Home Blog Page 83

چکدرہ ٹمبر مارکیٹ میں لکڑیوں کی جلد نیلامی کی جائے گی، معاون خصوصی برائے جنگلات پیر مصور خان

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے جنگلات، ماحولیات، جنگلی حیات و موسمیاتی تبدیلی، پیر مصور خان نے کہا ہے کہ صوبے کے عوام کی ترقی و خوشحالی کے لیے عملی اقدامات اٹھارہے ہیں، چکدرہ ٹمبر مارکیٹ میں لکڑیوں کی جلد نیلامی کی جائے گی جس سے مقامی افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں چترال اور دیگر اضلاع سے آئے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔وفود نے معاون خصوصی کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا، انھوں نے بعض مسائل کو موقع پر حل جبکہ بعض دیگر مسائل کے حل کے لیے متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کیں۔چترال کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے پیر مصور خان نے بتایا کہ چکدرہ ٹمبر مارکیٹ میں لکڑیوں کی جلد نیلامی کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ لکڑیوں کی نیلامی سے نہ صرف حکومت بلکہ ٹمبر کے کاروبار سے وابستہ افراد اور مقامی لوگ بھی مستفید ہوں گے۔ انہوں نے وفد کو دیگر مسائل کے جلد حل کی بھی یقین دہانی کرائی۔بعد ازاں پیر مصور خان نے دیگر وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے۔ ہم نے مالی سال2025-26کا ایک گرین بجٹ پیش کیا بانی چئیرمین عمران خان کے ویژن کے مطابق صوبے کو سرسبز و شاداب بنانے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بجٹ میں اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں،انھوں نے کہا کہ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے صحت، تعلیم اور دیگر شعبہ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے،معاون خصوصی نے شجرکاری کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے عوام سے موسم برسات شجرکاری مہم میں زیادہ سے زیادہ پودے لگانے کی اپیل کی۔انھوں نے کہا کہ شجرکاری مستقبل کی نسلوں کے لیے صحت مند ماحول کی فراہمی کی ضمانت ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکور خان نے کہا ہے کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا کے

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکور خان نے کہا ہے کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا کے سکولوں میں معیاری تعلیم کو عام کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہے ہیں ورکنگ فولکس گرائمر سکولوں کوسٹینڈرائزڈ کرکے ماڈل تعلیمی ادارے بنائیں گے.صوبائی وزیر نے ان حیالات کا اظہار ورکرز ویلفیئر بورڈ کے سکولوں میں ای ٹرانسفر پالیسی کے حوالے سے منعقد جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں سیکرٹری لیبر ڈیپارٹمنٹ و چئیرمین ڈبلیو ڈبلیو بی کیپٹن ریٹائرڈ میاں عادل اقبال اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس میں صوبائی وزیر کو ای ٹرانسفر پالیسی پر اب تک ہونے والی پیش رفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی اجلاس میں سٹوڈنٹس ٹیچرز ریشو، سٹاف ریشنلائزیشن اور یوٹلائزیشن سمیت دیگر اہم امور زیر غور لائے گئے جبکہ ورکنگ فولکس گرائمر سکولوں میں معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی اس موقع پر صوبائی وزیر برائے محنت فضل شکور خان نے کہا کہ ای ٹرانسفر پالیسی کو متعارف کرانے کا بنیادی مقصد ڈبلیو ڈبلیو بی کے تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم کی فراہمی کے ساتھ ساتھ سٹوڈنٹس کے لئے ٹیچنگ سٹاف کی دستیابی کو بھی یقینی بنانا ہے انہوں نے کہا کہ ان تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبہ کو معیاری تعلیم کے مواقع مہیا کرنے کے لیے دستیاب وسائل کو بروئیکار لارہے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب ان تعلیمی اداروں کا شمار بھی بہترین تعلیم اداروں میں ہوگا انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ای ٹرانسفر پالیسی پر کام کو تیز کرکے جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ ڈبلیو ڈبلیو بی سکولوں میں ای ٹرانسفر پالیسی کو جلد نافذ کر سکے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی کا ملازئی ہاؤسنگ سکیم ورسک روڈ پشاور کا اچانک دورہ

