کمشنر رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن جج عاصم امام نے صوبے بھر سے منتخب نوجوانوں کے لیے ایک غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار گورننس اینڈ پبلک اکاونٹیبلٹی (سی جی پی اے) کے زیر اہتمام ”یوتھ لیڈرشپ پروگرام” میں رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کی نمائندگی کی۔ کمشنر آر ٹی ایس جج محمد عاصم امام نے نوٹیفائیڈ پبلک سروسز تک رسائی کو یقینی بنانے میں آر ٹی ایس ایکٹ اور کمیشن کے اہم کردار پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کس طرح سماجی بدامنی کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ صوبے میں ترقی کے لیے عوامی اداروں کا شفاف طریقے سے کام کرنا اور جوابدہ ہونا کتنا ضروری ہے۔ جب انصاف پسندی کو برقرار نہیں رکھا جاتا اور عوامی معاملات میں ناانصافی ہوتی ہے تو یہ تشدد اور انتہا پسندی کو جنم دیتا ہے۔ صوبے میں خوشحالی اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے خدمات کے حق کے قانون کی مضبوطی انتہائی ضروری ہے۔ رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کے پی کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے، انہوں نے سی جی پی اے سمیت شامل تمام افراد کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
دیر بالا کے سیاحتی مقامات پر فوڈ اتھارٹی کی کارروائی، ناقص صفائی اور زائدالمیعاد اشیاء برآمد، بھاری جرمانے عائد
وزیر خوراک خیبرپختونخوا ظاہرشاہ طورو کی خصوصی ہدایات پر خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے دیر بالا کے معروف سیاحتی مقامات تھل اور کمراٹ میں اشیائے خوردونوش کے کاروباروں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ترجمان فوڈ اتھارٹی کے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق تھل اور کمراٹ کے علاقے میں معائنے کے دوران متعدد ہوٹلز، ریسٹورنٹس اور جنرل اسٹورز میں صفائی کی ناقص صورتحال، زائدالمیعاد اشیاء کی موجودگی اور فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پائی گئی، جس پر موقع پر ہی بھاری جرمانے عائد کیے گئے۔ انسپیکشن کے دوران پچیس کلوگرام سے زائد مضر صحت، غیر معیاری اور ممنوعہ خوراک کی اشیاء کو تلف کر دیا گیا، جبکہ کاروباری مالکان کو اصلاح کے لیے سخت وارننگز اور نوٹسز جاری کیے گئے۔ترجمان نے کہا کہ کارروائی کے دوران کئی ہوٹلز اور دکانوں کے ایکسپائرڈ لائسنسز کی تجدید کی گئی، جبکہ کئی نئے لائسنس بھی موقع پر جاری کیے گئے تاکہ کاروبار فوڈ سیفٹی کے ضابطوں کے دائرے میں لائے جا سکیں۔سیاحوں نے فوڈ اتھارٹی کے اس بروقت اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف صحت عامہ کا تحفظ یقینی بنتا ہے بلکہ علاقے میں محفوظ سیاحت کے رجحان کو بھی فروغ ملتا ہے۔ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ سیاحتی مقامات پر خوراک سے وابستہ کاروباروں کی باقاعدہ نگرانی اور چیکنگ کا عمل مزید مؤثر بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی سیاحوں اور مقامی شہریوں کو محفوظ، معیاری اور حلال خوراک کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا میں عنقریب نئے پروگرام علم پیکٹ(ILMpact)کا اغاز کیا جائے گا۔ پروگرام سے صوبے کے 8 اضلاع کے 80 ہزار طلباء مستفید ہوں گے۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی
خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم میں عنقریب نئے پروگرام علم پیکٹ(ILMpact) کا آغاز کیا جائے گا جس کا افتتاح وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کریں گے۔ پروگرام سے صوبے کے 8 اضلاع کے 80 ہزار طلباء و طالبات مستفید ہوں گے۔ پروگرام سے آؤٹ آف سکول کو کنٹرول کرنے اور سکولوں میں موجود طلبہ کو کوالٹی ایجوکیشن کی فراہمی کے لیے اقدامات کئے جائیں گے۔ اساتذہ کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت فراہم کی جائے گی۔ ماسٹر ٹرینرز اور لیڈ ماسٹر ٹرینرز تیار کئے جائیں گے۔ اور تربیت کے پروگرام کو منتخب تمام سکولوں تک توسیع دی جائے گی۔ پیرنٹس ٹیچرز کونسلز اور سکول مینجمنٹ کمیٹیوں کو مزید فعال بنایا جائے گا اور ان کی استعداد کار کو مزید بڑھانے کے لئے اقدامات کیے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے علم پیکٹ پروگرام کی سٹیرنگ کمیٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری ایجوکیشن مسعود احمد، سپیشل سیکرٹری ایجوکیشن خواجہ فہیم سجاد، مینجنگ ڈائریکٹر مرجڈ ایریاز ایجوکیشن فاؤنڈیشن میاں عین اللہ، ایڈیشنل سیکرٹری ریفارمز فیض عالم، ڈائریکٹر ایجوکیشن ناہید انجم، ڈائریکٹر ڈی پی ڈی مطہر خان، پارٹنر آرگنائزیشنزاور محکمہ تعلیم کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت منتخب اضلاع بٹگرام، مانسہرہ، صوابی، بنیر شانگلہ، خیبر، مہمند اور ڈی آئی خان میں پارٹنر ارگنائزیشنز کے ساتھ کے جی، گریڈ ون، گریڈ ٹو اور پرائمری کے دیگر کلاسز کو ٹارگٹ کر کے 80 ہزار طلبہ کو تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس میں ان طلبہ کو ٹارگٹ کیا جائے گا جو یا تو سکول گئے ہی نہیں یا پھر ڈراپ آؤٹ ہو گئے ہیں ان پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور یہ پروگرام ان ہی کے لیئے ڈیزائن شدہ ہے اور منتخب اضلاع کے ہزاروں کی تعداد میں اساتذہ کو بھی تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس پروگرام کے لیے لیڈ پارٹنر برٹش کونسل ہوگا جبکہ اضلا کی سطح پر دیگر آرگنائزیشن منتخب کی جا چکی ہیں تربیت کے طریقہ کار اور تربیتی مواد کی تیاری پر کام شروع کیا جا چکا ہے۔ وزیر تعلیم نے ایجوکیشن حکام کو ہدایت کی کہ پارٹنر آرگنائزیشنز کو تمام اضلاع میں این او سی کے حصول میں معاونت فراہم کی جائے تاکہ پروگرام کا جلد از جلد باقاعدہ آغاز کیا جا سکے اور پروگرام کے ثمرات طلبہ تک منتقل ہو سکیں۔ پروگرام کیلئے سکولوں کے انتخاب کے لئے فوری اقدامات کیے جائیں اور فرسٹ شفٹ اور سیکنڈ شفٹ سکولوں کے انتخاب کو جلد از جلدحتمی شکل دی جائے انہوں نے لیڈ آرگنائزیشنز اور پارٹنرز کو ہدایت کی کہ ٹائم لائن کے مطابق پراگرس شروع کی جائے۔ اضلاع میں ٹیم کو محدود رکھیں اور غیر ضروری اخراجات پر بھی مکمل کنٹرول رکھا جائے۔ تمام تر توجہ طلبہ کو کوالٹی ایجوکیشن کی فراہمی، آؤٹ آف سکول کو کنٹرول کرنے اور ڈراپ آؤٹ بچوں کو سکولوں میں واپس لانے پر دی جائے اور کوشش کریں کہ مقامی رہنماؤں اور مقامی کمیونٹی کو بھی اپنے پروگرام میں شامل کریں۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی سے تمام پارٹنر آرگنائزیشن کے حکام نے بھی ملاقات کی اور اپنی آرگنائزیشنز کی طرف سے کئے گئے اقدامات اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی تفصیلی بریفنگ دی۔
توانائی کے جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل ترجیح،تاخیرناقابل برداشت ہے،معاون خصوصی وسیکرٹری توانائی کاخطاب
