Home Blog Page 76

صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کی زیرصدارت لیگل کمیٹی کا ایک اہم اجلاس۔

خیبر پختونخوا کے وزیر قانون آفتاب عالم کی زیرصدارت لیگل کمیٹی کا ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں رکن صوبائی اسمبلی صوبیہ شاہد، ممبر صوبائی اسمبلی اختر خان، اور منیر حسین لغمانی اور ارباب محمد عثمان خان نے بذریعہ زوم شرکت کی جبکہ سیکرٹری محکمہ قانون اختر سعید ترک، محکمہ داخلہ، محکمہ قانون، محکمہ پراسکیوشن، ایڈوکیٹ جنرل آفس اور دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں صوبے میں رائج مختلف قوانین اور ان سے جڑے سقم پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا بالخصوص انسدادِ دہشت گردی ایکٹ میں موجود نقائص کی نشاندہی اور اس قانون کو موجودہ زمینی حقائق اور حالات سے ہم آہنگ بنانے کے حوالے سے مختلف تجاویز اور آراء پیش کی گئیں۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ محکمہ داخلہ کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ میں تین اہم ڈسکریپنسیز کی نشاندہی کی گئی ہے، تاہم ایکٹ کا جامع اور ہمہ جہت جائزہ لینے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی (سب کمیٹی) کے قیام کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت سزا و جزا کے نظام کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے محکمہ داخلہ کے حکام نے مختلف تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں مروجہ قوانین، مجوزہ قانونی ترامیم کے مسودات اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی مجموعی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے قانون سازی کے عمل کو مزید مؤثر، شفاف اور آئین کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر اتفاق کیا۔اجلاس کے دوران رکن صوبائی اسمبلی منیر حسین لغمانی نے تفتیش کے معیار کو بہتر بنانے اور انصاف کی فراہمی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔وزیر قانون نے کہا کہ محکمہ داخلہ نے مذکورہ ایکٹ کو پراسکیوشن کے نقطہ نظر سے دیکھا ہے تاہم عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے اس ایکٹ کو تحقیقی بنیادوں پر مطالعہ کرنے ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق، گڈ گورننس، خواتین اور کمزور طبقات کے تحفظ سے متعلق قانونی پہلوؤں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں مؤثر قانون سازی، عدالتی فیصلوں پر بروقت عملدرآمد اور قانونی نظام میں اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ اُنہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ قانونی معاملات میں باہمی رابطہ اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ عوام کو بروقت اور مؤثر انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

باچاخان میڈیکل کمپلیکس ایم ٹی آئی صوابی میں نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹر کا افتتاح

