Home Blog Page 72

مساجد و عبادت گاہوں کی شمسی توانائی پر منتقلی فلیگ شپ منصوبہ ہے، طارق سدوزئی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے توانائی انجینئر طارق سدوزئی نے کہا ہے کہ صوبے میں مساجد و عبادت گاہوں کی شمسی توانائی پر منتقلی صوبائی حکومت کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، جسے جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گاتاکہ عوام اس کے ثمرات سے بھرپور استفادہ کرسکیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نیضلع کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان کے دورے کے موقع پر مختلف مساجد اورعبادتگاہوں میں محکمہ پیڈوکی جانب سے شمسی توانائی پرمنتقلی کے جاری منصوبوں کاجائزہ لیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انکے ہمراہ پراجیکٹ ڈائریکٹر سولرائزیشن اسفندیار خان، پیڈو کی ریجنل منیجر (جنوب) انجینئر ثنا وحید سمیت متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ معاون خصوصی انجینئر طارق سدوزئی نے ضلع کوہاٹ میں شمسی توانائی پرمنتقل کی گئی مساجد میں نصب شمسی توانائی کے آلات اورکام کابغورجائزہ لیا اوراطمینان کا اظہارکرتے ہوئے پراجیکٹ حکام کو باقی ماندہ کام ایک ماہ کے اندرہرصورت مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے پیڈو حکام کوشمسی توانائی کے منصوبوں کی مانیٹرنگ تیزکرنے کے احکامات بھی جاری کئے۔ اس دوران وہ مقامی افراد سے ملے اور ان سے منصوبے کے ثمرات کے حوالے سے ان کی آراء حاصل کیں۔ اس موقع پر متعلقہ افسران نے انہیں سولرائزیشن منصوبے کے تحت مذکورہ اضلاع میں منصوبے پر جاری پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ منصوبے کی بروقت تکمیل اور معیاری آلات کی تنصیب کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ صوبائی حکومت کے اس اہم فلیگ شپ منصوبے سے زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہوسکیں۔طارق سدوزئی نے مزید بتایا کہ پیڈو کے تحت اسکولوں اور دیگر سرکاری عمارتوں کو بھی شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لئے عملی اقدامات جاری ہیں۔

صوبائی وزیر لائیو سٹاک، فیشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی کی زیر صدارت گڈ گورننس روڈ میپ پر عملدرآمد کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد

صوبائی وزیر لائیوسٹاک، فیشریز و کوآپریٹو فضل حکیم خان یوسفزئی کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ پشاور میں محکمہ لائیو سٹاک، فیشریز و کوآپریٹیو میں گڈ گورننس روڈ میپ پر عملدرآمد کے حوالے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈیولپمنٹ کی کارکردگی اور گڈ گورننس روڈ میپ پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری لائیوسٹاک، فشریز و کوآپریٹو طاہر خان اورکزئی، ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک توسیع ڈاکٹر اصل خان اور ڈائریکٹر لائیوسٹاک ضم شدہ اضلاع ڈاکٹر وحید اللہ وزیر نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران محکمہ لائیوسٹاک کی سروس ڈلیوری، ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کے دورے اور چیف سیکرٹری آفس کی ٹیم کے فیلڈ وزٹس سمیت مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ صوبائی وزیر لائیوسٹاک فضل حکیم خان یوسفزئی نے اس موقع پر ہدایت کی کہ تمام ضلعی ڈائریکٹرز لائیوسٹاک کا اجلاس بلایا جائے تاکہ صوبے کے تمام اضلاع میں گڈ گورننس روڈ میپ اور سروس ڈلیوری کے حوالے سے جامع اور مؤثر حکمت عملی تیار کی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا اور محکمے کی کارکردگی میں مزید شفافیت اور بہتری لانا ہے۔ وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گڈ گورننس کے اصولوں پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا تاکہ عوام تک خدمات کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔

