Home Blog Page 88

خیبرپختونخوا میں فنانشل انٹیگریٹڈ مینجمنٹ سسٹم کے نفاذ کی تیاری، ارشد ایوب کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے بلدیات و دیہی ترقی ارشد ایوب نے بدھ کے روز پشاور میں فنا نشل اینٹی گریٹڈ مینجمنٹ سسٹم سے متعلق ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری لوکل گورٹمنٹ اور متعلقہ افسران سمیت ورلڈ بینک کے نمائندے بھی موجود تھے۔ اس موقع پر سیکرٹری لوکل گوٹمنٹ نے گزشتہ اجلاس میں ہونے والے فیصلوں پر اب تک کی پیش رفت کی جائزہ رپورٹ پیش کی۔ یہ سسٹم پنجاب میں کامیابی کے بعد اب خیبر پختو نخوا میں بھی متعارف کیا جا رہا ہے۔ جو کہ ابتدائی طور پر پائلٹ کے طور پر کام کرے گا۔ اس موقع پر وزیر بلدیات نے حکام کو ہدایات کی کہ ایک ایسی ٹیم تشکیل دی جائے جو صوبہ پنجاب کا دورہ کرے اور اس سسٹم کے حوالے سے تمام ضروری امور طے کرے تاکہ جلد از جلد اس سسٹم کو فنانس ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں نافذ کیا جا سکے۔انھوں نے مزید ہدایت کی کہ یہ سسٹم جون 2026 تک مکمل ہونا چاہیے۔ تا کہ اس کی بدولت ایک طرف افرادی قوت میں بچت ہو اور دوسری طرف شفافیت لانے کے ساتھ وقت کا ضیاع بھی کم ہو۔ اس موقع پر سیکرٹری لوکل گورٹمنٹ نے پر بریفنگ میں مزید بتایا کہ یہ سسٹم ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے اور اس کے فیزون پر کام تیزی سے جاری ہے، جس سے محکمہ لوکل گورٹمنٹ کا تمام ڈیٹا محفوظ ہونے کے ساتھ ساتھ نظام ڈیجیٹلائز ہو جائے گا جو صوبے کی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوگا۔اجلاس میں صوبائی وزیر بلدیات نے سسٹم کے نفاذ کے حوالے سے ابتک ہونے والی پیش رفت پر اطمیان کا اظہار کیا اور اس حوالے سے ولڈ بنک کے نمائندوں کے تعاون کا شکریہ بھی ادا کیا۔

یونیورسٹیوں کے بجٹ اور اصلاحات، وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اہم اجلاس

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، آرکائیوز و لائبریریز مینا خان آفریدی کی زیر صدارت یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پشاور کا سینیٹ اجلاس ہائیر ایجوکیشن سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وائس چانسلرانجینئرنگ یونیورسٹی ڈاکٹر محمد صادق خٹک، محکمہ اعلی تعلیم خیبرپختونخوا، ہائیر ایجوکیشن کمیشن، محکمہ خزانہ اور محکمہ اسٹبلشمنٹ خیبرپختونخوا سمیت جامعہ کے دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ جامعہ حکام نے بجٹ اخراجات برائے مالی سال 2025-26 پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں بجٹ اخراجات کا پیرا وائز جائزہ بھی لیا گیا جہاں 945.6 ملین روپے سالانہ اخراجات کی منظوری دے دی گئی۔ بعد ازاں، خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلی تعلیم مینا خان آفریدی کی زیر صدارت یونیورسٹی آف ہری پور کا سینیٹ اجلاس بھی ہائیر ایجوکیشن سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمان، محکمہ اعلی تعلیم خیبرپختونخوا، ہائیر ایجوکیشن کمیشن، محکمہ خزانہ اور محکمہ اسٹبلشمنٹ خیبرپختونخوا سمیت جامعہ کے دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں جامعہ ہری پور کی تمام ضروری امور کے حوالے سے جامعہ حکام نے بریفنگ دی۔ سال 2025-26 کے لیے بجٹ اخراجات پر تفصیلی بحث ہوئی۔ جس میں سالانہ اخراجات کی منظوری دی گئی۔ وزیر برائے اعلی تعلیم مینا خان آفریدی نے جامعہ حکام کو ہدایت کی کہ جون 2026 تک جامعہ کی مکمل سولرائزیشن کی جائے۔ انہوں نے جامعہ ہری پور کی مجموعی کارکردگی کو بھی سراہا۔

