Home Blog Page 79

خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی میں ڈیجیٹل انقلاب، فیلڈ انسپکشن سسٹم FRAIMS کے تحت منتقل

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے صوبہ بھر میں فوڈ انسپکشن کے نظام کو جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منتقل کرتے ہوئے FRAIMS (Food Quality Real-time Audit and Inspections Monitoring System) کو باضابطہ طور پر نافذ کر دیا ہے۔فوڈ اتھارٹی حکام کے مطابق FRAIMS کی باقاعدہ منظوری فوڈ اتھارٹی بورڈ نے دے دی ہے، جس کے بعد صوبہ بھر میں پیپر لیس اور کیش لیس فوڈ انسپکشن کا عملی طور پر آغاز کر دیا گیا ہے۔ نئے نظام کے تحت فیلڈ میں تعینات فوڈ سیفٹی اہلکار انسپکشن کے دوران باڈی وورن کیمرے اور جدید ڈیجیٹل آلات کا استعمال کریں گے۔حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ریکارڈ کے بغیر کی گئی کسی بھی فوڈ انسپکشن کو ناقابلِ قبول تصور کیا جائے گا، جبکہ بورڈ نے نئے انسپکشن ضوابط کی بھی منظوری دے دی ہے تاکہ شفافیت اور جوابدہی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔فوڈ اتھارٹی حکام نے کہا کہ جرمانوں، فیسوں اور لائسنسنگ سے متعلق تمام ادائیگیاں اب صرف کیش لیس ذرائع کے ذریعے وصول کی جائیں گی، جس سے مالی امور میں شفافیت اور آسانی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔دوسری جانب ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے بتایا کہ پراونشل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری اینڈ سنٹر فار ریسرچ میں آئی ایس او سرٹیفکیشن کے حصول کے لیے تمام ضروری لوازمات مکمل کر لیے گئے ہیں اور سرٹیفکیشن کے حصول کا عمل آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایس او سرٹیفکیشن سے مقامی سطح پر تیار ہونے والی مصنوعات کو یورپی اور مشرقِ وسطیٰ کی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملے گی، جس سے صوبے کی فوڈ انڈسٹری کو فروغ ملے گا۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی کے مطابق فوڈ ٹیسٹنگ نظام کو مزید جدید بنانے کے لیے لیبارٹری انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (LIMS) کی تنصیب پر بھی تیزی سے کام جاری ہے، جس سے لیبارٹری کے امور میں شفافیت، رفتار اور معیار میں بہتری آئے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ فوڈ اتھارٹی بورڈ نے خوراک کے معیار اور عوامی صحت کے درمیان تعلق کو سائنسی بنیادوں پر جانچنے کے لیے 15 سالہ فوڈ سیفٹی و پبلک ہیلتھ ریسرچ پروگرام کی بھی منظوری دے دی ہے۔واصف سعید کا کہنا تھا کہ فوڈ اتھارٹی کے امور کو ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے سے نہ صرف شفافیت میں اضافہ ہوگا بلکہ عوام کو معیاری اور آسان خدمات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جا سکے گی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان سے رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے پشاور میں ایک اہم ملاقات کی

