Home Blog Page 76

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی وال چاکنگ کے خلاف مرحلہ وار مؤثر کارروائی شروع کرنے کی ہدایت

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایات کی روشنی میں صوبے بھر کی ضلعی انتظامیہ کو دیواروں پر لکھائی (وال چاکنگ) کے خلاف مرحلہ وار مؤثر کارروائی شروع کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اس مہم کے پہلے مرحلے میں قومی یادگاروں، تاریخی مقامات اور ثقافتی ورثے کی عمارتوں کووال چاکنگ سے مکمل طور پر پاک کیا جائے گا، تاکہ صوبے کے تاریخی تشخص اور عوامی مقامات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔چیف سیکرٹری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی مقامات کے تحفظ، شہروں کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے اور قانون کی عملداری حکومت خیبر پختونخوا کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر بر قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم خان ایڈووکیٹ کی زیرِ صدارت پشاور میں ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد

خیبر پختونخوا کے وزیر بر قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم خان ایڈووکیٹ کی زیرِ صدارت پشاور میں ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں سابقہ فاٹا کے مختلف ترقیاتی پراجیکٹس کے تحت ریگولرائز ہونے والے ملازمین کی آسامیوں کو باقاعدہ طور پر صوبائی سیٹ اپ میں شامل کرنے کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان، جبکہ مشیر خزانہ مزمل اسلم نے زوم کے ذریعے شرکت کی۔ اس کے علاوہ محکمہ منصوبہ بندی و ترقی (پی اینڈ ڈی) اور محکمہ اسٹیبلشمنٹ کے اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس کے دوران ”خیبر پختونخوا ریگولرائزیشن آف سروسز آف ایمپلائز آف ارسٹ وہائل فاٹا ایکٹ 2021“ کے تحت مستقل ہونے والے مرجڈ ایریاز کے پراجیکٹس ملازمین اور ان سے منسلک آسامیوں کی قانونی و انتظامی حیثیت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ ان ملازمین کی صوبائی ڈھانچے میں شمولیت ایک حساس اور کثیرالجہتی معاملہ ہے جس میں قانونی تقاضوں، عدالتی فیصلوں اور انتظامی ضروریات کو ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔اجلاس میں پلاننگ کیڈر اور نان پلاننگ کیڈر کی واضح تخصیص پر تفصیلی غور کیا گیا اور اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ اس ضمن میں محکمہ اسٹیبلشمنٹ کے آپریشن اینڈ مینجمنٹ سیکشن کے تعاون سے ایک قابلِ عمل اور قانونی طور پر مضبوط فیزیبل راستہ اختیار کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی انتظامی یا قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔مزید برآں اجلاس میں یہ تجویز بھی زیرِ غور آئی کہ پراجیکٹس کے تحت ریگولرائز ہونے والے ملازمین کی باقاعدہ انکیڈرمنٹ کی جائے اور ریٹائرمنٹ کے بعد ان مخصوص آسامیوں کو ڈائنگ کیڈر قرار دیا جائے تاکہ صوبائی سروس اسٹرکچر پر غیر ضروری مالی اور انتظامی بوجھ نہ پڑے اور سسٹم کی پائیداری برقرار رہے۔وزیر قانون آفتاب عالم خان ایڈووکیٹ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ معاملہ کی حل کے لئیانصاف، شفافیت اور قانون کی مکمل پاسداری کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مروجہ قوانین کی روشنی میں ایک ایسا حل تلاش کرنے کے لیے پرعزم ہے جو نہ صرف ملازمین کے جائز حقوق کا تحفظ کرے بلکہ صوبائی انتظامی ڈھانچے کو بھی مستحکم بنائے۔ اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ تمام قانونی، مالی اور انتظامی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملے کو متعلقہ فورمز پر پیش کیا جائے گا تاکہ حتمی اور قابلِ عمل فیصلہ کیا جا سکے۔