صوبائی حکومت سماجی و معاشی ترقی یقینی بنانے کیلے کوشاں ہے۔ڈاکٹر امجد علی

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی نے منگل کے روز ملازئی ہاؤسنگ سکیم ورسک روڈ پشاور کا اچانک دورہ
کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملازئی ہاؤسنگ سکیم 173 ملین روپوں کی لاگت سے بنائی گئی ہے،یہ منصوبہ 190 کنال اراضی اور 371 پلاٹس پر مشتمل ہے, صارفین نے یہاں تعمیراتی کام شروع بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے میں جامعہ مسجد،پارکس،سڑکیں اور واٹر سپلائی سمیت نکاسی آب کے مراحل مکمل ہو چکے ہیں۔جبکہ گیس اور بجلی کی فراہمی کیلے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر امجد علی کا کہنا تھا کہ محکمہ ہاؤسنگ کے منصوبوں سے متعلق تعینات عملہ کی غیر سنجیدگی اور ذمہ داریوں سے غفلت برتنے والوں کے خلاف بھی سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ڈاکٹر امجد علی کا مزید کہنا تھا کہ محکمہ ہاؤسنگ کی زیر نگرانی تمام منصوبے غریب و بے گھر افراد کے لئے ہیں تاکہ ان کے اپنے گھر کا خواب حقیت کا روپ دھار سکے۔ دورہ کے موقع پر معاون خصوصی نے منصوبے کے مختلف حصوں کا بھی معائنہ کیا اور حکام کو موقع پر ضروری ہدایات بھی جاری کیں۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے منگل کے روز سول سیکرٹریٹ پشاور میں ایک

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے منگل کے روز سول سیکرٹریٹ پشاور میں ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس کے ایجنڈے میں ”بادہ ڈیم صوابی کیلئے پوسٹوں کی منظوری، ٹوبیکو سیس، پن بجلی منافع اور ضلع صوابی سے متعلقہ دیگر امور شامل تھے۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا کے وزیر برائے آبپاشی عاقب اللہ خان اور وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی، اراکین قومی اسمبلی اسد قیصر اورشہرام خان ترکئی، معاونین خصوصی عبدالکریم تور ڈھیر اور حاجی رنگیز احمد خان، ایم پی اے مرتضیٰ خان کے علاوہ متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز بھی موجود تھے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہاکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخواکی ہدایت کے مطابق تمام شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کو فنڈز بروقت جاری کیے جائیں گے یہ فنڈز ماہ جولائی 2025 اور جنوری 2026 کو دو مرحلوں میں جاری کیے جائیں گے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ 2025-26 کیلئے تاریخی ترقیاتی فنڈز رکھے گئے ہیں جس سے صوبے میں ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کی بھرپور کوشش کی جائیگی۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال کے بقایہ جات کو اسی سال میں نمٹایاجانا چاہیے تاکہ ایک طرف ترقیاتی کام بغیر کسی تاخیرکے جاری رہیں اور دوسرا یہ کہ بقایہ جات آنے والے مالی سالوں پر بوجھ نہ بنیں۔اس موقع پرصوبائی وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان نے بادہ ڈیم پراجیکٹ ضلع صوابی کے لیے سٹاف کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مذکورہ ڈیم کے سٹاف کے لئے اسامیوں کی این او سی جاری کی جائے تاکہ یہ پراجیکٹ بروقت فعال ہو سکے اور اس کا ذخیرہ شدہ پانی بنجر زمینوں کو قابل کاش بنانے کی خاطر استعمال میں لایا جاسکے جس پر مشیر خزانہ نے بتایا کہ غیر فعال سکیموں کے اضافی اہلکاروں کو بادہ ڈیم کے لیے مہیا کر دیا جائے گا اور ٹیکنیکل سٹاف سمیت سب انجینیئز بھی دیئے جائیں گے۔ اجلاس میں ٹوبیکو سیس پر بھی تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ بعدازاں اجلاس کے شرکاء نے ان کے مسائل سننے اور اس کے لیے فنڈز جاری کرنے کی یقین دہانی پر مزمل اسلم کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ آنے والے وقت میں بھی وہ اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز نے بیجنگ کے معروف Zhongguancun Innovation Demonstration Zone کا دورہ کیا۔ یہ علاقہ دنیا بھر میں“Silicon Valley of China”کے طور پر جانا جاتا ہے، جہاں جدید ترین سائنسی، ٹیکنالوجی اور معاشی ماڈلز کی ترقی کا مرکز قائم ہے۔اس دورے میں Artificial Intelligence، Robotics، Biotechnology، Digital Economy، اور Smart Governance سے متعلق منصوبہ جات کا براہِ راست مشاہدہ کیا گیا۔ یہ تجربہ واضح کرتا ہے کہ کس طرح چین کی حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر باہمی اشتراک سے deep-tech ecosystems کو مؤثر انداز میں وسعت دے رہے ہیں۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا میں بھی جدید ٹیکنالوجی، نوجوانوں کی مہارت سازی، اور ڈیجیٹل ا ایکانومی کے فروغ کے لیے ایسے ماڈلز سے رہنمائی لی جائے گی۔اس موقع پر ان کے ہمرا سابق مرکزی سینئر نائب صدر انصاف یوتھ ونگ پاکستان احمد عباسی بھی موجود تھے۔

