Home Blog Page 83

دُھند کے باعث ملک بھر میں موٹرویز بند، مسافروں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت

پاکستان کے مختلف علاقوں میں شدید دُھند کے باعث موٹرویز پر حدِ نگاہ متاثر ہونے سے ٹریفک کی آمدورفت معطل کر دی گئی ہے۔ نیشنل ہائی وے اور موٹروے پولیس کے مطابق حفاظتی خدشات کے پیشِ نظر متعدد اہم موٹرویز کو عارضی طور پر بند کیا گیا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق موٹروے ایم-1 پشاور سے اسلام آباد تک جبکہ ایم-2 لاہور سے اسلام آباد تک بند ہے۔ اسی طرح ایم-3 درخانہ سے فیض پور، ایم-4 شیر شاہ سے پنڈی بھٹیاں، اور ایم-5 شیر شاہ سے روہڑی تک ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔

موٹر وے پولیس کے مطابق ایم-11 لاہور سے سمبڑیال، جبکہ ایم-14 ہکلہ سے عیسیٰ خیل تک بند ہے۔ ہزارہ موٹروے پر کوہلیاں سے ہری پور تک آمدورفت معطل ہے، جبکہ سوات ایکسپریس وے کرنل شیر خان انٹرچینج سے کاٹلنگ تک بند کر دی گئی ہے۔

موٹروے پولیس نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سفر سے قبل تازہ صورتحال کے لیے ہیلپ لائن یا سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔ موٹر وے پولیس کے مطابق دُھند چھٹنے اور موسم بہتر ہونے پر سڑکیں مرحلہ وار کھول دی جائیں گی۔

