Home Blog Page 8

The Khyber Pakhtunkhwa Public Service Commission (KPPSC) has entered a new era of merit-based recruitment with the launch of its Computer-Based Ability Testing (CBT) system

The Khyber Pakhtunkhwa Public Service Commission (KPPSC) has entered a new era of merit-based recruitment with the launch of its Computer-Based Ability Testing (CBT) system, marking a major digital transformation in the conduct of public service examinations. The initiative has been undertaken in collaboration with the Educational Testing and Evaluation Agency (ETEA), combining institutional expertise and technological capacity to modernise the testing process.

The first-ever computer-based tests under the new system are being conducted from September 24, 2026, with tests for Senior Instructor (Criminology) and Law Officer being held today, followed by examinations for Mobile Application Developer and Network Administrator on September 25 at the KPPSC IT Lab in Peshawar.

The initiative represents a significant shift from conventional paper-based testing towards a faster, more secure, transparent and technology-driven examination system.

The new CBT system is expected to substantially improve examination efficiency and accelerate the compilation of results, reducing the time and administrative effort traditionally required for paper-based tests and manual processing.

The transition to computer-based testing will also significantly reduce the Commission’s dependence on printed question papers, answer sheets and other paper-based examination material, resulting in savings in printing, paper, stationery, transportation, storage and related administrative expenditure.

Most importantly, the digital testing environment will strengthen examination security and help curb the use of unfair means, with greater control over the testing process and reduced human handling of examination material.

The introduction of CBT is therefore not merely a technological upgrade, but a major institutional reform aimed at making public-sector recruitment more efficient, transparent, secure and responsive.

With the launch of CBT, KPPSC has taken an important step towards bringing the province’s public service recruitment system in line with modern, technology-enabled examination practices, while creating a stronger foundation for faster and more reliable recruitment processes in the future.From paper-based examinations to digital testing, KPPSC has opened a new chapter in the evolution of competitive examinations in Khyber Pakhtunkhwa.

ایم ٹی آئی بنوں کی اعلیٰ قیادت کی صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن سے ملاقات

چیئرمین بورڈ آف گورنرز ایم ٹی آئی بنوں پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود کی قیادت میں ایم ٹی آئی بنوں کے وفد نے صوبائی وزیر صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمن سے ملاقات کی۔ ملاقات میں بنوں اور ملحقہ اضلاع کے عوام کو بہتر، بروقت اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی، ہسپتالوں میں موجودہ شعبہ جات کی اپ گریڈیشن، نئی سہولیات کے قیام اور مختلف ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد میں ہاسپٹل ڈائریکٹر ایم ٹی آئی بنوں پروفیسر ڈاکٹر عبدالغفور خان، میڈیکل ڈائریکٹر اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر فرمان اللہ وزیر اور سیکرٹری بورڈ آف گورنرز ایم ٹی آئی بنوں منیب خان شامل تھے۔ملاقات کے دوران ایم ٹی آئی بنوں کے ہسپتالوں میں ایم آر آئی کی سہولت کے قیام، ڈی ایچ کیو ہسپتال بنوں کے ٹراما سنٹر کی توسیع، کڈنی سنٹر کے قیام سمیت مختلف شعبہ جات کی توسیع اور طبی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے امور زیرِ غور آئے۔ وفد نے صوبائی وزیر صحت کو ہسپتالوں میں جاری اور مجوزہ منصوبوں، مریضوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور طبی خدمات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے درکار اقدامات سے آگاہ کیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن نے کہا کہ بنوں سمیت ملحقہ اضلاع کے عوام کو جدید تشخیصی اور علاج کی سہولیات ان کے اپنے علاقے میں فراہم کرنا محکمہ صحت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے طبی شعبہ جات اور سہولیات میں توسیع کے لیے قابلِ عمل اقدامات کیے جائیں گے۔صوبائی وزیر صحت نے ایم ٹی آئی بنوں کی قیادت کو یقین دلایا کہ ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی بہتری، ضروری ترقیاتی منصوبوں اور عوام کو معیاری علاج کی فراہمی کے لیے محکمہ صحت کی جانب سے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ضروری امور پر پیش رفت کے لیے مؤثر رابطہ کاری کی ہدایت بھی کی۔ملاقات میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ایم ٹی آئی بنوں میں طبی سہولیات کی توسیع اور جدید شعبہ جات کے قیام کا مقصد بنوں اور ملحقہ اضلاع کے عوام کو بروقت، معیاری اور جدید طبی خدمات مقامی سطح پر فراہم کرنا اور مریضوں کو علاج کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر کرنے کی ضرورت کو کم کرنا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے ایم این اے فضل خان کو اٹھانا آئین، قانون اور عوامی مینڈیٹ کی سنگین پامالی ہے، شفیع جان

