Home Blog Page 67

سیکریٹری محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان خیبر پختونخوا اور ڈائریکٹرامورِ نوجوانان کی خصوصی ہدایات پر صوبے کے نوجوانوں کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے ”جوان مرکز” (یوتھ سینٹرز) اور یوتھ ہوسٹلز کے قیام کے لیے عملی کام تیزکر دیا گیا

سیکریٹری محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان خیبر پختونخوا اور ڈائریکٹرامورِ نوجوانان کی خصوصی ہدایات پر صوبے کے نوجوانوں کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے ”جوان مرکز” (یوتھ سینٹرز) اور یوتھ ہوسٹلز کے قیام کے لیے عملی کام تیزکر دیا گیا ہے، جو جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ ان منصوبوں کا مقصد نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں شامل کرنا، ان کی قائدانہ و تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنا، اور انہیں جدید تربیت و رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ترجمان محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان خیبر پختونخوا کے مطابق ان جوان مراکز میں نوجوانوں کو تربیت، رہنمائی، مشاورت، ٹیم ورک اور قیادت کے مزید مواقع فراہم کیے جائیں گے اور ٹیکنالوجی، کاروبار، اسپورٹس، کمیونٹی سروس، اور سماجی ترقی جیسے شعبوں میں تربیتی پروگرامز، ورکشاپس اور سیمینارز منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ نوجوان اپنے مستقبل کے لیے عملی طور پر تیار ہوں۔مزید براں، محکمہ نوجوانان کی جانب سے شفافیت اور عوامی شمولیت کے لیے اسپانسرشپ فارم اور آن لائن شکایتی رجسٹریشن سسٹم بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے نوجوان اور ادارے اپنی تجاویز، شکایات، یا اسپانسرشپ کے لیے درخواستیں آن لائن جمع کرا سکیں گے جن پر بروقت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ سیکریٹری محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان خیبر پختونخوا اور ڈائریکٹرامورِ نوجوانان خیبر پختونخوا کی خصوصی ہدایت پر نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔ جوان مرکز اور یوتھ ہوسٹلز کے قیام سے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار، تربیت اور قیادت کے لیے ایک با مقصد پلیٹ فارم میسر کیا جا رہا ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ یہ منصوبے صوبے کے تمام اضلاع کے نوجوانوں کو یکساں مواقع فراہم کرنے، ان کے مسائل کے حل، اور انہیں قومی ترقی کے عمل میں شمولیت دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔محکمہ نوجوانان کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوان با آسانی اسپانسرشپ فارم جمع کرا سکتے ہیں، شکایات درج کرا سکتے ہیں، اور رجسٹریشن کے عمل سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

واپڈا ہائیڈرو سوسائٹی کوہاٹ نے آفریدی چیمپئن لیگ فٹبال ٹورنامنٹ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا

آفریدی چیمپئن لیگ فٹبال ٹورنامنٹ کے پانچویں سیشن کا فائنل سپاہ منڈی کس گراونڈ باڑہ میں نہایت پروقار انداز میں منعقد ہوا، تقریب کے مہمانِ خصوصی ایڈیشنل سیکرٹری کھیل و امورِ نوجوانان، خیبر پختونخوا پیر عبداللہ شاہ تھے، جس میں واپڈا ہائیڈرو سوسائٹی کوہاٹ نے گلیڈی ایٹر کوہاٹ کو ایک گول سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔ فاتح ٹیم کو دو لاکھ روپے جبکہ رنر اپ ٹیم کو ایک لاکھ روپے کیش انعام دیا گیا۔ترجمان محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان، خیبر پختونخوا کے مطابق ٹورنامنٹ میں کل 12 ٹیموں نے حصہ لیا جن میں آٹھ ٹیمیں ضلع خیبر سے جبکہ چار ٹیمیں خیبر پختونخوا، پنجاب اور بلوچستان سے شامل تھیں۔ مہمانان میں کمانڈنٹ باڑہ رائفلز کرنل عامر توصیف، اسسٹنٹ کمشنر باڑہ طلحہ رفیق، اور ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر خیبر محمد حسین اورکزئی شامل تھے۔ترجمان نے کہا کہ مہمانانِ خصوصی نے نوجوانوں کی کھیلوں میں دلچسپی کو سراہا اور کہا کہ ایسے ایونٹس علاقے میں امن، ہم آہنگی اور مثبت سرگرمیوں کو فروغ دیتے ہیں۔ لیگ کا مقصد نوجوانوں کو صحت مند تفریح فراہم کرنا اور ان کے ٹیلنٹ کو اجاگر کرنا ہے تاکہ وہ ملکی و بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں۔ اس موقع پر مہمانِ خصوصی پیر عبداللہ شاہ نے ایونٹ کے کامیاب انعقاد پر ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر محمد حسین اورکزئی، آرگنائزر جاوید آفریدی اور اسماعیل آفریدی کی کاوشوں کو سراہاتے ہوئے کہا کہ محکمہ کھیل ضلع خیبر کی کوششوں سے نہ صرف کھلاڑیوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھا جا رہا ہے بلکہ ہزاروں تماشائیوں کے لیے تفریح کے مواقع بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔

یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر پشاور میں ایک بڑی ریلی کا انعقاد

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے اور کشمیری عوام پر جاری مظالم کے خلاف ملک بھر کی طرح پشاور میں بھی 27 اکتوبر کو یومِ سیاہ پورے جوش و جذبے کے طور پر منایا گیا۔ اس موقع پر حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے پشاور میں ایک عظیم الشان ریلی کا اہتمام کیا گیا، جس میں صوبے کی اعلیٰ قیادت، سرکاری افسران، آل پاکستان حریت کانفرنس کے رہنما ئوں، میڈیا برادری اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ریلی کا آغاز سول سیکرٹریٹ پشاوراعظم خان بلاک کے سامنے سے ہوا جہاں تمام انتظامی سیکرٹریز، افسران اور اہلکار جمع ہوئے۔ یہ ریلی وزیرِاعلیٰ سیکرٹریٹ سے ہوتی ہوئی گورنر ہاؤس کے سامنے پہنچی جہاںتمام شرکائ نے کشمیری شہدائ کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کے بعد کشمیری عوام کی جدوجہد کو سراہتے ان کے حق میں نعرے لگائے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیر برائے سماجی بہبود قاسم علی شاہ ، ڈپٹی کمشنر پشاور کیپٹن (ر) ثنا ئ اللہ خان، آل پاکستان حریت کانفرنس کے رہنما اور دیگر معزز شخصیات نے کہا کہ کشمیری عوام کی جدو جہد آزادی کے لئے دی گئی قربانیاں رئیگاں نہیں جائےں گی، کشمیر ضرور آزاد ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے بلکہ امن کے خواہاں ہیں۔ اقوامِ متحدہ کو چا ہئے کہ وہ بھارتی مظالم بندکراتے ہوئے کشمیری عوام کو ان کا حق دلانے میں اپنے وعدے پورے کرے ۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم رکوانے اور کشمیری عوام کو حقِ خود ارادیت دلانے کے لیے ا پنا کردار ادا کرے۔ یومِ سیاہ کے حوالے سے صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی ریلیاں، سیمینارز اور تقریبات کا انعقاد ہوا جن میں کشمیری عوام سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور ملک کے سلامتی و ترقی کے لئے دعائیں کی گئیں۔

صوبے میں اشیائے خورونوش کی دستیابی یقینی بنا ئی جائے اور ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کاروائیاں جاری ر کھی جائیں۔چیف سیکرٹری

صوبے میں عوامی مسائل کے حل اور عوامی خدمات کی فراہمی میں مزید بہتری کے لیے شکایات اب سوشل میڈیا پلیٹ فارم X کے ذریعے بھی وصول کی جارہی ہیں ۔ شہری اپنی شکایات کے لیے @CSKPOfficial کو ٹیگ کر سکتے ہیں۔چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے گورننس امور پر منعقدہ ہفتہ وار اجلاس کا آغاز عوامی شکایات کے ازالے سے کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے تمام ضلعی انتظامیہ اور محکموں سے عوامی مسائل کے حل کو یقینی بنائیں گے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ناجائز تجاوزات کیخلاف آپریشن میں کل 1024 کنال اراضی واگزار ہوئی ہے اور گزشتہ ہفتے میں 200 کنال سرکاری اراضی واگزار کروائی گئی اور ناجائز تجاوزات کیخلاف کاروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔ اسی طرح پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی صوبائی دارلحکومت پشاور کی بیوٹیفکیشن پر کام کررہی ہے، حکومت نجی شعبے کی کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی کے تحت پشاور میں مختلف مقامات پر خوبصورتی اور بحالی کے کاموں کو ممکن بنا رہی ہے۔ پشاور جی ٹی روڈ سمیت رنگ روڈ اور پشاور کے دیگر علاقوں میں صفائی، بحالی اور بیوٹیفکیشن کے اقدامات تیزی سے جاری ہیں۔ 30 نومبر کے بعد کسی بھی آفس میں کاغذ کا استعمال نہیں ہوگا۔ ای آفس سسٹم کے مکمل طور پر نفاذ کیلئے کام تیزی سے جاری ہے ۔ ای آفس کے تحت سمریز اور نوٹس پہلے ہی ڈیجیٹائز کردیئے گئے ہیں۔ چیف سیکرٹری کو گندم، آٹے کی دستیابی اور ٹماٹر سمیت دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پرچیف سیکرٹری نے اشیائے خورونوش کی دستیابی یقینی بنانے اور ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کاروائیاں جاری رکھنے کی ہدایت کی۔