حکومت عوامی خدمت اور ترقیاتی عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔سید فخرجہان

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان نے کہا ہے کہ بنیادی عوامی مسائل کا ازالہ کرنا اور عوام کو ہر طرح سے ریلیف و سہولت فراہم کرنا صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ بانی چیئرمین عمران خان کے ویژن کے تحت وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی سرپرستی میں عوامی خوشحالی کے لیے اقدامات اٹھانا اور عوامی بنیادی ضروریات اور مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہماری حکومت کا بنیادی محور و مقصد ہے۔وہ حلقہ نیابت پی کے 26 بونیر کے دورے کے دوران پبلک ڈے کے موقع پر اپنی رہائش گاہ پر عوامی وفود سے ملاقاتیں کر رہے تھے۔اس موقع پر پی کے 26 اور ضلع بونیر کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے مختلف وفود نے صوبائی وزیر سے ملاقاتیں کیں اور انہیں درپیش مسائل کے حوالے سے اپنے معروضات پیش کیئے۔صوبائی وزیر نے عوام کی باتیں نہایت توجہ سے سنیں اور متعدد مسائل کے فوری حل کے لیے متعلقہ محکموں اور افسران کو موقع پر ہی واضح احکامات جاری کیے۔ سید فخرجہان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت عوامی امنگوں کے مطابق صوبے کے عوام کی ترقی اور انھیں سہولیات بہم پہنچانے پر یقین رکھتی ہے اور اس سلسلے کسی بھی سرکاری ادارے کی جانب سے تاخیر یا غفلت نہیں ہونی چاہیے۔انھوں نے کہا کہ پبلک ڈے کا مقصدعوام کے پاس جاکرلوگوں کے مسائل بلاواسطہ سن کر انھیں ریلیف پہنچانا ہوتا ہے تاکہ اس سلسلے میں فوری اور مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔سید فخرجہان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت عوامی خدمت اور ترقیاتی عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اور اس سلسلے میں کسی بھی پہلو سے محکموں کی جانب سے تاخیر قبول نہیں۔انھوں نے کہا کہ صوبے اور بونیر کے عوام کی خدمت ان کی ذمہ داری ہے اور بطور عوامی نمائندہ وہ اپنے عوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔دریں اثناء صوبائی وزیر سے ماربل ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے ملاقات کی اور انھیں اپنے کاروبار اور صنعت کو درپیش بعض مسائل سے آگاہ کیا۔صوبائی وزیر نے وفد کے شرکاء کو اپنی طرف سے ممکنہ تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ حکومت صوبے میں صنعت کاری اور کاروبار کے فروغ پر یقین رکھتی ہے اور یہ حکومت کا عزم ہے کہ یہاں پر کاروباری اور صنعت کے طبقات کو آسانیاں اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔

ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری پاک چین دوستی

تحریر: ڈاکٹر انجینئر محمد اطہر سوری

وقت کے بے رحم سمندر میں جہاں مفادات کے جزیرے بنتے اور بگڑتے رہتے ہیں، وہاں پاک چین دوستی ایک ایسے روشن مینار کی مانند ہے جس کی لو کبھی مدہم نہیں ہوئی۔ یہ رشتہ محض دو ملکوں کے نقشوں کا ملاپ نہیں، بلکہ یہ دو عظیم تہذیبوں کے درمیان وفا کا وہ میثاق ہے جو ہمالیہ کی برف پوش چوٹیوں پر بڑے جلی حروف میں لکھا جا چکا ہے۔ اسے دنیا “ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری دوستی” کہتی ہے، مگر درحقیقت یہ وہ رشتہ ہے جو لفظوں کی قید سے آزاد اور ضرورتوں کے ترازو سے ماورا ہے۔