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان سے رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے پشاور میں ایک اہم ملاقات کی اور حلقہ۔ این۔ اے۔30 میں عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے تحت جاری، مکمل، غیر فعال اور مجوزہ واٹر سپلائی سکیموں سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے صوبائی وزیر کو اپنے حلقہ۔ این۔ اے۔30 پشاور میں جاری واٹر سپلائی سکیموں کی موجودہ پیش رفت، غیر فعال اور ٹیوب ویلز کی مرمت اور بحالی، اور پانی کی فراہمی کے نظام کو شمسی توانائی (سولرائزیشن) پر منتقل کرنے کی ضرورت سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا شاندانہ گلزار نے اس بات پر زور دیا کہ حلقے میں صاف پینے کے پانی کی فراہمی عوام کی بنیادی ضرورت ہے اور اس ضمن میں جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل، غیر فعال سکیموں کی بحالی اور توانائی کے متبادل ذرائع، بالخصوص شمسی نظام، کی جانب منتقلی ناگزیر ہے تاکہ نظام کو پائیدار اور کم خرچ بنایا جا سکے۔اس موقع پر صوبائی وزیر فضل شکور خان نے رکن قومی اسمبلی کو مسائل کے حل کی مکمل یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اور پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حلقے میں جاری تمام واٹر سپلائی سکیموں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے گا اور ان منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ جن ٹیوب ویلز کو فوری مرمت یا بحالی کی ضرورت ہے، اور جن واٹر سپلائی سکیموں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جانا ہے، ان کے لیے درکار فنڈز پی ڈی ڈبلیو پی سے منظوری کے فوراً بعد جاری کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سولرائزیشن کے منصوبوں سے نہ صرف توانائی کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ پانی کی مسلسل اور بلا تعطل فراہمی بھی ممکن ہو سکے گی۔فضل شکور خان نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ حلقے میں جاری اور مجوزہ سکیموں کی پیش رفت پر گہری نظر رکھیں، تمام تکنیکی و انتظامی امور بروقت مکمل کریں اور عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے کام کی رفتار مزید تیز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ شفافیت، مؤثر منصوبہ بندی اور بروقت تکمیل کے اصولوں پر عمل پیرا ہے تاکہ صوبے بھر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے نظام کو مضبوط اور پائیدار بنایا جا سکے۔ رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے صوبائی وزیر فضل شکورخان کی جانب سے تعاون اور یقین دہانی پر اطمینان کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ ان اقدامات سے حلقے کے عوام کو جلد ریلیف ملے گا اور پانی کی فراہمی کے دیرینہ مسائل حل ہوں گے۔

صوبہ بھر میں غیر قانونی میڈیکل سٹورز اور غیر معیاری ادویات کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمان نے صوبہ بھر میں غیر لائسنس یافتہ میڈیکل سٹورز کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے اور غیر معیاری و جعلی ادویات کی خرید و فروخت کے خلاف فوری طور پر مہم شروع کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔یہ اہم فیصلے محکمہ صحت کے کمیٹی روم میں منعقد ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیے گئے، جس کی صدارت صوبائی وزیرِ صحت نے کی۔ اجلاس میں سیکرٹری صحت اور ڈائریکٹوریٹ جنرل ڈرگ کنٹرول و فارمیسی سروسز کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں صوبائی وزیرِ صحت نے تمام ڈرگ انسپکٹرز اور فیلڈ افسران کو ہدایت کی کہ وہ کیمسٹس اور ڈرگسٹوں کی یونینز و ایسوسی ایشنز کے ذریعے آگاہی سرگرمیوں میں مزید تیزی لائیں تاکہ صوبے بھر میں ڈرگ قوانین اور قواعد و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے وزیرِ صحت نے مزید ہدایت کی کہ صوبہ بھر میں کی جانے والی تمام کارروائیوں کی روزانہ کی بنیاد پر رپورٹنگ کی جائے، جس میں تصویری شواہد شامل ہوں اور یہ رپورٹس ہر پندرہ روز بعدصوبائی وزیرِ صحت اور سیکرٹری صحت کو پیش کی جائیں۔صوبائی وزیرِ صحت نے واضح کیا کہ ادویات کے معیار، حفاظت اور افادیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور عوام کی صحت کا تحفظ حکومتِ خیبر پختونخوا کی اولین ترجیح ہے۔

