Home Blog Page 65

Provincial Law Minister Distributes Grant Cheques to Hangu and Thall Bar Association

Khyber Pakhtunkhwa Minister for Law and Parliamentary Affairs Aftab Alam Advocate has said that lawyers play a pivotal role in ensuring access to justice and the provincial government is fully committed to their welfare and professional development.
“The legal fraternity is the backbone of our justice system,” the minister stated while addressing a formal ceremony organized by the District Bar Association Hangu and Tehsil Bar Association Thall for the distribution of government grants among lawyers. “We are making every effort to resolve the issues of the lawyer community on a priority basis because justice cannot function effectively without the judiciary and the bar working hand in hand,” he added.
During the ceremony, Aftab Alam Advocate handed over grant cheques worth Rs. 5 million for the District Bar Association Hangu and Rs. 2.5 million for the Tehsil Bar Association Thall to the respective office-bearers.
He further said that the government is maintaining close coordination with the legal fraternity to strengthen the justice delivery system and ensure timely redressal of their concerns.
Later, the Law Minister held a detailed meeting with the members of the Insaf Lawyers Forum (ILF) Hangu chapter, assuring them of full support and cooperation.
The event was attended by the MNA Yusaf Khan, Tehsil Gumbat Mayor Sajid Iqbal, PTI Orakzai General Secretary Abdul Rahman, Kohat Bar General Secretary Mudasir Khattak Advocate and a large number of senior lawyers from ILF and bar associations.

سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے گورنر ہاؤس پشاور میں منعقدہ تقریبِ حلف برداری میں شرکت کی اور حلف اٹھانے والیصوبائی کابینہ کے تمام اراکین کو حلف برداری پر دلی مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کیں

سپیکر بابر سلیم سواتی نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نئی کابینہ صوبے کی ترقی، عوام کی خدمت اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے بھرپور محنت کرے گی۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ کابینہ کے ارکان چیئرمین عمران خان کے وژن اور عوامی توقعات کے مطابق فیصلے کریں گے اور صوبے کے مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔سپیکر نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے خصوصی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے نئی کابینہ صوبے کے لیے مثبت اور نتیجہ خیز اقدامات انجام دے گی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ سیاسی چیلنجز اور غیر جمہوری قوتوں کے دباؤ میں پاکستان تحریکِ انصاف کے تمام رہنماؤں اور کارکنوں کو اپنے اصولوں اور عوامی مفاد کے مطابق متحد رہنے کی اشد ضرورت ہے۔ سپیکر نے کہا کہ پارٹی قیادت کو اس مشکل دور میں چیئرمین عمران خان کے اصولوں اور وژن کی ترجمانی کرتے ہوئے منظم جدوجہد کے ذریعے اپنے قائد کے مشن کو عملی جامہ پہنانا ہوگا۔

خیبرپختونخوا اسمبلی کے سپیکر اور اور چئیر مین سپیشل کمیٹی برائے سیکیورٹی بابر سلیم سواتی نے کمیٹی کا دوسرا اجلاس بروزسوموار، 3 نومبر 2025 کو دوپہر 12 بجے کانفرنس روم، اسمبلی سیکریٹریٹ پشاور میں طلب کیا ہے۔

اجلاس میں پولیس ڈیپارٹمنٹ، محکمہ داخلہ اور چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا کی جانب سے صوبے کی مجموعی سیکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔ذرائع کے مطابق، کمیٹی اس اجلاس میں صوبے میں امن و امان کے قیام، انسدادِ دہشتگردی کے اقدامات اور متعلقہ اداروں کے درمیان کوآرڈینیشن کو مزید مؤثرہ بنانے سے متعلق سفارشات مرتب کرے گی۔واضح رہے کہ سپیکر بابر سلیم سواتی کی زیرِ نگرانی قائم یہ کمیٹی صوبے کے سیکیورٹی معاملات پر اعلیٰ سطحی جائزہ لینے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مربوط حکمتِ عملی طے کرنے، سول سوسائٹی کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے تشکیل دی گئی ہے۔