جب ہم شمال کی بلند و بالا چوٹیوں کی طرف دیکھتے ہیں، تو شاہراہِ ریشم کے سنگلاخ راستے ہمیں ایک انوکھی کہانی سناتے ہیں۔ یہ کہانی ان مزدوروں اور انجینئرز کے خون سے لکھی گئی ہے جنہوں نے دنیا کے دشوار گزار ترین پہاڑوں کو کاٹ کر شاہراہِ قراقرم بنائی۔ وہ پہاڑ جو بظاہر ناقابلِ تسخیر تھے، پاک چین دوستی کے عزم کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے۔ آج یہ راستہ صرف سڑک نہیں، بلکہ وفا کی ایک ایسی شہ رگ ہے جو بیجنگ کے دل کو اسلام آباد کی دھڑکنوں سے جوڑتی ہے۔

پاکستان اور چین کی یہ رفاقت محض سفارتی نہیں بلکہ بے حد “مہربان” اور ایثار سے بھرپور ہے۔ چین نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ہاتھ تھاما ہے، چاہے وہ ایٹمی پروگرام ہو، دفاعی خود انحصاری ہو یا معاشی بحران۔ دوسری طرف، پاکستان نے اس وقت چین کا ساتھ دیا جب دنیا اسے تنہا کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ پاکستان نے چین کے لیے عالمی دنیا کے دروازے کھولے اور ہر فورم پر چین کے موقف کی اپنی آواز سے بڑھ کر حمایت کی۔ یہ دو طرفہ مہربانی ہی ہے کہ آج دونوں ممالک ایک دوسرے کے “آہنی بھائی” کہلاتے ہیں۔

سیاسی اور معاشی میدان میں سی پیک (CPEC) محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ اس بھروسے کا نام ہے جہاں چین نے اپنے مستقبل کے خوابوں کو پاکستان کی مٹی میں بویا ہے۔ گوادر کی لہریں آج ایک نئی صبح کا پتہ دے رہی ہیں، جہاں مشرق اور مغرب کا ملاپ ہونے والا ہے۔ یہ شراکت داری ثابت کرتی ہے کہ جب دو قومیں ایک دوسرے پر کامل بھروسہ کرتی ہیں، تو ترقی کے بند دروازے خود بخود کھلنے لگتے ہیں۔ چینی قیادت کا پاکستان پر یہ خاص کرم ہے کہ وہ اپنی ٹیکنالوجی اور وسائل کو پاکستان کی معیشت کی بہتری کے لیے وقف کر رہے ہیں۔

دفاعی میدان میں جے ایف-17 تھنڈر کی گھونج ہو یا زلزلے اور سیلاب جیسی قدرتی آفات میں ایک دوسرے کی مدد، دونوں ممالک نے ثابت کیا ہے کہ سچی دوستی صرف لفظوں میں نہیں بلکہ عمل میں چھپی ہوتی ہے۔ یہ لافانی دوستی اب نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے۔ آج کا پاکستانی نوجوان چینی زبان سیکھ رہا ہے اور چینی ماہرین پاکستان کے صنعتی ڈھانچے کو جدید بنانے میں اپنا پسینہ بہا رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا سدا بہار درخت ہے جس کی جڑیں زمین کی گہرائیوں میں ہیں اور شاخیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔

آنے والا مورخ جب بھی ایثار اور ثابت قدمی کی تاریخ لکھے گا، وہ اس دوستی کا تذکرہ سنہرے حروف میں کرے گا۔ یہ دوستی اب ایک ایسی حقیقت بن چکی ہے جسے نہ کوئی سازش کمزور کر سکتی ہے اور نہ ہی وقت کی دھول دھندلا سکتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کے پاک چین دوستی کی یہ مشعل اب بجھنے والی نہیں، کیونکہ یہ ان جذبوں سے روشن ہے جو مٹی سے پیدا ہوتے ہیں اور تاریخ بن کر امر ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ سفر ہے جو کل بھی تابندہ تھا، آج بھی درخشندہ ہے اور آنے والے کل میں پوری دنیا کے لیے امن، ترقی اور بے مثال مہربانی کا استعارہ ثابت ہوگا۔

Khyber Pakhtunkhwa’s Public Day initiative is aimed at ensuring swift, transparent and sustainable resolution of citizens’ problems, Special Assistant to the Chief Minister on Information and Public Relations Shafiullah jan said on Sunday.