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات، سائنس و ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں رشکئی انٹرچینج سے پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی فضل خان کو اٹھائے جانے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ منتخب عوامی نمائندے کو اٹھانا آئین، قانون اور خیبر پختونخوا کے عوامی مینڈیٹ کی سنگین پامالی ہے۔ایسے غیر قانونی ہتھکنڈے اور جبر کا نظام قائد عمران خان کے سپاہیوں کے حوصلے نہیں توڑ سکتا۔ 27 ستمبر کا لانگ مارچ آئین کی بحالی، حقیقی آزادی اور اس فسطائیت کے خاتمے کا دن ثابت ہو گا۔ قوم اب پیچھے نہیں ہٹے گی!بعد ازاں اپنے دفتر سے جاری بیان میں شفیع جان نے کہا کہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے لیے تیاریاں مکمل ہیں۔ لانگ مارچ پرامن ہوگا اور آئین و قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کیا جائے گا۔صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی اور جیل میں ان کے بنیادی حقوق و جیل مینوئل کے مطابق سہولیات کی بحالی کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے ہر آئینی و قانونی فورم سے رجوع کیا ہے۔ عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان کو الشفا ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا، جبکہ ان کی بہنوں سے ملاقاتیں بھی بند کر دی گئی ہیں۔شفیع جان نے کہا کہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ قریب آتے ہی پاکستان تحریک انصاف کے خلاف غیر قانونی ہتھکنڈوں کا استعمال تیز کر دیا گیا ہے۔ منتخب اراکین اسمبلی، عمران خان کی بہنوں، پارٹی قیادت اور کارکنوں کے خلاف گرفتاریوں، جبر اور غیر قانونی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں عمران خان کی بہنوں کو گرفتار کیا گیا، ان کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی گئی اور کارکنوں کے گھروں کی چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا۔ پنجاب حکومت کو ایسے ہتھکنڈوں کا جواب دینا ہوگا۔

صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اپنے آئینی، جمہوری اور قانونی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔ غیر قانونی ہتھکنڈوں کے ذریعے تحریک انصاف کے کارکنوں کے حوصلے نہیں توڑے جا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں تمام سیاسی جماعتوں کو احتجاج، جلسوں اور لانگ مارچ کا آئینی و جمہوری حق حاصل تھا، لیکن آج پاکستان تحریک انصاف کو اپنے بنیادی اور آئینی حق سے بھی محروم کیا جارہا ہے
شفیع جان نے واضح کیا کہ ہم اسلام آباد پر دھاوا بولنے کے لیے نہیں نکل رہے بلکہ اپنے آئینی اور قانونی حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف تشدد کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی اور عمران خان نے ہمیشہ کارکنوں کو پرامن رہنے کی تلقین کی ہے۔صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا اور عوام بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں گے۔

