Home Blog Page 83

محکمہ خزانہ نے ڈیجیٹل تبدیلی کو اپنالیا: مشیر خزانہ نے کے پی ڈیجیٹل ورک اسپیس پر پہلی ای سمری پر دستخط کیے

پیپر لیس گورننس کی جانب ایک تاریخی سنگ میل، محکمہ خزانہ کے مشیر مزمل اسلم نے کے پی ڈیجیٹل ورک اسپیس (کے پی-ڈی ڈبلیو ایس) کے ذریعے ای سمری جاری کی اور اس پر دستخط کیے، جس سے محکمہ خزانہ میں اس نظام کا باضابطہ آغاز ہوا۔ یہ سنگ میل صوبائی حکومت کے موثر، شفاف اور جدید حکمرانی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔مشیر مزمل اسلم نے کہا، ”یہ صرف ایک تکنیکی اپ گریڈ نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے کام کرنے کے طریقے میں ایک ثقافتی تبدیلی ہے۔ ”کے پی-ڈی ڈبلیو ایس کو اپنا کر، ہم تاخیر کو کم کر رہے ہیں، اخراجات کو کم کر رہے ہیں، اور احتساب کے لئے ایک نیا معیار قائم کر رہے ہیں۔میں اپنی ٹیم اور تمام سٹیک ہولڈرز کی تعریف کرتا ہوں جنہوں نے اس تبدیلی کو ہموار بنایا۔محکمہ خزانہ کے مکمل طور پر فعال ہونے کے ساتھ، صوبائی حکومت نے دستی عمل کو ختم کرنے کی طرف ایک فیصلہ کن قدم اٹھایا ہے. یکم جولائی 2025 ء سے تمام سمریاں کے پی-ڈی ڈبلیو ایس کے ذریعے روٹ کی جائیں تاکہ تیزی سے منظوریوں، ٹریس ایبل ورک فلوز اور وقت اور وسائل پر نمایاں بچت کو یقینی بنایا جا سکے۔آسانی سے اپنانے کی ضمانت دینے کے لئے، کے پی آر ایم پی ٹیم اور عملدرآمد پارٹنر نے محکموں میں وسیع پیمانے پر تربیتی سیشن منعقد کیے۔فیڈ بیک بہت مثبت رہا ہے، جس میں سرکاری عہدیداروں نے تیزی سے نئے نظام کو اپنا لیا۔ ای سمری ماڈیول کے فعال ہونے کے ساتھ ہی سرکاری کام کاج کو مزید ہموار کرنے کے لئے آر اینڈ آئی ماڈیول کی طرف توجہ مرکوز کردی گئی ہے۔حکومت خیبر پختونخوا نے عالمی بینک کے تعاون سے خیبر پختونخوا ریونیو ریسورس موبلائزیشن پروگرام (کے پی آر ایم پی) پروگرام کے تحت یہ نظام تیار کیا ہے۔یہ پلیٹ فارم صوبائی حکومت کے تمام انتظامی محکموں کی خدمت کرے گا، جس سے ایک مربوط نظام کے ذریعے محفوظ دستاویزات کی ہینڈلنگ، الیکٹرانک منظوری اور بین محکمانہ تعاون کو ممکن بنایا جاسکے گا۔ اس پر عمل درآمد پاکستان میں دیگر جگہوں پر مؤثر طریقے سے کام کرنے والے اسی طرح کے نظاموں کے محتاط مطالعے کے بعد کیا گیا ہے، جس میں خیبر پختونخوا کی مخصوص انتظامی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے موافقت کی گئی ہے۔یہ تبدیلی وزیراعلیٰ سردار علی امین خان گنڈاپور، چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور اہم اسٹیک ہولڈرز جیسے عامر سلطان ترین (سیکرٹری فنانس)، توصیف خالد (پی ڈی کے پی آر ایم پی) اور ورلڈ بینک ٹیم کے غیر متزلزل عزم کا نتیجہ ہے۔وزیراعلیٰ کا وژن:”کے پی-ڈی ڈبلیو ایس ایک نظام سے کہیں زیادہ ہے – یہ بہتر حکمرانی کا وعدہ ہے۔ ڈیجیٹل ہو کر، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ عوامی خدمات موثر، قابل رسائی اور لوگوں کو جوابدہ ہوں۔محکمہ خزانہ کی قیادت کے ساتھ، خیبر پختونخوا نے ای گورننس میں پاکستان کے صف اول کے طور پر اپنی پوزیشن کو مستحکم کیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں قانون سازی کو مؤثر اوربہتر بنانے کے لیے اہم اجلاس

