Home Blog Page 83

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان سے معروف کاروباری شخصیت ملک

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان سے معروف کاروباری شخصیت ملک شرین مالک نے ملاقات کی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان سیاسی اور علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا ملک شیرین مالک نے بنوں اور حلقہ پی کے 101 کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے فوری حل پر زور دیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر پختون یار خان نے یقین دہانی کرائی کہ خیبر پختونخوا کی حکومت بنوں اور پی کے 101 کے عوامی مسائل اور محرومیوں کے ازالے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے گی انہوں نے کہا کہ خطے میں امن و امان کا قیام ناگزیر ہے اور حکومت اس مقصد کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے گی انہوں نے کہاکہ حکومت عوامی خدمت کو سیاست سے بالاتر ہو کر دیکھتی ہے اور ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ علاقے کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے بنوں کے عوام کو درپیش مسائل برسوں سے توجہ کے منتظر ہیں لیکن اب حکومت ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے سنجیدہ ہے انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں، صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے اقدامات جاری ہیں اور عوام کو جلد مثبت نتائج نظر آئیں گے۔

صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے لائیو اسٹاک، فشریز اور کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ کا اجلاس

صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے لائیو اسٹاک، فشریز اور کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ کا اجلاسں صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا جس کی صدارت چیئرپرسن اور رکن صوبائی اسمبلی شیر علی آفریدی نے کی۔ اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی عبیدالرحمن، عبدالمنعم اور اعجاز محمد نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے آغاز میں چیئرپرسن نے متعلقہ محکمے کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا اور ادارہ جاتی بہتری پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ لائیو سٹاک اور فشریز کے شعبوں میں ریونیو بڑھانے اور عوامی فلاح کے امکانات موجود ہیں، جن سے مؤثر انداز میں فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ان شعبوں کی ترقی نہ صرف صوبے کی معیشت کو تقویت دے سکتی ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔اجلاس کے دوران محکمہ لائیو اسٹاک کے تحت میڈیسن اور ویکسین سروسز سے متعلق تفصیلات بارے چیئرپرسن نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں یہ معلومات ہر صورت مہیا کی جائیں، بصورت دیگر یہ معاملہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا۔چیئرپرسن شیر علی آفریدی نے آگاہ کیا کہ کمیٹی کی جانب سے جلد ہیچریز اور متعلقہ ریسرچ سینٹرز کا دورہ کیا جائے گا تاکہ زمینی حقائق کی روشنی میں محکمانہ کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔اجلاس میں محکمہ لائیو اسٹاک کی جانب سے بتایا گیا کہ ریونیو میں بہتری کے لیے مربوط اور سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ کمیٹی کو درکار اعدادوشمار پر آئندہ اجلاس میں بریفنگ دی جائے گی۔