خیبرپختونخواحکومت اپنے وسائل سے توانائی کے جاری منصوبوں پرتیزی سے کام کررہی ہے جن میں متعددمنصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہوچکے ہیں جومستقبل میں صوبے کی معیشت کے استحکام اورصنعتی شعبے کی ترقی کے لئے معاون ثابت ہونگے۔رواں سال 53میگاواٹ کے 2پن بجلی منصوبے مکمل ہوجائیں گے جن سے پیداہونے والی بجلی سے صوبے کو سالانہ تقریباً 2.4 ارب روپے سے زائد کی آمدن متوقع ہے اسی طرح آئندہ سال ضلع سوات میں 84میگاواٹ گورکین مٹلتان پن بجلی منصوبہ بھی مکمل ہوکربجلی کی پیداوارشروع کردے گا۔پن بجلی منصوبوں کے ساتھ ساتھ عوام کو فوری ریلیف پہنچانے کے لئے لاکھوں غریب گھرانوں کو مفت سولرسسٹم کی فراہمی کے منصوبے پربھی جلدعملی کام کا آغازکیا جائے گا۔ پیڈو جیسے اہم ترین ادارے کو ٹیم ورک کے تحت ماہرین کی سپورٹ سے صوبے کا ترقیافتہ اورسب سے زیادہ سالانہ اربوں روپے آمدن دینے والاادارہ بنایا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار معاون خصوصی برائے توانائی انجینئرطارق سدوزئی اورسیکرٹری توانائی وبرقیات محمدزبیر خان نے پیڈوہاؤس میں توانائی کے جاری منصوبوں میں ہونے والی پیشرفت کے بارے میں منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔چیف ایگزیکٹو پیڈوعرفان اللہ خان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پیڈو کی نگرانی میں اس وقت ہائیڈرو،سولرپاورسمیت ٹرانسمیشن لائن کے متعدد توانائی منصوبوں پر کام جاری ہے۔پیڈونے پن بجلی کے8منصوبے کامیابی کے ساتھ مکمل کئے ہیں جن سے مجموعی طورپر172میگاواٹ بجلی پیداکی جارہی ہے جس سے صوبے کو سالانہ5ارب روپے سے زائد کی آمدن ہورہی ہے جبکہ12منصوبوں جن میں 300میگاواٹ بالاکوٹ مانسہرہ،157میگاواٹ مدین سوات،88میگاواٹ گبرال کالام،84میگاواٹ مٹلتان سوات،69میگاواٹ لاوی چترال،40.8میگاواٹ کوٹودیر،11.8میگاواٹ کروڑہ شانگلہ،10.5میگاواٹ چپری چارخیل کرم اور6.9میگاواٹ مجاہدین پاورپراجیکٹ تورغر منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے جن سے مجموعی طورپر 778میگاواٹ بجلی پیداکی جائے گی اور صوبے کو سالانہ 45ارب روپے سے زائد کی آمدن ہوگی۔ان منصوبوں میں سے بیشترمنصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔رواں سال ضلع دیر میں کوٹوپن بجلی پراجیکٹ40.8میگاواٹ اورشانگلہ میں کروڑہ پن بجلی پراجیکٹ مکمل ہوکربجلی کی پیداوارشروع کردینگے۔ اجلاس میں معاون خصوصی توانائی طارق سدوزئی اورسیکرٹری توانائی زبیر خان نے پیڈوپراجیکٹ ڈائریکٹرز اورحکام کو سختی سے ہدایات جاری کیں کہ وہ جاری منصوبوں کو مقررہ ٹائم لائنز میں ہی مکمل کریں اوراب مزید کسی بھی قسم کی تاخیر ناقابل برداشت ہے۔ اجلاس کے آخرمیں سیکرٹری توانائی زبیرخان نے پیڈوحکام کو سختی سے ہدایا ت جاری کیں کہ 1لاکھ 30ہزارگھرانوں کومفت سولرسسٹم فراہمی کے منصوبے پرجلدعملی کام کا آغازکیا جائے اورسوات کوریڈورپرٹرانسمیشن لائن کی تعمیر کے منصوبے پربھی کام مزید تیزکیا جائے تاکہ عوامی مفاد کے ترقیات منصوبوں سے عوام ثمرات سے جلدمستفید ہوسکیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز اور معاونِ خصوصی برائے فنی تعلیم طفیل انجم کی زیرِ صدارت سائنس و آئی ٹی اور فنی تعلیم کے محکموں کے درمیان ایک اہم بین الاداراتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں دونوں محکموں کے اعلیٰ حکام اور ماہرین نے شرکت کی۔اجلاس کا بنیادی موضوع خیبرپختونخوا میں فنی تعلیم (Technical Education) کے شعبے کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے سے متعلق تھا۔ اجلاس میں اس اہم مقصد کے حصول کے لیے متعدد ٹھوس اور قابلِ عمل تجاویز پیش کی گئیں، جن میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی تشکیل، آن لائن کورسز، ہنر سے متعلقہ جدید ٹولز، اور ادارہ جاتی اشتراک شامل تھے۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور کی معاشی اور صنعتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے فنی تعلیم کا نصاب، طریقہ تدریس اور تربیت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنیکل ایجوکیشن کا فروغ نوجوانوں کو مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹس کے لیے تیار کرے گا اور انہیں روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرے گا۔یہ اجلاس چیئرمین عمران خان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے وژن کے تحت مربوط اور مؤثر پالیسی سازی کی علامت ہے، جو خیبرپختونخوا کو ٹیکنالوجی، تعلیم اور ترقی کے میدان میں صفِ اول میں آ نے کے لیے پرعزم ہے۔
