سیکرٹری اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا محمد بختیار خان اور ڈائریکٹر جنرل اطلاعات و تعلقات عامہ محمد عمران کی ہدایت پر ریجنل انفارمیشن آفیسر سوات خان سرور وزیر نے انجینئر اکرام الدین یوسفزئی کے ہمراہ سوات پریس کلب کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے سوات پریس کلب اور سوات یونین آف جرنلسٹس کی نو منتخب کابینہ اور گورننگ باڈی کے عہدیداروں کو کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کی۔ریجنل انفارمیشن آفیسر نے نو منتخب چیئرمین سوات پریس کلب فضل رحیم خان، جنرل سیکرٹری عدنان باچا، جوائنٹ سیکرٹری عبدالسلام، فنانس سیکرٹری افتخار علی،ڈپٹی جنرل سیکرٹری سوات یونین آف جرنلسٹس خواجہ عرفان، نائب صدر شیراز خان اور گورننگ باڈی کے ممبران شیرین زادہ اور فضل خالق خان کو گلدستے پیش کیے اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر سینئر صحافی غفور خان عادل، حضرت بلال، ناصر عالم، شفیع اللہ، شاہ اسد علی اور دیگر صحافی برادری بھی موجود تھی۔ریجنل انفارمیشن آفیسر سوات خان سرور وزیر نے اس موقع پر کہا کہ صحافی معاشرے کا اہم ستون ہیں اور عوامی مسائل کی بروقت نشاندہی میں ان کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نو منتخب کابینہ صحافتی اقدار کے فروغ اور صحافی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے بھرپور کردار ادا کرے گی۔انہوں نے کہا کہ محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا صحافیوں کو درپیش مسائل سے آگاہ ہے اور ان کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کرینگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم صحافیوں کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کے لیے ہمارے دفتر کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں۔ محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ صحافی برادری کو اپنا مضبوط شراکت دار سمجھتا ہے انہوں نے کہا کہ آزاد، ذمہ دار اور باخبر صحافت ہی مضبوط جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے۔ نو منتخب عہدیداران نے دورے پر ریجنل انفارمیشن آفیسر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
دہشت گردی کے بارے میں پہلے دن سے پاکستان تحریک انصاف کی پالیسی واضح ہے،شفیع جان
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے وزیر مملکت طلال چوہدری کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ طلال چوہدری کے الزامات سراسر حقائق کے منافی اور سیاسی بدنیتی پر مبنی ہیں، وفاقی اور پنجاب حکومت کے جعلی وزراء کی جانب سے نوجوان وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف مسلسل منظم پراپیگنڈا مہم چلائی جا رہی ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے، کبھی انہیں افغانستان سے اور کبھی دہشت گردوں سے جوڑنے کی ناکام کوششیں کی جا رہی ہیں،معاون خصوصی شفیع جان نے کہا کہ عظمیٰ بخاری، اختیار ولی، طلال چوہدری اور عطا تارڑ کو صوبائی حکومت کے خلاف الزام تراشی کے لیے باقاعدہ طور پر بھرتی کیا گیا ہے جو روزانہ میڈیا پر آکر عوام کو گمراہ کرنے کی کوششیں کررہے ہیں اور مسلسل پاکستان تحریک انصاف کی منتحب حکومت کے عوامی مینڈیٹ کا مذاق اڑا رہے ہیں لیکن انکو یہ سمجھنا چاہیے کہ قوم باشعور ہے وہ انکے دھوکے میں نہیں آئے گی۔۔ شفیع جان نے کہا کہ فارم 47 کے ذریعے وفاق پر زبردستی مسلط کی گئی حکومت نے پارلیمان کو ہائی جیک کیا ہے،تاہم پاکستان تحریک انصاف کی منتخب صوبائی حکومت کے خلاف کسی قسم کی مزید ہرزہ سرائی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت منتخب صوبائی حکومت کے خلاف ہرزہ سرائی بند کرے، جعلی وزراء نے عوامی عدالت میں مقابلہ کرنے کی بجائے الزامات کی سیاست کو اپنا شعار بنا لیا ہے،امن و امان پر بات کرتے ہوئے معاون خصوصی شفیع جان نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے ہر ضلع میں دہشت گردی کے خلاف امن جرگے منعقد کیے گئے ہیں۔ نوجوان وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے قیام امن کے لیے صوبائی اسمبلی میں ایک عظیم الشان امن جرگے کا انعقاد کیا، جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول اپوزیشن نے شرکت کی۔ اس جرگے میں امن و امان کے حوالے سے پندرہ نکات پر اتفاق رائے ہوا جن کے دستخط شدہ فیصلے موجود ہیں،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کی استعداد کار میں اضافے کے لئے 31 ارب روپے کی منظوری دیدی ہے انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے حوالے پہلے دن سے پاکستان تحریک انصاف کی پالیسی واضح ہے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عملی اور ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں، انھوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور اس ضمن میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔
محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا کے انسداد منشیات کے حوالے سے ایک اور بڑی کاروائی