خیبرپختونخوا عالمی سیاحت کی نئی راہ پر گامزن

0

پشاور گرین ٹورازم پرائیویٹ لمیٹڈ اور محکمہ سیاحت خیبر پختونخوا پر مشتمل مشترکہ منیجمنٹ بورڈ کا ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس کی صدارت ڈاکٹر عبدالصمد، سیکرٹری ثقافت، سیاحت، آثارِ قدیمہ و عجائب گھر نے کی۔ اجلاس میں صوبے کی سیاحتی ترقی کے لیے ایسے اقدامات پر غور کیا گیا جو خیبر پختونخوا میں سیاحت کے مستقبل کو ایک نئی جہت دیں گے۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کے سیاحتی ترقی کے وژن کے مطابق اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ صوبے کو ایک عالمی معیار کے سیاحتی مرکز کے طور پر ابھارا جائے گا — ایک ایسا مقام جہاں فطرت اور ثقافت ایک دوسرے سے ہم آغوش ہوں، اور ترقی و تحفظ ایک ہی راہ کے ہمسفر بن جائیں۔ چیف سیکرٹری کا وژن پائیدار ترقی، ذمہ دار سیاحت اور مقامی برادریوں کے بااختیار ہونے پر مبنی ہے، تاکہ وہ اپنے قدرتی و ثقافتی ورثے کے اصل محافظ بن سکیں۔ مشترکہ منیجمنٹ بورڈ نے 45 کلومیٹر طویل سڑک کو آئندہ سیاحتی منصوبے میں شامل کرنے کی منظوری دی، جسے جلد سعودی سرمایہ کاری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ سیاحتی رسائی اور نئے راستوں کی دریافت کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ اجلاس میں گرین ٹورازم پرائیویٹ لمیٹڈ اور محکمہ سیاحت نے مشترکہ طور پر بڑے سرمایہ کاری منصوبوں — بشمول ضلع صوابی میں ہنڈ تھیم پارک اور صوبے بھر میں انٹرنیشنل ٹورازم زونز کے مالیاتی اشتراک کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ اسی طرح گنول انٹرنیشنل ٹورازم زون (مانسہرہ) کے لیے بھی عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ شراکت داری کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔ ماحولیاتی توازن کے فروغ کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے محکمہ جنگلات نے گرین ٹورازم پرائیویٹ لمیٹڈ کے ساتھ ریونیو شیئرنگ ماڈل کے تحت زمین فراہم کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا تاکہ وہاں گلیمپنگ سائٹس قائم کی جا سکیں — یہ جدید منصوبہ قدرت، سہولت اور تحفظ کا حسین امتزاج ہوگا۔ گرین ٹورازم کمپنی اپنی مالیاتی تجاویز مشترکہ منیجمنٹ بورڈ کو پیش کرے گی، جس کے تناظر میں نرخ ناموں اور مالیاتی ڈھانچے کو بھی حتمی شکل دی جائے گی۔ بورڈ نے مالیاتی جائزے کے بعد دس فیصد رعایتی شق ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ محکمہ سیاحت نے بین الاقوامی سیاحوں کے لیے این او سی کے عمل کو آسان بنانے، ہوٹل و مہمان نوازی کے شعبے میں پیشہ ورانہ تربیت کو فروغ دینے اور پیتھوم کو ادارہ جاتی سطح پر مزید مستحکم بنانے کے لیے بھی شراکت دار اداروں سے تعاون کی درخواست کی۔ منکیال آراضی کی تبدیلی کے معاملے کو جلد حل کے لیے صوبائی حکومت کے ساتھ براہِ راست اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر عبدالصمد نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سیاحت کی ترقی محض معاشی سرگرمی نہیں بلکہ ایک ثقافتی مشن ہے۔ ایک ایسا سفر جو لوگوں کو اس سر زمین کی زندہ تہذیب اور لازوال مناظر سے جوڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری کی قیادت میں خیبر پختونخوا سیاحت کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے — ایک ایسا دور جہاں ہر راہ دریافت کی سمت جاتی ہے، ہر مقام اپنی کہانی سناتا ہے، اور ہر مسافر امن، ثقافت اور مہمان نوازی کی خوشبو اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ اجلاس کا اختتام پائیدار سیاحت، نجی شعبے کے ساتھ مضبوط شراکت داری اور ایسے ماڈلز کے قیام کے عزم کے ساتھ ہوا جو نہ صرف معیشت کو مضبوط کریں بلکہ خیبر پختونخوا کی ثقافتی و قدرتی شناخت کو عالمی سطح پر اجاگر کریں۔

محکمہ لائیو اسٹاک تجارتی پیمانے پر پولٹری فارمنگ کے فروغ کے لیے پرعزم ہے- سیکرٹری لائیو سٹاک طاہر اورکزئی

محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈیولپمنٹ خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹوریٹ جنرل لائیو سٹاک (ایکسٹنشن) کے زیرِ اہتمام ”پولٹری فارم کے وینٹی لیشن سسٹم مینجمنٹ” کے موضوع پر ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ کا مقصد صوبے کے پولٹری فارمرز کو جدید وینٹی لیشن نظام، اس کی دیکھ بھال اور پرندوں کی افزائش کے لیے موزوں ماحول کی فراہمی کے حوالے سے عملی تربیت فراہم کرنا تھا۔ تربیتی ورکشاپ بگ ڈچ مین اور ایسٹرن ویٹرنری سروسز کے اشتراک سے منعقد کی گئی جس میں ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک (ایکسٹنشن) ڈاکٹر اصل خان بھی موجود تھے جبکہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے بڑی تعداد میں پولٹری فارمرز نے شرکت کی۔ورکشاپ کے افتتاحی سیشن سے سیکرٹری لائیو اسٹاک، فشریز و کوآپریٹوز محمد طاہر اورکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ لائیو اسٹاک صوبے میں تجارتی پیمانے پر پولٹری فارمنگ کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولٹری انڈسٹری نہ صرف گوشت کی پیداوار میں اضافے کا باعث بنتی ہے بلکہ دیہی معیشت اور عوام کے روزگار میں بہتری کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ورکشاپ کے دوران محمد ولی اللہ محمد بن ابراہیم نے مختلف موسموں اور پرندوں کی عمر کے لحاظ سے وینٹی لیشن سسٹم کے معیاری طریقہ کار اور تکنیکی پہلوؤں پر تفصیلی پریزنٹیشن دی۔شرکاء نے ورکشاپ کو نہایت معلوماتی اور مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی تربیتی سرگرمیاں جدید پولٹری فارمنگ کے فروغ اور پیداوار میں بہتری کے لیے معاون ثابت ہوں گی۔

Secretary Sports & Youth Affairs Department Saadat Hassan Reviews Progress on Ongoing Development Projects under Sports & Youth Affairs Department

The spokesperson of the Department of Sports and Youth Affairs, Government of Khyber Pakhtunkhwa, said that the 4th Development Review Meeting for the financial year 2025–26 was held under the chairmanship of the Secretary Sports and Youth Affairs Saadat Hassan. The meeting was attended by representatives and senior officials from the Planning & Development Department (P&D), Directorate of Works, Directorate of Sports, and Directorate of Youth Affairs.

During the meeting, the Secretary was given a comprehensive briefing on the status of ongoing and newly approved projects being executed under both the Sports and Youth Affairs Directorates. The officials presented detailed progress reports on approved, non-approved, and under-consideration projects, highlighting current challenges, budgetary status, and timelines for completion.

Key projects discussed included the establishment of futsal grounds, martial arts arenas, horse riding clubs, Jawan marakiz and polo grounds, as well as the provision of missing facilities in the Jamrud Sports Complex and many other projects. The forum also reviewed the construction of playgrounds at the union council level to promote healthy activities among youth in rural and urban areas alike.

The Secretary, Sports and Youth Affairs, appreciated the efforts of the concerned officers and directed them to accelerate work on all ongoing and pending projects to ensure their timely completion. He emphasized the importance of quality work, transparency, and efficient utilization of funds to maximize public benefit.

The Secretary reiterated that the Sports and Youth Affairs Department is committed to providing modern sports infrastructure and platforms for youth empowerment across the province, in line with the vision of the Government of Khyber Pakhtunkhwa.

کمشنر مردان نثار احمد کی زیر صدارت اجلاس، غیر معیاری خوردنی اشیاء کے خلاف بھرپور مہم کا آغاز

کمشنر مردان ڈویژن نثار احمد کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس کمشنر آفس میں منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں خوردونوش کی غیر معیاری اشیاء اور ناقص مواد کی فروخت کے خلاف بھرپور کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں ڈپٹی کمشنر مردان واصف رحمٰن، سیکریٹری ٹو کمشنر فضل واحد، اسسٹنٹ ٹو کمشنر ریونیو داؤد خان، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر پبلک ہیلتھ ڈاکٹر روبینہ ریاض، ڈپٹی ڈائریکٹر حلال فوڈ اتھارٹی شاد محمد اور اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر لال باچا سمیت مختلف محکموں کے افسران نے شرکت کی۔
کمشنر نثار احمد نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی صحت و سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے، لہٰذا غیر معیاری اور مضرِ صحت اشیاء باالخصوص غیر معیاری چپس پاپڑ وغیرہ تیار اور فروخت کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ سکولوں، کالجوں اور بازاروں میں فروخت ہونے والی اشیاء کے معیار کی سخت نگرانی کی جائے اور تمام کارروائیوں کی تفصیلی رپورٹس کمشنر آفس میں جمع کرائی جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو معیاری اور محفوظ اشیاء کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے یہ مہم تسلسل کے ساتھ جاری رہے گی، اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی

قرارداد نمبر 594- پُرامن جمہوری معاشرے کی جانب ایک اہم قدم

سینیٹ آف پاکستان سے حال ہی میں منظور ہونے والی قرارداد نمبر 594 محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ پاکستان کے فکری، سماجی اور سیاسی مستقبل کی سمت متعین کرنے والی ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ قرارداد دراصل ایک قومی عہد کی تجدید ہے ۔ایسا عہد جو اس ملک کی بنیاد رکھنے والے اصولوں اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کے وژن سے جڑا ہوا ہے۔ آج جب معاشرہ انتہا پسندی، تقسیم، نفرت اور عدم برداشت کے بھنور میں پھنسا ہوا ہے اس وقت یہ قرارداد ایک ایسی روشنی ہے جو پاکستان کو ایک پُرامن، مستحکم اور جمہوری معاشرے کی جانب رہنمائی کرتی ہے۔

قرارداد 594 کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے 11 اگست 1947 کے تاریخی خطاب کو قومی نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ نئی نسل اس ملک کی نظریاتی بنیادوں کو سمجھ سکے۔ وہ تاریخی خطاب جس میں قائداعظم نے مذہبی آزادی اور شہری مساوات کے دو بنیادی اصول بیان کیے تھے۔ ان کا واضح پیغام تھا کہ آپ آزاد ہیں۔ آپ اپنے مندروں میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔ آپ اپنی مسجدوں یا ریاست پاکستان میں کسی بھی دوسری عبادت گاہ میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات پات یا عقیدے سے ہو، ریاست کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم سب ایک ریاست کے مساوی شہری ہیں۔

یہ الفاظ نہ صرف پاکستان کی نظریاتی اساس ہیں بلکہ آج کے دور میں ان کی معنویت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے ان رہنما اصولوں کو وقت کے ساتھ فراموش کر دیا۔ مذہب، نسل، زبان اور مسلک کے نام پر معاشرہ تقسیم در تقسیم ہوتا چلا گیا۔ یہی وہ لمحہ ہے جب قرارداد 594 ہمیں یاد دلاتی ہے کہ پاکستان کا وجود کسی خاص عقیدے کے غلبے کے لیے نہیں بلکہ ایک برابر حقوق رکھنے والے شہریوں کے آزاد وطن کے طور پر عمل میں آیا تھا۔

قرارداد میں قائداعظم کے خطاب کو نصاب تعلیم میں شامل کرنے کی سفارش اس لیے نہایت اہم ہے کہ معاشرتی اصلاح ہمیشہ تعلیم سے ہی شروع ہوتی ہے۔ ہماری نئی نسل اگر آغاز ہی سے رواداری، مساوات اور احترامِ انسانیت جیسے اصولوں کو سمجھ لے تو مستقبل میں نفرت، انتہا پسندی اور تعصب کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہے گی۔بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی اداروں میں تاریخ کو اکثر مخصوص نظریات کے تحت پیش کیا گیا جس سے قوم فکری انتشار کا شکار ہوئی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ نئی نسل کو قائداعظم کا اصل پیغام پڑھایا جائے تاکہ وہ یہ سمجھ سکیں کہ برداشت اور شمولیت (Inclusivity) ہی پاکستان کی اصل روح ہے۔