چترال میں معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے دوسری چترال ایکسپو و اکنامک ڈویلپمنٹ کانفرنس کامیابی سے انعقاد

دوسری چترال ایکسپو اور اکنامک ڈویلپمنٹ کانفرنس 2025” کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی جس کا مقصد خطے میں معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کو اجاگر کرنا اور فروغ دینا تھا۔ دو روزہ کانفرنس کی تقریب لوئر چترال کی ایک مقامی ہوٹل میں 25 اور 26 اکتوبر کو خیبرپختونخوا بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ (KP-BOIT) کے زیر اہتمام، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) اور چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (CCCI) کے باہمی اشتراک سے منعقد ہوئی۔کانفرنس اور نمائش کا مقصد چترال اور خیبرپختونخوا کے شمالی اضلاع میں تجارت و سرمایہ کاری کے امکانات کو اُجاگر کرنا تھا۔ اس موقع پر مختلف سرکاری محکموں، سرمایہ کاروں، کاروباری رہنماؤں، مالیاتی اداروں، ماہرینِ معیشت اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔چترال اور پشاور سے تعلق رکھنے والے نمائش کنندگان نے سیاحت، زراعت، دستکاری، خوراک، معدنیات اور سروسز کے شعبوں سے متعلق مصنوعات کی نمائش کی جس سے ان کے فروغ اور مارکیٹنگ کے لیے مؤثر پلیٹ فارم فراہم ہوا۔اس موقع پر مہمانِ خصوصی ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم عظیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چترال قدرتی وسائل سے مالامال ہے اور سیاحت، توانائی، معدنیات اور زراعت کے شعبوں میں بے پناہ مواقع رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان شعبوں میں سرمایہ کاری سے نہ صرف مقامی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ صوبے کی مجموعی معاشی ترقی میں بھی اضافہ ہوگا۔ڈائریکٹر بزنس فسیلیٹیشن خیبرپختونخوا بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ اقبال سرور نے اپنی پریزنٹیشن میں کہا کہ صوبائی حکومت شمالی اضلاع کی ترقی کے لیے سرمایہ کار دوست پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چترال اکنامک ڈویلپمنٹ کانفرنس سرمایہ کاروں کو خطے کی معاشی استعداد سے روشناس کرانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔صدر چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری محبوب اعظم نے اپنےخطاب میں چترال کی معاشی ترقی کے فروغ کے لیے صوبائی حکومت کی کوششوں کو سراہا۔دیگر کاروباری تنظیموں کے نمائندوں نے بھی کے پی بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کی اس کاوش کو سراہا کہ اس نے مختلف شعبوں کے اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا تاکہ تجربات کا تبادلہ اور کاروباری روابط کو مضبوط بنایا جا سکے۔

یومِ سیاہ کشمیر پر ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز خیبر پختونخوا اور ڈسٹرکٹ یوتھ دفاتر میں یکجہتی تقریبات کا انعقاد

یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر پیر 27 اکتوبر کو ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز خیبر پختونخوا اور صوبے بھر کے ڈسٹرکٹ یوتھ دفاتر میں کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تقریبات اور سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا۔ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز کے تحت منعقدہ پروگرام کا آغاز صبح 10 بجے ایک منٹ کی خاموشی سے کیا گیا جس کے بعد یکجہتی واک کا اہتمام ہوا۔ واک کے شرکا نے پاکستان اور کشمیر کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے جبکہ مختلف بینرز، پوسٹرز اور جھنڈے نمایاں مقامات پر آویزاں کیے گئے جن پر کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت اور بھارتی ظلم و جبر کے خلاف نعرے درج تھے۔اس موقع پر واک کے شرکائ نے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ والہانہ محبت اور غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم ہر مشکل گھڑی میں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی آزادی کی جدوجہد میں شریک رہے گی۔
یومِ سیاہ کی ان سرگرمیوں کا مقصد نوجوان نسل کو مسئلہ کشمیر کی تاریخی، سیاسی اور انسانی پہلوؤں سے آگاہ کرنا، جذبہ حب الوطنی کو فروغ دینا اور دنیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس کی آزادی تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔یوتھ افیئرز کے دفاتر کے تحت تقریبات میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے حق میں پُرجوش نعرے لگائے۔