خیبر پختونخوا کا بجٹ مشروط طور پر منظور کیا گیا ہے۔بیرسٹر ڈاکٹرسیف

بجٹ کی منظوری کو عمران خان کو مائنس کرنے سے جوڑنا غلط ہے۔مشیر اطلاعات

خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کا بجٹ مشروط طور پر منظور کیا گیا ہے،بجٹ کی منظوری کو عمران خان کو مائنس کرنے سے جوڑنا غلط ہے۔تحریک انصاف عمران خان کے حکم کی پابند ہے، عمران خان کا ہر فیصلہ پارٹی قائدین کے لیے انتہائی قابلِ احترام ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ نے عمران خان کی ہدایت پر اُن سے ملاقات کے لیے اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیا ہے اورامید ہے ان کی ملاقات جلد کرائی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی ملاقات کے بعد عمران خان کی ہدایات کے مطابق بجٹ میں ممکنہ رد و بدل کیا جائے گا۔بجٹ کی منظوری کا اقدام دراصل مخالفین کی سازشوں کو ناکام بنانا تھا۔بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ اپوزیشن چاہتی تھی کہ بجٹ منظور نہ ہو تاکہ صوبے میں ایمرجنسی نافذ کی جا سکے، اگر بجٹ منظور نہ کرتے تو اپوزیشن اپنے عزائم میں کامیاب ہو جاتی،عمران خان سے ملاقات کے بعد ان کی ہدایات کی روشنی میں بجٹ میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کو اکثریت حاصل ہے۔ ہم کسی بھی وقت عمران خان کی ہدایت کے مطابق بجٹ میں رد و بدل کر سکتے ہیں. انہوں نے کہا کہ عمران خان پی ٹی آئی کی روح ہے اس لیے عمران خان پارٹی سے کسی صورت مائنس نہیں کیا جاسکتا۔ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ گورنر ہاوس سازشوں کا جڑ بن چکا ہے جہاں فیصل کریم کنڈی کی نگرانی میں آئے روز صوبائی حکومت کے خلاف سازشیں کی جارہی ہے۔ بجٹ کے حوالے سے بھی گورنر ہاوس میں اپوزیشن جماعتوں کی سازشی بیٹھک منعقد ہوئی تھی جسے ناکام بنانے کے لئے بجٹ پاس کرنا پڑا۔ بجٹ کے حوالے سے عمران خان کو باقاعدہ طور پر اعتماد میں لیا ہے جیسے ہی وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی عمران خان سے ملاقات ہوجا ئے گی تو عمران خان کی ہدایات کے مطابق بجٹ میں تبدیلی کی جائیگی۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی کی دو تہائی سے بھی زیادہ اکثریت ہے اس لئے پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے صنعت، عبدالکریم تورڈھیر نے کہا ہے کہ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے صنعت، عبدالکریم تورڈھیر نے کہا ہے کہ دنیا ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی جانب بڑھ رہی ہے، اور الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) کا فروغ اس سلسلے میں اہم قدم ہے۔ پاکستان میں اس حوالے سے نیک نیتی سے پالیسی سازی خوش آئند ہے، تاہم اس کے مؤثر نفاذ کے لیے ایک واضح اور جامع ریگولیٹری نظام اپنانا ناگزیر ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں الیکٹرک گاڑیوں اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے متعارف کی جانے والی پانچ سالہ نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی (2025-30) کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ورکشاپ کا مقصد نئی قومی پالیسی سے متعلق آگاہی پیدا کرنا اور قومی و صوبائی حکومتوں کے مابین تعاون کو فروغ دینا تھا۔ورکشاپ کی صدارت وزیراعلیٰ کے معاونینِ خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیر اور برائے ٹرانسپورٹ رنگیز خان کے علاوہ وفاقی سیکریٹری صنعت و پیداوار سیف انجم نے کی۔ اس موقع پر سیف انجم نے نئی پالیسی کا خاکہ پیش کرتے ہوئے اس کے فریم ورک، تزویراتی مقاصد، فوائد، ادارہ جاتی طریقہ کار اور نفاذ کے لیے مرتب کردہ روڈمیپ پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ورکشاپ کے دوران شرکاء نے پالیسی میں مزید بہتری کے لیے مختلف آراء بھی پیش کیں۔ورکشاپ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات اکرام اللہ، سیکرٹری منصوبہ بندی عدیل شاہ، سیکرٹری ٹرانسپورٹ مسعود یونس، دیگر اعلیٰ حکام، وفاقی و صوبائی محکموں کے نمائندگان، صنعتکار، کاروباری شخصیات، سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فضل مقیم، انجمن تاجران کے نمائندگان اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔پانچ سالہ نئی پالیسی کے تحت 2025 سے 2030 تک ملک میں 30 فیصد گاڑیوں کو الیکٹرک وہیکل پر منتقل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے ملک بھر میں 3000 چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے۔معاون خصوصی عبدالکریم تورڈھیر نے کہا کہ اگرچہ نئی پالیسی کے حوالے سے مشاورت کا عمل جلد بازی میں مکمل کیا گیا، تاہم ماحول کے تحفظ کے لیے یہ ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی سطح پر تیاری کے لیے خاص طور پر لیتھیئم بیٹریز کی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے سرمایہ کاری کے آسان ماڈلز اور لیزنگ کے شفاف طریقہ کار وضع کیے جانے چاہئیں تاکہ مقامی صنعت کو فروغ ملے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان بیٹریز کی عمر، استعمال کے بعد ان کا محفوظ طریقے سے تلف ہونا، اور ماحول پر ممکنہ اثرات جیسے امور کے لیے بھی ایک جامع ریگولیٹری نظام قائم کیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے چارجنگ اسٹیشنز کے مقام، رسائی اور چارجنگ طریقہ کار کے بارے میں بھی شفاف پالیسی کی ضرورت پر زور دیا۔ معاون خصوصی نے کہا کہ محکمہ صنعت صوبائی سطح پر خیبرپختونخوا بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے ذریعے وفاقی اداروں سے قریبی روابط رکھے گا تاکہ پالیسی کے نفاذ میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جا سکے۔اس موقع پر معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ، رنگیز خان نے کہا کہ پالیسی میں دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے دی جانے والی سبسڈی سے کم آمدنی والے افراد مستفید ہوں گے، بشرطیکہ چارجنگ اسٹیشنز دیہی علاقوں میں بھی دستیاب ہوں۔ انہوں نے تجویز دی کہ چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کے تمام مراحل ون ونڈو آپریشن کے تحت مکمل کیے جائیں تاکہ سرمایہ کاروں اور صارفین دونوں کو سہولت ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صوبائی وزیر اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اعلیٰ تعلیم باالخصوص