ایریگیٹڈ ایگریکلچر امپروومنٹ پراجیکٹ کی پیش رفت کا جائزہ، اہداف کے حصول کے لیے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر کی زیر صدارت آن فارم واٹر مینجمنٹ کے تحت جاری ایریگیٹڈ ایگریکلچر امپروومنٹ پراجیکٹ کی مختلف سرگرمیوں اور پیش رفت کے جائزے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں منصوبے کے تحت جاری ترقیاتی سرگرمیوں، مقررہ اہداف، جدید آبپاشی ٹیکنالوجیز کے فروغ اور اب تک حاصل ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ گزشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل آن فارم واٹر مینجمنٹ حیات خان، پراجیکٹ ڈائریکٹر ایریگیٹڈ ایگریکلچر امپروومنٹ پراجیکٹ محمد آصف جبکہ آن فارم واٹر مینجمنٹ کے ضلعی افسران نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔میاں محمد عمر نے اجلاس میں واضح کیا کہ منصوبے کے مقررہ اہداف کے حصول میں کسی قسم کی سست روی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مقررہ اہداف حاصل نہ کرنے والے ضلعی ڈائریکٹرز کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کریں اور منصوبے کی پیش رفت میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت زرعی شعبے میں پانی کے مؤثر اور کفایت شعارانہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ہائی ایفیشنسی اریگیشن سسٹم کی تنصیب پر کام جاری ہے۔ زرعی پانی کے بہتر استعمال، زمین کی ہمواری اور آبپاشی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے لیزر لینڈ لیولنگ یونٹس کی فراہمی بھی جاری ہے۔مشیر زراعت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کے تحت جاری تمام سرگرمیوں کو مقررہ اہداف کے مطابق آگے بڑھایا جائے اور سال کے اختتام تک اہداف کے حصول کے لیے عملی اقدامات مزید تیز کیے جائیں۔ انہوں نے جاری منصوبوں کے معیار اور رفتار کی باقاعدگی سے نگرانی کرنے اور جدید آبپاشی نظام کے فوائد زیادہ سے زیادہ زرعی رقبے اور کسانوں تک پہنچانے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔اس موقع پر مشیر زراعت میاں محمد عمر نے کہا کہ ہائی ایفیشنسی اریگیشن سسٹم پانی کی قلت والے علاقوں میں زرعی پیداوار کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ جدید آبپاشی ٹیکنالوجی کے ذریعے کم پانی میں زیادہ رقبے کو مؤثر انداز میں سیراب کرنے اور فصلوں کی پانی کی ضروریات بہتر طور پر پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

آر ٹی ایس کمیشن کا عوامی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن اور ریئل ٹائم مانیٹرنگ کے فروغ پر زور

رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن خیبر پختونخوا کے کمشنر شوکت علی یوسفزئی کی زیر صدارت بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ایبٹ آباد اور بورڈ آف ریونیو کے نمائندگان کے ساتھ اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں عوامی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن اور بروقت و مؤثر نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر غور کیا گیا۔ چیئرمین بی آئی ایس ای ایبٹ آباد عنایت اللہ وسیم بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں رائٹ ٹو پبلک سروسز ایکٹ کے تحت فراہم کی جانے والی عوامی خدمات کو ڈیجیٹلائز کرنے کے ساتھ ساتھ پہلے سے نوٹیفائی شدہ عوامی خدمات کو دستک ایپ کے ساتھ مربوط کرنے کے امور کا جائزہ لیا گیا، تاکہ خدمات کی فراہمی کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ ممکن بنائی جا سکے۔کمشنر شوکت علی یوسفزئی نے کہا کہ عوامی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال شفافیت، کارکردگی اور جوابدہی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا اور شہریوں کو مقررہ مدت میں خدمات کی فراہمی یقینی بنانے میں مدد دے گا۔انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ کمیشن کے ساتھ قریبی رابطہ اور مؤثر کوآرڈی نیشن کے ذریعے نوٹیفائی شدہ خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن اور دستک ایپ کے ساتھ انضمام کے عمل کو تیز کیا جائے۔کمشنر نے اس امر پر زور دیا کہ ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے مؤثر نظام کے ذریعے خدمات کی فراہمی میں تاخیر اور رکاوٹوں کی بروقت نشاندہی کرتے ہوئے فوری اصلاحی اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں، جس سے شہریوں کے بروقت اور معیاری عوامی خدمات کے حق کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔

Provincial Minister for Elementary & Secondary Education Arshad Ayub Khan Congratulates Position Holders and Successful Students of BISE Peshawar

Provincial Minister for Elementary & Secondary Education Khyber Pakhtunkhwa Arshad Ayub Khan has congratulated the position holders and all those students who have passed the examinations conducted by the Board of Intermediate and Secondary Education Peshawar.

In his message of felicitation, the Provincial Minister appreciated the tireless efforts, commitment and determination shown by the students, their parents and teachers. He said that achieving top positions and clearing the board examinations is the outcome of sustained hard work, and our toppers have brought honour to their families and to the province.

Arshad Ayub Khan said that the youth of Peshawar has a distinguished history of academic excellence, and the achievements of students today reflect a promising future for Khyber Pakhtunkhwa.