خیبر پختونخوا میں قانون سازی کے عمل کو مزید بہتر اور مؤثر بنانے کے لیے صوبائی کابینہ کی تشکیل کردہ کمیٹی برائے قانون سازی کا اجلاس صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیر صدارت محکمہ قانون کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر برائے زکوٰۃ، عشر و سماجی بہبود سید قاسم علی شاہ، ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل اتمان خیل، سیکرٹری محکمہ قانون، سیکرٹری زکوٰۃ و عشر، سیکرٹری لائیوسٹاک، ڈائریکٹر جنرل لائیوسٹاک، محکمہ خزانہ، اطلاعات و تعلقات عامہ، ایس ایم بی آر، سائنس و آئی ٹی اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے ایجنڈے میں خیبر پختونخوا سائنس، آئی ٹی اور انوویشن انڈومنٹ فنڈ 2025، لائیوسٹاک اینڈ پولٹری پراڈکشن ایکٹ ترمیمی بل 2025، جرنلسٹ ویلفیئر انڈومنٹ فنڈ 2014 میں ترامیم اور زکوٰۃ و عشر ایکٹ ترمیمی بل 2025 شامل تھے۔ محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی نے مجوزہ بل اور ڈائریکٹوریٹ آف سائنس اینڈ آئی میں ڈائریکٹر جنرل کی تقرری سے متعلق سفارشات پیش کیں۔ ڈی جی لائیوسٹاک ڈاکٹر اصل خان نے مجوزہ ایکٹ کی 23 شقوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیر قانون نے بائیو سیکیورٹی، کاروبار دوست ماحول، اور واضح قانونی اصطلاحات پر زور دیتے ہوئے پولٹری فارمز کی رجسٹریشن کے عمل میں شماریات کی درستگی کے لیے شقوں کی شمولیت کی ہدایت کی۔محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ نے جرنلسٹ ویلفیئر انڈومنٹ فنڈ 2014 کی مختلف شقوں میں ترامیم کا تقابلی جائزہ پیش کیا اور پریس کلبز کی درجہ بندی کی بنیاد پر نمائندگی کا خاکہ پیش کیا۔ وزیر قانون نے پریس کلب پشاور کی مستقل اور کیٹگری بی سے روٹیشن بنیاد پر نمائندگی کی تجویز دی، جسے ضوابط کے مطابق نافذ کیا جائے گا۔زکوٰۃ و عشر ترمیمی بل 2025 سے متعلق سابقہ اجلاس میں پیش کردہ سفارشات پر عملدرآمد کی تفصیلات بھی پیش کی گئی۔ وزیر سماجی بہبود سید قاسم علی شاہ نے اس موقع پر زور دیا کہ سفارشات کو ریفائنڈ اور حتمی شکل دے کر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو پیش کیا جائے تاکہ بروقت نفاذ سے عام آدمی کی زندگی میں بہتری لائی جا سکے۔ معذور افراد سے متعلق مجوزہ شق پر ایڈیشنل سیکرٹری سماجی بہبود کی زیر نگرانی قائم سب کمیٹی کی سفارشات بھی پیش کی گئیں، جن پر مختلف ترامیم زیر غور آئیں۔

سول ڈیفنس خیبرپختونخوا کا کردار قابلِ تحسین، حکومت جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کیلئے پرعزم

وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ، بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے ڈائریکٹوریٹ آف سول ڈیفنس خیبرپختونخوا کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ادارے کی تربیتی سرگرمیوں، رضاکاروں کی خدمات اور آپریشنل تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ سول ڈیفنس محض جنگی حالات ہی نہیں، بلکہ ہر قدرتی آفت اور انسانی بحران میں عوام کی ایک مؤثر دفاعی لائن ہے۔ یہ ادارہ خاموشی سے وہ خدمات انجام دے رہا ہے جو اپنی نوعیت میں نہایت اہم، وسیع اور قابلِ تحسین ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا سول ڈیفنس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ، مؤثر اور ہمہ جہت ادارہ بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے ادارے کے افسران اور رضاکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں صوبے کا قابل فخر اثاثہ قرار دیا اور کہا کہ ان کی بے لوث خدمات سوسائٹی میں ایک مثالی جذبے کی نمائندگی کرتی ہیں۔اس موقع پر ڈائریکٹر سول ڈیفنس خیبرپختونخوا سید زاہد عثمان کاکاخیل نے ادارے کی موجودہ سرگرمیوں، محرم الحرام کے حفاظتی انتظامات، حالیہ سیلاب کی صورتحال، رضاکاروں کی تربیت اور دیگر اہم امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ محرم اور سیلاب کے دوران صوبے کے تمام 36 اضلاع میں سول ڈیفنس کے اہلکاروں اور رضاکاروں نے مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔دورے کے دوران بیرسٹر سیف نے سول ڈیفنس کی جوائنٹ پولیس کلاس کا معائنہ بھی کیا، جہاں جاری تربیتی مشقوں کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس قسم کی پیشہ ورانہ تیاری معاشرے کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے اہلکاروں کے لیے 10 ہزار روپے انعام کی منظوری کو حوصلہ افزا قدم قرار دیا اور کہا کہ رضاکاروں کی کارکردگی کو اجاگر کرنا اور ان کی حوصلہ افزائی ریاستی ذمہ داری ہے۔اس موقع پر سوات سے تعلق رکھنے والے رضاکار ہلال کی حالیہ سیلاب میں ان کی جرات مندانہ کارروائی کا ذکر بھی کیا گیا، جنہوں نے دریائے سوات میں حالیہ سیلاب کے دوران قیمتی انسانی جانیں بچائیں۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے ان کی بہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے نوجوان قوم کا اصل سرمایہ ہیں، جو بغیر کسی لالچ کے انسانی خدمت کو اپنا مشن بناتے ہیں۔ڈائریکٹر سول ڈیفنس نے ادارے کو درپیش اہم چیلنجز پر روشنی ڈالی، جن میں فائر سیفٹی معائنے، پٹرول پمپس اور ہوٹلز کی جانچ کے لیے مخصوص گاڑیوں اور آلات کی کمی، ایمرجنسی رسپانس کے لیے ساز و سامان کی عدم دستیابی، اور ادارے کی اپنی تربیتی اکیڈمی کے قیام کی اشد ضرورت شامل ہیں۔ انہوں نے 2005ء کی قومی اسمبلی کی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نویں اور دسویں جماعت کے طلبہ کے لیے سول ڈیفنس کی تین ماہ کی لازمی تربیت کے پروگرام پر فوری عملدرآمد ضروری ہے تاکہ معاشرتی سطح پر دفاعی شعور پیدا ہو۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے یقین دہانی کرائی کہ وہ تمام نکات وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے سامنے رکھیں گے تاکہ ان کے حل کے لیے عملی اور جامع حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے انسٹرکشنل سٹاف اور رضاکاروں سے خطاب میں کہا کہ ہم خیبرپختونخوا میں ایک ایسے سول ڈیفنس نظام کا خواب دیکھ رہے ہیں جو ہر شہری کو نہ صرف تربیت دے بلکہ ہر قسم کی ایمرجنسی میں بروقت اور منظم ردعمل کی صلاحیت بھی رکھتا ہو اور اس مقصد کے لیے صوبائی حکومت تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے انٹی کرپشن کی زیرِ صدارت اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا کی ماہانہ کھلی کچہری کا انعقاد

مشیرِ وزیراعلی برائے انٹی کرپشن مصدق عباسی نے کہا کہ ماہانہ کھلی کچہریوں کے انعقاد کا مقصد درخواست دہندگان اور اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا کو قریب لانا ہے۔ کھلی کچہری کے دن درخواست دہندہ آنٹی کرپشن خیبرپختونخوا کے دفاتر سے رجوع کر سکتا ہے اور اپنی شکایات سے متعلق معلومات حاصل کر سکتا ہے۔ قبرستانوں پر قبضوں کے حوالے سے شکایات پر انکوائری کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ فیصلہ کیا گیا کہ صوبے میں موجود تمام قبرستانوں کا متعلقہ محکموں کے ہمراہ سروے کیا جائے گا اور تفصیلی رپورٹ مرتب کی جائے گی۔ جہاں جہاں قبرستانوں پر غیرقانونی قبضے کیے گئے ہیں۔ وہاں ضلعی انتظامیہ کی مدد سے کارروائی کرکے اراضی واگزار کروائی جائے گی۔ کمراٹ، کاغان، سوات اور جہاں جہاں دریا کے کنارے یا حدِ میں ناجائز تعمیرات کے لیے این او سی جاری کیے گئے ہیں، ان کی تفصیلی انکوائری کی جائے گی اور جو جو ملوث ہوں، ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ جہاں جہاں ریور پروٹیکشن ایکٹ کے خلاف ورزی کرتے ہوئے مقررہ حدود کے اندر تعمیرات یا تجاوزات قائم کی گئی ہیں۔ ان کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے یہ احکامات ماہانہ کھلی کچہری میں شکایات کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری کیے۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بدھ کے روز ضلع مردان رستم کا دورہ کیا اور دریائے سوات

