Home Blog Page 67

Govt Raises Petroleum Levy by Rs5 to Rs85: KP Finance Adviser Muzzammil Aslam

Advisor to the KP Chief Minister on Finance Muzzammil Aslam, reacting to the petroleum levy and prices, said that the government has further increased the petroleum levy by Rs5, raising it to Rs80. He stated that the government itself blocks opportunities to provide relief to the public; although a reduction of Rs5 per litre in petroleum product prices was expected, it did not happen. These views were expressed by KP Finance Adviser Muzzammil Aslam in a statement issued from his office yesterday.
Muzzammil Aslam said that the intention to reduce gas circular debt has quietly been fulfilled today. It is worth noting that only 27 percent of the country’s population has access to gas pipelines, while 100 percent of the public will pay off the gas circular debt in the form of higher petrol prices. He added that the gas circular debt is also a result of the PML-N’s 2015 LNG agreements.
He said that the PML-N government is trying to get rid of the LNG agreements, and that the government will suspend 45 LNG cargoes from Qatar and Eni until 2027, for which any loss incurred in the international market will be borne by the government, and this cost will be recovered from the public by imposing a Rs5 tax levy. “In any case, one has to acknowledge the vision of the PML-N,” he remarked.

سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کا غازی اور ہری پور میں صحت کے منصوبوں کا جائزہ

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کی ہدایات پر سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، حکومتِ خیبر پختونخوا عدیل شاہ نے ہزارہ ڈویژن میں جاری صحت کے اہم ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کیا تاکہ ان کی پیش رفت کے ساتھ بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔سیکرٹری پی اینڈ ڈی نے غازی میں کیٹیگری ڈی ہسپتال کو کیٹیگری سی ہسپتال میں اپ گریڈ کرنے کے منصوبے اور ہری پور میں ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال کی تعمیر کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے جاری تعمیراتی کام کی رفتار اور معیار کا جائزہ لیا، پیش رفت پر اطمینان کا اظہار
کیا تاہم مزید تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا۔سیکرٹری عدیل شاہ نے متعلقہ محکموں اور عملدرآمدی اداروں کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کام کو تیز کیا جائے، منظور شدہ نقشوں اور مقررہ ٹائم لائنز پر سختی سے عمل کیا جائے اور معائنے کے دوران نشاندہی شدہ خامیوں کوفوری طور پر دور کیا جائے۔ انہوں نے نئے انفراسٹرکچر کی تکمیل تک موجودہ ہسپتال عمارتوں میں سہولیات کی بہتری کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔سیکرٹری پی اینڈ ڈی نے منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے کو مضبوط بنانے اور بالخصوص خواتین اور بچوں کے لیے معیاری صحت کی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔دورے کے موقع پر ڈائریکٹر جنرل مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن (ایم اینڈ ای) عثمان زمان، ڈپٹی کمشنر ہری پور وسیم احمد اور ڈویژنل مانیٹرنگ آفیسر (ڈی ایم او) ہزارہ سید علی رضا شاہ سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ افسران نے سیکرٹری کو منصوبوں کی تفصیلات، پیش رفت کی صورتحال اور درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔یہ منصوبے مکمل ہونے کے بعد خطے میں صحت کی سہولیات میں نمایاں بہتری لائیں گے اور غازی، ہری پور اور گرد و نواح کے عوام کو بہتر طبی خدمات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

نوجوان وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ہزارہ ڈویژن میں تاریخی و عظیم الشان عوامی ریلی کی قیادت کریں گے- شفیع جان

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ نوجوان وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی بروز ہفتہ ہزارہ ڈویژن میں تاریخی و عظیم الشان عوامی ریلی کی قیادت کریں گے جو حطار انٹرچینج سے شروع ہوکر جی ٹی روڈ سے مانسہرہ تک جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ ریلی کے دوران کانگڑہ، سرا? صالح، شاہ مقصود، لورا چوک، منڈیاں اور قلندرآباد میں شاندار استقبالیے دیے جائیں گے جبکہ پنیاں چوک، حویلیاں دوراہا، فوارہ چوک اور مانسہرہ بازار میں وزیراعلیٰ عوامی اجتماعات سے خطاب کریں گے۔ چمبا پل پر یوتھ کی جانب سے خصوصی استقبال بھی کیا جائے گا۔معاون خصوصی شفیع جان مزید کہا کہ عام انتخابات کے بعد سے اب تک ملک بھر میں پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی سرگرمیوں پر غیر اعلانیہ پابندیاں عائد ہیں۔ بانی چیئرمین عمران خان سمیت پارٹی قیادت اور کارکنوں کو ناحق قید و بند کا سامنا ہے۔ کئی مہینوں سے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقاتیں بند کی گئی ہیں۔ جبکہ پارٹی کو جمہوری اور آئینی سرگرمیوں کے لیے مناسب سیاسی اسپیس بھی فراہم نہیں کی جا رہی۔انہوں نے اسٹریٹ مومنٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان حالات میں نوجوان وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں شروع کی جانے والی اسٹریٹ موومنٹ سیاسی جمود کو توڑنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوئی ہے۔ ہزارہ ڈویژن کی یہ ریلی عوامی شعور کی بیداری اور جمہوری حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کا تسلسل ہے۔معاون خصوصی شفیع جان نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بانی چیئرمین عمران خان کی قیادت میں عوامی حقوق کی جدوجہد جاری رکھے گی اور کسی بھی قسم کے سیاسی جبر کے سامنے سر نہیں جھکائے گی۔

گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور سی اینڈ ڈبلیو اصلاحات کا جائزہ

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے جمعہ کے روز صوبائی حکومت کے گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) اور محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) میں جاری اصلاحاتی اقدامات کا جائزہ لیا۔ اجلاسوں میں ڈیجیٹائزیشن، شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی اصلاحاتی اقدامات پر خصوصی توجہ دی گئی۔چیف سیکرٹری نے دونوں محکموں کے الگ الگ جائزہ اجلاسوں کی صدارت کی جن میں صوبے بھر میں پانی کی فراہمی، انفراسٹرکچر کے پائیدار نظام اور سڑکوں کے بہتر انتظام سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاسوں میں سیکرٹریز پی ایچ ای اور سی اینڈ ڈبلیو سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ پانی کے بلوں کی وصولی اور ریکارڈ کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جس سے شفافیت میں اضافہ ہوگا اور موبائل و بینکنگ کے ذریعے ادائیگی کو فروغ ملے گا۔ اجلاس میں پانی کے معیار کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا گیا، جس میں ٹیسٹنگ کے دائرہ کار میں توسیع، مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایم آئی ایس) کی بہتری اور بروقت اصلاحی اقدامات شامل ہیں۔چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ مرمت اور دیکھ بھال کے کام شواہد کی بنیاد پر کیے جائیں اور پانی میں مضر صحت اجزاء کی شمولیت کی وجوہات کو انفراسٹرکچر خامیوں کو دور کر کے حل کیا جائے۔ انہوں نے اضلاع کی سطح پر مستند ڈیٹا کی دستیابی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بجٹ کی بہتر تیاری اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوگی۔اجلاس میں پانی کی فراہمی کے نظام کو دیرپا بنانے کے لئے سروس ڈیلیوری، لیبارٹریز اور وسائل کے انتظام کے لئے علیحدہ یونٹس قائم کرنے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ پانی کے تحفظ سے متعلق مجوزہ پائلٹ منصوبوں، جن میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنا اور زیرِ زمین پانی کی سطح کی بہتری کے لئے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔اسی طرح جاری ترقیاتی منصوبوں کے تحت پانی کی فراہمی کی اسکیموں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کے عمل کا جائزہ لیا گیا اور حتمی منصوبے تیار کرنے، مقامی مسائل حل کرنے اور مرحلہ وار عملدرآمد کی ہدایات جاری کی گئیں۔ چیف سیکرٹری نے باہمی تعاون، بروقت فیصلوں اور کارکردگی کی نگرانی پر زور دیا تاکہ عوام کو بہتر پانی کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔محکمہ مواصلات و تعمیرات کے جائزہ اجلاس میں چیف سیکرٹری کو ہری پور، ڈیرہ اسماعیل خان اور پشاور میں روڈ ایسٹ مینجمنٹ سسٹم (رامز) کے نفاذ سے آگاہ کیا گیا۔ اس نظام کے ذریعے سڑکوں کی حالت کا درست ڈیٹا حاصل ہوگا، جس کی بنیاد پر مرمت اور ترقیاتی فیصلے کیے جائیں گے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اسکولوں اور صحت کے مراکز کی عمارتوں کو سیلاب سے محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ضلع کرم میں تھل۔پاراچنار روڈ پر جاری کام کا بھی جائزہ لیا گیا اور بتایا گیا کہ منصوبے پر عملی کام شروع ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ ایریل روپس وے ایکٹ پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا، جس کا مقصد عوامی کیبل کار نظام کی تعمیر، نگرانی اور حفاظت کے لیے جامع قانونی فریم ورک فراہم کرنا ہے۔ مجوزہ قانون میں عوامی تحفظ اور بہتر سروس کی فراہمی کے لیے حکومتی نگرانی کو یقینی بنایا گیا ہے۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان کا سی این جی اسٹیشنز کو گیس بندش پر تشویش کا اظہار