Speaking to the media during a Public Day at his office in Hangu Phatak, Kohat, Shafi Jan said the provincial government was committed to narrowing the gap between the administration and the public by taking governance directly to people’s doorsteps. He said the initiative was designed to speed up decision-making and deliver immediate relief to the citizens.
Large numbers of residents from Kohat and adjoining areas, including social activists and community elders, attended the session and raised concerns ranging from electricity, gas and water shortages to sanitation, dilapidated roads, drainage, healthcare and education facilities, as well as delays in government offices.
Shafi Jan heard the grievances patiently and issued on-the-spot telephonic and written directives to the concerned departments, instructing officials to resolve the issues on a priority basis. He warned that negligence or unnecessary delays in addressing public complaints would not be tolerated. He said the Khyber Pakhtunkhwa government, under the dynamic leadership of Chief Minister Sohail Afridi, was pursuing people-centric policies, adding that Public Day forums were a key part of that approach. He directed the officials to conduct field visits and assess problems firsthand rather than relying solely on paperwork.
All complaints received during the Public Day are being formally recorded and their progress will be monitored closely, he said, stressing that public trust was the government’s most valuable asset.
Public service is a sacred responsibility, Shafi Jan added, pledging that all available resources would be mobilized to ensure timely relief for the people.

Khyber Pakhtunkhwa Minister for Health, Mr. Khaliq Ur Rehman, attended a two-day conference organized by the Pakistan Medical Association (PMA) at Postgraduate Medical Institute (PGMI), Hayatabad, Peshawar

Khyber Pakhtunkhwa Minister for Health, Mr. Khaliq Ur Rehman, attended a two-day conference organized by the Pakistan Medical Association (PMA) at Postgraduate Medical Institute (PGMI), Hayatabad, Peshawar. Addressing the participants, the Minister appreciated the leadership and members of the Pakistan Medical Association and termed them a role model for their professional services and positive contributions to the healthcare sector.
The Minister stated that Khyber Pakhtunkhwa is a leading province in the provision of healthcare facilities and highlighted that the Sehat Card Plus facility is available to every CNIC holder of the province. He added that KP is not only providing free healthcare services to its own citizens but is also extending this facility to residents of Gilgit-Baltistan, while patients from Punjab are also benefiting from treatment at KP’s hospitals.
He further informed that since the formation of the PTI-led provincial government in 2015, the health index has improved by 49 percent, reflecting the commitment and seriousness of the Health Department and the provincial government. Currently, a total budget of Rs. 275 billion is being spent on healthcare, which continues to increase, placing a significant burden on the provincial exchequer.
The Minister shared that the Health Department is formulating a new Health Policy with a strong focus on primary healthcare and disease prevention. He emphasized that a large number of patients visit hospitals due to lack of awareness and unhealthy lifestyles, stressing the need to adopt balanced diets, hygienic food habits, and regular exercise to build a healthy society.
Highlighting ongoing reforms, the Minister said that the government’s main objective is to revamp primary healthcare facilities at the district level in order to reduce the patient load on big care hospitals. He urged doctors to ensure punctuality, work with honesty, and function as a team, clearly stating that there is zero tolerance for negligence in the line of duty.
He concluded by stating that a transparent and strict mechanism of checks and balances is in place, and a comprehensive monitoring policy is being introduced to strengthen the system. He expressed confidence that, God willing, the public will soon witness positive and visible improvements in the healthcare system across the province.