گورنر ہاؤس پشاور میں تعلیمی شعبہ میں مصنوعی ذہانت سے متعلق تربیتی سیشن کا انعقاد

گورنر ہاؤس پشاور میں بدھ کے روز تعلیمی شعبہ میں مصنوعی ذہانت سے متعلق تربیتی سیشن کا انعقاد کیاگیا.  گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی. سیشن میں سنیئر ٹرینر عظمی اجمل ، ماہرین تعلیم اور طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر آرٹیفیشل انٹلی جنس سے متعلق بنیادی ضروریات اور اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی، تاکہ نوجوان نسل جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر ملکی معیشت کے استحکام اور ترقی میں کردار ادا کرسکے۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے تربیتی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ کی ضرورت پر زور دیا. فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پر عبور حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تعلیمی شعبہ سمیت تمام شعبوں میں دنیا مصنوعی ذہانت سبقت حاصل کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے نوجوانوں بالخصوص خواتین کیلئے مصنوعی ذہانت کی تعلیم اور تربیتی سیشنز احسن اقدام ہیں، عالمی دنیا کے چیلینجز کا مقابلہ کرنے کیلئے صوبہ کے نوجوانوں کو مصنوعی زہانت سمیت تمام جدید علوم میں مہارت حاصل کرنی ہو گی، انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے تعلیم کے بعد روزگار کا حصول سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اکثر خواتین کو ان کی تعلیمی قابلیت کے مطابق مواقع نہیں ملتے. اخر میں ٹرینرز کو ایوارڈز دیے گئے جبکہ ادارے کی جانب سے گورنر کو یادگاری شیلڈ بھی پیش کی گئ

تخت بھائی میں دل کے علاج کی سہولتوں میں توسیع کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے

تخت بھائی میں دل کے علاج کی سہولتوں میں توسیع کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مشیر صحت خیبر پختونخوا احتشام علی نے ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر شاہد یونس، چیف پلاننگ آفیسر، ہسپتال ڈائریکٹر پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی قاضی سعد اور دیگر متعلقہ عملے کے ہمراہ تخت بھائی گنج ہسپتال کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے مجوزہ سٹیلائٹ سنٹر کی تعمیر سے متعلق فزیبلٹی پر اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لینا تھا۔ مشیر صحت کو منصوبے کی موجودہ صورتحال، مجوزہ ڈیزائن اور آئندہ کے مراحل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔منصوبے کے لیے بجٹ میں فنڈز پہلے ہی مختص اور ریلیز کیے جا چکے ہیں، اور تعمیراتی کام بہت جلد شروع ہونے والا ہے۔ سٹیلائٹ سنٹر کے قیام سے تخت بھائی اور گرد و نواح کے عوام کو دل کے علاج کی جدید سہولتیں مقامی سطح پر دستیاب ہوں گی، جس سے بڑے شہروں کا بوجھ کم ہوگا اور مریضوں کو بروقت علاج میسر آئے گا۔اس موقع پر مشیر صحت احتشام علی نے کہا کہ حکومت صحت کے شعبے میں سہولتوں کی فراہمی اور توسیع کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولتیں فراہم کرنا موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، اور تخت بھائی میں کارڈیالوجی سٹیلائٹ سنٹر کا قیام اسی وژن کی عملی تعبیر ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کی تکمیل مقررہ وقت میں یقینی بنائی جائے تاکہ عوام جلد از جلد اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔یہ اقدام خیبر پختونخوا میں صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات اور سہولتوں کی توسیع کی ایک اہم کڑی ہے، جو عوامی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کے سنجیدہ عزم کا مظہر ہے

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (این ایچ اے) کے چیئرمین محمد شہریار سلطان سے منگل کے روز اسلام آباد میں ملاقات کی