صوبائی وزیرِ قانون کے بروقت اقدام سے منصوبہ آبنوشی چورلکی فعال

خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی بروقت مداخلت اور مؤثر اقدامات کے نتیجے میں دریائے سندھ،منصوبہ آبنوشی چورلکی کو دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔ عوامی شکایات سامنے آنے پر صوبائی وزیرِ قانون نے فوری طور پر ایکسین اور متعلقہ ٹھیکیدار سے رابطہ کیا جس کے بعد واٹر اسکیم کے پائپس اور سولر سسٹم کی مرمت مکمل کر لی گئی جبکہ مشینری کو بھی فعال بنا دیا گیا ہے۔ صدر پاکستان تحریکِ انصاف چورلکی عدنان جگر کے مطابق آج عصر کے وقت محلہ سب خیل چورلکی کو پانی کی فراہمی بحال کر دی جائے گی جس سے علاقہ مکینوں کو درپیش پانی کی قلت کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ صوبائی وزیرِ قانون نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ واٹر اسکیم کے پائپس اور سولر سسٹم کی حفاظت اور باقاعدہ نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔ کسی بھی قسم کی غفلت یا تخریب کاری کی صورت میں ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ مزید برآں، تعینات ملازمین کو اپنی ذمہ داریاں دیانتداری سے ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دریں اثناء، صوبائی وزیرِ قانون آفتاب عالم اور ایم این اے شہریار آفریدی کے فراہم کردہ فنڈز، چیئرمین عامر خان اور پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنان کی کاوشوں سے بازید خیل روڈ پر بھی اسفالٹ کا کام تیزی سے جاری ہے۔ اس منصوبے سے عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی اور علاقے کی معاشی و سماجی ترقی میں اضافہ ہوگا۔
علاقہ عوام نے صوبائی وزیرِ قانون ر آفتاب عالم او ر ایم این اے شہریارآفریدی کی علاقے کی ترقی کیلئے کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ اپنی کوششیں، اسی جذبے کے ساتھ آئندہ بھی مؤثر انداز میں عوامی فلاح کیلئے جاری رکھیں گے۔

پی ٹی آئی حقیقی معنوں میں عوامی خدمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے صوبائی وزیر فضل شکورخان کا ضلع چارسدہ میں شمولیتی تقریب سے خطاب

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور عوام کی بھرپور حمایت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی حقیقی معنوں میں عوامی خدمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ وہ ضلع چارسدہ میں منعقدہ شمولیتی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
اس موقع پر ایاز خان، باچامیر، صدیق خان اور آمین خان نے عوامی نیشنل پارٹی سے مستعفی ہو کر اپنے خاندانوں اور ساتھیوں سمیت پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ صوبائی وزیر فضل شکور خان نے نئے شامل ہونے والے پی ٹی آئی کارکنان کو پارٹی کیپ اور مفلر پہناتے ہوئے انہیں پاکستان تحریک انصاف میں خوش آمدید کہا۔
اپنے خطاب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کا تیسری مرتبہ بھاری اکثریت سے اقتدار میں آنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی پہلے سے زیادہ مضبوط، منظم اور عوام کی حقیقی نمائندہ جماعت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاست اقتدار نہیں بلکہ خدمت ہے، اور یہی وجہ ہے کہ عوام بار بار اس جماعت پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔
فضل شکور خان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے ہمیشہ عوامی مسائل کے حل کو اولین ترجیح دی ہے، چاہے وہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی ہو، صحت، تعلیم یا دیگر بنیادی سہولیات ہو ں، موجودہ صوبائی حکومت تمام دستیاب وسائل کو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بروئے کار لا رہی ہے۔
پارٹی میں نئے شامل ہونے والے کارکنان نے اس موقع پر کہا کہ ان کی شمولیت کسی ذاتی مفاد کے تحت نہیں بلکہ عوامی خدمت، نوجوانوں کے بہتر مستقبل اور علاقے کی ترقی کے وژن کے پیش نظر ہے۔ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی ہی وہ واحد سیاسی پلیٹ فارم ہے جو ملک کو درست سمت میں لے جا سکتا ہے۔
آخر میں صوبائی وزیر فضل شکور خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف عوامی خدمت، حق و انصاف اور حقیقی تبدیلی کے مشن کو پوری قوت سے آگے بڑھاتی رہے گی اور نئے شامل ہونے والے ساتھی پارٹی کے وژن کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