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمن نے باچاخان میڈیکل کمپلیکس ایم ٹی آئی صوابی میں قائم نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سنٹر کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ یہ سنٹر حکومتِ خیبر پختونخوا، بے نظیر نشوونما پروگرام اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے باہمی اشتراک سے قائم کیا گیا ہے۔افتتاحی تقریب میں چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سنٹر روبینہ خالد، ڈائریکٹر جنرل بی آئی ایس پی عاصم اعجاز اور عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں نمائندہ لیو ڈپنگ نے خصوصی شرکت کی، جبکہ ہسپتال انتظامیہ، طبی ماہرین اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمن نے کہا کہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے کو اپنی اولین ترجیح قرار دے چکی ہے اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غذائی قلت کے شکار بچوں کے علاج و نگہداشت کے لیے نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سنٹر کا قیام ایک اہم پیش رفت ہے، جو نوزائیدہ بچوں کی صحت کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔صوبائی وزیرِ صحت نے نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹر کے قیام میں تعاون پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، بے نظیر نشوونما پروگرام اور عالمی ادارہ صحت کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے صحت کے شعبے کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔افتتاح کے بعد صوبائی وزیرِ صحت اور مہمانوں نے سینٹر کا تفصیلی دورہ کیا اور زیر علاج بچوں کے والدین سے ملاقات کر کے فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔ عالمی ادارہ صحت کے نمائندے لیو ڈپنگ نے صحت کے شعبے میں حکومتِ خیبر پختونخوا کے ساتھ مزید تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر ہسپتال ڈائریکٹر نے صوبائی وزیرِ صحت کو گزشتہ سال کے دوران فراہم کی گئی طبی سہولیات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی اور مستقبل میں عوامی سہولت کے لیے شروع کیے جانے والے بڑے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا۔ہسپتال انتظامیہ کے مطابق نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹر 10 بستروں پر مشتمل ہے، جہاں پیدائشی طور پر کمزور اور غذائی قلت کا شکار نوزائیدہ بچوں کو خصوصی طبی نگہداشت، علاج اور غذائی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس سینٹر کے قیام سے نوزائیدہ بچوں کی اموات میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیرِ صدارت ضلع لکی مروت میں محکمہ آبنوشی کی مختلف جاری و مجوزہ سکیموں سے متعلق ایک اہم اجلاس جمعرات کے روز پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیرِ صدارت ضلع لکی مروت میں محکمہ آبنوشی کی مختلف جاری و مجوزہ سکیموں سے متعلق ایک اہم اجلاس جمعرات کے روز پشاور میں منعقد ہوا جس میں لکی مروت کے رکن خیبر پختونخوا اسمبلی جوہر محمد، سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ مسعود یونس، ایڈیشنل سیکرٹری، چیف انجینئر ساؤتھ، ڈائریکٹر ٹیکنیکل اور محکمہ کے دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران رکن صوبائی اسمبلی جوہر محمد نے ضلع لکی مروت میں محکمہ آبنوشی کے تحت جاری واٹر سپلائی سکیموں سے متعلق تفصیلی طور پر آگاہ کیااور نشاندہی کی کہ ان کے حلقے میں بعض واٹر سپلائی سکیمیں تاحال نامکمل ہیں، جن پر اگر کام کی رفتار تیز کی جائے اور معیاری میٹریل کا استعمال یقینی بنایا جائے تو عوام کا دیرینہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن کے عمل میں بھی تیزی لائی جائے تاکہ عوام کو بلا تعطل صاف پانی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے رکن صوبائی اسمبلی نے اجلاس میں یہ تجویز بھی دی کہ وہ ٹیوب ویل آپریٹرز جو اپنی ڈیوٹی میں غفلت برت رہے ہیں اور ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا نہیں کر رہے، ان کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ نظام کی بہتری اور عوامی سہولت کو یقینی بنایا جا سکیصوبائی وزیر فضل شکور خان نے رکن صوبائی اسمبلی کو یقین دہانی کرائی کہ ضلع لکی مروت میں جاری تمام سکیموں پر کام کی رفتار تیز کی جائے گی۔ انہوں نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام ترقیاتی منصوبوں میں معیاری کام اور معیاری میٹریل کے استعمال کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے انہی ٹھیکیداروں کو کام دیا جائے جن کی سابقہ کارکردگی تسلی بخش ہو اور جنہوں نے ماضی میں معیاری کام کیا ہو۔ انہوں نے محکمہ کی ساکھ اور امیج کو بہتر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے تمام افسران کو ایک ٹیم ورک کے طور پر کام کرنا ہوگا اور عوامی مفاد کو ہر صورت ترجیح دی جائے

Peace, Good Governance and Transparency Top Priorities in Khyber Pakhtunkhwa: Shafi Jan

Special Assistant to Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa on Information and Public Relations Shafi Jan has said that ensuring law and order, promoting good governance, and strengthening transparency in government institutions are the top priorities of KP provincial government. for this purpose, Chief Minister Sohail Afridi is personally overseeing all administrative affairs of the province.

He added that to resolve public issues, eliminate corruption and provide services at people doorsteps, Chief Minister Sohail Afridi has initiated a series of online Khuli Kacharis. In this regard, clear directives have also been issued to the administrative secretaries of all government departments.

In a statement issued here, Shafi Jan said that in line with vision of Chief Minister Sohail Afridi, the Khyber Pakhtunkhwa government has introduced a comprehensive system titled “Awam Ka Ehsas” for the effective, prompt and transparent redressal of public complaints. Through this system, citizens can lodge their complaints via various digital and traditional platforms. He described the initiative as a significant step towards good governance.

He further stated that Khyber Pakhtunkhwa has a genuinely elected public government where complete freedom of expression prevails. Chief Minister Sohail Afridi, following the vision of PTI founding chairman Imran Khan, belongs to an middle-class family and under his leadership, a new era of people-oriented governance has begun in the province. he said further that this era will guarantee peace, development, and prosperity.