صوبائی وزیر اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اعلیٰ تعلیم باالخصوص انجنئیرنگ اور ٹیکنالوجی کے تعلیم کے فروغ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ حکومت نے اعلیٰ تعلیم کا بجٹ نگران دور کے ایک ارب 90 کروڑ کے مقابلے میں حالیہ بجٹ میں 10 ارب کر دیا ہے۔ یونیورسٹیاں روایتی انجینئرنگ کے ساتھ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سائبر سیکورٹی کے شعبوں میں ماہرین کی تیاری پر توجہ دیں جو جدید دور کا تقاضہ اور ہماری حکومت اور عمران خان کا ہی وژن ہے۔ وہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی مردان میں ٹیک وژن فائنل ائیر پراجیکٹ ایکسپو کے موقع پر میڈیا سے بات چیت اور طلبہ و فیکلٹی سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ساجد خان، یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر گل محمد، ڈین ڈاکٹر عمران، انڈسٹری کے نمائندگان، فیکلٹی ممبرز اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ایکسپو میں 30 مختلف انڈسٹریز اور فائنل ائیر کے طلبہ و طالبات نے اپنے مصنوعات اور پراجیکٹس کے 66 سٹالز لگائے تھے۔ وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے تمام سٹالز کا دورہ کیا اور طالب علموں سے ان کے پراجیکٹس کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ بیسٹ پراجیکٹ ایوارڈ سول انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ نے حاصل کیا۔ صوبائی وزیر نے اس موقع پر یونیورسٹی میں حال ہی میں قائم شدہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سنٹر اور یونیورسٹی کی جانب سے مکمل شدہ دو سو کلو واٹ سولر سسٹم کا افتتاح کیا۔ سنٹر برائے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کاقیام ملک میں اس شعبے میں ترقی کے حوالے سے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل محمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انجنیرنگ کے طلبہ و طالبات کو ملازمت کے پیچھے بھاگنے کی بجائے مختلف ہنر سیکھ کر ایک انٹرپرینور کے طور پر لوگوں کو روزگار دے کر ملک و قوم کی خدمت کرنی چاہئیے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہا کہ وہ اس ایکسپو میں طلبہ و طالبات کے مختلف پروجیکٹس سے از حد متاثر ہوئے ہیں اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی مردان کے طالب علموں نے یہ ثابت کیا کہ ہمارے نوجوان بھرپور ٹیلنٹ کے حامل ہیں اور تھوڑی سی توجہ دے کر ان کی صلاحیتوں کو ملک وقوم کے حق میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یو ای ٹی مردان کے وائس چانسلر اور فیکلٹی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کاوشیں ان کامیاب پراجیکٹس میں واضح طور پر جھلک رہی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو انڈسٹریز کے ساتھ لنک کرنے سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ نئی تحقیق سے عوام کو بہترین سہولیات بھی میسر آسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سنٹر برائے اے آئی کے تحت بی ایس لیول کے چار نئے پروگراموں کے اجراء سے یونیورسٹی مزید آگے بڑھے گی اور اس نئی ٹیکنالوجی کو فروغ ملے گا۔ مینا خان آفریدی نے ایکسپو میں نمائش کے لیے رکھے گئے پراجیکٹس کے حامل طالب علموں کو 30 ہزار روپے فی پراجیکٹ کیش ایوارڈ بھی دئیے۔ جبکہ بہترین آئیڈیاز پیش کرنے والوں میں 20/20 ہزار روپے کیش پرائز تقسیم کیے۔ اس موقع پر وائس چانسلر ڈاکٹر گل محمد نے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی اور ڈی جی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ساجد خان کو شیلڈز پیش کئے۔