The Minister also commended BISE Peshawar for conducting the examinations in a transparent manner and announcing the results on time, in line with the provincial government’s policy of merit and transparency.

He said that under the leadership of the Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa, the provincial government is taking solid steps for the promotion of quality education, upgradation of educational infrastructure and introduction of modern reforms including e-marking, uniform examination system and digitalization so that every student gets equal opportunities.

The Minister advised the students who could not succeed to continue their hard work with greater resolve and not to be disappointed, as setbacks are part of the journey towards success.

He expressed best wishes for the bright future of all successful candidates and for their future academic career.

Study Visit of University of Peshawar’s Criminology Students to Excise Narcotics Control Wing

Students of the Department of Criminology, University of Peshawar, led by Dr. Muhammad Abrar, visited the Narcotics Control Wing (NCW) of the Excise, Taxation & Narcotics Control Department as part of an educational study tour.

The objective of the visit was to provide students with practical insight into drug prevention efforts, anti-narcotics operations, law enforcement procedures, investigation techniques, and the operational functions of the Narcotics Control Wing.

During the visit, officers of the Narcotics Control Wing briefed the students in detail about the responsibilities of the department, initiatives being taken for the prevention of drug abuse, actions against drug trafficking, and the investigation of different types of narcotics-related cases.

On the occasion, Director Narcotics Control Muhammad Khalid Khan delivered a detailed presentation to the students. Dr. Majid Khan, Excise Narcotics Control Officer, and Dr. Hamidullah Khan, Circle Officer Peshawar & Mardan, also provided practical guidance regarding the procedures followed by law enforcement agencies during anti-narcotics operations.

They explained the importance of evidence collection, legal proceedings against accused, and the key factors considered in bringing cases to their logical conclusion.

Dr. Muhammad Abrar appreciated the cooperation of the officers of the Narcotics Control Wing and stated that such educational visits play an important role in helping students understand the practical requirements and challenges of the field along with their academic knowledge.

The students showed keen interest throughout the visit and appreciated the valuable information provided by the Narcotics Control Wing, describing it as highly beneficial for their academic and research pursuits.

The Excise, Taxation & Narcotics Control Department will continue its collaboration with educational institutions to create awareness among the younger generation about the dangers of drugs, efforts for narcotics prevention, and the role of law enforcement in combating drug-related crimes.

نیب خیبر پختونخوا کا ”خیبر پختونخوا میں سرکاری اراضی کی لیز — قانونی فریم ورک، ریونیو افسران کی ذمہ داریاں اور مسائل“ کے موضوع پر بریفنگ سیشن