Special Assistant Shafi Jan asserted that all attempts to malign the Chief Minister will fail, adding that honor and disgrace lie in the hands of Almighty Allah.

He clarified that Khyber Pakhtunkhwa government has also ensured complete freedom of expression for opposition parties and journalists, as freedom of expression strengthens democracy and promotes democratic values.

Shafi Jan further said that Chief Minister Sohail Afridi visit to Sindh has opened a new chapter in the history of street movement. The enthusiasm of the people in Karachi, Hyderabad and other areas is clear evidence of their political awareness. He added that street movement will continue across the country, further mobilizing the public politically and that a system of oppression and fascism will no longer be allowed to prevail.

CM’s aide Shafi Jan Expresses Grief over Tragic Landslide in Gambat, Kohat

Special Assistant to the Chief Minister KP on Information and Public Relations, Shafi Jan, has expressed profound sorrow and grief over the tragic landslide incident in the Gambat area of Kohat district.

He stated that the loss of seven precious lives after incident were buried under the debris is extremely heartbreaking.

Shafi Jan said that Rescue 1122 and other relevant departments responded promptly and immediately launched rescue operations, resulting in the recovery of all the bodies from the rubble.

The Special Assistant said that the provincial government stands in complete solidarity with the bereaved families and will not leave them alone in this difficult hour.

He prayed that Almighty Allah grant eternal peace to the departed souls and bestow patience and strength upon the grieving families.

خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے ریڈیو پاکستان پشاور کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے ریڈیو پاکستان پشاور کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس کا مقصد ریڈیو پاکستان پشاور میں 9 اور 10 مئی 2023 کو پیش آنے والے واقعے کا تفصیلی جائزہ لینا تھا۔ اجلاس کی صدارت صوبائی وزیر قانون اور چیئرمین خصوصی کمیٹی افتاب عالم نے کی۔اجلاس میں خصوصی کمیٹی کے اراکین و ممبران صوبائی اسمبلی طارق سعید، ملک عدیل اقبال، محمد اسرار، سمیع اللہ، احمد کنڈی اور سجاد اللہ شریک تھے اس کے علاوہ محکمہ قانون، محکمہ پولیس، متعلقہ محکموں کے افسران اور صوبائی اسمبلی کے افسران نے بھی شرکت کی-اجلاس کے دوران ریڈیو پاکستان پشاور میں پیش آنے والے واقعے کی اصل وجوہات اور اب تک کی گئی تحقیقات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر اس امر پر بھی غور کیا گیا کہ آیا یہ واقعہ کسی سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ تھا یا دیگر عوامل اس کے محرک تھے۔ واقعے سے متعلق ذیلی امور اور درپیش مسائل پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر چیئرمین خصوصی کمیٹی آفتاب عالم نے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کیں کہ وہ حقائق پر مبنی مکمل معلومات، شواہد اور رپورٹس اگلے اجلاس میں کمیٹی کے سامنے پیش کریں – تاکہ واقعے کی شفاف، غیر جانبدارانہ اور جامع تحقیقات کو یقینی بنایا جا سکے۔

صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کو اعلیٰ اخلاقی اقدار کو فروغ دیتے ہوئے دیانت داری اور خلوص کے ساتھ معاشرے کی خدمت کرنی چاہیے۔وزیر صحت۔