بیرسٹر ڈاکٹر سیف کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اہم ملاقات

ملاقات میں سیاسی امور سمیت خیبرپختونخوا بجٹ کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیر اعلی خیبر پختون خوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اہم ملاقات کی ہے اس حوالے سے بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران سیاسی امور سمیت خیبرپختونخوا بجٹ کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی اور عمران خان کو بجٹ سے متعلق قانونی و آئینی پیچیدگیوں سے آگاہ کیاگیا۔انہوں نے کہاکہ اگر مقررہ آئینی مدت میں بجٹ پاس نہ کیا جاتا تو سنگین قانونی و آئینی مسائل پیدا ہو سکتے تھے، پیچیدگیوں کے باعث نہ تو تنخواہیں دی جا سکتی تھیں اور نہ ہی حکومتی اخراجات پورے کیے جا سکتے تھے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ
بجٹ کی عدم منظوری سے صوبے میں بحران کی صورتحال جنم لے سکتی تھی، عمران خان کو بجٹ کی منظوری نہ دینے کی اپوزیشن کی ممکنہ چالوں سے بھی آگاہ کیا، علاوہ ازیں
گورنر ہاؤس میں اپوزیشن کی سازشی بیٹھک سے بھی عمران خان کو آگاہ کیا گیا، بیرسٹر ڈاکٹر سیف
نے کہا کہ اپوزیشن نے بجٹ کی منظوری نہ نہ دینے کی صورت پورا لائحہ بنایا تھا، خیبرپختونخوا حکومت نے بجٹ پر تفصیلی مشاورت کی اور آئینی ماہرین کی رائے حاصل کی، پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بھی بجٹ کی منظوری پر بھرپور مشاورت ہوئی اورمشاورت کے بعد کے پی حکومت نے بجٹ کو مشروط طور پر منظور کرنے کا فیصلہ کیا۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف

نے کہا کہ علی امین خان گنڈاپور اور مزمل اسلم کی عمران خان سے ملاقات کے بعد بجٹ میں ردوبدل ممکن ہے، عمران خان نے بجٹ کی منظوری پر رضامندی کا اظہار کیا، وزیر اعلی اور مزمل اسلم کی عمران خان سے ملاقات میں وہ بجٹ سے متعلق ہدایات جاری کریں گے، عمران خان کی ہدایات کے مطابق بجٹ میں ردوبدل کیا جائے گا، وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈاپور اور مزمل اسلم کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی،مجھے آج عمران خان سے ملاقات کی اجازت مل گئی، میں نے وہ تمام نکات عمران خان کے سامنے رکھے جو وزیراعلیٰ اور مزمل اسلم اٹھانا چاہتے تھے، وزیراعلیٰ کی ہدایات کے مطابق عمران خان کو بجٹ پر مکمل بریفنگ دی گئی،