صوبائی کابینہ کا 45 واں اجلاس

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا میں منعقد ہونے والے گرینڈ امن جرگے میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ہر مکتبہ فکر کے نمائندوں نے متفقہ طور پر پندرہ نکاتی ایجنڈے کی منظوری دی، جس میں واضح طور پر یہ موقف اختیار کیا گیا کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت کا بھی یہی واضح اور دوٹوک موقف ہے، اور یہ عمران خان کی قیادت میں خیبر پختونخوا حکومت کی پالیسی ہے کہ مسائل کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی، سماجی اور مشاورتی عمل کے ذریعے نکالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی میں منعقد ہونے والے امن جرگے کے تمام شرکاء بھی اس نکتے پر متفق تھے۔وزیر اعلیٰ نے خبردار کیا کہ اگر اس متفقہ موقف کے باوجود بند کمروں میں کیے گئے اور یہ فیصلے صوبے پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو اس سے تمام اسٹیک ہولڈرز میں شدید تشویش پیدا ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی ایک فرد یا ادارہ زور زبردستی صوبے پر فیصلے مسلط نہیں کر سکتا، اور ایسے اقدامات کے نتائج وہ نہیں ہوں گے جو فیصلہ کرنے والے چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امن خیبر پختونخوا ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی مشترکہ ضرورت ہے، تاہم پائیدار اور مستقل امن کے لیے ایک جامع، ہمہ گیر اور مشترکہ پالیسی ناگزیر ہے۔ ایسی پالیسی میں تمام اداروں، سیاسی و مذہبی جماعتوں، قبائلی و پختون مشران اور عمائدین کو شامل کیا جانا چاہیے تاکہ باہمی مشاورت سے ایک مؤثر اور قابلِ قبول لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تمام فریق جب مل کر بیٹھیں گے تو نہ صرف مؤثر پالیسی تشکیل پائے گی بلکہ امن بھی بحال ہوگا۔ اس کے برعکس بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں سے نہ امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن کی مخالف ہے اور کسی صورت اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز پشاور میں منعقدہ صوبائی کابینہ کے 45ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں صوبائی اراکین، چیف سیکر ٹری خیبر پختونخوا، ایڈیشنل چیف سیکر ٹریز، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، انتظامی سیکرٹریز اور ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے شرکت کی۔اجلاس میں صوبے کی فلاح و بہبود، انتظامی اصلاحات، سماجی تحفظ، صحت، تعلیم، نوجوانوں اور اوورسیز پاکستانیوں سے متعلق متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس کے بعد معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کابینہ کے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا اسٹیبلشمنٹ آف اسپیشل کورٹس (اوورسیز پاکستانیز پراپرٹیز) ایکٹ 2025 کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیز ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، ان کے حقوق کا تحفظ صوبائی حکومت اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے اور اس قانون سے بیرون ملک پاکستانیوں کی صوبے میں جائیدادوں کا تحفظ یقینی بنائیں گے، سپیشل کورٹس کے قیام سے پراپرٹی کے معاملات حل ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول کے عملے کے لیے پولیس طرز پر“شہداء پیکج”کے ایجنڈے کو کابینہ کمیٹی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ صوبے میں موجود دیگر یونیفارم فورسز کے شہداء کو بھی شامل کرنے کے لیے جامع یونیفارم پالیسی بنانے کی ہدایت دی گئی۔شفیع جان نے کہا کہ کابینہ نے اسپیشل ایجوکیشن کمپلیکس حیات آباد کے لیے بسوں کی خریداری کی منظوری دی جبکہ زمونگ کور کے زیرِ کفالت بچوں کے لیے بھی بسوں کا بندوبست کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔ سردیوں کے پیشِ نظر محکمہ سوشل ویلفیئر کو بے گھر افراد کے لیے خصوصی اقدامات اٹھانے اور سیاحتی اضلاع میں سردیوں کے دوران سیاحوں کے لیے خصوصی انتظامات یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں بھل صفائی کے لیے محکمہ آبپاشی کو 900 ملین روپے کے فنڈز کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ بھل صفائی کی مہم شفاف اور منظم انداز میں مکمل کی جائے، کیونکہ ان اقدام سے سیلاب کے ممکنہ نقصانات میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے مزید حفاظتی اقدامات کی بھی ہدایت کی گئی۔کابینہ نے گرینڈ کرم یوتھ کنونشن کے انعقاد کے لیے چھ ملین روپے کی منظوری دی۔ معاونِ خصوصی نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں موقف اختیار کیا گیا کہ نوجوانوں کو قومی اور صوبائی مسائل پر مکالمے اور مباحثے کا موقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اورا یسے اقدامات سے قومی یکجہتی کو فروغ ملے گا۔ کابینہ نے دیگر اضلاع میں بھی ایسے یوتھ کنونشنز منعقد کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں نیشنل پارکس اور وائلڈ لائف منصوبوں، ضم اضلاع میں جنگلات کے عملے اور صوبائی محتسب دفتر کے لیے گاڑیوں کی خریداری کی منظوری دی گئی۔معاون خصوصی برائے اطلاعات نے مزید کہا کہ اس موقع پر صوبے میں موجود تمام سرکاری گاڑیوں کی تفصیلات ایک ہفتے کے اندر جمع کرانے اور ان کی سالانہ مرمت پر آنے والے اخراجات کی تفصیلات بھی طلب کی گئیں۔صوبائی کابینہ نے کیڈٹ کالج لکی مروت کو خیبر پختونخوا ایجوکیشنل اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوشنز آرڈیننس 1971 کے تحت لانے کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ محکمہ ہائر ایجوکیشن میں لائبریرینز کی اپگریڈیشن کے لیے فورٹیئر فارمولے کی منظوری بھی دی گئی۔کابینہ نے دو شہریوں کے علاج میں معاونت کے تحت مالی امداد کی منظوری دی۔ صحت کے شعبے میں اسٹرکچرل ہارٹ اور کارڈیک ٹرانسپلانٹ پروگرام کے لیے 448 ملین روپے، سرکاری ہسپتالوں میں ہیمو ڈائیلاسز مشینوں کی تبدیلی کے لیے فنڈز، جبکہ ایم ٹی آئی ہسپتالوں میں ہیڈ نرسز اور کلینیکل/سینئر کلینیکل ٹیکنیشنز کی خدمات جاری رکھنے کی بھی منظوری دی گئی۔انہوں نے کہا کہ کابینہ نے خیبر پختونخوا منرلز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی میں چارانڈیپنڈنٹ ڈائریکٹرز کی تعیناتی کی منظوری بھی دی۔