پی جی ایم آئی میں ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کے تربیتی پروگرام کا باضابطہ آغاز

صوبہ خیبر پختونخوا کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کے میڈیکل آفیسرز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے کیپسٹی بلڈنگ ٹریننگ پروگرام کا باضابطہ آغاز پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ (پی جی ایم آئی) حیات آباد میں کر دیا گیا۔افتتاحی تقریب میں ریویمپنگ آف نان ٹیچنگ ڈی ایچ کیو ہسپتالز منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر شہزاد فیصل کے علاوہ سی ای او پی جی ایم آئی ڈاکٹر نور وزیر، اے ڈی جی ایڈمن ڈاکٹر انیسہ آفریدی، اے ڈی جی ایچ آر ڈاکٹر عارف، سی ای او ایس ایچ پی آئی ڈاکٹر ریاض تنولی اور ڈائریکٹر ایس ایچ پی آئی ڈاکٹر اعجاز نے شرکت کی۔شرکائے تقریب نے ڈاکٹر شہزاد فیصل کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ قدم صوبے میں سیکنڈری ہیلتھ کیئر سروسز کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم اور عملی پیش رفت ہے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ موجودہ تربیتی پروگرام نہ صرف ڈاکٹرز کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گا بلکہ مستقبل میں مریضوں کے علاج کی فراہمی کے معیار پر بھی مثبت اثر ڈالے گا۔اپنے خطاب میں ڈاکٹر شہزاد فیصل نے بتایا کہ ریویمپنگ منصوبے کا بنیادی مقصد ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور عوام کو بہتر علاج کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تربیتی پروگرام کا یہ پہلا بیچ ہے، جس کے بعد مزید مراحل میں ڈاکٹروں کو جدید تکنیکی اور کلینیکل تربیت فراہم کی جائے گی۔افتتاحی سیشن میں صوبے کے 12 ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کے 34 میڈیکل آفیسرز نے شرکت کی۔

یومِ سیاہ کشمیر کے حوالے سے ایبٹ آباد میں تقریب کا انعقاد

کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ کی زیرِ صدارت ایبٹ آباد میں یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر ایک پروقار اور پُرجوش تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد سرمد سلیم اکرم، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر گوہر علی، ضلعی افسران، تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تقریب میں کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر مختلف سرگرمیاں پیش کی گئیں، جن میں طلبہ کے ٹیبلو، ملی نغمے، تقاریر اور کشمیری ترانے شامل تھے۔ شرکاء نے اپنے کلمات اور فنکارانہ انداز میں مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی جدوجہدِ آزادی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ کمشنر ہزارہ ڈویژن کی صدارت میں ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی تاکہ شہدائے کشمیر کو یاد کیا جا سکے۔

کمشنر ہزارہ ڈویژن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”27 اکتوبر 1947 کا دن تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے جب بھارتی افواج نے کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کیا۔ آج کا دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کشمیری عوام اپنی آزادی کے لیے آج بھی قربانیاں دے رہے ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ ”پاکستانی عوام نے ہمیشہ کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہر فورم پر یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور کرتے رہیں گے۔ کشمیر ہماری شہ رگ ہے، اور جب تک کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت نہیں مل جاتا، ہم ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ”ہندوستان کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ظلم و جبر کے باوجود کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ یہ عزم و استقلال پوری دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔”

کمشنر ہزارہ ڈویژن نے کہا کہ ”حالیہ پاک بھارت تنازعات نے ثابت کیا ہے کہ پاکستانی قوم متحد ہے اور کسی بھی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ہمیں دنیا کو باور کرانا ہے کہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور کشمیری عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔”

ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد نے اپنے خطاب میں کہا کہ یومِ سیاہ ہمیں اس دن کی یاد دلاتا ہے جب کشمیری عوام کی آزادی سلب کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ”ہمیں بطور قوم اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری کے طور پر کشمیری عوام کی آواز بننا چاہیے اور ہر ممکن پلیٹ فارم پر ان کی حمایت جاری رکھنی چاہیے۔”

تقریب کے اختتام پر کشمیر یکجہتی واک کا اہتمام کیا گیا، جس میں کمشنر ہزارہ ڈویژن، ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد، ضلعی افسران، طلبہ اور شہریوں نے بھرپور شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیر کی آزادی اور بھارتی مظالم کے خلاف نعرے درج تھے۔ واک کے شرکاء کی جانب سے” کشمیر بنے گا پاکستان ” کے نعروں سے فضا گونج اٹھی

MDCAT 2025 Successfully Conducted Across Khyber Pakhtunkhwa

The Medical and Dental Colleges Admission Test (MDCAT-2025) for admission to public and private sector medical and dental colleges of Khyber Pakhtunkhwa was successfully conducted under the supervision of the provincial government and Khyber Medical University (KMU), Peshawar, in accordance with the guidelines of the Pakistan Medical and Dental Council (PMDC).

The test was simultaneously held in eight districts of the province — Peshawar, Mardan, Swat, Dir Lower, Kohat, Dera Ismail Khan, Malakand, and Abbottabad — at a total of 43 examination centers, where 39,986 candidates, including 20,266 male and 19,720 female students, appeared.

As per reports, 4,913 candidates appeared in Abbottabad, 2,381 in D.I. Khan, 537 in Dir Lower (Timergara), 1,920 in Malakand, 1,786 in Kohat, 5,093 in Mardan, 18,569 in Peshawar, and 4,787 in Swat.

The entire process was carried out in close coordination with the district administrations, police, FIA, IB, Special Branch, and other relevant institutions to ensure full implementation of the administrative and security plan. Parents, students, and the general public expressed satisfaction with the overall arrangements and appreciated KMU’s efforts for ensuring a transparent and merit-based examination process.

The Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa, Shahab Ali Shah, along with Secretary Health, Shahid Ullah, Vice Chancellor KMU, Prof. Dr. Zia Ul Haq, and senior officials from FIA, visited various examination centers in Peshawar. They appreciated the arrangements and congratulated all the examination and administrative staff especially ACS Home & Tribal Affairs Abid Majeed’s leading role for the smooth and successful conduct of the test.

Speaking on the occasion, the Chief Secretary lauded KMU’s commitment to upholding merit and transparency in all academic and administrative matters. Responding to a question, Prof. Dr. Zia Ul Haq, Vice Chancellor KMU, announced that the university is planning to computerize the MDCAT from next year, and all necessary measures will be taken in this regard at the institutional level.

It was also announced that the official MDCAT answer key will be uploaded on the KMU website (https://cas.kmu.edu.pk) on the evening of the test, enabling candidates to calculate their provisional scores. The final results will also be available on the same portal, and candidates will be provided with an opportunity for rechecking their marks within three days of the result announcement to ensure transparency.

مقبوضہ جموں وکشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے اور نہتے کشمیری عوام پربھارتی فوج کے مظالم کے خلاف یومِ سیاہ

مقبوضہ جموں وکشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے اور نہتے کشمیری عوام پربھارتی فوج کے مظالم کے خلاف ہرسال27اکتوبر کو یومِ سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اسی سلسلے میں حکومت خیبر پختونخوا نے پیر کے روز پشاور میں ریلی/واک کا اہتمام کیا ہے۔محکمہ انتظامیہ کی جانب سے جاری کئے گئے اعلامیے کے مطابق تمام انتظامی سیکرٹری اپنے متعلقہ محکموں کے سٹاف کے ہمراہ نوبج کر بیس منٹ پر سول سیکرٹریٹ اعظم خان بلاک کے سامنے جمع ہوں گے جہاں سے ریلی کا آغاز ہوگا۔ریلی کے شرکاء وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کی جانب بڑھتی ہوئے گورنر ہاؤس پہنچیں گے جہاں پر دس بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی، جس کے بعد آل پاکستان حریت کانفرنس کے قائدین اور دیگر معزز شخصیات تقریریں کریں گے۔یومِ سیاہ کے انعقاد کا مقصد بھارتی قابض افواج کی جانب سے بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی خلاف ورزیوں اور کشمیریوں پر کئے جانے والے مظالم کو اجاگر کرنا ہے۔ اسی طرح کے جلوس اور سیمینار صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی منعقد کیے جائیں گے۔