معذور بچوں کو باوقار زندگی دینا سب کی ذمہ داری ہے، گورنر خیبرپختونخوا

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ معذور بچوں کو باعزت زندگی فراہم کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے،خصوصی افراد کے لیے مساوی مواقع فراہم کیے بغیر ایک فلاحی معاشرہ تشکیل نہیں دیا جا سکتا۔ یہ بچے صرف اپنے والدین کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کی مشترکہ امانت ہیں اور انہیں باوقار شہری بنانا ہم سب کا فرض ہے۔
ان خیالات کا اظہارانہوں نے پیرکے روزگورنر ہاؤس پشاور میں اصغر مہمند فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام معذور بچوں میں ویل چیئرز کی تقسیم کی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کر تے ہوئے کیا۔تقریب میں فاؤنڈیشن کے چیئرمین اصغر خان مہمند، فلاحی کارکنان، والدین، معذور بچے اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے۔ گورنر نے اپنے خطاب میں معذور بچوں اور ان کے اہل خانہ کو خوش آمدید کہا اور8 معذور بچوں میں ویل چیئرزتقسیم کیے۔فاؤنڈیشن کے چیئرمین اصغر خان مہمندنے اس موقع پر گورنرکوتنظیم کے اغراض ومقاصد سے آگاہ کیااورکہاکہ تنظیم کے رضا کار نوجوان خدمت خلق کے جذبہ کے تحت خدمات انجام دے رہے ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے اصغر مہمند فاؤنڈیشن کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ معذور افراد کی بحالی، تعلیم و صحت کے شعور کو اجاگر کرنے اور روزگار کی فراہمی کے لیے ان کی کوششیں لائق تحسین ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ پسے ہوئے طبقات کے حقوق کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں، جن میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، لیڈی ہیلتھ ورکرز، خواتین کے لیے مخصوص نشستیں اور ویمن بینک جیسے اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک کروڑ کے قریب خواتین بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفیدہورہی ہے۔گورنرنے کہاکہ گورنرہاؤس کے دروازے تمام طبقہ فکرکے لوگوں کیلئے کھلے ہیں اور بہت جلد صوبہ کے ہونہار کھلاڑیوں کیلئے اسپورٹس ایوارڈ کی تقریب منعقد کی جائیگی۔ تقریب کے اختتام پر گورنر نے تنظیم کے کارکنوں میں گورنر ہاؤس کیجانب سے تعارفی سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کیں-

وصوبائی سکواش ایسوسی ایشن کے چیئر مین اور ڈی جی سپورٹس نے باضابطہ افتتاح کر لیا۔

خیبرپختونخوا جونیئر سکواش چیمپئن شپ قمر زمان سکواش کورٹ پشاور سپورٹس کمپلیکس میں شروع ہوگئی۔افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی خیبرپختونخوا کے سیکریٹری محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ وصوبائی سکواش ایسوسی ایشن کے چیئرمین داؤدخان تھے۔ ان کے ہمراہ ڈائریکٹر جنرل سپورٹس تاشفین حیدر،سکواش لیجنڈ جان شیر خان، قمر زمان، چیف آرگنائر و کوچ منور زمان،جنرل سیکرٹری ایسوسی ایشن منصور زمان،چیف کوچ شفقت اور ایڈمنسٹریٹر پشاور سپورٹس کمپلیکس سمیت دیگر اہم شخصیات موجود تھیں، خیبر پختونخوا جونیئر چیمپئن شپ میں صوبہ بھر سے سو سے زائد کھلاڑی انڈر 9, 11اور انڈر 13 کیٹگری میں شرکت کررہے ہیں۔مقابلوں کی افتتاحی تقریب کے موقع پر کھلاڑیوں میں صوبائی سکواش ایسوسی ایشن کی جانب سے کٹس بھی تقسیم کی گئیں۔ان مقابلوں میں انڈر9 سے انڈر13 تک کے بوائز کھلاڑیوں کے درمیان میچ ہوں گے۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی سیکریٹری محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ داود خان نے کہا کہ نچلی سطح پر ٹیلنٹ کو تلاش کرنے کی ضروری ہے کیونکہ اس عمر میں اگر بچوں کی کھیل پر توجہ دی جائے تو مستقبل میں ہم مزید لیجنڈز بھی پیدا کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی ایسوسی ایشن تمام کیٹگریز میں اور خصوصی طور پر انڈر 13 سے کم بچوں کے لئے تسلسل کیساتھ ایونٹس کا انعقاد کر رہی ہے جو قابل تعریف ہے۔ڈائریکٹر جنرل سپورٹس تاشفین حیدر نے کہا کہ کھیلوں کے فروغ و ترقی کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ اس موقع پر سکواش لیجنڈ جان شیر خان نے صوبائی ایسوسی یشن کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسطرح کے ایونٹس سے ہی کھلاڑی آگے جاتے ہیں اور ان کے کھیل میں مزید نکھار پیدا ہوتا ہے۔