مشیر صحت احتشام علی کی ساتھ خیبرپختونخوا ڈاکٹر کونسل کے نمائندہ وفد کی ملاقات،

وزیر اعلی خیبر پختو خوا کےمشیر صحت احتشام علی نے خیبرپختونخوا ڈاکٹر کونسل کے نمائندہ وفد کو دفتر مدعو کرکے ان سے ملاقات کی اور طبی عملے کو درپیش مسائل بارے سیر حاصل گفتگو کی۔
ملاقات میں سپیشل سیکرٹری ہیلتھ سمیت انصاف ڈاکٹرز فورم کے صوبائی صدر ڈاکٹر نبی جان آفریدی بھی موجود تھے۔ ملاقات میں طبی عملے کے مسائل پر غور و حوض ہوا۔ مشیر صحت احتشام علی نے پچھلے ہفتے آئے ڈاکٹرز جرگہ کے محکمہ صحت میں تھوڑ پھوڑ پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ پڑھے لکھے لوک ایسے کام کرینگے تو عام آدمی سے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی نمائندہ تنظیم کسی بھی وقت میرے دفتر آسکتی ہے لیکن غیر شائستہ گفتگو اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا قابل قبول نہیں۔ مشیر صحت نے واضح کیا کہ ڈاکٹرز کے مطالبات پر پہلے ہی 80 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ اس بابت انصاف ڈاکٹرز فورم نے بطور نمائندہ طبی عملے کے زیادہ تر مسائل پر پہلے ہی کام مکمل کرلیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ کنٹریکٹ بھرتی کا عمل جاری ہے۔ مختلف ایم ٹی آئیز میں بھی بھرتی کا عمل مسلسل جاری ہے۔ پبلک سروس کمیشن کے زریعے بھی ڈسٹرکٹ سپیشلسٹ کی بھرتی کا عمل شروع ہوا تھا جو کہ قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے فی لوقت معطل ہے۔ مشیر صحت احتشام علی نے یہ بھی بتایا کہ ڈاکٹرز کی تنخواہوں میں اضافے کا عمل بھی آخری مراحل میں ہے اور بہت جلد ڈاکٹرز کمیونٹی کو اچھی خبر سنائیں گے۔ طبی عملے کے مسائل کا ادراک ہے اور یہ مسائل سیاست سے بالاتر ہوکر حل کرینگے۔

جدید ٹیکنالوجی اور انٹرکراپنگ سے کسانوں کی پیداواری صلاحیت بڑھائی جائے گی، نجی شعبہ زراعت کا لازمی حصہ ہے – صوبائی وزیر زراعت

جدید ٹیکنالوجی اور انٹرکراپنگ سے کسانوں کی پیداواری صلاحیت بڑھائی جائے گی، نجی شعبہ زراعت کا لازمی حصہ ہے – صوبائی وزیر زراعت

خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر (ر) سجاد بارکوال نے کسانوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافے، جدید زرعی ٹیکنالوجیز کی تربیت، اور زرعی یونیورسٹیوں میں عملی تعلیم پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ زراعت صوبے میں زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔بین الاقوامی زرعی کانفرنس و ایکسپو کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر زراعت نے کہا کہ کسانوں کی فصلات کے حوالے سے صلاحیت بڑھانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ محکمہ زراعت کسانوں کو جدید ترین ٹیکنالوجیز کے بارے میں موثر تربیت فراہم کرے۔ ساتھ ہی، زرعی یونیورسٹیوں کو چاہیے کہ وہ طلباء کو عملی اور میدانی سطح کا علم بھی فراہم کریں تاکہ وہ مستقبل میں جدید زراعت کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں۔صوبائی وزیر زراعت نے صوبے میں زرعی زمین کی قلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انٹرکراپنگ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں صرف 1.7 ملین ہیکٹر زمین ہی زراعت کے لیے دستیاب ہے۔ ایسی صورت میں، کسانوں کو انٹرکراپنگ جیسی جدید تکنیکوں کی تربیت دے کر ہی ان کی فی ایکڑ پیداوار اور مجموعی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے محکمہ زراعت کو ہدایت کی کہ وہ انٹرکراپنگ کی تربیت اور اس کے فروغ کے لیے موثر اقدامات کرے۔سجاد بارکوال نے زرعی ترقی میں نجی شعبے کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیا اور انکے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اگر نجی شعبے کو زراعت کے سیکٹر سے باہر کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب درحقیقت زراعت کو پسماندگی کی طرف دھکیلنا ہے۔ نجی سرمایہ کاری، مارکیٹ رابطے اور جدید انتظام زرعی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ محکمہ زراعت صوبے میں نجی شعبے کی بھرپور معاونت اور شراکت کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ زرعی تحقیق کے پی نے زیادہ پیداوار دینے والی اور پائیدار فصلوں کی 129 نئی اقسام تیار کی ہیں۔ یہ اقسام کسانوں کو بہتر پیداوار اور ماحولیاتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ اسی طرح، انہوں نے محکمہ زراعت توسیع کی کاوشوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ محکمہ زراعت توسیع زرعی برادریوں میں جدید زرعی ٹیکنالوجیز کی تشہیر اور ان کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے نئے اور مؤثر رجحانات قائم کر رہا ہے۔اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر زراعت سجاد بارکوال نے اس کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر منتظمین، شرکاء اور خصوصاً میڈیا نمائندوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ محکمہ زراعت اور اس سے وابستہ تمام ادارے مل کر صوبے کے کسانوں کی فلاح و بہبود اور زرعی شعبے کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ اس موقع پر سیکرٹری زراعت خیبر پختونخوا عطاالرحمان خلیل نے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ کانفرنس و ایکسپو محکمہ زراعت اور صوبے کے کسانوں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوئی ہے۔ نامیاتی کاشتکاری (آرگینک فارمنگ) ایک نئی ٹیکنالوجی ہے جس پر پینل ڈسکشن کے دوران تفصیل سے بات چیت ہوئی۔ انہوں نے موجودہ پانی کے موثر استعمال کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے بتایا کہ پینل ڈسکشن میں اس موضوع پر مؤثر طریقے سے گفتگو ہوئی۔ سیکریٹری زراعت نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے موسمی حالات زیتون کی کاشت کے لیے موزوں ہیں اور محکمہ اس کی مالیاتی اہمیت کو اجاگر کرنے اور کسانوں کو اس کے منافع بخش پہلوؤں سے آگاہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ نئی زرعی ٹیکنالوجیز کو موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں ڈیزائن کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے تقریب کے اختتام پر صوبے میں زرعی ترقی کے لیے نجی شعبے کی کاوشوں کی تعریف کی۔ یہ قابل ذکر ہے کہ اس تقریب میں غیر ممالک کے ماہرین، صوبوں کے محققین اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سمیت پورے پاکستان سے تعلق رکھنے والے کسانوں نے بھی شرکت کی۔کانفرنس کے اختتام پر صوبائی وزیر زراعت نے منتظمین میں شیلڈ ز بھی تقسیم کیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو کی جانب سے پیش کردہ محکمہ خوراک کے تین بڑے مطالباتِ زر خیبرپختونخوا اسمبلی سے بھاری اکثریت سے منظور

وزیر خوراک خیبرپختونخوا ظاہر شاہ طورو نے مالی سال 2025-26 کے اخراجاتِ جاریہ کے ضمن میں خیبرپختونخوا اسمبلی میں محکمہ خوراک تین اہم مطالباتِ زر پیش کیے، جو ایوان نے بھاری اکثریت سے منظور کر لیے۔ ان مطالبات کا مقصد خوراک کے شعبے میں پالیسی اہداف کی تکمیل، فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانا، اور ضم اضلاع میں گندم و چینی سے متعلقہ امور کی انجام دہی کے لیے مالی وسائل کی فراہمی ہے۔وزیر خوراک نے محکمہ خوراک کے مطالبہ زر نمبر 49 میں ایوان سے درخواست کی کہ 1 کھرب 13 ارب 10 کروڑ 47 لاکھ 74 ہزار روپے کی رقم اسٹیٹ ٹریڈنگ اِن فوڈ گرین اینڈ شوگر کے مد میں مختص کی جائے تاکہ مالی سال 30 جون 2026 تک اس شعبے کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ ایوان نے یہ مطالبہ زر بھاری اکثریت سے منظور کر لیا۔
ظاہر شاہ طورو نے مطالبہ زر نمبر 35 میں فوڈ سیکیورٹی نیٹ کے پالیسی اہداف کے لیے 10 ارب 60 کروڑ 1 لاکھ 2 ہزار روپے جاری کرنے کی درخواست پیش کی، تاکہ مالی سال کے دوران درکار اہم اخراجات بروقت ادا کیے جا سکیں۔ یہ مطالبہ بھی اسمبلی نے بھاری اکثریت سے منظور کر لیا۔
اسی طرح وزیر خوراک نے محکمہ خوراک کے مطالبہ زر (ضم اضلاع) نمبر 66 میں مزید 37 کروڑ 9 لاکھ 7 ہزار روپے کی منظوری کی درخواست پیش کی، تاکہ ضم شدہ اضلاع میں اسٹیٹ ٹریڈنگ اِن فوڈ گرین اینڈ شوگر سے متعلق امور کے لیے ضروری فنڈز میسر آ سکیں۔ یہ مطالبہ بھی صوبائی اسمبلی نے اکثریت سے منظور کر لیا۔