خیبر پختونخواکے وزیرِ صحت خلیق الرحمان نے خیبر کالج آف ڈینٹسٹری پشاور میں منعقدہ وائٹ کوٹ تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور 100 نئے داخل شدہ بی ڈی ایس طلبہ سے پیشہ ورانہ حلف لیا۔تقریب میں ڈین خیبر کالج آف ڈینٹسٹری پروفیسر ڈاکٹر سید ناصر شاہ، وائس ڈین پروفیسر مسلم خان، پروفیسر ڈاکٹر بشیر رحمان، مختلف شعبہ جات کے سربراہان، فیکلٹی ممبران، طلبہ کے والدین اور انصاف ڈاکٹرز فورم کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت نے نو داخل شدہ طلبہ اور ان کے والدین کو اس اہم سنگِ میل کے حصول پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ وائٹ کوٹ تقریب ایک باوقار اور ذمہ دار پیشہ ورانہ سفر کے آغاز کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر کالج آف ڈینٹسٹری جیسے معتبر ادارے کا حصہ بننا مسلسل محنت، والدین کی قربانیوں اور اساتذہ کی رہنمائی کا نتیجہ ہے۔صوبائی وزیرِ صحت نے اس بات پر زور دیا کہ سفید کوٹ محض ایک تعلیمی لباس نہیں بلکہ اعتماد، ذمہ داری، پیشہ ورانہ مہارت اور انسانیت کی خدمت کی علامت ہے۔ انہوں نے طلبہ کو ہدایت کی کہ وہ مریضوں کے ساتھ ہمدردی، شفقت اور احترام کا رویہ اپنائیں اور ساتھ ہی مضبوط طبی مہارتیں بھی حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کو اعلیٰ اخلاقی اقدار کو فروغ دیتے ہوئے دیانت داری اور خلوص کے ساتھ معاشرے کی خدمت کرنی چاہیے۔ خلیق الرحمان نے کہا کہ طلبہ سے لیا جانے والا حلف محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ اس پر عملی زندگی میں عملدرآمد ناگزیر ہے۔ انہوں نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ کردار کا مسلسل جائزہ لیتے رہیں اور مستقبل میں صحت کے اداروں میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے خود کو تیار کریں۔ انہوں نے تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ہم نصابی اور کردار سازی کی سرگرمیوں میں فعال شرکت پر بھی زور دیا۔اس سے قبل پروفیسر ڈاکٹر سمرین محمد نے نو داخل شدہ طلبہ سے پیشہ ورانہ حلف لیا اور سفید کوٹ سے وابستہ اخلاقی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمان نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ میں انعامات اور اسناد تقسیم کیں۔

محکمہ زراعت کے روڈ میپ کا جائزہ اجلاس

محکمہ زراعت خیبرپختونخوا کے گڈ گورننس روڈ میپ کا جائزہ اجلاس چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت خیبرپختونخوا کے گڈ گورننس روڈمیپ کے تحت بندوبستی اضلاع میں ایک لاکھ پچاس ہزار زیتون کے درختوں پر قلم لگانے کا عمل مارچ کے مہینے سے شروع کیا جائے گا جسے جون میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ جبکہ ضم اضلاع میں یہ عمل پہلے ہی کامیابی سے مکمل کیا جاچکا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ دسمبر 2025 کے ہدف کے تحت کسانوں کو جدید زرعی مشینری فراہم کی گئی ہے۔ جون 2026 تک کل 400 فارم مشینیں کسانوں کو فراہم کی جائیں گی۔ اسی طرح کسانوں کو ایک چھت تلے سہولیات کی فراہمی کیلئے فارم سروسز سینٹرز میں ون ونڈو آپریشن جاری ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مختلف منصوبوں کے ذریعے پانچ ہزار ایکڑ قابلِ کاشت بنجر زمین کی بحالی اور گندم، مکئی، چاول، گنے اور پھلوں سمیت بڑی فصلوں کی جی آئی ایس میپنگ جیسے منصوبے بھی حکومت خیبرپختونخوا کے گڈ گورننس روڈ میپ کا اہم جزو ہیں۔ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے غذائی تحفظ کے حصول، غربت میں کمی، اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے زرعی پیداواری صلاحیت میں اضافے کو صوبے کے لئے ناگزیر قرار دیا ہے۔

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کو بدھ کے روز محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے ریجنل ڈویلپمنٹ سیکشن کے زیرِ اہتمام مشاورتی اجلاس

