چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت محکمہ زراعت کے روڈمیپ اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری زراعت اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں جاری کاموں اور توجہ طلب امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور مقررہ اہداف بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ جنگلی زیتون کے درختوں کو تیل پیدا کرنے والی یورپی اقسام میں تبدیل کرنے کا عمل جاری ہے۔ اس منصوبے کے تحت ضم اضلاع میں 1 لاکھ 50 ہزار زیتون کے درختوں پر قلم لگانے کا ہدف ہے، 75 ہزار پودوں پر ستمبر تک اور 1 لاکھ 50 ہزار پودوں پر اکتوبر تک قلم لگائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی 1 لاکھ 50 ہزار جنگلی زیتون کے پودے پر قلم لگائے جائیں گے۔چیف سیکرٹری نے زیتون کی برآمد کے لئے سرٹیفکیشن کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری اقدامات کی ہدایت کی۔ اجلاس میں فارم سروسز سینٹرز کو فعال بنانے اور بہتر کرنے پر بھی زور دیا گیا تاکہ کسانوں کو ایک چھت تلے سہولت فراہم کی جا سکے، اسی طرح ہدایت کی گئی کہ انتظامی کمیٹیاں قائم کی جائیں اور دستیاب مشینری کو فعال بنایا جائے۔مزید بتایا گیا کہ فصلوں کی بروقت حفاظت کے لئے آئی سی ٹی پر مبنی پیسٹ سرویلنس سسٹم جون 2026 تک نافذ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ 5 ہزار ایکڑ قابلِ کاشت بنجر زمین کی بحالی اور گندم، مکئی، چاول، گنے اور پھلوں سمیت بڑی فصلوں کی جی آئی ایس میپنگ بھی منصوبے میں شامل ہے۔اعلیٰ قسم کی سبزیوں کی کاشت کے لئے 500 محفوظ زرعی ڈھانچے قائم کئے جائیں گے جبکہ 600 کنال رقبے پر ورٹیکل ویجیٹیبل فارمنگ کو فروغ دیا جائے گا تاکہ معیاری پیداوار اور زیادہ آمدنی حاصل کی جا سکے۔ اس کے علاوہ صوبے کے 23 اضلاع میں 47 ماڈل مائیکرو واٹر شیڈز کے ذریعے 300 ایکڑ بنجر زمین کو زرعی زمین میں تبدیل کیا جائے گا۔چیف سیکرٹری نے محکمہ زراعت کو منصوبہ بندی و ترقیات محکمہ کے ساتھ کوارڈینیشن کی ہدایت کی تاکہ منصوبوں کو مزید تیز اور مؤثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات صوبے میں زرعی ترقی اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
اسلام آباد میں عالمی انسانی ہمدردی قوانین پر کانفرنس، پاکستان کا عزم دہرایا گیا
خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر محمد علی سیف نے ٹو ڈے پالیسی ڈائیلاگ آن گلوبل انٹرنیشنل ہیومینیٹرین لائ انیشی ایٹو (GIHLI) سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان عالمی قوانین اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کی پاسداری کے لیے پرعزم ہے۔یہ کانفرنس انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (ICRC) نے انٹرنیشنل پارلیمنٹیرینز کانگریس (IPC) کے تعاون سے اسلام آباد میں منعقد کی۔بیرسٹر سیف نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی، داخلی تنازعات اور انسانی بحران جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے، اس لیے انسانی ہمدردی کے قوانین کی اہمیت آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے غزہ، شام اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو عالمی قوانین کی کمزوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو ان مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔انہوں نے زور دیا کہ مسائل کا حل جنگ میں نہیں بلکہ انصاف، قانون اور مکالمے میں ہے۔ ایسے فورمز قانون کی بالادستی اجاگر کرتے ہیں اور امن قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔کانفرنس میں سینیٹر مشاہد حسین سید سمیت پاکستان کی قومی و صوبائی اسمبلیوں کے متعدد اراکین نے بھی شرکت کی۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ ہاؤسنگ کے اجلاس کا انعقاد
خیبرپختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ ہاؤسنگ کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین جلال خان کی زیر صدارت صوبائی اسمبلی کے کانفرنس ہال پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی ممبران اور ارکین صوبائی اسمبلی زبیر خان، اکرام اللہ، بیری لال اور خدیجہ بی بی کے علاوہ سیکرٹری محکمہ ہاؤسنگ، ڈی جی و ایڈیشنل ڈی جی خیبر پختونخوا پراونشل ہاؤسنگ اتھارٹی، پراجیکٹ ڈائریکٹر ہاؤسنگ فاؤنڈیشن، پراجیکٹ ڈائریکٹر نیو پشاور ویلی اور دیگر متعلقہ افسران بھی شریک تھے۔ اجلاس میں جلوزئی ہاؤسنگ سکیم نوشہرہ، سوڑی زئی ہاؤسنگ سکیم پشاور، نیو پشاور ویلی، ہائی رائز فلیٹس حیات آباد پشاور، میگا سٹی ضلع نوشہرہ، خیبر پختونخوا جوئنٹ وینچر ریگولیشنز 2021، اقلیتی کوٹہ اور لینڈ شیئرنگ ریگولیشنز 2014 سے متعلق غور و خوض کیا گیا۔ کمیٹی ممبران نے محکمہ ہاؤسنگ کی کوششوں و اقدمات کو سراہا۔ انہوں نے نئے قواعد و ضوابط کے مطابق پلاٹس مالکان کو وضع کردہ تعداد کے مطابق درخت لگانے کے پابند کرانے کے عمل کو بھی قابل تحسین قرار دیا۔ اس موقع پر چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ ایم پی اے جلال خان کا کہنا تھا کہ محکمہ ہاؤسنگ کے زیر انتظام تعمیر شدہ اور زیر تعمیر متعدد ہاؤسنگ سکیموں کا جائزہ لینے کے لیے وہاں کے دورے کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ محکمہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
ڈائریکٹر یوتھ افیئرز نے ہری پور اور صوابی میں جوان مراکز میں تعمیراتی کاموں کا جائزہ لیا
ڈائریکٹر یوتھ افیئرز خیبرپختونخوا ڈاکٹر نعمان مجاہد نے ہری پور اور صوابی کے اضلاع میں زیر تعمیر جوان مراکز کا دورہ کیا اور وہاں پر جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت کا جائزہ لیا۔ اس دوران انہوں نے منصوبوں کے مختلف حصوں کا معائنہ کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تعمیراتی کام منظور شدہ ڈیزائن اور معیارات کے مطابق یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی قسم کا ناقص اور غیر معیاری تعمیراتی کام برداشت نہیں کیا جائے گا۔ڈاکٹر نعمان مجاہد نے کہا کہ جوان مراکز صوبائی حکومت کے فلیگ شپ منصوبے ہیں جنہیں نوجوانوں کو جدید سہولیات اور مواقع فراہم کرنے کے لیے قائم کیا جا رہا ہے، اس لیے ان منصوبوں کی بروقت اور اعلیٰ معیار کے مطابق تکمیل ناگزیر ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تعمیراتی عمل کے ہر مرحلے پر سخت نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔ڈائریکٹر یوتھ افیئرز نے بتایا کہ اس وقت مردان، صوابی، ڈیرہ اسماعیل خان، بونیر، پشاور (یوتھ کمپلیکس)، ہری پور، مہمند، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان اور لوئر وزیرستان میں جوان مراکز زیر تعمیر ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ منصوبے کے دوسرے مرحلے کے تحت پانچ نئے جوان مراکز شانگلہ، چارسدہ، اپر چترال، بنوں اور کوہاٹ میں بھی جلد منظور کیے جائیں گے۔ڈائریکٹر یوتھ افیئرز نے صوبائی وزیر کھیل و امورِ نوجوانان سید فخر جہان کی زیر نگرانی صوبائی حکومت کے نوجوانوں کی بااختیار بنانے کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ ان مراکز کی تکمیل سے نوجوانوں کو جدید سہولیات میسر آئیں گی جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکیں گے اور مثبت سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں گے۔