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان سے آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کی نمائندہ وفد نے جمعہ کے روز انکے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وفد نے سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی فراہمی کی بندش کے حوالے سے معاون خصوصی شفیع جان کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ بندش کے سبب درپیش مسائل و نقصانات سے آگاہ کیا گیا۔ معاون خصوصی شفیع جان نے خیبر پختونخوا میں سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ جو اپنی ضرورت سے کئی گنا زیادہ قدرتی گیس پیدا کر رہا ہے۔ صوبے کی مجموعی گیس پیداوار 480 ایم ایم سی ایف ڈی سے زائد ہے جبکہ ملک میں سی این جی سیکٹر کی کل کھپت 190 ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔ خیبرپختونخوا کے سی این جی اسٹیشنز 48 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کا استعمال کر رہے ہیں۔ آئین پاکستان گیس پیدا کرنے والے صوبے کو استعمال کا پہلا حق دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی این جی کی بندش سے غریب ٹیکسی، رکشہ اور سوزوکی ڈرائیورز متاثر ہورہے ہیں۔ جن کی کمر پہلی ہی سے فارم – 47 کی وفاقی حکومت کی مہنگائی نے توڑ دی ہے۔ بندش سے صوبے میں کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہورہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا کے کوٹے اور حق کے مطابق سی این جی سیکٹر کو گیس کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔

ملاکنڈ میں تعلیمی نظام کی بہتری کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ارشد ایوب خان نے ضلع ملاکنڈ میں تعلیمی نظام کو درپیش مسائل کے فوری اور مؤثر حل کے لیے متعلقہ حکام کو تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے یہ ہدایات ضلع ملاکنڈ میں تعلیمی مسائل کے حوالے سے منعقدہ ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔ اجلاس میں ضلع ملاکنڈ سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی شکیل احمد اور پیر مسور غازی، تحصیل چیئرمین افضل حسین اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔اس موقع پروزیر تعلیم کو ضلع میں تعلیمی سہولیات، اساتذہ کی کمی، سکولوں کی حالتِ اور دیگر درپیش چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ صوبائی وزیر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے اور ملاکنڈ میں تعلیمی شعبے کی بہتری کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ تعلیمی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے، طلبہ کو سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنے اور جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ وہاں کے طلباء کو علم کے حصول کے لیے اپنے علاقوں سے دور جانا نہ پڑے اور وہ اپنے علاقوں میں نزدیک معیاری تعلیم حاصل کر سکیں۔

وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمن نے پاکستان انٹرنیشنل میڈیکل کالج حیات آباد میں منعقدہ وائٹ کوٹ تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی

وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمن نے پاکستان انٹرنیشنل میڈیکل کالج حیات آباد میں منعقدہ وائٹ کوٹ تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع ادارے کیڈین، پرنسپل، اساتذہ، والدین اور بڑی تعداد میں طلبہ نے اُن کا پرتپاک استقبال کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ وائٹ کوٹ تقریب طلبہ کے پیشہ ورانہ سفر کا ایک تاریخی اور اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ سے لیا جانے والا حلف محض چند الفاظ نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت، دیانت داری، پیشہ ورانہ مہارت اور اخلاقی اقدار سے وابستگی کا تاحیات عہد ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طب ایک باعزت اور مقدس پیشہ ہے جسے لالچ اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اختیار کیا جانا چاہیے۔وزیرِ صحت نے کہا کہ محکمہ صحت کو نوجوان،باصلاحیت، متحرک اور دیانت دار افراد کی ضرورت ہے تاکہ صحت کے نظام کو مؤثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ صحت کے شعبے میں نااہلی، غفلت اور بددیانتی کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ اس پیشے کا تعلق براہِ راست انسانی جانوں سے ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنے کیریئر میں اعلیٰ اخلاقی معیار کو ہمیشہ ملحوظ رکھیں۔وزیرِ صحت نے والدین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ ملک بھر میں لاکھوں باصلاحیت نوجوان مالی مشکلات کے باعث طبی تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں، لہٰذا جن طلبہ کو یہ موقع ملا ہے وہ اسے ایک قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے معاشرے کی خدمت کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی توجہ معیاری صحت کی سہولیات اور مثبت نتائج پر مرکوز ہے۔ محکمہ صحت کے شعبے میں دیرپا اور مؤثر بہتری کے لیے جامع اور طویل المدتی پالیسیوں پر کام کیاجاہا ہے۔ ان پالیسیوں کا مقصد طبی سہولیات، انسانی وسائل، انفراسٹرکچر اور آلات کی بہتری کو یقینی بنانا ہے۔صوبائی وزیرِ صحت نے احتیاطی صحت (Preventive Healthcare)کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی طرزِ زندگی اور خوراک کی عادات میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں پر مریضوں کا بڑھتا ہوا دباؤ تشویشناک ہے اور بیماریوں سے بچاؤ ہی اس مسئلے کا مؤثر حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والی نسلوں کے محفوظ، صاف اور صحت مند مستقبل کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔انہوں نے بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز کو اپنی مقامی سطح پر خدمات سرانجام دینی چاہئیں تاکہ بنیادی صحت مراکز (BHUs) اور دیہی صحت مراکز (RHCs) کو فعال بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرائمری ہیلتھ کیئر کو مضبوط بنا کر ہی بڑے ہسپتالوں پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔وزیرِ صحت خلیق الرحمن نے کہا کہ محکمہ صحت تمام خامیوں کو دور کرنے کے لیے شب و روز کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سطح پر صحت کے مراکز میں ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف، ادویات اور جدید آلات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مشترکہ کوششوں اور باہمی تعاون سے صحت کے نظام میں نمایاں اور مثبت تبدیلی لائی جائے گی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر آبنوشی فضل شکور خان کی زیرِ صدارت ضلع چارسدہ میں محکمہ آبپاشی اور محکمہ آبنوشی کے تحت جاری ترقیاتی سکیموں سے متعلق ایک اہم اجلاس صوبائی وزیر کے دفتر پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیر آبنوشی فضل شکور خان کی زیرِ صدارت ضلع چارسدہ میں محکمہ آبپاشی اور محکمہ آبنوشی کے تحت جاری ترقیاتی سکیموں سے متعلق ایک اہم اجلاس صوبائی وزیر کے دفتر پشاور میں منعقد ہوا۔اجلاس میں ایکسین ایریگیشن ڈویژن چارسدہ اور ایکسین محکمہ آبنوشی چارسدہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں دونوں محکموں کے افسران نے صوبائی وزیر کو ضلع چارسدہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے الگ الگ تفصیلی بریفنگ دی۔ایکسین ایریگیشن ڈویژن چارسدہ نے ضلع میں آبپاشی کے نظام کی بہتری، نہروں اور دیگر متعلقہ انفراسٹرکچر پر جاری منصوبوں، ان پر ہونے والی پیش رفت اور اب تک مکمل ہونے والے تعمیراتی کام سے آگاہ کیا۔ اسی طرح ایکسین محکمہ آبنوشی نے پینے کے صاف پانی کی فراہمی سے متعلق جاری سکیموں، واٹر سپلائی منصوبوں اور عوامی سہولیات کے لیے کیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔صوبائی وزیر فضل شکور خان نے اس موقع پر کہا کہ ضلع چارسدہ میں عوامی مفاد سے جڑے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام جاری منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر اعلیٰ معیار کو یقینی بناتے ہوئے پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کا مقصد عوام کو براہِ راست سہولیات فراہم کرنا ہے، اس لیے منصوبوں کی نگرانی، شفافیت اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ فیلڈ میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں اور منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق باقاعدگی سے رپورٹ پیش کریں۔

سیکرٹری لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو ظریف المعانی سے پاکستان ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن کے وفد ڈاکٹر حبیب الرحمٰن کی قیادت ملاقات، درپیش مسائل سے آگاہ کیا