خیبرپختونخوا حکومت کی منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور صوبائی وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان کے ہدایات کی روشنی میں صوبہ بھر میں جاری انسداد منشیات آپریشن کے تسلسل میں محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول نے ایک اور بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔نوشہرہ عجب باغ چیک پوسٹ تھانہ ایکسائز مردان کی جانب سے کی گئی کارروائی میں منشیات کی بھاری مقدار سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی اور 5.25 من (210000 گرام) چرس برآمد کرکے مقدمہ درج کیا گیا۔ ماجد خان ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر نارکوٹکس کنٹرول اور عاکف نواز خان سرکل آفیسر کے زیر نگرانی عماد خان ایس ایچ او تھانہ ایکسائز مردان کی سربراہی میں لال گل خان سب انسپکٹر انچارج چوکی عجب باغ نے بمعہ دیگر نفری عجب باغ چیک پوسٹ پر کاروائی کے دوران بھاری مقدار میں منشیات سمگلنگ کی کوشش ناکام بناتے ہوئے دوران تلاشی گاڑی نمبری LES 8670 سے دوران تلاشی 5.25 من (210000 گرام) چرس برآمد کی اور مذید تفتیش اور قانونی کاروائی کے لئے تھانہ ایکسائز مردان میں مقدمہ درج کر دیا گیا۔صوبائی وزیر ایکسائز سید فخر جہان نے واضح کیا ہے کہ منشیات کی سمگلنگ اور فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر ہر صورت عمل درآمد یقینی بنایاجائیگا۔ معاشرے اور نئی نسل کو منشیات کے ناسور سے پاک کرنے کیلئے ایکسائز فورس کو مزید متحرک اور مؤثر بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیئر مین عمران خان کے ویژن اور وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں منشیات سے پاک معاشرے کی تشکیل کیلئے ہرممکن قدم اٹھائیں گے۔
Secretary Livestock, Fisheries & Cooperative chair Khuli Kachari, directives Issued for Prompt Resolution of Public Problems
An online Khuli Kachari held under chairmanship of Secretary Livestock, Fisheries & Cooperative, Zareef-ul-Ma‘ani, in line with provincial government’s Good Governance Roadmap. During the session, public issues were heard directly. Khuli Kachari was attended by Additional Secretary Livestock, Fisheries & Cooperative, Director General Livestock (Extension) Dr. Asal Khan, Director General Livestock Research Dr. Ijaz Ali, Director General Fisheries Shafi Marwat and Director Livestock Merged Districts Dr. Mir Ahmad along with other senior officials of the department.Addressing the online Khuli Kachari Secretary Livestock, Fisheries & Cooperative Zareef-ul-Ma‘ani said that livestock sector serves as backbone of national economy, with even greater significance in rural areas. Livestock contributes approximately 25 percent to the GDP; however, funding allocation is not commensurate with this share.He added that livestock sector can play a key role in poverty alleviation. In the upcoming review meeting, detailed deliberations will be held on updating district profiles. He further stated that a dedicated app is being introduced for vaccine utilization and monitoring, while new schemes for trained professionals in the veterinary sector will also be launched soon.Secretary livestock directed that veterinary doctors posted at veterinary hospitals must refrain from private practice during official working hours. If, due to necessity, a doctor is required to go on a field visit, at least one veterinary doctor must remain present at the hospital to ensure uninterrupted treatment facilities for livestock farmers. Any negligence in providing public services during official hours will not be tolerated.He further stated that entire leadership of department participated in the Khuli Kachari. Under provincial government’s Good Governance Roadmap, this series of online Khuli Kachari will continue regularly at all levels to ensure direct resolution of public issues. He informed that, in addition to calls from stakeholders associated with the livestock sector, calls were also received from departmental employees. department is making serious efforts to resolve employees’ issues, and it has been decided to hold a separate Khuli Kachari specifically for employees. The next open Khuli Kachari will be held for the fisheries sector, while Khuli Kachari will be ensured at all levels for staff.During the online Khuli Kachari members of the public presented their issues related to livestock, fisheries, and cooperatives in detail.Secretary Zareef-ul-Ma‘ani listened attentively to the public grievances and issued immediate directives to the concerned officers for their timely and effective resolution.On the occasion, Secretary Livestock, Fisheries & Cooperative stated that the government is prioritizing the resolution of public issues and purpose of holding Khuli Kachari is to establish direct communication between public and department so that issues can be identified and resolved promptly.He directed that implementation on received complaints must be ensured and that no negligence should be shown in providing relief to the public.