‏پاکستان میں بڑھتی غربت کا اثر لوگوں کی خوراک تک پہنچ گیا ہے آٹا، دالیں، گوشت اور دودھ عوام کی پہنچ سے باہر ہوگئے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

پاکستان میں بڑھتی غربت کا اثر لوگوں کی خوراک تک پہنچ گیا ہے آٹا، دالیں، گوشت اور دودھ عوام کی پہنچ سے باہر ہوگئے۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے اپنے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ادارہ شماریات کے مطابق 2025 کی بجائے 2005 میں اوسطاً عوام کو آٹا زیادہ نصیب ہوتا تھا اور سال 2025 میں کوکنگ آئل، چکن، انڈے، پیاز، چینی اور چائے کا استعمال بھی کم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ٹماٹر کی مقدار میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور ملک میں 21 فیصد بے روزگاری کے ساتھ بھوک اور افلاس کے دائرہ میں بھی پھس چکا ہے حکمران خواب غفلت سے باہر آنے کا سوچ ہی نہیں رہے۔

محکمہ ایکسائز کی منشیات کے خلاف بڑی کارروائی،منشیات سمگلنگ کی کوشش ناکام

محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول نے صوبائی حکومت کی انسداد منشیات کے خلاف زیروٹالرنس پالیسی اور وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کی ہدایات کے تسلسل میں صوبہ بھر میں منشیات کے کاروبار اور اس میں ملوث عناصر کے خلاف موثر کاروائیوں میں نئے سال کے آغاز سے مزید تیزی لاتے ہوئے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔
اس سلسلے میں ضلع خیبر میں ایکسائز اسپیشل سکواڈ نے ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے منشیات کی بھاری مقدار سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔
محکمہ ایکسائز کے مطابق کارروائی کے دوران 12.5 من (504000 گرام) چرس برآمد کی گئی جبکہ ایک ملزم کو گرفتار کر کے اس کے خلاف مقدمہ  بھی درج کر لیا گیا ہے۔
مذکورہ کاروائی سید نوید جمال ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر (ریہیب) و انچارج پراوینشل ایکسائز ویئر ہاؤس کو ملنے والی خفیہ اطلاع پر عمل میں لائی گئی اور انکی زیر نگرانی عنایت الرحمن انسپکٹر انچارج ایکسائز اسپیشل سکواڈ بمعہ دیگر نفری اور ماجد خان ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر نارکوٹکس کنٹرول کی  زیر نگرانی ماجد حسین ایس ایچ او تھانہ ایکسائز خیبر، شہریار خان سب انسپکٹر اور صالح محمد ودیگر  نفری نے ALC تھانے کے قریب عمل میں لائی گئی جس میں منشیات  کی ایک بھاری کھیپ پکڑلی گئی۔
 منشیات سمگلنگ کی یہ کوشش ناکام بناتے ہوئے دوران تلاشی گاڑی نمبر AUS 188 سے 12.5 من (504000 گرام) چرس برآمد کی گئی جبکہ ملزم محمد نعیم خان ولد فیاض حسین ساکن بہاولپور کو موقع پر گرفتار کر کے مذید تفتیش کے لئے تھانہ ایکسائز خیبر میں مقدمہ درج کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت نے انسدادِ منشیات کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی ہوئی ہے اور اس ضمن میں صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کی واضح ہدایات پر سیکریٹری محکمہ ایکسائز خالد الیاس اور ڈائریکٹر جنرل ایکسائز عبدالحلیم خان کی سرپرستی میں منشیات کے کاروبار کے خلاف بھرپور اور مؤثر کارروائیاں جاری ہیں۔
صوبائی وزیر ایکسائز سید فخر جہان نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ منشیات کی اسمگلنگ اور فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل درآمد ہر حال میں یقینی بنایا جائیگا۔ ایکسائز فورس کو مزید متحرک اور مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ صوبے کو منشیات سے پاک کیا جا سکے۔
اس طرح حکومتِ خیبر پختونخوا منشیات کے خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور عوام کی جان و مال  کے تحفظ اور نوجوان نسل کے محفوظ مستقبل کے لیے پرعزم ہے۔

Youth Social Media Change Makers Summit held at UoP Baragali Campus.

