اہتمام جاری عوامی ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل موجودہ حکومت کے اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ان منصوبوں میں کوالٹی کے معیار کو یعقنی بنانے کے لیے متعلقہ افسران موقع پر خود جاکر کام کی نگرانی کریں تاکہ یہ منصوبے بروقت مکمل کیے جاسکیں یہ ہدایات انہوں نے پشاور میں خیبر پختونخوا رورل روڈز ڈویلپمنٹ پراجیکٹ اور خیبر پختونخوا امپروومنٹ پراجیکٹ کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف پشاور ریجن کے جنرل سیکرٹری و رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب، رکن قومی اسمبلی شندانہ گلزار،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر سیاحت ملک عادل، رکن صوبائی اسمبلی شرافت خان،سیکرٹری مواصلات و تعمیرات محمد ضیاء الحق،ایڈیشنل سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نور الامین،چیف انجینیئر فارن فنڈ،چیف انجینیئر ویسٹ،و دیگر سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں صوبہ بھر میں جاری اور مجوزہ سڑکوں کی تعمیر، بحالی اور توسیعی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ان منصوبوں کی پیش رفت، فنڈز کے مؤثر استعمال، بروقت تکمیل اور معیار کو یقینی بنانے کے حوالے سے جامع بریفنگ بھی دی گئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل احمد نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی، دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط بنانے اور جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر شفافیت اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے گا۔اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی مسلسل نگرانی، بروقت فنڈز کی فراہمی اور مؤثر رابطہ کاری کے ذریعے عوامی وسائل کا بہترین استعمال یقینی بنایا جائے، تاکہ منصوبوں کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچ سکیں۔شرکاء نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ جاری منصوبوں میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے، کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور ہر مرحلے پر شفافیت، جوابدہی اور معیار کو یقینی بنایا جائے تاکہ صوبے میں پائیدار ترقی اور عوامی خوشحالی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

محکمہ ایکسائز کی منشیات کے خلاف پشاور میں دوکارروائیاں، 3.6 کلوگرام چرس برآمد، خاتون سمگلر سمیت تین ملزمان گرفتار

خیبرپختونخوا حکومت کی منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور صوبائی وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول کی خصوصی ہدایات پر محکمہ ایکسائز کا منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔اسی سلسلے میں ایکسائز بیورو آف انٹیلیجنس اینڈ انویسٹیگیشن سکواڈ نے پشاور میں دو مختلف کامیاب کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 3,600 گرام (3.6 کلوگرام) چرس برآمد کرکے خاتون سمگلر سمیت تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔محکمہ سے موصولہ تفصیلات کے مطابق پہلی کارروائی ایچ گول چوک میں خفیہ اطلاع پر کی گئی، جہاں ایک خاتون مشتبہ سمگلر کو روک کر لیڈی کانسٹیبل کے ذریعے تلاشی لی گئی۔ تلاشی کے دوران اس کے قبضے سے 2,400 گرام چرس برآمد ہوئی، جس پر ملزمہ کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔دوسری کارروائی جوائنٹ چیک پوسٹ ایم ون پر عمل میں لائی گئی، جہاں دورانِ تلاشی 1,200 گرام چرس برآمد کر کے دو ملزمان ناصر جلال ولد عبدالجلال اور نوید الرحمن ولد واحد کو گرفتار کر لیا گیا۔گرفتار ملزمان کے خلاف تھانہ ایکسائز پشاور میں مقدمات درج کر لیے گئے ہیں، جبکہ مزید تفتیش اور قانونی کارروائی جاری ہے۔محکمہ ایکسائز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ صوبے کو منشیات سے پاک بنانے کے لیے ایسے آپریشنز بلاامتیاز جاری رہیں گے اور منشیات فروش عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

عوامی مسائل کا بروقت حل اور مؤثر خدمت حکومت کی اولین ترجیح ہے، طارق سعید مروت

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت نے پشاورمیں اپنے حلقہ انتخاب سے آئے ہوئے مختلف وفود سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وفود نے انہیں اپنے علاقوں کو درپیش مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور سے آگاہ کیا، جنہیں معاونِ خصوصی نے تفصیل سے سنا اور ان کے فوری حل کے لیے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کیں۔ملاقات کے دوران معاونِ خصوصی طارق سعید مروت نے کہا کہ عوام کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور کسی بھی مسئلے کے حل میں بلاجواز تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کے وژن اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی گڈ گورننس پالیسی کے مطابق عوامی مسائل کا بروقت اور مؤثر حل صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ عوام کی خدمت، شفاف طرزِ حکمرانی، میرٹ اور جوابدہی کے اصولوں پر عمل درآمد حکومت کے بنیادی اہداف میں شامل ہے۔طارق سعید مروت نے کہا کہ ان کا دفتر عوام کے لیے ہر وقت کھلا ہے اور شہریوں کی شکایات کے فوری ازالے، بنیادی مسائل کے حل اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کے حل میں سنجیدگی، ذمہ داری اور تیز رفتاری کا مظاہرہ کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر اور مؤثر خدمات فراہم کی جا سکیں۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت عوامی خدمت، شفافیت، میرٹ اور انصاف پر مبنی نظام کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور عوام کے مسائل کا پائیدار حل یقینی بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

عوام کے لیے بڑی خوشخبری: خیبر پختونخوا فوڈ اتھارٹی کا ایک اور انقلابی قدم

خیبر پختونخوا فوڈ اتھارٹی صوبے بھر میں عوام کو صاف اور معیاری غذا کی فراہمی کے لیے کوشاں ہے۔ “اوپن کچن پالیسی” کے تحت اب ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ہوٹل کے اندر صفائی کے معیار کو خود دیکھے۔