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (این ایچ اے) کے چیئرمین محمد شہریار سلطان سے منگل کے روز اسلام آباد میں ملاقات کی۔
ملاقات میں خیبرپختونخوا میں جاری اور آئندہ مجوزہ شاہراہوں کے ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
چیئرمین این ایچ اے نے گورنر کو این ایچ اے کے تحت جاری اہم منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے حالیہ سیلاب کے نتیجے میں خیبرپختونخوا میں سڑکوں اور شاہراہوں کو پہنچنے والے نقصانات اور ان کی بحالی کے کام سے بھی گورنر کو آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ سڑکوں کی فوری مرمت اور بحالی کا کام شروع کر دیا گیا ہے اور انہیں جلد از جلد بحال کر کے دوبارہ فعال بنایا جائے گا۔
ملاقات میں تونسہ تا ڈیرہ اسماعیل خان روڈ منصوبے پر بھی گفتگو ہوئی۔ گورنر نے کہاکہ اس منصوبے میں ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقوں نائیوالہ اور پروا کے بائی پاس کو بھی شامل کیا جائے تاکہ ان علاقوں کے عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں گورنر خیبر پختونخوا نے سی پیک موٹر وے پر پہاڑپور، پنیالہ اور شاہ عیسیٰ انٹرچینجز کی تعمیر جلد از جلد مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ان علاقوں کے مکین بھی موٹر وے کی سہولت سے مستفید ہو سکیں۔گورنر فیصل کریم کنڈی نے خیبرپختونخوا میں سیلاب سے متاثرہ سڑکوں کی بحالی اور تعمیرِ نو میں این ایچ اے کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ این ایچ اے ایک مثالی قومی ادارہ ہے جو عوام کو سفر کی بہتر سہولیات فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا

پیسکو اورپیڈوکے درمیان کوٹوپن بجلی منصوبے سے بجلی کی فروخت کامعاہدہ

خیبرپختونخواحکومت نے توانائی کے شعبے میں کامیابی کا ایک اوراہم سنگ میل عبورکرتے ہوئے اپنے وسائل سے ضلع لوئردیر میں 40.8میگاواٹ کوٹوپن بجلی منصوبے کی کامیاب تکمیل کے بعد بجلی کی فروخت کے سلسلے میں وفاقی ادارے پیسکو کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرلئے ہیں۔کوٹوپن بجلی منصوبے سے ایک طرف سالانہ 207گیگاواٹ سستی بجلی پیداہوگی تودوسری طرف اس اہم منصوبے سے صوبے کو سالانہ 2ارب روپے کی آمدن ہوگی۔ اس سلسلے میں وفاقی توانائی کے ادارے پشاورالیکٹرک سپلائی کمپنی(پیسکو) اورصوبائی محکمہ توانائی وبرقیات کے ذیلی ادارے پختونخواانرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن(پیڈو)کے درمیان کوٹوپن بجلی منصوبے سے پیداہونے والی بجلی کی فروخت کے لئے Power Acquisition Contractپر دستخط کے حوالے سے واپڈاہاؤس پشاورمیں ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکے معاون خصوصی برائے توانائی انجینئرطارق سدوزئی،سابق صوبائی وزیر وچیئرمین پیسکوبورڈحمایت اللہ خان،سیکرٹری توانائی وبرقیات زبیرخان،چیف ایگزیکٹوپیسکواخترحمید،چیففانجینئرپیڈوعزیزباچا،ڈائریکٹرجنرل Miradعاطف جوادنے شرکت کی۔تقریب کے آغاز میں ابتدائی کلمات بیان کرتے ہوئے معاون خصوصی توانائی انجینئرطارق سدوزئی نے کوٹوپن بجلی منصوبے کی تکمیل کوصوبے کی معیشت کے استحکام کی طرف ایک تاریخی کامیابی قراردیتے ہوئے کہاکہ اس منصوبے سے ایک طرف ماحول دوست سستی بجلی پیداہوگی تودوسری طرف نیشنل گرڈ میں بجلی کی فراہمی سے درپیش بجلی کے بحران پرقابوپانے میں معاون ثابت ہوگی۔ انہوں نے بجلی کی فروخت کے سلسلے میں سیکرٹری توانائی اورپیڈوکے جملہ افسران ڈائریکٹرزپیڈوفرازخان،سیدآصف رضا،جنیداقبال،مقیم الدین اورپراجیکٹ ڈائریکٹرسلطان روم کی کاوشوں کوسراہااورامیدکااظہارکیاکہ پیڈوکے دیگرمکمل ہونے والے بجلی کے منصوبوں سے پیداہونے والی بجلی کی فروخت کے معاہدے کامیابی کے ساتھ طے پاجائیں گے۔ انہوں نے وفاق کے ذمہ پیہوراورمچئی پن بجلی منصوبوں سے پیداہونے والی بجلی کی فروخت کے سلسلے میں پیسکوکے ذمے بقایاجات کی ادائیگی یقینی بنانے پر زوردیتے ہوئے مسئلے کے جلد حل کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے کاعزم دھرایا۔تقریب کے اختتام پر پیسکو اورپیڈوحکام کی جانب سے دونوں اداروں کے افسران کو اعزازی شیلڈزدینے کابھی تبادلہ کیاگیا۔

 گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم کی ماحولیاتی تبدیلی کی فوکل پرسن اور کوآرڈینیٹر رومینہ خورشید عالم سے وزارت ماحولیات اسلام آباد میں ملاقات  کی

 گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم کی ماحولیاتی تبدیلی کی فوکل پرسن اور کوآرڈینیٹر رومینہ خورشید عالم سے وزارت ماحولیات اسلام آباد میں ملاقات  کی، ملاقات میں خیبرپختونخوا میں حالیہ سیلاب متاثرین کو فوری امداد فراہم کرنے، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔پرنسپل سیکرٹری برائے گورنر زبیرارشدبھی اس موقع پر موجودتھے۔
فوکَل پرسن نے گورنرکو یقین دہانی کروائی کہ وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی سیلاب متاثرین کو فوری اور بھرپور امداد فراہم کرے گی تاکہ ان کی بحالی کے عمل میں کوئی تاخیر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ ہم تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ایک جامع حکمت عملی تیار کریں، جو نہ صرف ہنگامی امداد فراہم کرے بلکہ مستقبل میں قدرتی آفات سے بچاؤ کو بھی یقینی بنائے۔اس موقع پر فوکل پرسن رومینہ خورشیدنے یہ تجویز بھی دی کہ گورنر ہاؤس پشاور میں ایک ”گورنر لیگیسی سینٹر” قائم کیا جائے، جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے پائیدار (climate-resilient) انفراسٹرکچر اور صحت کے منصوبوں کا مرکز ہو۔ یہ سینٹر بین الاقوامی ڈونرز کی مدد سے چلایا جائے گا اور اس کا مقصد صوبے میں جدید، ماحولیاتی تحفظ پر مبنی ترقیاتی منصوبوں کو فروغ دینا ہوگا۔
گورنر خیبر پختونخوا نے وفاقی حکومت کی حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ صوبائی سطح پر مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں نے وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی اور گورنر خیبر پختونخوا کے دفتر کے درمیان قریبی روابط قائم کرنے پر زور دیا تاکہ مستقبل کے تمام ماحولیاتی اور ترقیاتی اقدامات کو مؤثر اور مربوط طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیاگیا کہ سسٹینبل سٹیزگلوبل لمیٹیڈ کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے (climate-resilient) انفراسٹرکچرکی مدمیں مستقبل میں پاکستان میں انویسمنٹ پربھرپور تعاون کیاجائیگا

محکمہ توانائی کا جائزہ اجلاس، منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ

محکمہ توانائی خیبرپختونخوا کا جائزہ اجلاس وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے توانائی طارق محمود سدوزئی اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری توانائی اور سی ای او خیبرپختونخوا ٹرانسمیشن اینڈ گرڈ سسٹم کمپنی بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں صوبے کے توانائی کے مسائل، پن بجلی کے منصوبوں، بین الاقوامی ترقیاتی پارٹنرز کے تعاون سے جاری منصوبوں اور وفاقی حکومت کے ساتھ زیر غور آنے والے معاملات خصوصاً نیٹ ہائیڈل پرافٹ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبے کی پہلی صوبائی ٹرانسمیشن لائن پر کام جاری ہے۔ یہ 40 کلومیٹر طویل 132/220 کے وی لائن سوات میں مٹلتان سے مدین تک بچھائی جا رہی ہے، جو 84 میگاواٹ مٹلتان ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سمیت دیگر منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی کو قومی گرڈ تک پہنچانے یا مقامی صنعتوں کو رعایتی نرخوں پر فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ منصوبے کے فیز ٹو میں 80 کلومیٹر اضافی لائن مدین سے چکدرہ تک بچھائی جائے گی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سوات کوریڈور میں سیکڑوں میگاواٹ استعداد کے حامل کئی پن بجلی کے منصوبے زیر تکمیل ہیں۔اس موقع پر ٹرانسمیشن لائن ٹاورز کی تنصیب اور اس سلسلے میں مقامی کمیونٹی کے ساتھ روابط کے حوالے سے پیش رفت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) کی استعداد کا آڈٹ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر پیڈو کی تعیناتی مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی اور ادارے کی استعداد کار بڑھانے کے لئے ناگزیر ہے۔چیف سیکرٹری نے زور دیا کہ تمام منصوبوں اور ٹرانسمیشن لائنز کے لئے واضح ایکشن پلان اور ٹائم لائنز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ منصوبے بروقت مکمل ہو سکیں۔

Media Enclave in New Peshawar Valley Housing Scheme – Chief Secretary Reviews Progress

A high-level meeting regarding the establishment of the Media Enclave in the New Peshawar Valley Housing Scheme was held Tuesday under the chairmanship of Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa, Shahab Ali Shah. Secretary Information and Public Relations Dr. Muhammad Bakhtiar Khan, Press Registrar Ansar Khilji, Director General Housing Imran Wazir, President Peshawar Press Club M. Riaz, and senior journalists attended the meeting.

The Chief Secretary directed the concerned departments to complete all spade work and formalities by October this year, ensuring that original allotment letters are handed over to journalists by the Chief Minister in November.

He stressed the importance of timely delivery, noting that the Media Enclave was a longstanding demand of the journalist community and a key initiative of the government.
Chief Secretary Shahab Ali Shah further announced that, on the recommendations of President Peshawar Press Club M. Riaz, housing schemes in other districts of the province would also be identified to provide similar residential facilities to journalists on the pattern of Peshawar Press Club. This, he said, would ensure that media professionals across Khyber Pakhtunkhwa have access to secure and well-planned housing.

Highlighting the government’s vision for climate-resilient development, he underlined that residents of new housing schemes would be required to plant a specified number of trees and saplings according to the size of their plots. He added that the government would not allow housing schemes to be developed in green or cultivated areas, making it clear that only barren (brown) land would be utilized to protect agriculture and the environment.

Speaking on the occasion, President Peshawar Press Club M. Riaz praised the efforts of the Chief Secretary, stating that the Media Enclave project once seemed impossible had been made possible due to the Chief Secretary’s personal commitment and support to the media fraternity.
Earlier, DG Housing Imran Wazir made a detailed presentation highlighting the facilities, connectivity, access points, green belts, and progress achieved so far in the New Peshawar Valley Housing Scheme. Senior journalists Shamim Shahid, Ismail Khan, Arshad Aziz Malik, Kashifuddin, and Faridullah Khan were also present at the meeting.