قومی احتساب بیورو (نیب) خیبر پختونخوا نے اراضی و ریونیو معاملات، ریونیو حکام کی ذمہ داریوں اور خیبر پختونخوا میں سرکاری اراضی کی لیز سے متعلق قانونی و انتظامی فریم ورک کے حوالے سے پشاور میں ایک جامع بریفنگ سیشن کا انعقاد کیا۔سیشن میں قومی احتساب بیورو کے چیئرمین، لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے بذریعہ زوم شرکت کی، جبکہ اجلاس میں پراسیکیوٹر جنرل اکاؤنٹیبلٹی سید احتشام قادر شاہ اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ سمیت اہم حکام نے شرکت کی۔ تقریب میں چیئرمین نیب کے معزز مشیران، نیب کے ڈائریکٹر جنرلز، صوبائی سیکریٹریز، مختلف محکموں کے سربراہان اور نیب کے حکامشریک ہوئے۔اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد ڈائریکٹر جنرل نیب خیبر پختونخوا نوید حیدر زاہد نے استقبالیہ کلمات ادا کیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیب آگاہی، تدارک اور نفاذ پر مشتمل سہ نکاتی حکمتِ عملی کے تحت کام کر رہا ہے۔اسی وژن کے تحت چیئرمین نیب نے 2025 میں لینڈ ڈائریکٹوریٹ قائم کیا، جس کا مقصد سرکاری اثاثوں پر قبضہ، غیر قانونی الاٹمنٹ اور سرکاری اثاثوں کی جعلی یا غیر قانونی منتقلی کی روک تھام ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں سال 2025 کے دوران ملک بھر میں 2.98 ملین ایکڑ اراضی، جس کی مالیت 5.976 ٹریلین روپے بنتی ہے، کامیابی سے واہگزار کرائی گئی، جبکہ سال 2026 میں بھی لاکھوں ایکڑ سرکاری اراضی واہگزار کرانے کا عمل جاری ہے۔خیبر پختونخوا میں بھی اسی طرز پر سرکاری اراضی کے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے متعدد اہم بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ سرکاری اراضی سے متعلق مرکزی ریکارڈ کی عدم موجودگی کے باعث ڈپٹی کمشنرز کے ریکارڈ اور متعلقہ محکموں کے ریکارڈ میں ڈیٹا کے نمایاں خلا اور تضادات پائے گئے۔ اس کے علاوہ محکموں کے حقیقی استعمال کے حقوق کے حوالے سے بھی ابہام موجود ہے، جبکہ بورڈ آف ریونیو کی منظوری کے بغیر غیر مجاز لیز، رہن اور قبضوں کے معاملات بھی سامنے آئے۔ان مسائل اور ڈیٹا کے خلا کو دور کرنے کے لیے نیب خیبر پختونخوا نے اسٹیٹ لینڈ مینجمنٹ سسٹم (ایس ایل ایم ایس) کے نام سے ایک سافٹ ویئر تیار کیا ہے، جو صوبے کی تمام سرکاری اراضی کے ریکارڈ کو یکجا کرتے ہوئے قابلِ تلاش ڈیٹا بیس مرتب کرتا ہے اور یوں ایک ہی کلک کے ذریعے ڈیٹا تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔سیشن میں چیئرمین نیب کے مشیر برائے اراضی امور احمد علی ظفر نے ”خیبر پختونخوا میں لینڈ ریونیو معاملات کا قانونی فریم ورک: ریونیو اور متعلقہ محکموں کی ذمہ داریاں اور فرائض“ کے موضوع پر تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔انہوں نے صوبے میں اراضی و ریونیو معاملات کے تاریخی پس منظر اور موجودہ قانونی فریم ورک کا جائزہ پیش کیا۔ سیشن میں ریونیو افسران کی تعیناتی اور ان کے فرائض، ریونیو معاملات میں سول عدالتوں کے دائرہ اختیار، نیز سرکاری اراضی سے متعلق صوبائی اور مقامی حکومتوں کی جانب سے صوابدیدی اختیارات کے استعمال کے حوالے سے موجود ابہامات سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ڈی جی آپریشنز نیب امجد مجید اولکھ نے خیبر پختونخوا میں سرکاری اراضی کی لیز سے متعلق نیب کے مطالعاتی جائزے کے نتائج پیش کیے۔ انہوں نے موجودہ نظام میں نشاندہی کیے گئے اہم مسائل کو اجاگر کیا اور سرکاری اراضی کی لیز کے نظام میں شفافیت، ادارہ جاتی نگرانی اور سرکاری اراضی کے مؤثر انتظام کو بہتر بنانے کے لیے مختلف سفارشات پیش کیں۔”سرکاری اراضی کے حوالے سے لینڈ ریونیو حکام کی ذمہ داریوں سے متعلق اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے“ کے موضوع پر ایک اور پریزنٹیشن پراسیکیوٹر جنرل نیب سید احتشام قادر شاہ نے پیش کیا۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ سرکاری اراضی عوامی امانت ہے اور اس کے تحفظ کے لیے قانونی اور عدالتی تقاضوں پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے متعلقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت کی کہ ایسے فیصلے نہ صرف متنازع معاملات کا حل فراہم کرتے ہیں بلکہ ریونیو حکام کو عوامی اراضی کے قانونی انتظام، استعمال خصوصاً شفاف اور منصفانہ مارکیٹ میکانزم کے ذریعے سرکاری اراضی کے تصرف کے معاملات میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔پریزنٹیشنز کے بعد سوال و جواب کا سیشن ہوا، جس میں شرکاء نے لینڈ ریونیو انتظامیہ، سرکاری اراضی کے انتظام و تحفظ اور لیز سے متعلق مختلف قانونی، انتظامی اور عملی امور پر تبادلہ خیال کیا۔شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے اس اقدام کو سراہا اور کہا کہ اس نوعیت کے باہمی اشتراک پر مبنی اجلاس سرکاری اراضی کی واہگزاری اور تحفظ کے نظام کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ورکشاپ سے حاصل ہونے والے اسباق اور سامنے آنے والی سفارشات موجودہ قانونی و انتظامی خلا کو دور کرنے کے لیے مناسب قانون سازی کی جانچ پڑتال اور تشکیل میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔اپنے اختتامی کلمات میں چیئرمین نیب نے نیب اور خیبر پختونخوا کی سول انتظامیہ کے درمیان تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ جاتی سطح پر مربوط اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے سرکاری اراضی کے معاشی اور عوامی فوائد کو بروئے کار لانے میں مدد مل سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں سرکاری اراضی کا ایک بڑا رقبہ موجود ہے جس کی مؤثر شناخت، واہگزاری اور تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔چیئرمین نیب نے اس امر پر زور دیا کہ نیب، خیبر پختونخوا کی انتظامیہ کے تعاون سے ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے اور ان خامیوں کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے جو عوامی وسائل کے مؤثر اور قانونی انتظام میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری اہلکار اپنے اختیارات کا استعمال قانون کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے کریں اور تمام متعلقہ قانونی و آئینی تقاضوں پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ماضی میں کسی قسم کی کوتاہیاں واقع ہوئی ہیں تو توجہ اصلاحی اقدامات، ادارہ جاتی بہتری اور قانون کی پاسداری پر مرکوز ہونی چاہیے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ورکشاپ کے دوران سامنے آنے والے مسائل کے حل کے لیے ایک جامع روڈ میپ اور مؤثر طریقہ کار وضع کیا جائے تاکہ سفارشات کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جا سکے۔ورکشاپ اس مشترکہ اتفاقِ رائے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ گڈ گورننس اور انسدادِ بدعنوانی مؤثر ریاستی نظم و نسق کے باہم تکمیلی ستون ہیں، جبکہ نیب اور صوبائی حکام/انتظامیہ کے درمیان مضبوط ادارہ جاتی تعاون صوبائی ترقی اور وسیع تر عوامی مفاد کے لیے اضافی عوامی وسائل کو بروئے کار لانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ کو غیر قانونی طور پر حراست اور حبس بے جا میں رکھنا قابل مذمت ہے، شفیع جان