A three-day Youth Social Media Change Makers Summit concluded at the Baragali Campus of the University of Peshawar, bringing together young social media enthusiasts from across Khyber Pakhtunkhwa to explore the constructive role of digital platforms in youth empowerment and social development.
The summit was held from December 31, 2025 to January 2, 2026, and was organized by WQ Software’s in collaboration with the Department of History, University of Peshawar, with sponsorship from the Directorate of Youth Affairs, Khyber Pakhtunkhwa.
Around 50 youth participants from different districts of Khyber Pakhtunkhwa took part in the event. The sessions focused on the importance of social media as a tool for positive change, responsible digital citizenship, youth-led advocacy, storytelling for social impact, and countering misinformation.
Speakers and facilitators highlighted how social media, when used ethically and strategically, can amplify youth voices, promote civic engagement, and support entrepreneurship, education, and community development. Interactive discussions and group activities encouraged participants to design digital campaigns addressing local social issues.
Participants and organizers lauded the Directorate of Youth Affairs, Khyber Pakhtunkhwa, for its continued support in creating learning platforms for young people. The Directorate was appreciated for investing in youth capacity building and recognizing the potential of digital skills in shaping future leadership. Speakers noted that such initiatives reflect the government’s commitment to empowering youth through innovation, inclusion, and forward-looking policies.
Representatives from the organizing team stated that the summit aimed to transform young social media users into responsible change makers, capable of using digital platforms for awareness, social cohesion, and positive narrative building about the province.
At the closing ceremony, participants expressed gratitude to the Directorate of Youth Affairs KP, WQ Software’s, and the University of Peshawar for providing a productive learning environment.
Certificates were distributed among participants, with a resolve to take the lessons learned back to their communities and digital spaces.
The summit concluded with a call for sustained collaboration between public institutions, academia, and the private sector to further strengthen youth engagement through meaningful and ethical use of social media.

Special Assistant to the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa for Information and Public Relations, Shafi Jan, has said that Chief Minister Muhammad Sohail Afridi is taking effective measures to promote good governance and public welfare in the province.

Special Assistant to the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa for Information and Public Relations, Shafi Jan, has said that Chief Minister Muhammad Sohail Afridi is taking effective measures to promote good governance and public welfare in the province.
In a statement issued from his office, Shafi Jan said that the chief minister is personally monitoring the resolution of public issues by visiting the field and ensuring direct engagement with the people. He added that, following the vision and footsteps of PTI founder Imran Khan, Chief Minister Sohail Afridi has launched the “Your Chief Minister, With You” programmed to enable direct public access and promote transparency in government affairs. The initiative, he said, will also help save time and public resources.
The special assistant said that the chief minister held the first-ever online Khuli Kacheri for the people of Bajaur, during which government officials were made directly accountable before the public. In the next phase, similar online Khuli Kacheri will be organized for other districts as well as overseas Pakistanis.
Shafi Jan said that instructions have been issued to start work on Swat Motorway Phase-II at the earliest, which will improve travel facilities in Malakand division and boost tourism. He added that a decision has also been taken to soon lay the foundation stone of the Peshawar–Dera Ismail Khan Motorway.
He said that to address the long-standing deprivations of the merged districts, the chief minister has announced a Rs1,000 billion development packages, while projects worth Rs100 billion will be launched to restore Peshawar’s past glory. Work is progressing at a fast pace to improve the city’s beauty and infrastructure.
Shafi Jan clarified that opposition parties and journalists enjoy complete freedom in Khyber Pakhtunkhwa and that Pakistan Tehreek-e-Insaf firmly believes in the supremacy of democracy.
He said that Chief Minister Sohail Afridi will visit Sindh on Friday along with members of the provincial assembly, where he will meet detained party workers, civil society representatives and party leadership, and will also address a bar association. He added that the street movement is being led personally by the chief minister.
Shafi Jan said that the imprisonment of PTI founder Imran Khan is a case of political victimization and a blatant violation of democratic values.