An important meeting regarding the overall performance of the Irrigation Department, ongoing development projects, and proposed schemes for the upcoming financial year 2025–26 was held at the office of Khyber Pakhtunkhwa Minister for Irrigation
An important meeting regarding the overall performance of the Irrigation Department, ongoing development projects, and proposed schemes for the upcoming financial year 2025–26 was held at the office of Khyber Pakhtunkhwa Minister for Irrigation, Riaz Khan, in Peshawar. The meeting was attended by Secretary Irrigation Abdul Basit along with senior officers of the department.
During the meeting a detailed briefing was given on approved development projects currently underway across the province, as well as unapproved schemes for the next financial year. The meeting was informed about the current status of various projects included in the list of unapproved schemes for FY 2025–26, including estimated costs, funds released, progress on project documents, and matters under consideration at relevant forums. It was briefed that project documents for some schemes have already been received, while documentation for others is still pending. Some projects are under review at the relevant forums, whereas a few have been deferred after further scrutiny.
The meeting also focused on the rehabilitation of the canal system, projects for protection against potential floods, conversion of tube wells to solar energy, construction of small dams, and initiatives related to agricultural development. On this occasion, reference was also made to the directives of Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa, Muhammad Sohail Afridi, regarding public welfare and the timely completion of development projects, and it was reiterated that development activities across the province would be made more effective in line with the Chief Minister’s vision.
Addressing the meeting, Provincial Minister for Irrigation Riaz Khan said that special attention is urgently required for development works in the merged areas, and no negligence in this regard will be tolerated. He directed that the pace of work on ongoing projects in the merged areas be accelerated and that available resources be utilized effectively to provide immediate relief to the public. He further emphasized that strong focus must be maintained on departmental performance so that no question mark is raised over the performance of the Irrigation Department. The Provincial Minister made it clear that there would be no compromise on departmental performance, transparency and good governance. He instructed the concerned officers to complete documentation for all unapproved projects at the earliest and submit them to the relevant forums to avoid any delay in the development process. He added that the provincial government is fully committed to the timely completion of public welfare projects, effective utilization of resources, and modernization of the irrigation system across the province.