وزیر اطلاعات، سائنس و ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی خیبرپختونخوا شفیع جان نے پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور دیگر رہنماؤں کی اسلام آباد میں پولیس کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے مقامی رہنما اعجاز ستی کے جنازے میں شرکت سے روکنے، انھیں غیر قانونی طور پر حراست اور حبس بے جا میں رکھنے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت قرار دیا ہے،یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ پی ٹی آئی کے مقامی رہنما اعجاز ستی، جو پولیس حراست میں جاں بحق ہوئے، کے جنازے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔شفیع جان نے سوال اٹھایا کہ کیا اب اسلام آباد اور پنجاب میں جنازوں میں شرکت پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے؟ جنازے میں شرکت ہر انسان کا بنیادی سماجی اور انسانی حق ہے، اس حق پر قدغن ناقابل قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں نے ملک میں آئین، قانون اور بنیادی انسانی اقدار کو بری طرح پامال کر دیا ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ غیر قانونی ہتھکنڈوں کے ذریعے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنوں کو دبانے کی کوششیں جمہوری اقدار کے منافی ہیں۔ ایسے اقدامات کو قوم کبھی نہیں بھولیں گی۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ وفاقی اور پنجاب حکومتوں کو اپنے غیر قانونی اقدامات اور سیاسی انتقامی کارروائیوں کا حساب دینا ہوگا۔دریں اثناء اثناء سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ پنجاب پر مسلط فارم 47 کی جعلی حکومت کی فسطائیت تمام حدیں پار کر چکی ہے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے حسنین رفیق کے گھر قیام کیا، وہاں، پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں اور دیگر شہریوں کے گھروں میں توڑ پھوڑ اور انہیں ہراساں کرنا پنجاب پر مسلط حکومت کی بوکھلاہٹ کا کھلا ثبوت ہے۔یہ جبر اور انتقامی اقدامات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پنجاب پر زبردستی مسلط کیا گیا یہ ٹولہ قائد عمران خان کی مقبولیت اور عوامی طاقت سے شدید خوفزدہ ہے، ایسے ظالمانہ اقدامات سے کیوں تقسیم کی کوششیں کی جارہی ہیں،انھوں نے کہا کہ ظلم و جبر کی یہ رات جلد ختم ہوگی، عوامی طاقت کے سامنے یہ پنجاب حکومت کی یہ فسطائی طرز حکمرانی زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے ریڈیو پاکستان پشاور سانحہ، 9 اور 10 مئی 2023 کا اجلاس

خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے ریڈیو پاکستان پشاور سانحہ، 9 اور 10 مئی 2023 کا اجلاس جمعرات کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین اور صوبائی وزیر قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم نے کی۔ اجلاس میں وزیر آبپاشی ریاض خان، خصوصی کمیٹی کے ممبران اور اراکین صوبائی اسمبلی احتشام علی، طارق محمود اریانی، عبدالمنعم خان، شیر علی آفریدی، آصف مسعود، محمد راشاد خان اور عدنان خان نے شرکت کی، جبکہ محکمہ قانون، محکمہ پولیس، محکمہ داخلہ، ایڈووکیٹ جنرل آفس اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ افسران بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس کا بنیادی مقصد 9 اور 10 مئی 2023 کو ریڈیو پاکستان پشاور کے احاطے میں پیش آنے والے واقعات کے اصل حقائق، تفتیشی عمل اور اس سے متعلق دیگر تمام قانونی و انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لینا تھا، تاکہ شفاف، غیر جانب دارانہ اور قانون کے مطابق تحقیقات کے ذریعے واقعات کی مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔ اس سلسلے میں خصوصی کمیٹی نے سابق تفتیشی افسر واجد شاہ کو بھی اجلاس میں طلب کیا تاکہ وہ کمیٹی کے سامنے واقعے کی تفتیش، شواہد اور پیش رفت کے حوالے سے تفصیلات پیش کریں۔ اجلاس کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے سابق تفتیشی افسر سے واقعے کے مختلف پہلوؤں، تفتیشی طریقہ کار اور مقدمات سے متعلق متعدد سوالات کیے۔ تفتیشی افسر نے کمیٹی کو بتایا کہ سانحہ کی مناسبت سے مجموعی طور پر 200 افراد کے خلاف ایف آئی آرز درج کی گئی تھیں، جن میں سے 177 ایف آئی آرز اب ختم ہو چکی ہیں، جبکہ 23 ایف آئی آرز تاحال زیرِ التوا ہیں۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ سانحہ سے متعلق تمام مقدمات کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے اور آئندہ اجلاس میں باقی ماندہ سوالات کے جوابات مستند شواہد اور متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ کمیٹی کے سامنے پیش کیے جائیں، تاکہ واقعات کا درست پس منظر اور مکمل منظرنامہ واضح ہو سکے۔ خصوصی کمیٹی کے اراکین نے بھی محکمہ پولیس کے حکام سے سانحہ سے متعلق مختلف اہم امور پر سوالات کیے اور تفتیشی عمل، مقدمات کی موجودہ صورتحال اور دستیاب شواہد کے بارے میں تفصیلی معلومات طلب کیں۔ چیئرمین خصوصی کمیٹی و وزیر قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم نے محکمہ داخلہ اور محکمہ پولیس کے حکام کو ہدایت کی کہ کمیٹی کی جانب سے فراہم کردہ رہنما اصولوں اور جاری کردہ ہدایات پر من و عن عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور تمام متعلقہ ریکارڈ و شواہد کو مکمل طور پر سامنے لایا جائے۔ چیئرمین کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ تحقیقات کا بنیادی مقصد واقعات کے اصل محرکات اور حقائق کو قانون کے مطابق سامنے لانا ہے، اس لیے تفتیش کے تمام مراحل شفاف، غیر جانب دارانہ اور شواہد کی بنیاد پر مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تحقیقات کے دوران کسی بھی بے گناہ شخص کو بلاجواز واقعات میں ملوث نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی ذمہ دار فرد کو شواہد کے بغیر بری الذمہ قرار دیا جائے، تاکہ قانون کے تقاضوں کے مطابق حقائق سامنے آئیں اور سانحہ سے متعلق درست اور جامع منظرنامہ عوام کے سامنے لایا جا سکے۔