دیرپا امن سب کے اشتراکِ عمل سے ہی ممکن ہے: چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے کہا ہے کہ کسی بھی علاقے کا پائیدار اور مستقل امن وہاں کے عوام کے خلوص نیت، محنت اور باہمی تعاون کی مرہونِ منت ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک جگہ بیٹھ کر باہمی اعتماد بحال کرنا ہوتا ہے اور ایسے فیصلے ہی دیرپا اور مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت امن کے قیام کے لیے شب و روز کوشاں ہے لیکن اس میں کامیابی سب کے اشتراکِ عمل سے ہی ممکن ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز کوہاٹ پولیس کلب میں ماہ محرم الحرام میں امن و رواداری کو یقینی بنانے کے سلسلے میں منعقدہ گرینڈ ڈویژنل امن جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔جرگے سے صوبائی وزیر قانون افتخار عالم ایڈووکیٹ، اراکینِ قومی اسمبلی شہریار آفریدی، حمید حسین اور یوسف خان، اراکینِ صوبائی اسمبلی شفیع جان، اورنگزیب اورکزئی اور علی ہادی، انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید، کمشنر کوہاٹ ڈویژن سید معتصم باللہ شاہ، ڈی آئی جی کوہاٹ عباس مجید مروت، سابق چیف جسٹس سید ابن علی، اور اہل سنت و اہل تشیع کے اکابرین نے بھی خطاب کیا اور محرم الحرام کے دوران پُرامن ماحول کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر جی او سی نائن ڈویژن کوہاٹ میجر جنرل ذوالفقار علی بھٹی، کوہاٹ، کرم، اورکزئی اور ہنگو کے ڈپٹی کمشنرز، ڈی پی اوز، اور دونوں مکاتبِ فکر کے علماء کرام و مشران بھی موجود تھے۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ منتخب عوامی نمائندوں اور مشران کی گفتگو سن کر محسوس ہوا کہ اتفاق باہمی کے لئے سب یک زبان ہیں اور سب کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جذبہ حب الوطنی نوجوانوں میں بھی منتقل کیا جائے اور انہیں باور کرایا جائے کہ سب مسلمان بھائی بھائی ہیں، ہمارے درمیان کوئی تفریق نہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں زیادہ ہوشیار اور بیدار رہنے کی ضرورت ہے۔ دشمن ہمیں عسکری لحاظ سے شکست نہیں دے سکتا، لیکن وہ ہمیں اندرونی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں بھارتی خفیہ ایجنسی “را” براہ راست ملوث ہے۔شہاب علی شاہ نے کہا کہ جب سب مسلمان ہیں تو ہمارے لیے بندوق اٹھانے کا کوئی جواز نہیں بنتا، مگر بدقسمتی سے دشمن ہمیں فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرکے لاحاصل جنگ میں الجھانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ضلع کرم کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں امن تیزی سے بحال ہو رہا ہے اور انشاء اللہ جلد ہی مرکزی شاہراہ عام ٹریفک کے لیے کھول دی جائے گی۔ تاہم، انہوں نے مقامی لوگوں پر زور دیا کہ وہ رضاکارانہ طور پر اسلحہ جمع کرانے کا عمل تیز کریں، بصورت دیگر یہ اسلحہ بحقِ سرکار ضبط کر لیا جائے گا۔
چیف سیکرٹری نے امید ظاہر کی کہ محرم الحرام 2025 میں بھی اہل تشیع اور اہل سنت حسبِ روایت محبت، بھائی چارے کا مظاہرہ کریں گے، اور انشاء اللہ نہ صرف محرم بلکہ ہر آنے والا مہینہ خیریت اور سکون کے ساتھ گزرے گااور مکّار دشمن اپنی چالوں میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکے گا۔