صوبائی محکموں میں سالانہ امر بالمعروف آگاہی پلان پر عملدرآمد اور پیشرفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس

صوبائی محکموں میں سالانہ ”امر بالمعروف” آگاہی پلان پر عملدرآمد اور پیشرفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اینٹی کرپشن مصدق عباسی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ بہبود آبادی، لیبر، زکوٰۃ و عشر اور بین الصوبائی رابطہ کے نمائندگان کے ساتھ ساتھ صوبائی انسپکشن ٹیم کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ شرکاء نے اپنے اپنے محکموں میں امر بالمعروف پلان کے نفاذ کی موجودہ کارکردگی، سٹیئرنگ کمیٹیوں کی تشکیل اور تفویض کردہ ٹاسکس کی تکمیل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ پیش کیں۔ مشیر اینٹی کرپشن مصدق عباسی نے شرکاء کو ہدایت کی کہ ہر محکمہ اپنے افعال اور خدمات سے عوام کو آگاہ کرنے کے لیے موثر آگاہی پلان تیار کرے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ سالانہ آگاہی امر بالمعروف پلان کی سٹیئرنگ کمیٹیوں کے سربراہ کم از کم گریڈ 19 کا آفسر ہونا چاہیے۔ نیز تمام محکموں کو کرپشن کی روک تھام کے لیے جامع اقدامات پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنانا چاہئے۔

خیبرپختونخوا میں سماجی بہبود کی سرگرمیوں کو تیز کرنے کا عزم، قاسم علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس

خیبر پختونخوا کے وزیر سماجی بہبود سید قاسم علی شاہ کی زیر صدارت ڈائریکٹو ریٹ آف سوشل ویلفئر پشاورمیں گرو اپ بلڈ کانفیڈنس آرکنائزیشن خیبر پختونخواGrow up build confidence organization) (کاایک اجلاس منعقد ہوا۔جس میں ڈائریکٹر سوشل ویلفئر اور دیگر افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر گرو اپ آرگنائزیشن کے عہدیداران نے خیبر پختونخوا میں کئے جانے ولے سماجی کاموں اور عوام کے لئے بہترین سہولیا ت کی فراہمی کے حوالے سے صوبائی وزیر کو تفصیل سے بریفنگ دیتے ہوئے صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لئے کئے جانے والے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں حکمت عملی سے آگاہ کیا۔صوبائی وزیر نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران کی سیاسی بصیرت اور سوچ کے مطابق خیبر پختونخوا کی حکومت کی تمام تر توجہ عام آدمی کی فلاح اور ترقی پر مرکوز ہے جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپورکی بھی خصوصی ہدایات ہیں کہ صوبے میں سماجی بہبود کے کاموں کو بہترانداز میں پایا تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ یہ صوبہ دوسرے صوبوں کے لئے ایک مثال ثابت ہو۔انہوں نے کہا کہ محکمہ سوشل ویلفئر نے صوبے میں جاری سماجی کاموں کو عوامی توقعات کے مطابق شفاف انداز میں مکمل کرنے کے لئے اپنی حکمت عملی وضع کی ہے۔ صوبائی وزیر نے اس موقع پر آرگنائزیشن کے جاری اور نئے منصوبوں کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہتے اپنے محکمہ کی جانب سے بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