وفاقی حکومت کی چار سالہ کارکردگی جانچنے کیلئے بھی ایک کمیٹی تشکیل دینی چاہیے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‏وفاقی حکومت کے خود گورننس کے مسائل ہیں اور انکو چھ مہینے کا وقت ملا ہے گورننس کی شکار حکومت دوسروں کی کارکردگی کا کیا جائزہ لیں گے۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گزشتہ روز اپنے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ وزیر اعظم بتائیں اڑان پاکستان پروگرام کہاں گیا اور احسن اقبال بتائیں ان کی وزارت کے منصوبوں کی کیا صورتحال ہے؟ وفاقی وزارت منصوبہ بندی و ترقیات نے کتنا بجٹ پہلے چھ ماہ میں جاری کیا اور 2022 سے اب تک کتنے منصوبے مکمل کئے؟ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ احسن اقبال بتائیں 2022 سے اب تک سی پیک میں کیا پیش رفت ہے اور وزیر اعظم بتائیں 2022 سے 2025 تک 35,000 ارب کا قرضہ لیا اس سے کتنے ترقیاتی منصوبے مکمل کئے؟ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم بتائیں ملک میں 21 سالہ بلند ترین بے روزگاری کیوں ہے اور حکومت بتائیں 45 فیصد لوگ غربت کی لکیر کے نیچے کیسے پہنچے ان تمام سوالات کے نتیجے میں سب سے پہلے ایک کمیٹی وفاقی حکومت کی چار سالہ کارکردگی پر بنی چاہیے

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا اہم بیان جاری

وفاقی حکومت کے خود گورننس کے مسائل ہیں اور انکو چھ مہینے کا وقت ملا ہے۔ مزمل اسلم

گورننس کی شکار حکومت دوسروں کی کارکردگی کا کیا جائزہ لیں گے؟ مزمل اسلم

وزیر اعظم بتائیں اڑان پاکستان پروگرام کہاں گیا؟ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

احسن اقبال بتائیں ان کی وزارت کے منصوبوں کی کیا صورتحال ہے؟ مزمل اسلم

وزارت منصوبہ بندی نے کتنا بجٹ پہلے چھ ماہ میں جاری کیا؟ مزمل اسلم

احسن اقبال بتائیں 2022 سے اب تک کتنے منصوبے مکمل کئے؟ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

احسن اقبال بتائیں 2022 سے اب تک سی پیک میں کیا پیش رفت ہے؟ مزمل اسلم

وزیر اعظم بتائیں 2022 سے 2025 تک 35,000 ارب کا قرضہ لیا اس سے کتنے ترقیاتی منصوبے مکمل کئے؟ مزمل اسلم

وزیراعظم بتائیں ملک میں 21 سالہ بلند ترین بے روزگاری کیوں ہے۔ مزمل اسلم

حکومت بتائیں 45 فیصد لوگ غربت کی لکیر کے نیچے کیسے پہنچے۔ مزمل اسلم

ان تمام سوالات کے نتیجے میں سب سے پہلے ایک کمیٹی وفاقی حکومت کی چار سالہ کارکردگی پر بنی چاہیے۔ مزمل اسلم

Karachi reception for CM Sohail Afridi underscores PTI’s popularity in Sindh: Shafi Jan

Special Assistant to the Chief Minister on Information and Public Relations, Shafi Jan, said on Saturday that the warm and enthusiastic reception accorded to Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister Sohail Afridi upon his arrival in Karachi for a Sindh visit had once again underscored Pakistan Tehreek-e-Insaf’s growing popularity in the province.

In a statement, he said the massive turnout of party workers and the public reflected that Sindh still stood firmly with the ideology of PTI founder Imran Khan. “PTI has once again proven that it is the country’s only truly national political party, and the entire nation remains united and steadfast with its leader, Imran Khan,” he added.

Shafi Jan said CM Afridi was escorted from Karachi airport to Insaf House in the form of a large rally by party workers. He termed the chief minister’s Sindh visit crucial for injecting fresh momentum into the party’s street movement.

He said that during his three-day visit, the chief minister would meet party leadership, incarcerated party members, workers, as well as lawyers and journalists. He added that CM Afridi would hold a formal meeting with the Sindh chief minister on Monday, while on Sunday he would address a large public gathering at Jinnah Bagh, expected to be attended by a sizeable number of party supporters.

The special assistant said that since the general elections, PTI’s political activities across the country had remained under an undeclared restriction. “On the one hand, PTI founder Imran Khan, along with other leaders and workers, has been unjustly imprisoned, and on the other hand, the party has been denied adequate political space,” he said, adding that CM Afridi broke this political deadlock by launching the street movement from Punjab.