صوبائی وزیر زراعت نے شنوہ گڈی خیل کرک میں زرعی تحقیقاتی سب سٹیشن ڈھکی کھجور تھال کا سنگِ بنیاد رکھا
خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر (ر) سجاد بارکوال نے شنوہ گڈی خیل ضلع کرک میں زرعی تحقیقاتی سب سٹیشن ڈھکی کھجور تھال کا سنگِ بنیاد رکھا۔ اس موقع پر علاقہ عمائدین، محکمہ زراعت کے افسران اور کاشتکاروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ یہ منصوبہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور کی خصوصی ہدایات پر قائدِ عوام عمران خان کے وژن کے مطابق شروع کیا گیا ہے جس کیلئے صوبائی حکومت نے فنڈز کی منظوری دی ہے۔ سب سٹیشن ”اے ڈی پی سکیم برائے بحالی و توسیع زرعی تحقیقاتی سٹیشن“کے تحت قائم کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے احمد والہ (کرک)، ڈیرہ اسماعیل خان اور سنگ بٹھی (مردان) میں بھی زرعی تحقیقاتی مراکز کی بحالی و توسیع عمل میں لائی جارہی ہے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر زراعت نے کہا کہ ڈھکی کھجور خیبرپختونخوا کا ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ اس تحقیقاتی مرکز کے قیام سے کھجور اور دیگر فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور کسانوں کو جدید کاشتکاری کے طریقے سیکھنے کے مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کسانوں کی خوشحالی کیلئے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ”ہم چاہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا زرعی تحقیق اور ترقی میں پورے ملک کیلئے ایک مثال بنے۔انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف زرعی پیداوار اور معیار میں بہتری لائے گا بلکہ ڈھکی کھجور کو ایک برانڈ کے طور پر عالمی منڈی تک پہنچانے میں بھی سنگِ میل ثابت ہوگا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر زراعت نے کہا کہ کسان پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ صوبائی حکومت کسانوں کے مسائل کے حل کرنے اور ان کی آمدنی بڑھانے کیلئے تمام ممکن وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ”زرعی شعبے میں جدت اور تحقیق کو فروغ دے کر صوبے کو خوشحال بنانا ہمارا عزم ہے۔
چیف سیکرٹری کی زیر صدارت پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے روڈمیپ کا جائزہ اجلاس
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرصدارت پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) ڈپارٹمنٹ کے روڈمیپ کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں پانی کے معیار کو بہتر بنانے اور صوبے کے عوام کو صاف و محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی کے اقدامات پر غور کیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پانی کے نمونوں کے ٹیسٹ میں 15 فیصد اضافہ کرنے کا ہدف کامیابی سے حاصل کیا جاچکا ہے۔ اس موقع پر پی ایچ ای کا نیا موبائل ایپ بھی پیش کیا گیا جس کے ذریعے شہری شکایات درج کر سکیں گے، بل ادا کر سکیں گے اور یہ محکمہ کے مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایم آئی ایس) سے منسلک ہوگا۔ ایپ میں ملازمین کی ایچ آر مینجمنٹ اور ای ٹاسکنگ کے فیچرز بھی شامل کئے جائیں گے۔اجلاس کو پانی کے معیار کے حوالے سے مہم کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ جولائی 2025 میں 298 نمونوں کا ٹیسٹ کیا گیا جن میں سے 220 کو موزوں اور 78 کو غیر موزوں قرار دیا گیا۔ اگست 2025 میں دوبارہ ٹیسٹ کئے گئے 63 نمونوں میں سے 40 موزوں جبکہ 23 غیر موزوں پائے گئے۔ آلودگی کی وجوہات کی نشاندہی کے بعد کلورینیشن اور دیگر اصلاحی اقدامات کئے گئے۔ چیف انجینئر اور سرکل سطح پر بھی اجلاس منعقد کئے گئے تاکہ غیر موزوں نمونوں کی اصلاحی کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔چیف سیکرٹری نے اس موقع پر زور دیا کہ جاری منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جائے اور غیر فعال سکیموں کو فعال بنا کر صاف پانی کی فراہمی کو مزید وسعت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی کو صوبے کے گڈ گورننس فریم ورک کا لازمی جزو بنایا جائے، کیونکہ یہ حکومت کی اولین ترجیح میں سے ایک ہے اور عوامی صحت کے تحفظ کے لئے انتہائی اہم ہے۔
سرکاری ملازمین کے حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے: وزیر لائیو اسٹاک
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین کا تحفظ اور ان کے حقوق کا دفاع صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ صوبائی حکومت ملازمین کو قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کسی بھی ادارے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور صوبائی حکومت ان کے حقوق کے تحفظ اور بہتر سروس ڈلیوری کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مؤثر پالیسی سازی اور ٹھوس فیصلے کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ بلاخوف و خطر اپنی ذمہ داریاں مزید جانفشانی اور دیانتداری کے ساتھ ادا کر سکیں۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے ویٹرنری ہسپتال سیدو شریف میں محکمہ فشریز کے ملازمین کے اعزاز میں منعقدہ ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں رکن صوبائی اسمبلی سلطان روم، ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر لائیو سٹاک ڈاکٹر سردار علی، مختلف ویلج کونسلوں کے چیئرمینوں، آل درجہ چہارم ملازمین ضلع سوات کے صدر سید خطاب، پی ٹی آئی کے کارکنان و عہدیداران سمیت فشریز کے ملازمین کی کثیر تعداد موجود تھی۔ تقریب میں محکمہ فشریز کے ملازمین نے صوبائی وزیر کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ذاتی دلچسپی اور عزم کے نتیجے میں محکمہ فشریز کے ملازمین کا دیرینہ مسئلہ حل ہوا اور انہیں دوبارہ اپنے اصل محکمے میں مستقل بنیادوں پر تعینات کیا گیا۔ اس موقع پر ملازمین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں دیانتداری، محنت اور لگن سے ادا کرتے رہیں گے اور محکمے کی نیک نامی میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔ شرکاء نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور اور صوبائی وزیر فضل حکیم خان کا بھی شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے صوبائی کابینہ کے حالیہ اجلاس میں ایک تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے تمام ملازمین کو اپنے محکمے میں باقاعدہ رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کیے۔بعد ازاں محکمہ لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ ضلع سوات کی جانب سے ایک تقریب کا اہتمام بھی کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں مویشی پال کسان شریک ہوئے۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان نے سیلاب سے متاثرہ مویشی پال کسانوں میں مویشیوں کے لیے مفت خوراک اور ادویات تقسیم کیں۔صوبائی وزیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ مویشی پال کسانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مویشیوں کی خوراک اور علاج کی فراہمی کسانوں کے معاشی استحکام کے لیے نہایت ضروری ہے تاکہ وہ اپنے مویشی بہتر انداز میں پال سکیں اور اپنی گزر بسر جاری رکھ سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کسان دوست پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