قرارداد 594 میں بین المذاہب ہم آہنگی اور عوامی آگاہی مہمات کے آغاز پر زور دیا گیا ہے۔ یہ نکتہ انتہائی اہم ہے کیونکہ پچھلی کئی دہائیوں میں معاشرہ مذہبی اور مسلکی تقسیم کے باعث بے پناہ نقصان اٹھا چکا ہے۔ عبادت گاہوں پر حملے، نفرت انگیز تقاریر، اور مذہب کے نام پر تشدد نے معاشرتی ہم آہنگی کو بری طرح متاثر کیا۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست، تعلیمی ادارے، میڈیا اور سول سوسائٹی مل کر ایک ایسی مہم چلائیں جو عام شہری کو یہ سکھائے کہ اختلافِ رائے دشمنی نہیں بلکہ ترقی کا ذریعہ ہے۔ مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کا احترام ہی وہ ستون ہیں جن پر ایک مضبوط جمہوری معاشرہ کھڑا ہو سکتا ہے۔اسی تناظر میں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ ہفتے پختونخوا ایف ایم ریڈیو کوہاٹ سے نشر ہونے والے ایک مقبول پروگرام میں قرارداد 594 پر تفصیلی مکالمہ ہوا، جس میں سامعین نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ عوامی سطح پر اس قرارداد پر بحث و مباحثہ دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی معاشرہ فکری بیداری کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔

قرارداد کا پیغام واضح ہے امن، برداشت اور مساوات۔ مگر یہ اہداف اسی وقت حاصل ہو سکتے ہیں جب ریاست اور عوام دونوں اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے نبھائیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے قوانین اور پالیسیاں مرتب کرے جو تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مواقع کی مساوات یقینی بنائیں۔ دوسری جانب عوام کا فرض ہے کہ وہ افواہوں اور تعصبات سے بالاتر ہو کر قابلِ اعتماد ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور اختلافِ رائے کو برداشت کرنا سیکھیں۔میڈیا کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ میڈیا وہ طاقتور ذریعہ ہے جو معاشرے کے رویے تشکیل دیتا ہے۔ اگر میڈیا برداشت، احترام اور مثبت مکالمے کو فروغ دے تو معاشرہ خودبخود انتہا پسندی سے دور ہوتا جائے گا۔

اگر اس قرارداد کے پیغام پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو پاکستان کو سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مذہبی اور نسلی تفریق بڑھنے سے سماجی اعتماد ختم ہو جائے گا۔ تقسیم زدہ معاشرے میں تعلیم، سرمایہ کاری، اور انسانی ترقی کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں نوجوان مایوسی اور انتہا پسندی کا شکار ہوتے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر بھی ایک عدم برداشت پر مبنی معاشرہ اپنی ساکھ کھو دیتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک آج اس لیے آگے ہیں کہ انہوں نے انسانی برابری اور قانون کی بالادستی کو اپنی ریاستی پالیسی کا محور بنایا۔ پاکستان کو بھی اگر عالمی برادری میں ایک مثبت تشخص برقرار رکھنا ہے تو اسے قائداعظم کے بیانیے کی روشنی میں اپنے راستے درست کرنے ہوں گے۔

پاکستان کا اصل بیانیہ مذہب کی بنیاد پر نفرت نہیں بلکہ انسان دوستی اور مساوات ہے۔ قائداعظم کے وژن میں پاکستان ایک ایسی ریاست تھی جہاں ہر شہری کو اس کی مذہبی یا نسلی شناخت سے قطع نظر برابری کا درجہ حاصل ہو۔قرارداد 594 اسی بیانیے کو از سرِ نو زندہ کرتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اگر ہم نے اپنے بانی کے اصولوں کو پسِ پشت ڈالا تو ہم تاریخ کے اس موڑ پر کھڑے ہوں گے جہاں نہ امن بچے گا، نہ ترقی۔ لیکن اگر ہم نے اس قرارداد کے پیغام کو اپنایا تو پاکستان ایک بار پھر روشن، متحد اور جمہوری ملک بن سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ قرارداد 594 پاکستان کے لیے ایک فکری اور نظریاتی تجدیدِ عہد ہے۔ یہ ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے رویے، بیانیے اور پالیسیوں پر ازسرِنو غور کریں۔اگر ریاست، ادارے، تعلیمی نصاب، میڈیا اور عوام سب اس قرارداد کے بنیادی پیغام یعنی تحمل، انصاف، مساوات اور احترامِ انسانیت پر متفق ہو جائیں تو ہم اپنے مسائل کے باوجود ایک پُرامن اور مستحکم پاکستان کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
قائداعظم کے پاکستان کا خواب اب بھی ممکن ہے بشرطِ یہ کہ ہم اپنے نظریاتی انحرافات کو درست کر کے ان کے قول و فعل کی روشنی میں ایک نئے عہد کا آغاز کریں۔ قرارداد 594 کی حمایت دراصل ایک سیاسی عمل نہیں بلکہ ایک قومی ذمہ داری ہے ایک ایسا عزم جو ہمیں ایک بہتر، منصف اور پُرامن پاکستان کی طرف لے جا سکتا ہے۔