Fog Updates 06-01-2026

Swat Expressway Road Closed

All lane(s) closed due to Fog Location From KM 19 Ismaila Interchange to KM 0 Kernal sher Khan Direction Kernal Sher Khan  Swat

Motorway M-1 Road Closed

All lane(s) closed due to Fog Location From KM 498 MTP Peshawar to KM 351 Islamabad Direction Islamabad  Peshawar

 

دُھند کے باعث (موجودہ صورتحال)

ایم-1: ٖپشاور سے اسلام آباد تک بند ہے۔
ایم-2: لاہور سے اسلام آباد تک بند ہے۔
ایم-3: ٖدرخانہ سے فیض پور تک بند ہے۔
ایم-4: شیر شاہ سے پنڈی بھٹیاں تک بند ہے۔
ایم-5: شیر شاہ سے روہڑی تک بند ہے۔
ایم-11: لاہور سے سمبڑیال تک بند ہے۔
ایم-14:ہکلہ سے عیسٰی خیل تک بند ہے۔
ہزارہ موٹروے: کوہلیاں تا ہری پور تک بند ہے
سوات ایکسپریس وے: کرنل شیر خان انٹر چینج سے کاٹلنگ تک بند ہے۔

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی وال چاکنگ کے خلاف مرحلہ وار مؤثر کارروائی شروع کرنے کی ہدایت

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایات کی روشنی میں صوبے بھر کی ضلعی انتظامیہ کو دیواروں پر لکھائی (وال چاکنگ) کے خلاف مرحلہ وار مؤثر کارروائی شروع کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اس مہم کے پہلے مرحلے میں قومی یادگاروں، تاریخی مقامات اور ثقافتی ورثے کی عمارتوں کووال چاکنگ سے مکمل طور پر پاک کیا جائے گا، تاکہ صوبے کے تاریخی تشخص اور عوامی مقامات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔چیف سیکرٹری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی مقامات کے تحفظ، شہروں کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے اور قانون کی عملداری حکومت خیبر پختونخوا کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر بر قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم خان ایڈووکیٹ کی زیرِ صدارت پشاور میں ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد

خیبر پختونخوا کے وزیر بر قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم خان ایڈووکیٹ کی زیرِ صدارت پشاور میں ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں سابقہ فاٹا کے مختلف ترقیاتی پراجیکٹس کے تحت ریگولرائز ہونے والے ملازمین کی آسامیوں کو باقاعدہ طور پر صوبائی سیٹ اپ میں شامل کرنے کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان، جبکہ مشیر خزانہ مزمل اسلم نے زوم کے ذریعے شرکت کی۔ اس کے علاوہ محکمہ منصوبہ بندی و ترقی (پی اینڈ ڈی) اور محکمہ اسٹیبلشمنٹ کے اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس کے دوران ”خیبر پختونخوا ریگولرائزیشن آف سروسز آف ایمپلائز آف ارسٹ وہائل فاٹا ایکٹ 2021“ کے تحت مستقل ہونے والے مرجڈ ایریاز کے پراجیکٹس ملازمین اور ان سے منسلک آسامیوں کی قانونی و انتظامی حیثیت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ ان ملازمین کی صوبائی ڈھانچے میں شمولیت ایک حساس اور کثیرالجہتی معاملہ ہے جس میں قانونی تقاضوں، عدالتی فیصلوں اور انتظامی ضروریات کو ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔اجلاس میں پلاننگ کیڈر اور نان پلاننگ کیڈر کی واضح تخصیص پر تفصیلی غور کیا گیا اور اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ اس ضمن میں محکمہ اسٹیبلشمنٹ کے آپریشن اینڈ مینجمنٹ سیکشن کے تعاون سے ایک قابلِ عمل اور قانونی طور پر مضبوط فیزیبل راستہ اختیار کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی انتظامی یا قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔مزید برآں اجلاس میں یہ تجویز بھی زیرِ غور آئی کہ پراجیکٹس کے تحت ریگولرائز ہونے والے ملازمین کی باقاعدہ انکیڈرمنٹ کی جائے اور ریٹائرمنٹ کے بعد ان مخصوص آسامیوں کو ڈائنگ کیڈر قرار دیا جائے تاکہ صوبائی سروس اسٹرکچر پر غیر ضروری مالی اور انتظامی بوجھ نہ پڑے اور سسٹم کی پائیداری برقرار رہے۔وزیر قانون آفتاب عالم خان ایڈووکیٹ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ معاملہ کی حل کے لئیانصاف، شفافیت اور قانون کی مکمل پاسداری کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مروجہ قوانین کی روشنی میں ایک ایسا حل تلاش کرنے کے لیے پرعزم ہے جو نہ صرف ملازمین کے جائز حقوق کا تحفظ کرے بلکہ صوبائی انتظامی ڈھانچے کو بھی مستحکم بنائے۔ اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ تمام قانونی، مالی اور انتظامی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملے کو متعلقہ فورمز پر پیش کیا جائے گا تاکہ حتمی اور قابلِ عمل فیصلہ کیا جا سکے۔