جعلی وفاقی حکومت نے مہنگائی کا منی بجٹ عوام پر مسلط کر دیا، پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ فارم 47 حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، وزیر خوراک خیبرپختونخوا

وزیر خوراک خیبرپختونخوا ظاہر شاہ طورو نے وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جعلی وفاقی حکومت نے جولائی کے پہلے دن ہی عوام کو مہنگائی کے منی بجٹ کا تحفہ دے دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے مہنگائی کی نئی اور شدید لہر آئے گی، جس کا براہِ راست اثر غریب عوام اور متوسط طبقے پر پڑے گا۔ ظاہر شاہ طورو نے خبر دار کیا کہ یہ اضافہ نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ زرعی شعبے پر بھی شدید منفی اثر ڈالے گا۔ کھاد، بیج اور دیگر زرعی اشیاء مہنگی ہونے سے کسانوں کی کمر ٹوٹ جائے گی۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ فارم 47 کے ذریعے مسلط کی گئی حکومت کے ہر فیصلے کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں، اور پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ان کی بدانتظامی اور نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ظاہر شاہ طورو کا کہنا تھا کہ یہ جعلی حکومت ملک کی ترقی کے صرف نعرے لگاتی ہے، جبکہ عملی طور پر عوام کے منہ سے نوالہ چھینا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں عالمی سطح پر مہنگائی اور بحران کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا گیا، جبکہ موجودہ حکومت عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈال کر خود عیاشیوں میں مصروف ہے۔

صوبائی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال کا زرعی تحقیقی ادارہ ترناب کا دورہ، جدیدزرعی مشینری مختلف ڈائریکٹوریٹ کے افسران کے حوالے کی

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے زراعت میجر (ر) سجاد بارکوال نے پشاور میں واقع زرعی تحقیقی ادارہ ترناب کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے دوست ملک چین سے زرعی شعبہ میں تعاون کے تحت ملنے والی جدید مشینری کا تفصیلی معائنہ کیا۔ صوبائی وزیرکے ہمراہ محکمہ زراعت کے سیکرٹری عطاء الرحمن خلیل، ڈائریکٹر جنرل زرعی تحقیق ڈاکٹر عبدالروف، ڈائریکٹر جنرل زرعی توسیع مراد علی، ڈائریکٹر جنرل زرعی انجنئیرنگ نسیم جاوید اور محکمہ زراعت کے دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر سجاد بارکوال نے اس موقع پر جدید مشینری محکمہ زراعت کے ڈائریکٹوریٹ آف زرعی تحقیق، زراعت توسیع اور زرعی انجینئرنگ کے متعلقہ افسران کے حوا لے کی۔ دورے کے دوران صوبائی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال کو چین سے ملنے والی زرعی مشینری پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ مشینری بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے میں مددگار ثابت ہوگی اور اس جدید زرعی مشینری سے زمینوں کی لیولنگ بھی کی جائے گی۔ یہ مشینری تحقیقی مراکز، سیڈ پروڈکشن فارم اور زرعی انجینئرنگ کے شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کیلئے فراہم کی جارہی ہے۔صوبائی وزیر زراعت نے تحقیقی اداروں کے سائنس دانوں اور افسران کو ہدایت کی کہ مشینری کا بہترین استعمال کرتے ہوئے صوبے کی زراعت کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کے جدید آلات کی فراہمی سے کسانوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور زرعی شعبہ ترقی کی نئی منزلیں طے کرے گا۔ جدید زرعی مشینری کاشتکاری میں ریڑھ کی ہڈی ہے کیونکہ یہ بوائی، نگہداشت اور فصل کی کٹائی جیسے اہم کاموں میں وقت اور جسمانی محنت کو نمایاں طور پر کم کرتی ہے۔ بیج یا کھاد جیسے وسائل کے ضیاع کو روکتے ہوئے مشینری مجموعی لاگت میں کمی لاتی ہے۔ جس سے کاشتکاروں کی آمدنی میں دیرپا اضافہ ہوتا ہے۔ جدید زرعی آلات پائیدار کاشتکاری کے فروغ کے لیے ناگزیر ہیں۔وزیر زراعت سجاد بارکوال نے چینی حکومت اور متعلقہ اداروں کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے صوبے کی زراعت میں جدت لانے کے لیے آلات اور مشینری فراہم کی۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی تعاون سے خیبر پختونخوا کی زرعی ترقی کو نئی رفتار ملے گی۔

مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا

مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ وکالت نہ صرف ایک معزز اور مقدس پیشہ ہے بلکہ یہ معاشرے میں انصاف کی فراہمی اور قانون کی بالادستی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ نوجوان وکلاء اگر جذبہ خدمت اور پیشہ ورانہ دیانتداری کو اپنا شعار بنائیں تو کامیابی خود اُن کے قدم چومے گی۔

وہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن مردان کے نو منتخب عہدیداران کی حلف برداری کی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں خیبر پختونخوا بار کونسل کے نمائندگان، وکلاء برادری، وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے فنی تعلیم طفیل انجم، اور بڑی تعداد میں سینئر و جونیئر وکلاء شریک تھے۔

تقریب سے بار کے نو منتخب صدر آصف اقبال ایڈوکیٹ، جنرل سیکرٹری ذوالفقار علی ایڈوکیٹ اور سٹی مئیر مردان حمایت اللہ مایار نے بھی خطاب کیا اور وکلاء برادری کو درپیش مسائل اور ان کے حل پر روشنی ڈالی۔

بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے نو منتخب کابینہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا وکلاء برادری کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کے دیرینہ مطالبات کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مردان بار کے مسائل پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور اور صوبائی وزیر قانون سے مشاورت مکمل ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مردان جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر، جونیئر وکلاء کے لیے شیڈز، بار رومز کی سولرائزیشن اور مالی گرانٹس سمیت دیگر مطالبات پر جلد پیش رفت متوقع ہے۔ بیرسٹر سیف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وکلاء کے لیے سازگار اور سہل کاری کا ماحول فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے سپاسنامہ میں پیش کیے گئے مطالبات پر مثبت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان وکلاء کی پیشہ ورانہ تربیت اور اسکل ڈویلپمنٹ کے لیے بار کونسلز کو جامع منصوبہ بندی کرنی چاہیے تاکہ وکلاء کی معاشی مشکلات میں کمی آئے اور وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بہتر طریقے سے نبھا سکیں۔

مشیر اطلاعات نے مردان بار کی جانب سے ملک میں آئین و قانون کی بالادستی، جمہوریت کے استحکام اور شہریوں کو فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کے لیے کی جانے والی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ دریں اثناء مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے رستم میں تحصیل پریس کلب کے نو منتخب عہدیداروں کی تقریب حلف برداری میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے کلب کے عہدیداروں سے حلف لیا۔ تقریب میں وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی طفیل انجم، ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن انصاراللہ خلجی، اسسٹنٹ کمشنر رستم نعمان پرویز، معززین علاقہ اور صحافیوں نے شرکت کی۔ مشیر اطلاعات نے صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مختلف حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالی اور رستم کے صحافیوں کے مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی۔