تحریر: اطہر سوری,سٹیشن منیجر,پختونخوا ریڈیو کوہاٹ

کمشنر مردان کا جانوروں کی گلیوں میں ذبح کرنے پر پابندی اور این-45 روڈ کی خوبصورتی کے اقدامات کا حکم

کمشنر مردان ڈویژن نثار احمد نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ شہر کے سلاٹر ہاؤس (مذبح خانے) کے درست طریقے سے کام کرنے کو یقینی بنائیں اور گلیوں اور رہائشی علاقوں میں جانوروں کے ذبح پر مکمل پابندی عائد کریں۔شہر کی خوبصورتی اور این-45 (نوشہرہ مردان روڈ) پر شجرکاری کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کمشنر نے زور دیا کہ تمام قصاب ہر قسم کے جانوروں کے ذبح کے لیے صرف سرکاری سلاٹر ہاؤس کا استعمال کریں تاکہ صفائی اور شہری نظم و ضبط برقرار رہے۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اقبال حسین خٹک، سیکرٹری ٹو کمشنر فضل واحد، ریجنل میونسپل آفیسر ذیشان خان، اے سی آر داؤد خان، ٹی ایم او مردان اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ ٹی ایم او نے بتایا کہ این-45 کے ساتھ لگے ہوئے ٹوٹے ہوئے گملوں کو نئے گملوں سے تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ کمشنر کی ہدایت کے مطابق نئے پھولدار پودے بھی لگائے گئے ہیں۔ ڈائریکٹر یو اے ڈی اے نے بھی خوبصورتی کے کام پر پیش رفت رپورٹ پیش کی۔کمشنر نے تحصیل میونسپل انتظامیہ (ٹی ایم اے) اور اربن ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو ہدایت کی کہ وہ این-45 کے ساتھ جاری خوبصورتی کے منصوبوں کی رفتار تیز کریں اور ان کی بروقت تکمیل یقینی بنائیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ٹی ایم اے تمام خراب اسٹریٹ لائٹس، خصوصاً کالج چوک سے نوشہرہ روڈ تک، دس دن کے اندر تبدیل کرے۔کمشنر نے ضلعی انتظامیہ کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ تجاوزات خواہ وہ عارضی ہوں یا مستقل کے خلاف بھرپور مہم شروع کرے تاکہ شہر کی اصل خوبصورتی بحال ہو اور ٹریفک کی روانی بہتر بنائی جا سکے۔اجلاس میں این-45 پر ٹریفک جام اور غیر ضروری یو ٹرنز کے مسئلے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ ٹریفک مینجمنٹ اور متعلقہ امور پر غور کے لیے آئندہ ہفتے ایک الگ اجلاس بلایا جائے گا۔

سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو خیبر پختونخوا محمد جاوید مروت کی زیرِ صدارت ہزارہ ڈویژن کے ریونیو و زرعی انکم ٹیکس سے متعلق ایک اہم اجلاس

سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو خیبر پختونخوا محمد جاوید مروت کی زیرِ صدارت ہزارہ ڈویژن کے ریونیو و زرعی انکم ٹیکس سے متعلق ایک اہم اجلاس کمشنر آفس ایبٹ آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ، تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ریونیو افسران اور متعلقہ محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران زرعی انکم ٹیکس، ریونیو امور اور لینڈ ریکارڈ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو محمد جاوید مروت نے اس موقع پر ہدایت کی کہ لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کے عمل کو فوری طور پر مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو شفاف اور تیز رفتار خدمات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ اداروں کے مابین باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے اور تمام سروس ڈلیوری سینٹرز میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں تاکہ شفافیت اور نگرانی کے نظام کو مؤثر بنایا جا سکے۔مزید برآں، انہوں نے کہا کہ ریونیوسٹاف کی استعداد کار بڑھانے کے لیے باقاعدہ تربیتی سیشنز منعقد کیے جائیں گے۔اجلاس میں خانہ کاشت اور خانہ ملکیت سے متعلق امور پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔فراڈ اور دھوکہ دہی سے عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے کیش لیس یا الیکٹرانک پیمنٹ سسٹم کو فعال بنانے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ تمام سروس ڈلیوری سینٹرز کو سینٹرلائز کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے واضح کیا کہ ریونیو سے متعلق تمام مسائل کے فوری حل کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ عوامی سہولیات کی فراہمی میں بہتری لائی جا سکے۔