عمران خان کے وژن کے مطابق عوامی خدمت کی عملی مثال،ڈاکٹر شفقت ایاز کافری میڈیکل کیمپ میں مریضوں کا معائنہ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز نے پشاور کے علاقے ناصر باغ روڈ پر واقع السیّد میڈیکل سینٹر میں ایک روزہ فری میڈیکل (نیوٹریشن) کیمپ کا انعقاد کیا، جہاں مریضوں کا مفت معائنہ اور طبی رہنمائی فراہم کی گئی۔پروفیشنل ڈاکٹر ہونے کے ناطے عوامی خدمت کو اپنا مشن سمجھتے ہوئے کیمپ میں ڈاکٹر شفقت ایاز نے تمام مریضوں کا ذاتی طور پرمعائنہ کیا۔ان کا کہنا تھاکہ یہ فری کیمپ کوئی سیاسی دکھاوا نہیں بلکہ عمران خان کے وژن کے مطابق عملی خدمت کی ایک کاوش ہے۔ ہم عوام کو باوقار سہولیات ان کی دہلیز پر پہنچانا چاہتے ہیں۔معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکی قیادت میں موجودہ حکومت صحت، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے میدان میں حقیقی تبدیلی لا رہی ہے، اور اسی مقصد کے تحت صوبے کے مختلف علاقوں میں فری میڈیکل کیمپس کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔کیمپ میں مریضوں کی ایک بڑی تعداد کو مفت طبی مشورے اور نیوٹریشن گائیڈنس فراہم کی گئی۔ کیمپ کا ماحول خدمت، اخلاص اور اعتماد کا عملی مظہر تھا۔اختتام پر ڈاکٹر شفقت ایاز نے تمام طبی ٹیم، رضاکاروں اور منتظمین کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے وژن کے مطابق عوامی خدمت کو یقینی بنائیں گے۔

خیبرپختونخوا میں امن و امان، صحافیوں کے تحفظ اور سیاحت کے فروغ کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت صوبے میں امن و امان کے قیام، قبائلی اضلاع میں شدت پسندی کی روک تھام، صحافیوں کے تحفظ، سانحہ سوات کے متاثرین کی بحالی اور سیاحتی مقامات پر مؤثر اقدامات کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پختونخوا ریڈیو ایف ایم 98 سوات کے پروگرام ” حال احوال” میں میزبان فضل خالق خان کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کیا۔مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ حالیہ مہینوں میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ضرور رہی ہے، لیکن حکومت نے پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کی استعداد بڑھانے کے لیے بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ شدت پسندی کی نئی لہر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں انٹیلیجنس شیئرنگ بہتر بنائی جا رہی ہے اور مقامی عمائدین کو اعتماد میں لے کر پائیدار امن کی کوششیں جاری ہیں۔ جدید اسلحہ، گاڑیاں، اور تربیت کے لیے وفاقی سطح پر بھی رابطے کیے جا رہے ہیں۔سانحہ دریائے سوات سے متعلق سوال پر انہوں نے تسلیم کیا کہ ابتدائی سطح پر مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی کارکردگی تسلی بخش نہیں رہی۔ حکومت نے واقعے کی انکوائری رپورٹ حاصل کر لی ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد فراہم کی گئی ہے، جبکہ ہوٹل مالکان اور غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بھی کارروائی جاری ہے۔سیاحتی مقامات پر حفاظتی اقدامات کے ضمن میں بیرسٹر سیف نے کہا کہ حکومت سیاحتی گائیڈ لائنز کو قانونی شکل دینے پر غور کر رہی ہے، تاکہ مقامی انتظامیہ، ہوٹل مالکان اور سیاحوں کے درمیان ایک مربوط نظام قائم کیا جا سکے۔ ریسکیو 1122 کی صلاحیت بڑھانے کے لیے نئے آلات، موبائل ایپ اور تربیتی ورکشاپس متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ صحافیوں کے تحفظ سے متعلق سوالات پر مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے انشورنس اسکیم، فلاحی فنڈ اور تربیتی پروگرام شروع کر چکی ہے۔ سوات، وزیرستان اور دیگر حساس علاقوں میں رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو حفاظتی تربیت اور دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔پروگرام کے آخر میں بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا کہ سوات میں امن و امان کی صورتحال مثالی ہے لیکن اس امن کو قائم رکھنے کیلئے اداروں کے ساتھ معاشرے کے ہر فرد کو بھی کرداراداکرناہوگا۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف کا پشاور فلائنگ کلب کا دورہ