صوبائی بجٹ میں محکمہ لائیو سٹاک و فیشریز کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے 4078 ملین روپے مختص، بجٹ میں ضم اضلاع پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے
خیبر پختونخوا کے وزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا کہ لائیو سٹاک سیکٹر و مویشی پال زمیندار کی فلاح و بہتری صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ بانی و چیئرمین عمران خان کے وژن اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی قیادت میں لائیو سٹاک و فیشریز کے ضم و بندوبستی اضلاع میں منصوبے شروع کئے جارہے ہیں جس کا مقصد مویشی پال زمیندار و فارمر کو فائدہ پہنچانا اور گوشت و دودھ کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ لائیو سٹاک سیکٹر کو مضبوط بنانے کے لئے صوبائی بجٹ میں محکمہ لائیو سٹاک و فیشریز کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے 4078 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں اور بجٹ میں ضم اضلاع پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔مزید تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ پولٹری بریڈرز اور ہیچریوں کی ترقی کے سروے و اسسمنٹ سٹڈی کے منصوبے کے لئے 250 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں،ضم اضلاع میں ماہی پروری اور آبی حیات کی ترقی کے منصوبے کے لئے 300 ملین روپے، خیبرپختونخوا میں گھوڑوں کی افزائش کی سہولیات کے قیام کے منصوبے کے لیے 500 ملین روپے، ضم اضلاع میں دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ کے ذریعے غربت کے خاتمے کے منصوبے کے لئے 300 ملین روپے، صحت مند مال مویشیوں کی افزائش نسل اور گانٹھ والی جلد، پاؤں اور منہ کی بیماری کے لئے ویکسین کی خریداری کے لیے 630 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے محکمہ بہبود آبادی ملک لیاقت علی خان سے نیسپاک کے حکام نے منگل کے روز پشاور میں ملاقات کی۔ملاقات میں میدان ٹو براول ٹنل منصوبے پر تفصیلی بریفینک دی گئی
وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے محکمہ بہبود آبادی خیبرپختونخوا، ملک لیاقت علی خان نے نیسپاک حکام سے ایک اہم اور تفصیلی ملاقات کی، جس کا مقصد دیر لوئر کو دیر بالا سے جوڑنے والے میدان ٹو براول ٹنل کے منصوبے پر بریفنگ لینا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کرنا تھا۔اس موقع پر نیسپاک کی اعلیٰ سطحی انجینئرنگ ٹیم نے ملک لیاقت علی خان کو منصوبے کی تکنیکی رپورٹ، فزیبلٹی اسٹڈی، ابتدائی ڈیزائن اور مجوزہ لاگت پر باضابطہ بریفنگ دی۔ حکام نے بتایا کہ ٹنل کی تعمیر نہ صرف سفری وقت میں نمایاں کمی لائے گی بلکہ دونوں اضلاع کے درمیان معاشی، تجارتی اور سماجی روابط کو بھی فروغ دے گی۔وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے محکمہ بہبود آبادی ملک لیاقت علی خان نے نیسپاک ٹیم کو بتایا کہ میدان ٹو براول ٹنل کا منصوبہ عوام کی دہائیوں پر محیط خواہش ہے۔ یہ صرف ایک سڑک یا ٹنل نہیں بلکہ ایک نئے ترقیاتی دور کا آغاز ہوگا، جو اپر اور لوئر دیر کے درمیان فاصلے کو کم کرے گا اور لوگوں کی زندگیوں میں آسانی لائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ ان کی خصوصی توجہ اور نگرانی میں آگے بڑھایا جائے گا تاکہ کوئی رکاوٹ یا تاخیر نہ ہو۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ وہ تمام تخمینہ جاتی، ماحولیاتی، اور سوشل امپیکٹ رپورٹس کو بروقت مکمل کریں تاکہ منصوبے پر عملی کام جلد از جلد شروع کیا جا سکے۔نیسپاک حکام نے بھی یقین دہانی کرائی کہ منصوبے کو قومی اہمیت کے تحت فوری ترجیح دی جا رہی ہے، اور تمام ابتدائی مراحل جلد مکمل کر لیے جائیں گے۔ملک لیاقت خان نے کہا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف دیر لوئر و دیر بالا بلکہ پورے ملاکنڈ ڈویژن کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا
ڈسٹرکٹ اٹارنیز اور لاء آفیسرز ایسوسی ایشن کی نئی کابینہ کی حلف برداری، وزیر قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے حلف لیا
ڈسٹرکٹ اٹارنیز اور لاء آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کی نئی کابینہ کی حلف برداری کی ایک پروقار تقریب سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی وزیر قانون خیبر پختونخوا، آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے نومنتخب کابینہ کے عہدیداران سے حلف لیا۔تقریب میں سیکرٹری محکمہ قانون و انسانی حقوق، ڈائریکٹر جنرل لاء اینڈ ہیومن رائٹس، محکمہ قانون کے دیگر اعلیٰ حکام اور خیبر پختونخوا لاء آفیسرز ایسوسی ایشن کے عہدیداران، بشمول صدر طارق خان ترین اور سیکرٹری جنل کے پی لوا وقار اعوان، نے شرکت کی۔اس موقع پر وزیر قانون نے نئی کابینہ کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر دلی مبارکباد پیش کی اور ان کے کردار کو عدالتی نظام کی بہتری میں کلیدی حیثیت قرار دیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ اٹارنیز اور لاء آفیسرز عدالتی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا بنیادی فریضہ عوامی مقدمات کی پیروی، قانونی مشاورت کی فراہمی، اور ریاست کی مؤثر نمائندگی کو یقینی بنانا ہے۔وزیر قانون نے کہا کہ دیوانی مقدمات میں ریاست کی نمائندگی، کیسز کی تفتیش، ف عدالت میں مؤثر پیروی، اپیلوں کی نگرانی، اور پلی بارگین جیسے قانونی مراحل میں ڈسٹرکٹ اٹارنیز کا کردار نہایت اہم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری اداروں کو قانونی مشورے اور آراء کی فراہمی، قوانین اور ضوابط کی تیاری، اور پالیسی سازی میں اٹارنیز کی معاونت حکومتی فیصلوں کو آئینی اور قانونی تقاضوں سے ہم آہنگ بناتی ہے۔وزیر قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے امید ظاہر کی کہ نئی کابینہ ایسوسی ایشن اور اس کے اراکین کی فلاح و بہبود کے لیے فعال اور مؤثر کردار ادا کرے گی۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایسوسی ایشن کو بدعنوانی، ماحولیاتی خلاف ورزیوں اور صارفین کے حقوق کے تحفظ جیسے عوامی مفاد کے اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ ساتھ ہی، غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف مؤثر کارروائی، عوامی مفادات کا تحفظ اور قانونی اصلاحات میں تعاون کو ایسوسی ایشن کی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔آخر میں، صدر کے پی لوا کی طارق خان ترین کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات اور درپیش مسائل پر وزیر قانون نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کے آغاز سے قبل عوام پر پیٹرول بم گرا دیا ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کے آغاز سے قبل عوام پر پیٹرول بم گرا دیا ہے۔جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا،وفاقی بجٹ میں پیٹرولیم مصنوعات پر ڈھائی فیصد نیا ٹیکس عائد کیا گیا ہے،نئے مالی سال کے آغاز پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کریں گی۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے تمام اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ وفاقی بجٹ غریب دشمن اور امیر دوست بجٹ ہے،پنجاب حکومت کا بجٹ بھی غریب دشمن ہے۔ پنجاب کے بجٹ میں زرعی شعبے کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ پنجاب کے متاثرہ کسانوں کو بجٹ میں کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔جعلی وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث پنجاب کے کسانوں کو 2200 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا،پنجاب میں صرف کمیشن والے منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت اس بجٹ میں بھی خیبر پختونخوا کی طرح صحت کی مفت سہولیات فراہم کرنے کی ہمت نہ کر سکی۔پنجاب کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں دقت ہو تو خیبر پختونخوا مدد کے لئے تیار ہے، خیبر پختونخوا میں عمران خان کے وژن کے مطابق بجٹ میں فلاحی منصوبے شامل ہیں اور وزیراعلیٰ کی قیادت میں صوبے میں فلاحی کاموں کو ترجیح دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی بجٹ سے آئندہ مالی سال مہنگائی کا نیا طوفان ائیگا غریب مہنگائی کی چکی میں پسے گا جبکہ امیر طبقہ عیاشی کریگا۔ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ جعلی حکمرانوں کو عوام کی کوئی فکر نہیں ہے وفاقی حکومت نے بجٹ امیر طبقات کے مفاد کو مدنظر رکھ کر بنایا ہے اسلئے بجٹ میں غریب عوام کے لئے کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی بجٹ میں مختلف اشیاء پر ٹیکسز لگائے گئے ہیں پٹرولیم مصنوعات پر لیوی اور بجلی پر سرچارج لگائے گئے ہیں جس سے غریب طبقے پر مہنگائی بوجھ مزید بڑھے گا۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ وفاق کے برعکس خیبر پختونخوا حکومت نے ٹیکس فری بجٹ پیش کیا جو حقیقی معنوں میں عوام دوست اور غریب دوست بجٹ ہے۔
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ
پاکستان تحریک انصاف کے وہ مخلص اور وفادار کارکنان جو مشکل ترین حالات میں بھی قائد عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں وہ قوم کا فخر اور پارٹی کا سرمایہ ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر جیل سے رہائی پانے والے پی ٹی آئی کارکنان سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ملاقات کے دوران چیئرمین کالج کالونی سیدو شریف حبیب اللہ خان اور دیگر پی ٹی آئی رہنما بھی موجود تھے۔ فضل حکیم خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ان کارکنان نے ظلم، جبر اور سیاسی انتقام کا سامنا کیا، مگر اپنے نظریے سے پیچھے نہیں ہٹے ہم اُن کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ آپ لوگ ہمارے سر کا تاج ہیں۔ صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ایک نظریہ ہے اور عمران خان کی قیادت میں یہ جدوجہد پاکستان میں حقیقی آزادی، شفافیت، انصاف اور عوامی حکمرانی کے لیے ہے ہم سب عمران خان کے سپاہی ہیں اور حقیقی آزادی کے حصول تک چٹان کی طرح ڈٹے رہیں گے فضل حکیم خان نے جیل سے رہائی پانے والے کارکنان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی ان کے حوصلے، استقامت اور قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ جدوجہد صرف ایک سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ ملک کے ہر باشعور شہری کی ہے جو اپنے بچوں کا بہتر مستقبل چاہتا ہے۔