حکومت عوامی خدمت اور ترقیاتی عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔سید فخرجہان

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان نے کہا ہے کہ بنیادی عوامی مسائل کا ازالہ کرنا اور عوام کو ہر طرح سے ریلیف و سہولت فراہم کرنا صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ بانی چیئرمین عمران خان کے ویژن کے تحت وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی سرپرستی میں عوامی خوشحالی کے لیے اقدامات اٹھانا اور عوامی بنیادی ضروریات اور مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہماری حکومت کا بنیادی محور و مقصد ہے۔وہ حلقہ نیابت پی کے 26 بونیر کے دورے کے دوران پبلک ڈے کے موقع پر اپنی رہائش گاہ پر عوامی وفود سے ملاقاتیں کر رہے تھے۔اس موقع پر پی کے 26 اور ضلع بونیر کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے مختلف وفود نے صوبائی وزیر سے ملاقاتیں کیں اور انہیں درپیش مسائل کے حوالے سے اپنے معروضات پیش کیئے۔صوبائی وزیر نے عوام کی باتیں نہایت توجہ سے سنیں اور متعدد مسائل کے فوری حل کے لیے متعلقہ محکموں اور افسران کو موقع پر ہی واضح احکامات جاری کیے۔ سید فخرجہان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت عوامی امنگوں کے مطابق صوبے کے عوام کی ترقی اور انھیں سہولیات بہم پہنچانے پر یقین رکھتی ہے اور اس سلسلے کسی بھی سرکاری ادارے کی جانب سے تاخیر یا غفلت نہیں ہونی چاہیے۔انھوں نے کہا کہ پبلک ڈے کا مقصدعوام کے پاس جاکرلوگوں کے مسائل بلاواسطہ سن کر انھیں ریلیف پہنچانا ہوتا ہے تاکہ اس سلسلے میں فوری اور مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔سید فخرجہان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت عوامی خدمت اور ترقیاتی عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اور اس سلسلے میں کسی بھی پہلو سے محکموں کی جانب سے تاخیر قبول نہیں۔انھوں نے کہا کہ صوبے اور بونیر کے عوام کی خدمت ان کی ذمہ داری ہے اور بطور عوامی نمائندہ وہ اپنے عوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔دریں اثناء صوبائی وزیر سے ماربل ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے ملاقات کی اور انھیں اپنے کاروبار اور صنعت کو درپیش بعض مسائل سے آگاہ کیا۔صوبائی وزیر نے وفد کے شرکاء کو اپنی طرف سے ممکنہ تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ حکومت صوبے میں صنعت کاری اور کاروبار کے فروغ پر یقین رکھتی ہے اور یہ حکومت کا عزم ہے کہ یہاں پر کاروباری اور صنعت کے طبقات کو آسانیاں اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔

ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری پاک چین دوستی

تحریر: ڈاکٹر انجینئر محمد اطہر سوری

وقت کے بے رحم سمندر میں جہاں مفادات کے جزیرے بنتے اور بگڑتے رہتے ہیں، وہاں پاک چین دوستی ایک ایسے روشن مینار کی مانند ہے جس کی لو کبھی مدہم نہیں ہوئی۔ یہ رشتہ محض دو ملکوں کے نقشوں کا ملاپ نہیں، بلکہ یہ دو عظیم تہذیبوں کے درمیان وفا کا وہ میثاق ہے جو ہمالیہ کی برف پوش چوٹیوں پر بڑے جلی حروف میں لکھا جا چکا ہے۔ اسے دنیا “ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری دوستی” کہتی ہے، مگر درحقیقت یہ وہ رشتہ ہے جو لفظوں کی قید سے آزاد اور ضرورتوں کے ترازو سے ماورا ہے۔

جب ہم شمال کی بلند و بالا چوٹیوں کی طرف دیکھتے ہیں، تو شاہراہِ ریشم کے سنگلاخ راستے ہمیں ایک انوکھی کہانی سناتے ہیں۔ یہ کہانی ان مزدوروں اور انجینئرز کے خون سے لکھی گئی ہے جنہوں نے دنیا کے دشوار گزار ترین پہاڑوں کو کاٹ کر شاہراہِ قراقرم بنائی۔ وہ پہاڑ جو بظاہر ناقابلِ تسخیر تھے، پاک چین دوستی کے عزم کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے۔ آج یہ راستہ صرف سڑک نہیں، بلکہ وفا کی ایک ایسی شہ رگ ہے جو بیجنگ کے دل کو اسلام آباد کی دھڑکنوں سے جوڑتی ہے۔

پاکستان اور چین کی یہ رفاقت محض سفارتی نہیں بلکہ بے حد “مہربان” اور ایثار سے بھرپور ہے۔ چین نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ہاتھ تھاما ہے، چاہے وہ ایٹمی پروگرام ہو، دفاعی خود انحصاری ہو یا معاشی بحران۔ دوسری طرف، پاکستان نے اس وقت چین کا ساتھ دیا جب دنیا اسے تنہا کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ پاکستان نے چین کے لیے عالمی دنیا کے دروازے کھولے اور ہر فورم پر چین کے موقف کی اپنی آواز سے بڑھ کر حمایت کی۔ یہ دو طرفہ مہربانی ہی ہے کہ آج دونوں ممالک ایک دوسرے کے “آہنی بھائی” کہلاتے ہیں۔

سیاسی اور معاشی میدان میں سی پیک (CPEC) محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ اس بھروسے کا نام ہے جہاں چین نے اپنے مستقبل کے خوابوں کو پاکستان کی مٹی میں بویا ہے۔ گوادر کی لہریں آج ایک نئی صبح کا پتہ دے رہی ہیں، جہاں مشرق اور مغرب کا ملاپ ہونے والا ہے۔ یہ شراکت داری ثابت کرتی ہے کہ جب دو قومیں ایک دوسرے پر کامل بھروسہ کرتی ہیں، تو ترقی کے بند دروازے خود بخود کھلنے لگتے ہیں۔ چینی قیادت کا پاکستان پر یہ خاص کرم ہے کہ وہ اپنی ٹیکنالوجی اور وسائل کو پاکستان کی معیشت کی بہتری کے لیے وقف کر رہے ہیں۔

دفاعی میدان میں جے ایف-17 تھنڈر کی گھونج ہو یا زلزلے اور سیلاب جیسی قدرتی آفات میں ایک دوسرے کی مدد، دونوں ممالک نے ثابت کیا ہے کہ سچی دوستی صرف لفظوں میں نہیں بلکہ عمل میں چھپی ہوتی ہے۔ یہ لافانی دوستی اب نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے۔ آج کا پاکستانی نوجوان چینی زبان سیکھ رہا ہے اور چینی ماہرین پاکستان کے صنعتی ڈھانچے کو جدید بنانے میں اپنا پسینہ بہا رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا سدا بہار درخت ہے جس کی جڑیں زمین کی گہرائیوں میں ہیں اور شاخیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔

آنے والا مورخ جب بھی ایثار اور ثابت قدمی کی تاریخ لکھے گا، وہ اس دوستی کا تذکرہ سنہرے حروف میں کرے گا۔ یہ دوستی اب ایک ایسی حقیقت بن چکی ہے جسے نہ کوئی سازش کمزور کر سکتی ہے اور نہ ہی وقت کی دھول دھندلا سکتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کے پاک چین دوستی کی یہ مشعل اب بجھنے والی نہیں، کیونکہ یہ ان جذبوں سے روشن ہے جو مٹی سے پیدا ہوتے ہیں اور تاریخ بن کر امر ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ سفر ہے جو کل بھی تابندہ تھا، آج بھی درخشندہ ہے اور آنے والے کل میں پوری دنیا کے لیے امن، ترقی اور بے مثال مہربانی کا استعارہ ثابت ہوگا۔

Khyber Pakhtunkhwa’s Public Day initiative is aimed at ensuring swift, transparent and sustainable resolution of citizens’ problems, Special Assistant to the Chief Minister on Information and Public Relations Shafiullah jan said on Sunday.

Speaking to the media during a Public Day at his office in Hangu Phatak, Kohat, Shafi Jan said the provincial government was committed to narrowing the gap between the administration and the public by taking governance directly to people’s doorsteps. He said the initiative was designed to speed up decision-making and deliver immediate relief to the citizens.
Large numbers of residents from Kohat and adjoining areas, including social activists and community elders, attended the session and raised concerns ranging from electricity, gas and water shortages to sanitation, dilapidated roads, drainage, healthcare and education facilities, as well as delays in government offices.
Shafi Jan heard the grievances patiently and issued on-the-spot telephonic and written directives to the concerned departments, instructing officials to resolve the issues on a priority basis. He warned that negligence or unnecessary delays in addressing public complaints would not be tolerated. He said the Khyber Pakhtunkhwa government, under the dynamic leadership of Chief Minister Sohail Afridi, was pursuing people-centric policies, adding that Public Day forums were a key part of that approach. He directed the officials to conduct field visits and assess problems firsthand rather than relying solely on paperwork.
All complaints received during the Public Day are being formally recorded and their progress will be monitored closely, he said, stressing that public trust was the government’s most valuable asset.
Public service is a sacred responsibility, Shafi Jan added, pledging that all available resources would be mobilized to ensure timely relief for the people.

Khyber Pakhtunkhwa Minister for Health, Mr. Khaliq Ur Rehman, attended a two-day conference organized by the Pakistan Medical Association (PMA) at Postgraduate Medical Institute (PGMI), Hayatabad, Peshawar

Khyber Pakhtunkhwa Minister for Health, Mr. Khaliq Ur Rehman, attended a two-day conference organized by the Pakistan Medical Association (PMA) at Postgraduate Medical Institute (PGMI), Hayatabad, Peshawar. Addressing the participants, the Minister appreciated the leadership and members of the Pakistan Medical Association and termed them a role model for their professional services and positive contributions to the healthcare sector.
The Minister stated that Khyber Pakhtunkhwa is a leading province in the provision of healthcare facilities and highlighted that the Sehat Card Plus facility is available to every CNIC holder of the province. He added that KP is not only providing free healthcare services to its own citizens but is also extending this facility to residents of Gilgit-Baltistan, while patients from Punjab are also benefiting from treatment at KP’s hospitals.
He further informed that since the formation of the PTI-led provincial government in 2015, the health index has improved by 49 percent, reflecting the commitment and seriousness of the Health Department and the provincial government. Currently, a total budget of Rs. 275 billion is being spent on healthcare, which continues to increase, placing a significant burden on the provincial exchequer.
The Minister shared that the Health Department is formulating a new Health Policy with a strong focus on primary healthcare and disease prevention. He emphasized that a large number of patients visit hospitals due to lack of awareness and unhealthy lifestyles, stressing the need to adopt balanced diets, hygienic food habits, and regular exercise to build a healthy society.
Highlighting ongoing reforms, the Minister said that the government’s main objective is to revamp primary healthcare facilities at the district level in order to reduce the patient load on big care hospitals. He urged doctors to ensure punctuality, work with honesty, and function as a team, clearly stating that there is zero tolerance for negligence in the line of duty.
He concluded by stating that a transparent and strict mechanism of checks and balances is in place, and a comprehensive monitoring policy is being introduced to strengthen the system. He expressed confidence that, God willing, the public will soon witness positive and visible improvements in the healthcare system across the province.