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت خیبر پختونخوا میں سیاحت کے فروغ کے لئے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت خیبر پختونخوا میں سیاحت کے فروغ کے لئے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ قدرتی حسن، بلند و بالا پہاڑوں، سرسبز وادیوں اور تاریخی و مذہبی مقامات سے مالا مال ہے اور یہی وہ وسائل ہیں جو خیبر پختونخوا کو ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے لئے ایک پرکشش مقام بناتے ہیں۔پشاور یونیورسٹی میں سیاحت کے عالمی دن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر اطلاعات نے کہا کہ موجودہ حکومت نے “ٹیررازم سے ٹورازم” کے وژن کے تحت پالیسی مرتب کی ہے جو بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے وژن کی عکاسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں دہشت گردی اور انتہا پسندی نے صوبے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا، تاہم آج حکومت کے موثر اقدامات اور عوامی تعاون کی بدولت خیبر پختونخوا سیاحت کے لئے ایک محفوظ اور پرامن خطہ بن رہا ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ ایڈونچر ٹورازم کے فروغ کے ساتھ ساتھ مذہبی سیاحت کو بھی خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ گندھارا تہذیب کے تاریخی مقامات، بدھ مت کے آثار قدیمہ اور دیگر مذہبی ورثہ عالمی سیاحوں کے لئے غیر معمولی کشش رکھتے ہیں۔ اسی طرح، وادی کالام، کمراٹ، گلیات، ناران اور دیگر خطے ایڈونچر اور قدرتی حسن کے اعتبار سے عالمی معیار کی سیاحت کے مراکز ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے نئے ٹورازم زونز کے قیام، سیاحتی انفراسٹرکچر کی بہتری، سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور نجی شعبے کی شمولیت کے ذریعے سیاحتی شعبے کو معاشی ترقی کا بنیادی انجن بنانے کا تہیہ کیا ہے۔ سیاحت کے فروغ سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ صوبے کی معیشت بھی مضبوط ہو گی۔مشیر اطلاعات نے طلباء اور اساتذہ پر زور دیا کہ وہ صوبے کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل ہمارے لئے سفیر کی حیثیت رکھتی ہے اور وہ سیاحت کے فروغ کے ذریعے دنیا کو خیبر پختونخوا کا اصل اور خوبصورت چہرہ دکھا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اس وژن پر عمل پیرا ہے کہ خیبر پختونخوا کو دہشت گردی کے بجائے سیاحت اور امن کا گہوارہ بنایا جائے۔تقریب کے بعد میڈیا نمائندوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ خود کو عالمی وزیراعظم کہنے والے شہباز شریف پاکستان میں فارم 47 کی بنیاد پر وزیراعظم بنے ہیں اور ان کے پاس عوامی مینڈیٹ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے ہمیشہ عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف پر اعتماد کیا ہے اور یہ اعتماد آئندہ بھی قائم رہے گا۔انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی حالیہ ملاقات کے بارے میں کہا کہ یہ ملاقات خوشگوار رہی۔ اس دوران عمران خان نے وزیراعلیٰ کو صوبائی محکموں کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ ملاقات میں وزراء کی کارکردگی اور حکومتی امور پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے افغانستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے امن و امان کے لئے افغانستان کے ساتھ باضابطہ بات چیت کے لئے ٹی او آرز وفاق کو بھیج دیے ہیں لیکن وفاقی حکومت ان کی منظوری نہیں دے رہی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختون خوا میں امن قائم رکھنے کے لئے افغانستان کے ساتھ مذاکرات نہایت اہم ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ ایک طرف مریم نواز کو بیرون ممالک کے دوروں پر کوئی قدغن نہیں، لیکن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو افغانستان کے ساتھ ضروری اور اہم بات چیت کے لئے اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے زور دیا کہ وفاقی حکومت کو اس معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ افغانستان سے مذاکرات خیبر پختونخوا میں دیرپا امن کے لئے ناگزیر ہیں۔