دیر بالا میں دریاؤں، ندی نالوں اور آبی گزرگاہوں کے تحفظ اور تجاوزات کے خاتمے کیلئے مؤثر اقدامات سے متعلق اجلاس کا انعقاد۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے عوامی ایجنڈا کے تحت چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی ہدایات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر نویداکبر کےزیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سید بلال محمد ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل)، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریلیف اینڈ ہیومن رائٹس)، اسسٹنٹ کمشنرز، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنرز، ایگزیکٹیو انجینئر ایریگیشن، ایگزیکٹیو انجینئر سی اینڈ ڈبلیو، ٹی ایم اوز اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں دریاؤں، ندی نالوں اور قدرتی آبی گزرگاہوں سے تجاوزات کے فوری خاتمے سے متعلق جامع حکمتِ عملی مرتب کی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیاکہ تمام غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف بلا تاخیر آپریشن شروع کردیا گیا ہے جو کہ جاری رہے گا۔ ڈپٹی کمشنر دیر بالا نے ہدایت کی کہ تمام دریاؤں اور ندی نالوں کی حدود کی نقشہ سازی (Mapping) اور حد بندی (Demarcation) کی جائے تاکہ مستقبل میں تجاوزات کی روک تھام ممکن ہو سکے اور باقاعدہ ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دیا جا سکے۔ تمام کارروائی کی تفصیلی رپورٹ جیو ٹیگڈ تصاویر، ایکشن ریکارڈ اور محکمانہ توثیق (Verification) سرٹیفکیٹ کے ساتھ جمع کروانے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام ٹی ایم ایز ،اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز لوکل گورنمنٹ کی طرف سے دریا کے کنارے عمارتوں کی تعمیر کے لیے جاری کردہ NOCS کی تفصیلات/ فہرستیں دو دن کے اندر اندر فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ اس کے علاوہ تمام اسسٹنٹ کمشنرز ،ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کو اینٹی انکروچمنٹ آپریشن کا ایکشن ریکارڈ محکمانہ ویری فکیشن سرٹیفکیٹ جیو ٹیگ تصاویر متعلقہ سیکشن پی ایم آر یو برانچ ڈپٹی کمشنر آفس دیر بالا کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر جمع کروانے کی ہدایت کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر دیر بالا نوید اکبر نے واضح کیا کہ اس معاملے کو نہایت سنجیدگی سے لیا جائے گا اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر کی صورت میں ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اپر چترال میں ڈپٹی اسپیکر خیبر پختونخوا ثریا بی بی کی ریلیز کردہ فنڈز سے گاؤں درو (تریچ) میں

اپر چترال میں ڈپٹی اسپیکر خیبر پختونخوا ثریا بی بی کی ریلیز کردہ فنڈز سے گاؤں درو (تریچ) میں پروٹیکشن وال کی تعمیر جاری ہے۔ڈپٹی اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی ثریا بی بی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور قدرتی آفات سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر شعبے میں سرگرم عمل ہے۔ خواہ ترقیاتی منصوبے ہو، سیلاب سے متاثرہ علاقے ہو یا قدرتی آفات سے مستقل تحفظ کے لیے حکمت عملی تحریک انصاف کی حکومت بلا تفریق خدمات انجام دے رہی ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہاہے کہ گاؤں درو،جو دریائے تورکہو اور دریائے تریچ کے سنگم واقع ہے میں ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے زیرنگرانی پروٹیکشن وال کی تعمیر جاری ہے۔ اس پروٹیکشن وال کی تکمیل سے گاؤں درو،کو دریا کی کٹائی اور سیلاب جیسی قدرتی آفات سے تحفظ حاصل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف میرٹ پر مبنی اور بلا امتیاز ترقیاتی کاموں پر یقین رکھتی ہے۔ حالانکہ جنرل الیکشن 2024 میں پولنگ اسٹیشن درو (تریچ) سے پی ٹی آئی کو صرف 26 ووٹ ملے جبکہ جمعیت علمائے اسلام اور دیگر جماعتوں کو 95 فیصد سے زائد ووٹ پڑے اس کے باوجود پاکستان تحریک انصاف نے علاقے کی ترقی کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔اس سے قبل مشیر برائے اقلیتی امور وزیر زادہ کے فنڈز سے گاؤں درو کے لیے لنک روڈ کی تعمیر بھی مکمل کی جا چکی ہے جبکہ گاؤں سوروحت میں بھی پی ٹی آئی کی سابق صوبائی حکومت کے تحت متعدد ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ چکے ہیں۔ اس سال ڈپٹی اسپیکر خیبر پختونخواہ کی فراہم کردہ فنڈز سے سول ایریگیشن چینلز کے منصوبے بھی مکمل ہو چکے ہیں۔جبکہ پروٹیکشن وال کی تعمیر کے لیے ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخواہ اسمبلی ثریا بی بی نے انتھک محنت کے بعد فنڈز ریلیزکو ممکن بنایا۔ اس منصوبے کو منظوری اور عملی شکل دینے میں ایم این اے چترال عبداللطیف، مشیر برائے اقلیتی امور وزیر زادہ، اور پاکستان تحریک انصاف تریچ و چترال کی قیادت اور کارکنان داد کے مستحق ہیں جنہوں نے منصوبے کی نشاندہی اور تکمیل میں بھرپور کردار ادا کیا۔