“جنگلات محض درخت نہیں، زمین، پانی اور دیگر وسائل کے درمیان توازن ہیں ”— جنید خان
محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبرپختونخوا صوبے کے جنگلاتی وسائل کے تحفظ، قانونی حیثیت کے واضح تعین اور دہائیوں سے چلے آ رہے تنازعات کے پائیدار حل کے لیے ایک جامع، سائنسی اور دور اندیش حکمتِ عملی کے تحت مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔ اسی تسلسل میں جنگلات کی ازسرِنو حدبندی سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس جنید خان، سیکرٹری محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں طلحہ حسین فیصل، سپیشل سیکرٹری، محمد جنید دیار، پراجیکٹ ڈائریکٹر 10 بلین ٹری سونامی پراجیکٹ، احمد جلیل چیف کنزرویٹر فارسٹ ریجن ون، شوکت فیاض چیف کنزرویٹر فارسٹ ریجن ٹو، اصغر خان چیف کنزرویٹر فارسٹ ریجن تھری، خیال صدیق آفیسر انچارج سروے آف پاکستان، جبکہ محکمہ جنگلات اور سروے آف پاکستان کے دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنگلات جنید خان نے کہا کہ محکمہ جنگلات اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہے کہ جنگلات محض درختوں کا مجموعہ نہیں بلکہ زمین، پانی، فضا اور انسانی زندگی کے مابین ایک نازک اور ہمہ گیر توازن کا نام ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کو قانون، مشاورت اور انسانی وقار کے دائرے میں رہتے ہوئے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ جہاں قانونی پیچیدگیاں درپیش ہیں وہاں عدالتی عمل کے مکمل احترام کے ساتھ مسائل کے حل کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی، جبکہ جہاں باؤنڈری پلرز کی تنصیب کے لیے مالی وسائل درکار ہیں وہاں متعلقہ فورمز پر فنڈز کی فراہمی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ہدایات جاری کی گئیں۔سیکرٹری جنگلات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبرپختونخوا تمام متعلقہ اداروں، ریونیو محکمے، ضلعی انتظامیہ اور مقامی آبادی کو اعتماد میں لے کر جنگلاتی حدود کے تعین کا عمل پایہ تکمیل تک پہنچائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کاوش محض زمین پر لکیر کھینچنے کا عمل نہیں بلکہ قدرتی ورثے کے تحفظ، ماحولیاتی استحکام اور ریاستی رِٹ کے مضبوط قیام کی ایک سنجیدہ قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات کی ہر حد، ہر ستون اور ہر نقشہ دراصل اس اجتماعی عہد کی علامت ہے کہ ہم اپنی زمین، اپنے ماحول اور اپنے مستقبل کو بے نام و نشان ہونے نہیں دیں گے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف کنزرویٹر فارسٹ ریجن ٹو شوکت فیاض نے بتایا کہ اسی سلسلے میں سروے آف پاکستان کے تعاون سے شمالی جنگلاتی خطہ ریجن-II ایبٹ آباد (ہزارہ فارسٹ ریجن) سے منسلک مختلف جنگلاتی ڈویژنز میں محفوظ شدہ (ریزرو) جنگلات کی ازسرِنو حدبندی کا ایک جامع منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد جدید سائنسی اور تکنیکی پیمانوں کے مطابق جنگلاتی حدود کو واضح کرنا اور سرکاری و عوامی ریکارڈ کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت ہری پور، گلیات، سیرن، کاغان اور اگرور تناؤل فارسٹ ڈویژنز میں مجموعی طور پر تین لاکھ ستاسی ہزار ایکڑ سے زائد جنگلاتی رقبہ قانونی درجہ بندی کے دائرے میں آتا ہے، جس میں محفوظ اور گزارہ جنگلات شامل ہیں۔ مختلف ادوار میں سروے آف پاکستان کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جن کی مالی معاونت 10 بلین ٹری سونامی پروگرام، بلین ٹری افاریسٹیشن پروگرام اور سائنٹیفک فارسٹ مینجمنٹ جیسے قومی منصوبوں کے ذریعے فراہم کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ازسرِنو حدبندی کے نتیجے میں متعدد فارسٹ ڈویژنز میں نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ہری پور فارسٹ ڈویژن میں تقریباً انتیس ہزار ایکڑ رقبے کی حدبندی مکمل کی گئی، جہاں تجاوزات کی نشاندہی اور جزوی بازیابی بھی عمل میں لائی گئی۔ گلیات فارسٹ ڈویژن میں حدبندی کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور ہزاروں باؤنڈری پلرز کی تعمیر و بحالی کے ذریعے جنگلاتی حدود کو عملی طور پر محفوظ بنایا گیا ہے۔ اسی طرح سیرن، کاغان اور اگرور تناؤل میں بھی ہزاروں ایکڑ پر محیط جنگلات کی حدبندی کی گئی، جس سے پہلی مرتبہ ان علاقوں میں جنگلاتی سرحدوں کی سائنسی بنیادوں پر واضح نشاندہی ممکن ہوئی ہے۔تاہم انہوں نے اس امر کی نشاندہی بھی کی کہ اس اہم قومی منصوبے کے دوران بعض سنگین چیلنجز سامنے آئے ہیں، جن میں جنگلاتی اور ریونیو ریکارڈ میں فرق، دہائیوں پرانے تجاوزات، عدالتی مقدمات، دشوار گزار اور دور افتادہ پہاڑی علاقوں تک رسائی کی مشکلات، اور بعض مقامات پر فنڈز کی بروقت فراہمی میں تاخیر شامل ہیں، جنہوں نے منصوبے کی رفتار کو متاثر کیا ہے۔اجلاس کے دوران چیف کنزرویٹر فارسٹ ریجن تھری اصغر خان نے ملاکنڈ ڈویژن میں جنگلات کی حدبندی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دیر، سوات اور چترال میں جنگلات کی حتمی حدبندی کا عمل تاحال مکمل نہیں ہو سکا، جہاں مقامی آبادی کی جانب سے بعض خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان خدشات کے ازالے کے لیے ضلعی انتظامیہ اپنی سطح پر اقدامات کر رہی ہے تاکہ مشاورت کے ساتھ ان علاقوں میں سروے اور حدبندی کا عمل شروع کیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر سیکرٹری محکمہ جنگلات جنید خان نے ہدایت کی کہ جن علاقوں میں سروے آف پاکستان کی جانب سے کام تاحال باقی ہے، وہاں متعلقہ فریقین کے مابین جلد علیحدہ اجلاس منعقد کیے جائیں تاکہ پورے صوبے میں جنگلاتی رقبے کو مؤثر، شفاف اور دیرپا تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان سے تاجر اور سبزی و فروٹ فروشوں نے تاجر اتحاد اور سبزی و فروٹ منڈی ضلع چارسدہ کے صدور کی قیادت میں منگل کے روز پشاور میں ملاقات
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان سے تاجر اور سبزی و فروٹ فروشوں نے تاجر اتحاد اور سبزی و فروٹ منڈی ضلع چارسدہ کے صدور کی قیادت میں منگل کے روز پشاور میں ملاقات کی۔ ملاقات میں سبزی و فروٹ منڈی چارسدہ کے لیے این او سی کے اجرا اور دیگر درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تاجر اتحاد ضلع چارسدہ کے صدر افتخار حسین سراب اور سبزی و فروٹ منڈی چارسدہ کے صدر شاہ روم نے ملاقات کی قیادت میں وفود نے صوبائی وزیر کو آگاہ کیا کہ سبزی و فروٹ منڈی چارسدہ کے قیام کے لیے باقاعدہ طور پر این او سی کی درخواست جمع کروائی جا چکی ہے اور اس ضمن میں تمام قانونی تقاضے، قواعد و ضوابط اور مطلوبہ دستاویزی کارروائی مکمل کی جا چکی ہے، تاہم اس کے باوجود تاحال این او سی جاری نہیں کیا گیا جس کے باعث تاجر برادری کو شدید مشکلات کا سامنا ہے وفود نے اس بات پر زور دیا کہ سبزی و فروٹ منڈی کے قیام سے نہ صرف تاجروں کو سہولیات میسر آئیں گی بلکہ ضلع چارسدہ میں سبزی اور پھلوں کی منظم ترسیل، قیمتوں میں استحکام اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے اس موقع پر صوبائی وزیر فضل شکور خان نے وفود کو مکمل یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ تاجر برادری کے جائز مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کے حل کے لیے وہ جلد ڈپٹی کمشنر چارسدہ سے تاجر اتحاد اور سبزی و فروٹ منڈی کے صدور کی موجودگی میں ملاقات کریں گے تاکہ تمام قانونی پہلوؤں اور قواعد و ضوابط کی روشنی میں مسئلے کا مستقل اور پائیدار حل نکالا جا سکے۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت صوبے میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور کاروباری طبقے کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور کسی بھی جائز درخواست میں بلاوجہ تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی وفود نے صوبائی وزیر کی یقین دہانی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
درہ آدم خیل کو سیالکوٹ طرز کے انڈسٹریل زون میں تبدیل کرنے کے حوالے سے اہم اجلاس۔