صوبائی اسمبلی قواعد و ضوابط میں ترامیم، 37 سال بعد اہم اصلاحات – وزیراعلیٰ کا خطاب
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے کہاہے کہ صوبائی اسمبلی کے قواعد و ضوابط میں ترامیم اور اصلاحات صوبے کی پارلیمانی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہیں، اس اہم کامیابی پر ممبران اسمبلی اور صوبے کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان ترامیم اور اصلاحات کو ممکن بنانے میں جس جس نے بھی کردار ادا کیا ہے ان سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔37 سال کے ایک طویل عرصے کے بعد صوبائی اسمبلی کے قواعد و ضوابط میں ترامیم کی گئی ہیں، عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق کی گئی ان ترامیم اور اصلاحات سے پارلیمانی نظام مضبوط ہوگا اورامید ہے کہ ان ترامیم پر صحیح معنوں میں عملدرآمد بھی ہوگا۔کسی بھی اسمبلی کا اصل مقصد اور کام قانون سازی ہے جس سے سارا نظام چلتا ہے اور انہی قوانین سے لوگوں کے حقوق کا تحفظ ہوتا ہے اور ان کے مسائل کا حل نکلتا ہے۔ بدھ کے روز صوبائی اسمبلی کے قواعد و ضوابط میں ترامیم کی منظوری کے حوالے سے صوبا ئی اسمبلی میں منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بحیثیت ممبر قانون ساز اسمبلی ہم سب پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور ہمارا ایمان ہے کہ دنیا میں اگر کسی کو کوئی منصب اور مقام ملتا ہے تو آخرت میں اس سے جوابدہی بھی ہوگی۔ منصب جتنا بڑا ہوگا، ذمہ داری اور جوابدہی بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ بحیثیت انسان، مسلمان، پاکستانی اور عوامی نمائندے ہم پر ذمہ داریاں ہیں اور ہم سب کی کوشش ہونی چاہیئے کہ ہم اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے پوری کریں۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ بحثیت منتخب عوامی نمائندے ہمیں ایسے کام اور فیصلے کرنے چاہئیں جو مستقبل میں یاد رکھے جائیں، ہم کوئی ایسا کام اور فیصلے نہ کریں جن پر کل کو ہم پر تنقید ہو۔ بحیثیت انسان ہمارا مقصد انسانیت کی خدمت ہے اور بحیثیت عوامی نمائندہ بھی ہمارا کام انسانیت کی خدمت ہے۔ قانون ساز اسمبلی میں سیاسی بنیادوں پر تنقید ہی نہیں بلکہ مسائل کے حل کے لئے تجاویز بھی سامنے آنی چاہئیں۔ ہماری اسمبلیوں میں صرف ترقیاتی منصوبے زیر بحث آتے ہیں کیونکہ اب تک لوگوں کے مسائل حل نہیں ہوئے، خواہش اور امید ہے کہ لوگوں کے بنیادی مسائل حل ہوں اور قانون ساز اسمبلیاں قانون سازی پر توجہ دیں۔ بحیثیت پاکستانی ہمیں قومی سوچ کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے جبکہ ہمیں اپنے اسلاف کے وژن کے مطابق ایک خود مختار اور خود دار قوم بننا ہوگا، ہمیں ذاتی اور سیاسی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دینا ہوگی۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ذاتی اور سیاسی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دی گئی اور ذاتی اور سیاسی مفادات کیلئے قوم کے مستقبل کو داؤ پر لگایا گیا۔ ذاتی اور سیاسی مفادات نے آج ملک کو مقروض کردیا ہے،مقروض قومیں کبھی خود مختار نہیں ہوسکتی ہیں اور نہ ہی اپنے فیصلے خود کر سکتی ہیں۔ ہمیں خود دار قوم بننے کے لئے معاشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہوگا، ملک میں قانون کی حکمرانی اور انصاف کی بالادستی کے لئے کام کرنا ہوگا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سے ورلڈ بینک وفد کی ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور سے منگل کے روز ورلڈ بینک کی پاکستان میں تعینات کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابزار کی قیادت میںایک وفد نے وزیراعلی سیکرٹریٹ پشاور میں ملاقات کی جس میں صوبے میں عالمی بینک کے تعاون سے جاری عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں سے متعلق گفتگو کی گئی۔ رکن قومی اسمبلی فیصل امین گنڈاپور کے علاؤہ صوبائی حکومت اور ورلڈ بینک کے دیگر حکام بھی ملاقات میں موجود تھے۔ ملاقات میں صوبائی حکومت اور عالمی بینک کے درمیان مستقبل میں شراکت داری اور تعاون کے دیگر مواقع پر بھی تبادلہ خیال ہوا اور مختلف سماجی شعبوں میں اشتراک کار اور تعاون کے دائرے کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔ وفد نے سیلاب سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت مختلف سماجی شعبوں میں ورلڈ بینک کے تعاون اور اشتراک کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، ہم سماجی شعبوں میں ورلڈ بینک کے ساتھ تعاون اور اشتراک کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں۔ صوبائی حکومت اپنے پوٹینشل سیکٹرز بشمول پن بجلی، مواصلات، معدنیات، زراعت، آبی وسائل اور سیاحت میں سرمایہ کاری پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ صوبائی حکومت کو ان سیکٹرز میں بین الاقوامی اداروں کی سرمایہ کاری اور تعاون کی ضرورت ہے،صوبائی حکومت کا سالانہ ترقیاتی پروگرام ورلڈ بینک کے نئے ڈیویلپمنٹ پورٹ فولیو سے ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کلائمیٹ چینج، ائیر کوالٹی، اسٹنٹ گروتھ، صحت، تعلیم اور دیگر سماجی شعبوں پر فوکس کر رہی ہے، پہلی دفعہ صوبے میں کلائمٹ ایکشن بورڈ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور بہت جلد کلائمیٹ ریزئیلئنس بورڈ تشکیل دیا جائے گا ۔اسی طرح وزیراعلی نے کہا کہ ہم نے اپنے گریجویٹس کو تکنیکی تربیت فراہم کرنے کے لیے مختلف پروگرامز شروع کئے ہیں جنکا مقصد بین الاقوامی جابز مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنرمند ورک فورس تیار کرنا ہے۔ وزیراعلی کا مزید کہنا تھا کہ صوبے کی معیشت کو مضبوط بنانے اور لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، صوبے میں معاشی اور صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے صنعتوں کو سستی بجلی کی فراہمی پر کام جاری ہے۔ اس مقصد کےلئے صوبائی حکومت اپنی ٹرانسمیشن لائن کا منصوبہ شروع کر رکھا ہے صوبے کو زرعی پیداوار میں خود کفیل بنانے کے لئے سی آر بی سی کا منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ صوبائی حکومت خود بھی اس منصوبے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ پشاور ڈی آئی خان موٹروے کا منصوبہ انتہائی قابل عمل اور منافع بخش منصوبہ ہے، صوبائی حکومت کو ان منصوبوں پر عملدرآمد کے لئے ورلڈ بینک کی شراکت کی ضرورت ہے۔ حالیہ سیلابوں سے صوبے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے،تاہم سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشنز مکمل کرکے اب بحالی کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت نے تمام متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی کا سارا عمل ایک شفاف طریقے سے مکمل کر لیا ہے۔
خیبرپختونخوا میں ڈیجیٹل اسکلز انیشیٹو کا آغاز، 27 ہزار نوجوانوں کو جدید تربیت فراہم کی جائے گی: وزیر اعلیٰ