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بدھ کے روز ضلع مردان رستم کا دورہ کیا اور دریائے سوات میں ڈوبنے والے خاندان کی رہائشگاہ پہنچے. گورنر نے متاثرہ خاندان کے لواحقین سے ملاقات کی اور سوات سانحہ پر دلی دکھ و افسوس اور سانحہ میں جاں بحق افراد کے پسماندگان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا. اس موقع پر گورنر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوات سانحہ انتہائی افسوسناک تھا جس پر پوری قوم افسردہ ہے،متاثرہ خاندان کے غم اور دکھ میں برابر کے شریک ہیں، گورنر نے کہا کہ سوات سانحہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو اللہ صبر و حوصلہ عطا کرے، انہوں نے کہا کہ وہ سیالکوٹ ڈسکہ بھی گئے تھے اور متاثرہ خاندان سے اپنی اور خیبر پختونخوا کے عوام کیجانب سے تعزیت کی اور صوبائی حکومت کی نالائقی پر ان سے معذرت بھی کی۔ گورنر نے کہا کہ پوری قوم نے سوات سانحہ پر صوبائی حکومت کی غیر زمہ داری کا مظاہرہ دیکھا، انہوں نے کہا کہ دریائے سوات کا کربناک واقعہ صوبائی حکومت کی سیاحت کی سہولیات پر سوالیہ نشان ہے. انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور چئیرمین بلاول بھٹو سے ملاقات میں سانحہ سوات میں جاں بحق افراد کو وفاق کیجانب سے مالی امداد کا مطالبہ کیا ہے اس طرح بہادری سے دریائے سوات سے لوگوں کو بچانے والوں کو سول ایوارڈ دینے کی بھی درخواست کی ہے، انہوں نے کہا کہ جو اس دنیا سے چلے گئے انکو واپس نہیں لایا جا سکتا ہے لیکن وزیر اعلی اور صوبائی حکومت نے جس بے حسی کا مظاہرہ کیا وہ قابل افسوس ہے، ہم چاہتے ہیں کہ معاملہ کی غیرجانبدارانہ انکوائری ہونی چاہئے

مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف کی باجوڑ دھماکے کی شدید مذمت

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے باجوڑ دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور اس کے شہداء کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی، بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ ملک دشمنوں عناصرکو اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دینگے،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے واقعے کی تحقیقات کیلئے احکامات جاری کر دیئے ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ نے زخمیوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے انہوں نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر، تحصیلدار سمیت دیگر قیمتی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے اورصوبائی حکومت لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ مشیر اطلاعات نے غمزدہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے شہدا کے درجات کے بلندی لواحقین کے صبر جمیل کے لئے دعا کی ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر ریٹائر ڈسجاد بارکوال نے باجوڑ میں ہونے والے بم دھماکے کی

خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر ریٹائر ڈسجاد بارکوال نے باجوڑ میں ہونے والے بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن دشمن عناصرکبھی اپنے مقا صد میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سیکورٹی ادارے بہادری کے ساتھ ایسی مزموم کارروایوں کی روک تھام میں مصروف عمل ہیں اور پوری قوم متحد ہوکر امن و سلامتی کے لئے اپنے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔صوبائی وزیر نے اس سانحہ میں اسسٹنٹ کمشنر اور تحصیلدار سمیت دیگرقیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے اور غمزدہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے شہدا کے درجات کی بلندی اورلواحقین کے صبر جمیل کے لئے دعا کی۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے باجوڑ میں ہونے والے دھماکے میں اسسٹنٹ کمشنر اور