درہ آدم خیل میں اسلحہ سازی کے کاروباری کلسٹر کو ریگولرائز کرنے کے لیے قائم کی گئی کمیٹی کا ایک اہم اجلاس صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کی زیرِصدارت منعقدہواجس میں مینیجنگ ڈائریکٹر سمال اینڈسٹریز ڈیولپمنٹ بورڈ، ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر کے پی ٹیوٹا، کے پی اکنامک زون ڈیویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی، محکمہ قانون، محکمہ داخلہ، 11 کور کے حکام، ضلعی انتظامیہ کوہاٹ، کوہاٹ پولیس، اسلحہ سازی سے وابستہ مینوفیکچرنگ نمائندگان اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ درہ آدم خیل کا اسلحہ سازی کا کاروباری کلسٹر ملک بھر کے ہنرمندوں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور اس صنعت کو ایک منظم اور قانونی دائرہ کار میں لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آفتاب عالم نے کہا کہ ریگولرائزیشن سے نہ صرف اس صنعت کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا بلکہ مقامی معیشت، روزگار کے مواقع اور سرکاری ریونیو میں بھی اضافہ ممکن ہو سکے گا۔اجلاس میں ضلعی انتظامیہ کوہاٹ کی جانب سے پیش کی گئی سروے رپورٹ پر تفصیلی غور کیا گیا، جس کے مطابق اب تک 467 یونٹس کا سروے مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ مزید پیش رفت کی گنجائش بھی موجود ہے۔ شرکاء کو 26 مئی 2025 کو ہونے والے اجلاس کے بعد کمیٹی کے طے شدہ ٹرمز آف ریفرنس (TORs) سے بھی آگاہ کیا گیا۔اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ کاروباری کلسٹر کو ریگولرائز کرنے سے درست اعداد و شمار کی دستیابی، مصنوعات کی منظم ترسیل کے مراکز کے قیام اور ریونیو کی بہتر وصولی ممکن ہو سکے گی۔ مقامی صنعت کاروں کو اس منصوبے میں شامل کرنے کے لیے صوبائی سطح پر دی جانے والی مراعات، بالخصوص ایکسائز ڈیوٹی میں ایک بار کی چھوٹ، پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں دو ذیلی کمیٹیوں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ پہلی ذیلی کمیٹی مجوزہ انڈسٹریل زون کے لیے قواعد و ضوابط میں ضروری ترامیم یا موجودہ قوانین میں ایک علیحدہ چیپٹر شامل کرنے پر کام کر رہی ہے، جبکہ دوسری ذیلی کمیٹی انڈسٹریل زون کے لیے درکار تفصیلی سروے مکمل کر رہی ہے جس میں مینوفیکچرنگ یونٹس اور ڈیلرز کا مستند اور جامع ڈیٹا جمع کیا جا رہا ہے۔جلاس میں اسٹیک ہولڈرز کی آراء جاننے، پیچیدہ طریقہ کار کو سادہ بنانے اور منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے حکومتی تعاون کے پہلوؤں پر بھی غور کیا گیا۔ وزیر قانون نے اس موقع پر بتایا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اس منصوبے میں ذاتی دلچسپی رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں صوبائی حکومت کی بھرپور معاونت حاصل رہے گی۔اجلاس میں آگاہ کیا گیا کہ درہ آدم خیل میں ٹیوٹا کی مخدوش عمارت کی بحالی اور ازسرِ نو تعمیر پر آئندہ ایک ماہ میں کام شروع کیا جائے گا، جس سے مقامی ہنرمندوں کی فنی اور تکنیکی صلاحیتوں کو فروغ ملے گا۔ اس موقع پر اسلحہ سازی سے متعلق ایس او پیز کی تیاری، قانون کے مطابق صنعت کے فروغ اور ہنرمندوں کی مہارتوں کو مزید نکھارنے پر بھی زور دیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مجوزہ انڈسٹریل زون کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز اور متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی رابطے کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ قانونی سہولتوں اور قواعد و ضوابط میں ممکنہ نرمی کے ذریعے اس منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران 11 کور کے حکام نے سیالکوٹ کے کاروباری کلسٹر کے ماڈل کو درہ آدم خیل کے مجوزہ انڈسٹریل زون کے لیے بطور اسٹڈی اپنانے کی تجویز بھی پیش کی۔
Those lecturing on corruption should explain who is responsible for Rs 5,300 billion corruption.shafi Jan
Special Assistant to the Chief Minister Khyber Pakhtunkkhwa on Information and Public Relations, Shafi Jan, has strongly reacted to the statements of federal ministers, saying that Ikhtiar Wali’s remarks regarding governance in Khyber Pakhtunkhwa reflect his ignorance, panic, and political dishonesty. He said such statements are an attempt to divert attention from the failures and poor governance of the federal government through baseless allegations.