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ، بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے پشاور کے تاریخی فلائنگ کلب کا دورہ کیا، جہاں انہیں ادارے کی عملی صلاحیتوں، تربیتی ڈھانچے، اور پاکستان میں سول ایوی ایشن اور پائلٹ ٹریننگ کے فروغ میں اس کے طویل کردار پر بریفنگ دی گئی۔دورے کے دوران بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا استقبال فلائنگ کلب کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کیپٹن (ر) سہراب خان، سینئر انسٹرکٹرز اور انتظامی افسران نے کیا۔ انہوں نے تربیتی طیاروں کے بیڑے کا معائنہ کیا، جن میں سسنا 150، سسنا 172، اور پائپر ایزٹیک شامل ہیں، اور ساتھ ہی ساتھ فلائٹ سمیولیٹر لیب، مینٹیننس ہینگر اور تعلیمی بلاک کا بھی دورہ کیا۔اس موقع پر بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے فلائنگ کلب کی خدمات کو سراہتے ہوئے اسے“قومی اثاثہ اور ایک تاریخی اہمیت کا حامل ادارہ”قرار دیا اور کہا کہ خیبرپختونخوا میں سول ایوی ایشن کی تربیت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ نوجوانوں کو با اختیار بنایا جائے، ہنر مند افرادی قوت تیار ہو، اور پسماندہ علاقوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔“پشاور کا فلائنگ کلب صرف ہماری تاریخ نہیں بلکہ ہماری اسٹریٹجک ترجیحات کا حصہ ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو ہوا بازی اور ایئرکرافٹ انجینئرنگ جیسے جدید پیشوں سے جوڑنے کی فوری ضرورت ہے”، بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا۔انہوں نے حکومت کی جانب سے ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کرائی، جس میں تربیتی نصاب کی اپ گریڈیشن، گراؤنڈڈ طیاروں کی بحالی، اور پی ایف سی ایل سے تربیت یافتہ پائلٹس اور انسٹرکٹرز کے لائسنس کی ملکی و بین الاقوامی سطح پر منظوری کے لیے پالیسی اقدامات شامل ہیں۔چیف ایگزیکٹو کیپٹن (ر) سہراب خان نے مشیر اطلاعات کو فلائنگ کلب کی نئی قیادت کے تحت بحالی کی کوششوں سے آگاہ کیا، جن میں فلائٹ انسٹرکٹر ٹریننگ اسکول کی بحالی اور بیچ کرافٹ کنگ ایئر 200 طیارے کو اعلیٰ تربیت اور چارٹر مشن کے لیے فعال کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے فلائنگ کلب کے پائلٹس سے بھی ملاقات کی اور ادارے کے ساٹھ ہزار سے زائد محفوظ پرواز گھنٹوں اور نو سو سے زائد لائسنس یافتہ پائلٹس کی تربیت جیسے نمایاں کارناموں کو سراہا۔دورے کے اختتام پر بیرسٹر ڈاکٹر سیف کو ادارے کی جانب سے یادگاری شیلڈ پیش کی گئی، جبکہ خیبرپختونخوا حکومت اور سول ایوی ایشن کے اداروں کے درمیان مستقبل میں قریبی تعاون کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔

وزیر خوراک کی زیر صدارت مردان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا اجلاس،مردان میں شہری ترقی کے مجوزہ منصوبے زیر غور

خیبرپختونخوا کے وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو کی زیر صدارت مردان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا، جس میں مردان سٹی اور شیخ ملتون ٹاؤن کے لیے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں مختلف تفریحی، کمرشل اور کھیلوں کی سہولیات سمیت شہری بنیادی ڈھانچے کی بہتری سے متعلق منصوبے زیرِ غور لائے گئے۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر مردان، پراجیکٹ ڈائریکٹر مردان ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر صوبائی وزیر کو جاری اور مجوزہ ترقیاتی اسکیموں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے شہریوں کو معیاری سہولیات کی فراہمی کو حکومت کی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ مردان شہر کو ایک جدید اور ماڈل سٹی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مجوزہ منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے تمام ضروری تقاضے جلد از جلد مکمل کیے جائیں تاکہ عوام ان منصوبوں کے ثمرات سے جلد مستفید ہو سکیں۔