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے باجوڑ میں ہونے والے دھماکے میں اسسٹنٹ کمشنر اور تحصیلدار سمیت قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے حکام کو زخمیوں کے بہتر علاج معالجہ کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ طبی امداد کی فراہمی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا ئے جائیں۔ چیف سیکرٹری نے غمزدہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی بھی دعا کی

مشیر صحت احتشام علی کی باجوڑ دھماکے کی شدید مذمت، زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کر دی گئی

مشیر صحت خیبرپختونخوا احتشام علی نے باجوڑ کے علاقے ناوگئی میں ہونے والے افسوسناک دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس سانحے میں شہید ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر، تحصیلدار، سب انسپکٹر اور دیگر شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔مشیر صحت نے واقعے کے فوری بعد ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال باجوڑ سے رابطہ کیا اور زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی۔مشیر صحت کی ہدایت پر باجوڑ کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور محکمہ صحت کا عملہ الرٹ رہا۔ زخمیوں کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد دی گئی، جبکہ تشویشناک حالت کے حامل پانچ زخمیوں کو مزید علاج کے لیے پشاور منتقل کیا گیا۔ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال باجوڑ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، دھماکے میں اسسٹنٹ کمشنر ناوگئی فیصل اسماعیل، تحصیلدار عبدالوکیل، سپاہی زاہد اور فضل منان موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ آزاد ذرائع کے مطابق زخمی سب انسپکٹر نور حکیم کو پشاور منتقل کیا جا رہا تھا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں شہید ہو گئے۔دھماکے میں مجموعی طور پر 18 افراد زخمی ہوئے، جنہیں موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔محکمہ صحت خیبرپختونخوا سانحے کے متاثرین کے ساتھ کھڑا ہے اور زخمیوں کو مکمل علاج کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا۔

محکمہ اوقاف میں کرپشن، سفارش اور اقرباپروری کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ، کئی ملازمیں کو اپنے عہدوں سے ہٹایا دیاگیا۔

ملازمین کی کارکردگی کی ہفتہ وار نگرانی، عوامی شکایات کے لیے دفتر کے دروازے کھلے رکھنے کا اعلان
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اوقاف و مذہبی امور محمد عدنان قادری نے واضح کیا ہے کہ محکمہ اوقاف میں بدعنوانی، اقرباپروری اور سفارش جیسے منفی رجحانات کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔ ایسے تمام افراد جو اس پالیسی کی خلاف ورزی کریں گے، ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اپنے دفترسے جاری ایک خصوصی بیان میں وزیر موصوف نے کہا کہ میرے نزدیک دیانتداری، میرٹ اور شفافیت ہی کسی ادارے کی اصل بنیاد ہے۔ اب محکمہ اوقاف میں صرف کام بولے گا، تعلقات نہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ہر ہفتے کے اختتام پر خود محکمانہ امور کا جائزہ لیں گے تاکہ ہر افسر و اہلکار کی کارکردگی کو جانچا جا سکے اور بہتری کے اقدامات بروقت کیے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر سرکاری ملازم کو اس کی صلاحیت، مہارت اور تجربے کے مطابق ذمہ داریاں دی جائیں گی، تاکہ کام کی افادیت اور نتائج میں بہتری لائی جا سکے۔واضح رہے، کہ وزیر اوقاف عدنان قادری کی ہدایات کی روشنی میں سیکرٹری اوقاف خیبرپختونخوا نے منگل کے روزپانچ ملازمین کی اپنے عہدوں سے برطرفی کا اعلامیہ جاری کیا ہے۔ جن کی جگہ دیگر متعلقہ ملازمین کو لگایا گیا ہے۔ وزیر اوقاف نے عوام الناس سے بھی براہ راست رابطہ رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میرے دفاتر کے دروازے عوام کے لیے کھلے ہیں۔ اگر کسی کو محکمہ اوقاف سے متعلق کوئی شکایت یا تجاویز ہوں تو بلا جھجھک آ کر ملاقات کریں۔ ہم شفاف اور خدمت گزار نظام لانا چاہتے ہیں، جس کے لیے عوام کی شمولیت نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت عوامی فلاح اور ادارہ جاتی بہتری کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور محکمہ اوقاف کو ایک فعال، دیانتدار اور جدید طرز پر استوار ادارہ بنایا جائے گا۔