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کو بدھ کے روز محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے ریجنل ڈویلپمنٹ سیکشن کے زیرِ اہتمام مشاورتی اجلاس میں تمباکو ڈویلپمنٹ سیس کے تحت فنڈ کیے جانے والے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کا انعقاد محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا جس میں مردان سے رکن صوبائی اسمبلی عبد السلام آفریدی،سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات سید عادل شاہ اور محکمہ کے دیگر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں صوبائی وزیر کو تمباکو سیس کے تحت مجوزہ منصوبوں اور ترقیاتی اقدامات، ان کے اہم خدوخال اور ورک ایبل فارمیٹس سے آگاہ کیا گیا۔مشاورتی اجلاس کا مقصد تمباکو ڈویلپمنٹ سیس کے تحت شروع کیے جانے والے ترقیاتی منصوبوں پر مشاورت، رہنمائی اور تجاویز حاصل کرنا تھا تاکہ منصوبوں کو مقامی ترقیاتی ترجیحات سے ہم آہنگ اور مؤثر انداز میں نافذ کیا جا سکے۔صوبائی وزیر سید فخرجہان نے اس موقع پر کہا کہ تمباکو سے حاصل ہونے والے وسائل کو متعلقہ اضلاع کی پائیدار ترقی، بنیادی سہولیات کی بہتری اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر خرچ کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انھوں نے کہا کہ اس رقم سے بونیر و دیگر پیداواری علاقوں میں تعلیم، صحت اور علاقائی دیگر ضروری شعبوں میں عوامی ضروریات کے مطابق بہتر اثرات کے حامل منصوبوں پر فوکس رکھا جائے تاکہ اس کے ثمرات سے مقامی عوام کو حقیقی معنوں میں فائدہ پہنچے۔اجلاس میں متعلقہ افسران نے صوبائی وزیر کو ٹو بیکو ڈویلپمنٹ سیس کے مجوزہ پروگرام میں شامل اہم مدوں پر تفصیلی بریفنگ دی جبکہ صوبائی وزیر نے اس سلسلے میں مفید تجاویز پیش کیں جنہیں حتمی منصوبہ بندی میں شامل کیا جائے گا۔

احیاء پشاور منصوبے کے تحت جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا

احیاء پشاور منصوبے کے تحت جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، پختونخوا ہائی وے اتھارٹی، محکمہ آبپاشی اور پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران نادرن بائی پاس کے نامکمل حصے کی تعمیر، رنگ روڈ پر ٹریفک رش کے شکار مقامات پر انڈر پاسز کی تعمیر اور دیگر اہم ترقیاتی امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر پیسکو کی سپلائی لائن کو پیر زکوڑی فلائی اوور سے سوری پل، امن چوک اور کارخانو تک زیرِ زمین منتقل کرنے کے عمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ پشاور میں بچوں کے لیے 750 ملین روپے کی لاگت سے ایک ہائی ٹیک پارک قائم کیا جا رہا ہے۔ وزیر بلدیات نے ہدایت کی کہ اس منصوبے کے لیے تمام فیزیبلٹی اور تکنیکی تقاضوں کی تکمیل کے عمل کو مزید تیز کیا جائے۔ اجلاس میں جی ٹی روڈ اور رنگ روڈ کے سنگم پر پیر زکوڑی کلوور لیف انٹرچینج کی تعمیر پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی اور بتایا گیا کہ پانی کے چینل کی موجودگی کے باعث رنگ روڈ ہزار خوانی کے مقام پر فلائی اوور تعمیر کیا جائے گا۔وزیر بلدیات نے یونیورسٹی روڈ، رامداس چونگی اور لاہوری چوک پر ٹریفک ہاٹ سپاٹس کے مسائل کے حل کے لیے ترجیحی بنیادوں پر تعمیراتی کام شروع کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پشاور شہر میں تمام لوکل بس اسٹینڈز کو ختم کیا جا رہا ہے، جبکہ جنوبی اضلاع کے لیے کوہاٹ روڈ پر قائم بس اڈے کو بھی متبادل مقام پر منتقل کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ جنوبی اضلاع کے لیے ایک جدید اور اسٹیٹ آف دی آرٹ بس اسٹینڈ کے قیام کے لیے موزوں مقام کی نشاندہی کا عمل بھی جاری ہے۔اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ یونیورسٹی روڈ سے رنگ روڈ اور نادرن بائی پاس تک لنک روڈز کی تعمیر کے لیے کنسلٹنٹ کی بھرتی رواں ماہ کی جائے گی۔ اجلاس کے اختتام پر وزیر بلدیات مینا خان آفریدی نے ہدایت کی کہ آئندہ جائزہ اجلاس تک احیاء پشاور منصوبے کے تحت تمام سکیموں کی فیزیبلٹی اور متعلقہ امور ہر لحاظ سے مکمل کیے جائیں تاکہ منصوبوں پر بروقت اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