کچن عوام کے سامنے شفاف شیشوں کے پیچھے

عملے کے لیے ہیڈ کور اور جراثیم سے پاک ماحول لازمی

خام اور پکی خوراک کی علیحدگی

خیبر پختونخوا فوڈ اتھارٹی — محفوظ خوراک، صحت مند عوام

ڈیجیٹل خیبر پختونخوا: روشن مستقبل کی جانب ایک انقلابی قدم

یہ صرف منصوبے نہیں، ہمارے نوجوانوں کے روشن اور محفوظ مستقبل کی مضبوط بنیاد ہیں۔ عمران خان کے ویژن کے مطابق اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں خیبر پختونخوا اب روایتی طرزِ حکومت سے نکل کر جدید ٹیکنالوجی کا عالمی مرکز بننے جا رہا ہے۔

ایک ارب روپے کی مصنوعی ذہانت اتھارٹی
پشاور میں عوام کے لیے مفت وائی فائی
ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ اور جدید سائبر سیکیورٹی سینٹر

شفاف، تیز اور جدید خدمات اب خواب نہیں، ایک حقیقت ہیں

#DigitalKP #KPGovernment #SohailAfridi #VisionImranKhan #TechRevoltionKP #KPProud #ArtificialIntelligence #CyberSecurity #Peshawar

Late-Night Action!

Information Minister Shafi Jan pulls off a surprise late-night inspection at Kohat Hospital. The message is clear: Zero tolerance for negligence.
Following Imran Khan’s vision, the health budget gets a massive boost from Rs. 275 Billion to Rs. 334 Billion, with Rs. 50 Billion dedicated entirely to free healthcare.
Public Health First. Always.

#KohatHospital #ShafiJan #KPGovernment #HealthFirst #ImranKhanVision #PublicService #SehatCard #KhyberPakhtunkhwa #BreakingNews

An high-level review meeting on the Annual Development Programme (ADP) 2025–26 was held under the chairmanship of Advisor to the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa for Sports and Youth Affairs

An high-level review meeting on the Annual Development Programme (ADP) 2025–26 was held under the chairmanship of Advisor to the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa for Sports and Youth Affairs, Taj Muhammad Khan Tarand.

The meeting was attended by Secretary Sports and Youth Affairs Muhammad Asif, Director General Sports Tashfeen Haider, the Chief Planning Officer (CPO), the Director Works, Director Youth Affairs Abbas Afridi, and other relevant officials.

During the meeting, a detailed review was conducted of the progress made on the development projects approved under the Annual Development Programme (ADP) 2025–26. Advisor for Sports Taj Muhammad Khan Tarand directed that all projects facing land-related issues should be resolved immediately in coordination with the respective district administrations and public representatives to ensure their timely implementation.

The meeting also decided that a special visit to the Malakand Region would be undertaken on Wednesday. During the visit, the Secretary for Sports, relevant officials, and public representatives from Swat will review the ongoing development projects. Instructions were also issued to ensure that all concerned members are informed well in advance.

Furthermore, the meeting reviewed the progress on the construction of eight (8) modern futsal grounds in the merged districts. Advisor for Sports Taj Muhammad Khan Tarand directed the authorities to expedite work on the project and ensure its early completion. He emphasized that providing young people with modern and high-quality sports facilities is among the government’s top priorities and that all development projects must be completed within the stipulated timeframe.

Provincial Minister for Communications & Works Shakeel Ahmad and Adviser to the Chief Minister on Tourism Malik Adil Iqbal Chair High-Level Review Meeting on the KITE Project

Strong displeasure expressed over delays in the construction of Thandiani and Mankyal Roads; officials directed to ensure timely completion of the projects

Provincial Minister for Communications & Works Shakeel Ahmad and the Chief Minister’s Adviser on Tourism Malik Adil Iqbal expressed strong displeasure over the unnecessary delay in the construction of tourist roads, particularly the Thandiani and Mankyal roads, being undertaken under the Khyber Pakhtunkhwa Integrated Tourism and Development (KITE) Project. They directed the relevant authorities to accelerate the pace of work and ensure the timely completion of these important public projects.

The directives were issued while jointly chairing a high-level review meeting on the KITE Project held in Peshawar on Thursday.

The meeting was attended by Member of the National Assembly Arbab Sher Ali, Member of the Provincial Assembly Mian Sharafat Ali, Secretary Communications & Works Muhammad Zia-ul-Haq, Additional Secretary Noor-ul-Amin, the Chief Engineer (Foreign Fund), Chief Engineer (West), Director General Tourism, and other concerned officials.

During the meeting, officials of the Communications & Works Department gave a detailed briefing on the tourism development projects being implemented under the KITE Project. Participants thoroughly reviewed the obstacles delaying the construction of the Thandiani and Mankyal roads, assessed the current progress of the projects, and discussed the measures required to ensure their timely completion. Several important decisions were also taken to expedite the execution of these projects.

Provincial Minister Shakeel Ahmad directed that the Project Director of NESPAK must attend the next review meeting so that a comprehensive, practical, and effective framework could be developed for the timely completion of these vital public projects.

He stated that these projects are of immense importance for promoting tourism in the province, strengthening the local economy, and providing improved transportation facilities to the public. He emphasized that the projects have already suffered considerable delays and made it clear that no further negligence or delay would be tolerated.

Adviser to the Chief Minister on Tourism Malik Adil Iqbal stated that the timely completion of tourism infrastructure projects remains one of the government’s top priorities. He added that these projects would not only promote domestic and international tourism but also create new employment opportunities and stimulate economic activity for the local population.

The meeting also decided that review meetings would be held every fifteen days to regularly monitor progress, ensure effective coordination among all concerned departments, and guarantee the timely completion of the projects.