He appreciated the conduct of the Sindh government — particularly Sindh Minister Saeed Ghani — for welcoming the chief minister at the airport, contrasting it with the situation in Punjab. Shafi Jan said political activity was the constitutional and democratic right of every political party across the country, and no one had the authority to curtail it through unconstitutional, undemocratic or illegal means.

He further said that CM Sohail Afridi would also lead the street movement in various areas, including Keamari, Malir, Kotri and Korangi, among others.

A meeting of the Standing Committee of the Khyber Pakhtunkhwa Assembly on Administration was held on Friday at Peshawar.

A meeting of the Standing Committee of the Khyber Pakhtunkhwa Assembly on Administration was held on Friday at Peshawar. The meeting was chaired by Member of the Provincial Assembly and Member of the Standing Committee, Fazal Elahi. Besides the members of the Standing Committee and MPAs Aftab Alam, Zarshad Khan, and Ms. Rehana Ismail, officials from the Administration Department, Law Department, Finance Department, and the relevant officers of the Khyber Pakhtunkhwa Assembly attended the meeting.
During the meeting, the Standing Committee was given a detailed briefing on the framework of the Khyber Pakhtunkhwa Right to Public Services (Amendment) Bill, 2025. The Committee deliberated on the proposed amendments to a total of nine sections of the Khyber Pakhtunkhwa Act, 2014, aimed at improving administrative affairs and ensuring the provision of effective, timely, and transparent services to the public. On this occasion, the members of the Committee also presented their opinions and suggestions on the proposed amendments.
It was informed in the meeting that under the proposed amendments, all departments involved in public dealing will be made accountable before the RTI Commission, whereas previously only the government was accountable to this Commission. Furthermore, each department will be bound to submit its annual performance report regarding public services to the Commission by 31 March every year, in order to further strengthen transparency, accountability, and public trust.

Provincial Government Successfully Concludes High-Impact PPP Roadshow. Investors, Contractors & Banks Show Strong Interest in Infrastructure Project

Provincial Government Successfully Concludes High-Impact PPP Roadshow. Investors, Contractors & Banks Show Strong Interest in Infrastructure Project

ISLAMABAD, January 9, 2026 – The Provincial Government of Khyber Pakhtunkhwa announced the successful completion of a dynamic investors roadshow for the Public-Private Partnership (PPP) project, a road connecting Indus Highway N-55 with Hakla D.I. Khan Motorway M-14. The event drew enthusiastic participation from leading construction firms, financial institutions, and private equity investors.

The roadshow, held at Islamabad, showcased the project’s detailed scope, financial arrangements, risk-sharing framework, and implementation timelines. The event provided a platform for stakeholders to engage with government officials and explore opportunities for collaboration.

”The Bannu Link Road Project is a testament to our commitment to improving regional connectivity and promoting economic growth in Khyber Pakhtunkhwa,” says Mr. Adeel Shah, Secretary, P&D Department.

Attendees included CEOs of Tier-1 contractors, senior bankers from national lenders, and investment fund managers, all expressing keen interest in participating in the project. The government’s transparent approach and commitment to de-risking the project through viability gap funding and land acquisition support were highlighted as key factors in generating investor interest.

”We are excited to partner with the private sector to deliver this critical infrastructure project, which will have a transformative impact on the lives of our people,” says Mr. Adeel Shah, Secretary, P&D Department.

Speaking on the occasion, the Secretary Communication and Works Department stated, ”Today’s roadshow was a resounding success. The response from the private sector validates our vision. This PPP Project is not only a fast-tracked critical infrastructure initiative but will also attract long-term, sustainable investment into our province.”

Investors praised the government’s clarity in documentation and commitment to supporting the project’s development. Several firms have already signaled their intent to participate in the upcoming bidding process.

”Khyber Pakhtunkhwa’s successful PPP portfolio, including the landmark Swat Expressway Phase I and Phase II projects, demonstrates our ability to attract private sector investment and deliver development goals,” says Mr. Shahzad Mehboob, Chief Public Private Partnership Unit, P&D Department.

The Bannu Link Road Project is expected to significantly enhance regional connectivity, reduce travel time, and stimulate economic growth in the area. The project’s successful implementation is anticipated to set a precedent for future PPP initiatives in Khyber Pakhtunkhwa.