سیکرٹری لائیو اسٹاک، فشریز و کوآپریٹو ظریف المعانی سے اُن کے دفتر میں پاکستان ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن کے وفد نے صدر ڈاکٹر حبیب الرحمٰن کی قیادت میں ملاقات کی۔ وفد میں جنرل سیکرٹری پاکستان ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا ڈاکٹر خسرو کلیم، جوائنٹ سیکرٹری ڈاکٹر عاقل محمد اور فنانس سیکرٹری ڈاکٹر محمد مجتبیٰ بھی شامل تھے۔ ملاقات میں پاکستان ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کی تاریخ، اغراض و مقاصد اور جاری سرگرمیوں سے سیکرٹری لائیو سٹاک، فیشریز و کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ سیکرٹری لائیو اسٹاک، فیشریز و کوآپریٹیو ظریف المعانی نے پاکستان ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل کے حل کے لیے واضح ہدایات جاری کیں اورلائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ کے لیے طویل عرصے سے زیر التواء فور ٹئیر پروموشن فارمولا کی منظوری سے اتفاق کرتے ہوئے اسے منظوری کے لیے متعلقہ فورم تک بڑھانے کی ہدایت دی۔ سیکرٹری ظریف المعانی نے مزید کہا کہ ڈی وی ایم طلبہ کے لیے انٹرن شپ کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ جامعات سے مشاورت کے بعد انٹرن شپ کے دوران ڈی وی ایم گریجویٹس کو وظیفہ فراہم کرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ ویٹرنری ڈاکٹروں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے کی غرض سے ویٹرنری کلینکس، ڈیری فارمز، پولٹری فارمز اور تشخیصی لیبارٹریز کے قیام کے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔سیکرٹری ظریف المعانی نے مزید کہا کہ دیانت داری اور محنت سے کام کرنے والے افسران کے لیے ان کے دفتر کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔پاکستان ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن کابینہ نے صوبے میں لائیوسٹاک سیکٹر کی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں سیکرٹری لائیوسٹاک کے فعال کردار کو سراہتے ہوئے ان کی کاوشوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

دہشت گردی اور موسمیاتی تبدیلی سے متاثر صوبے کو اس کے مالی حقوق سے محروم رکھنا افسوسناک ہے، شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا وہ واحد صوبہ ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی اور موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کا براہ راست سامنا کر رہا ہے،مگر اس کے باوجود وفاقی حکومت صوبے کے آئینی اور مالی حقوق کی ادائیگی میں مسلسل ٹال مٹول اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے،جو انتہائی افسوسناک اور ناانصافی پر مبنی ہے۔یہاں سے جاری بیان میں شفیع جان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام اور پولیس نے بے مثال قربانیاں دیں، صوبے کو اربوں روپے کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا،اس کے ساتھ ساتھ ہر سال سیلاب، بارشوں اور دیگر قدرتی آفات کے باعث شدید جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن بدقسمتی سے وفاقی حکومت ان حقائق سے آنکھیں چرا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج دہشت گردی پوری دنیا کا مسئلہ بن چکی ہے مگر اس کے اثرات سب سے زیادہ خیبرپختونخوا نے جھیلے ہیں۔ اسی طرح موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات بھی سب سے زیادہ اسی صوبے پر پڑ رہے ہیں،جہاں ہر سال سیلاب سرکاری املاک کے ساتھ ساتھ عوام کے گھروں، کاروبار اور فصلوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔ایسے حالات میں وفاق کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ خیبرپختونخوا کو دیگر صوبوں کے مقابلے میں ترجیحی بنیادوں پر زیادہ فنڈز فراہم کرتا لیکن شریف خاندان کے لیے عملی طور پر صرف پنجاب ہی پاکستان بن کر رہ گیا ہے۔ سیاسی انتقام میں وفاقی حکومت صوبے کے مامی حقوق بھی ادا نہیں کررہے،شفیع جان نے کہا کہ پن بجلی کے خالص منافع سمیت خیبرپختونخوا کے اربوں روپے کے واجبات وفاق کے ذمے بقایا ہیں مگر جان بوجھ کر صوبے کو اس کے جائز مالی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے، جس سے صوبے میں ترقیاتی عمل شدید متاثر ہو رہا ہے،انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت فوری طور پر خیبرپختونخوا کے تمام مالی بقایا جات ادا کرے تاکہ صوبے میں ترقی کا عمل مزید تیز ہو سکے،معاون خصوصی نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق خیبرپختونخوا میں بلین ٹری سونامی اور دیگر شجرکاری منصوبوں کے ذریعے ریکارڈ درخت لگائے گئے جس کے نتیجے میں صوبے میں جنگلات کا رقبہ 19 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 26 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جسے عالمی سطح پر بھی سراہا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس وفاقی حکومت عوام دشمن پالیسیوں کے ساتھ ساتھ ماحول دشمن اقدامات بھی کر رہی ہے، جس کی واضح مثال اسلام آباد میں 30 ہزار سے زیادہ درختوں کی بے دریغ کٹائی ہے،درختوں کی اس بے رحمانہ کٹائی کا مطلب ماحولیاتی تباہی کو دعوت دینا ہے جبکہ پاکستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کی زد میں ہے،شفیع جان نے کہا کہ ماحول کا تحفظ حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وفاقی حکومت خود ماحول دشمن اقدامات میں مصروف ہے جو آنے والی نسلوں کے مستقبل سے کھلواڑ کے
مترادف ہے۔