In his statement, Shafi Jan said that under the leadership of Chief Minister Sohail Afridi, the provincial government is taking practical steps to promote good governance and is working day and night to provide relief to the public. Khyber Pakhtunkhwa is the only province where no compromise is made on transparency, accountability, and merit, while lawlessness is on the rise in other provinces due to illegitimate governments.
He said the provincial government is giving special attention to the health sector and, in line with the vision of PTI Founder Chairman Imran Khan, free medical treatment and free medicines are being provided to the public through the Sehat Card, a program that has also received international recognition.
Terming Ikhtiar Wali a defeated individual, Shafi Jan said that instead of resorting to baseless criticism against the provincial government, he should ensure the payment of Khyber Pakhtunkhwa’s outstanding dues by the federation. Due to the federal government’s stubborn attitude, the development process in the province is being adversely affected.
He cited the example of the Peshawar Northern Bypass project, stating that when the federation failed to release funds, the provincial government recently provided billions of rupees from its own resources to ensure timely completion of the project.
He added that those claiming a lack of governance in the province should first present an account of the federal government’s performance. Poor federal policies, inflation, and unemployment have made life miserable for the people. Those lecturing on corruption should explain why major corruption scandals are surfacing at the federal level and who is responsible for corruption amounting to Rs 5,300 billion.
Speaking on terrorism, Shafi Jan said that despite the withholding of funds by the federation, the Khyber Pakhtunkhwa Police is bravely fighting terrorism. The people and police of the province are making great sacrifices in this war, but the statements of Talal Chaudhry and other federal ministers are regrettable and condemnable.
He said such statements insult the sacrifices of the police in the war against terrorism, which is unacceptable. Terrorism is a serious national issue, while criticizing
the provincial government for it is an inappropriate and irresponsible approach.
He said the provincial government is taking all possible measures within its available resources to eradicate terrorism.
Shafi Jan further stated that the province’s 45 million people have given a clear mandate to Pakistan Tehreek-e-Insaf, and the elected provincial government and members of the assembly will continue to make decisions in accordance with their mandate to safeguard the rights and interests of the people.
Meanwhile, declaring Chief Minister Sohail Afridi’s visit to Sindh a success, Shafi Jan said that the love and sincerity shown by the people of Sindh will always be remembered. On the directions of PTI Founder Chairman Imran Khan, the street movement in Karachi and Hyderabad proved highly successful, which has also caused panic within the Sindh government.
He added that under the leadership of Chief Minister Sohail Afridi, the street movement will be expanded across the entire country.
سال2021 میں 9.5 لاکھ لوگ پورے پاکستان میں بجلی 200 یونٹ سے کم استعمال کرتے تھے 2025 میں 200 یونٹس سے کم استعمال والے صارفین 20.7 لاکھ ہوگئے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے بجلی استعمال بارے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی حکومت میں عوام بے دھڑک بجلی استعمال کرتے تھے اور بانی پی ٹی آئی حکومت میں عوام کو بجلی کے بل کی فکر نا تھی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ 2021 میں 9.5 لاکھ لوگ پورے پاکستان میں بجلی 200 یونٹ سے کم استعمال کرتے تھے جبکہ 2021 میں باقی صارفین 200 یونٹس سے زیادہ استعمال کرتے تھے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اب 2025 میں 200 یونٹس سے کم استعمال والے صارفین 20.7 لاکھ ہوگئے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ 2021 میں صرف 34 فیصد افراد 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرتے تھے جبکہ 2025 میں 61 فیصد عوام 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کر رہے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اسکا مطلب ہے کہ 38 فیصد آبادی کو جابرانہ بجلی بل کی وجہ سے کھپت کم کرنی پڑی ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ اگر سولر کو شامل کر لیں تو شاید یہ 38 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ حکومتی سروے کے مطابق ملک میں پہلے ہی عوام دو وقت کی روٹی، دودھ اور دال والے ایک وقت پر آگئے ہیں گوشت تو عوام کو سونگھنے کے لئے بھی میسر نہیں ہے۔