صوبے کے نوجوانوں کو با روزگار بنانے کے لئے خیبر پختونخوا حکومت کا ایک اور اہم اقدام، انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تحت فلیگ شپ پروگرام ڈیجیٹل اسکلز انیشیٹو کا اجرا کردیا گیا۔ اس سلسلے میں منگل کے روز وزیر اعلی ہاؤس پشاور میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور نے پروگرام کا باضابطہ اجراء کیا۔ معاون خصوصی برائے سائنس ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز کے علاؤہ سیکرٹری ایس ٹی آئی ٹی امجد علی خان ، ایم ڈی آئی ٹی بورڈ اور ڈاکٹر عاکف کے علاؤہ محکمہ ایس ٹی آئی ٹی کے دیگر حکام اور ٹریننگز کے لیے منتخب سٹوڈنٹس بھی تقریب میں شریک ہوئے ۔ تفصیلات کے مطابق، پروگرام کے تحت صوبے کے کل 27,450 نوجوانوں کو عالمی معیار اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ ڈیجیٹل اسکلز سکھائے جائیں گے جبکہ 2,888 گریجویٹس کو گلوبل سرٹیفیکیشن کے لیے سکالر شپس فراہم کی جائیں گی۔ اس کے علاؤہ گریجویٹس کی کیرئیر کونسلنگ اور مینٹورشپ بھی پروگرام کا حصہ ہیں۔ پروگرام کے پہلے مرحلے میں 6,000 سے زائد نوجوانوں نے درخواستیں جمع کرائی تھیں جن میں سے ایک صاف اور شفاف طریقے سے میرٹ پر پہلے بیچ میں 1,268 نوجوانوں کو ڈیجیٹل اسکلز ٹریننگ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ نوجوانوں کو ڈیجیٹل اسکلز سکھانے کے لئے مسابقتی عمل کے ذریعے تربیتی شراکت داروں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ پروگرام کے تحت گریجویٹس کو 24 مختلف شعبوں میں ڈیجیٹل اسکلز سکھائے جائیں گے۔ ان شعبوں میں آرٹیفیشل اینٹیلجنس، کلاوڈ کمپیوٹنگ، سائبر سیکیورٹی، کمپیوٹر نیٹ ورکنگ، گرافک ڈیزائننگ، گیم ڈیویلپمنٹ، سوشل میڈیا مارکیٹنگ اور دیگر شامل ہیں۔ معیار اور جوابدہی یقینی بنانے کے لیے ہر فرم کے لئے ایک مضبوط مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن فریم ورک تیار کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد ہنر مند نوجوانوں کی ایسی کھیپ تیار کرنا ہے جو مقامی صنعتوں کے ساتھ ساتھ عالمی فری لانس مارکیٹ میں بھی ملازمتیں حاصل کر سکیں۔ تقریب سے وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ” اس اہم اور فلیگ شپ پروگرام کے اجراء پر آئی ٹی بورڈ کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، ڈیجیٹل اسکلز پروگرام کے لئے منتخب ہونے والے گریجویٹس کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، ہم اپنے نوجوانوں کو جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کر رہے ہیں” ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ محض ڈیجیٹل اسکلز کا پروگرام نہیں بلکہ نوجوانوں کی مالی خود کفالت اور ان کے بہتر مستقبل کی بنیاد ہے، اس وقت بین الاقوامی سطح پر ڈیجیٹل اسکلز کے شعبے میں روزگار کے بے شمار مواقع موجود ہیں، ان مواقع سے بھرپور استفادہ کرکے ہم اپنے نوجوانوں کو خود روزگار بنا سکتے ہیں۔ صوبائی حکومت کا ڈیجیٹل اسکلز پروگرام اس سلسلے میں ایک سنگ میل ہے، پروگرام کے تحت گریجویٹس کو نہ صرف ڈیجیٹل اسکلز سکھائے جائیں گے بلکہ انکو ملازمتیں بھی دی جائیں گی۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ سسٹم کو مضبوط بنانے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے ڈیجیٹائزیشن بے حد ضروری ہے،موجودہ صوبائی حکومت سرکاری امور اور عوامی خدمات کی ڈیجیٹائزیشن پر تیزی سے کام کر رہی ہے، صوبے میں 29 عوامی خدمات کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کردیا گیا ہے جبکہ عنقریب صوبائی حکومت کی ساری خدمات کو ڈیجیٹائز کر دیا جائے گا۔ ہم عمران خان کے وژن کے مطابق صوبے کو ڈیجیٹیل اور مثالی صوبہ بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نوجوان ہمارے مستقبل کی امید ہیں، قوم کا مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہے۔
