Home Blog Page 88

سالڈ ویسٹ کو ری سائیکل کرکے نہ صرف ماحولیاتی بہتری بلکہ آمدن بھی حاصل کی جا سکتی ہے، شفیع جان

محکمہ بلدیات و دیہی ترقی خیبر پختونخوا کی جانب سے یونیسف کے تعاون سے کوہاٹ اور ہری پور میں انٹیگریٹڈ ریسورس اینڈ ریکوری سینٹرز کے پائیدار آپریشنز کے پائلٹ منصوبے کے آغاز کے حوالے سے ایک تقریب کا انعقاد پشاور میں کیا گیا جس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان، محکمہ بلدیات کے افسران، یونیسف کے نمائندگان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی شفیع جان نے کہا کہ دنیا تیزی سے جدید سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سسٹمز کی جانب بڑھ رہی ہے، چین 2030 تک یومیہ 480 ملین ٹن سالڈ ویسٹ کو ری سائیکل کرکے دوبارہ استعمال میں لانے کا ہدف رکھتا ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کچرے کو مؤثر منصوبہ بندی کے تحت ایک قیمتی ریسورس میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی سالڈ ویسٹ کو ری سائیکل کرکے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ اس سے خاطر خواہ معاشی فوائد بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں،شفیع جان نے کہا کہ پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ یہ رہا ہے کہ منصوبے تو شروع کر دیے جاتے ہیں مگر انہیں برقرار نہیں رکھا جاتا جس کے باعث مطلوبہ اہداف حاصل نہیں ہو پاتے، گورننس کے حوالے سے پالیسی میں تسلسل تمام حکومتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے جس پر سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے،انہوں نے منصوبے کے لیے یونیسف کے تعاون کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا واحد صوبہ ہے جو وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں نئے آئیڈیاز کو عملی جامہ پہنانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے، جبکہ جدید تقاضوں کے مطابق کام کرکے صوبے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ معاون خصوصی نے اس بات پر زور دیا کہ منصوبوں میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونی چاہیے، کام کا تسلسل برقرار رکھا جائے اور عوام پر بوجھ کم رکھنے کے لیے سروس چارجز کم سے کم رکھے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبے کی گورننس مزید بہتر ہو رہی ہے، جبکہ صوبائی حکومت نے کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنا رکھی ہے،شفیع جان نے مزید کہا کہ آئندہ ماہ صوبائی حکومت کے 100 دن مکمل ہو رہے ہیں اور ان دنوں کی کارکردگی عوام کے سامنے رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی گورننس میں محکمہ بلدیات کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے اور جدید تکنیکس کو بروئے کار لا کر آمدن کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں،انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا کی معیشت کی بہتری میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ نے اہم کردار ادا کیا ہے، پانی سمیت سالڈ ویسٹ کو ری سائیکل کرکے دوبارہ استعمال میں لا کر نہ صرف ماحولیاتی بہتری بلکہ آمدن بھی حاصل کی جا سکتی ہے، معاون خصوصی شفیع جان نے امید ظاہر کی کہ کوہاٹ اور ہری پور میں شروع کیا گیا یہ پائلٹ منصوبہ کامیاب ہوگا اور جدید تکنیکس کے ذریعے صوبے اور ملک کو دیرپا فائدہ پہنچائے گا۔

خیبر پختونخوا میں ریلوے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں تحقیق، تربیت و جدت کے لئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

خیبر پختونخوا میں ریلوے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں تحقیق، تربیت و جدت کے لئے محکمہ ٹرانسپورٹ خیبرپختونخوا اور پاک آسٹریا فاخشولے انسٹی ٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی ہری پور کے حکام کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے ہیں۔یہ ایم او یو پاک آسٹریا انسٹی ٹیوٹ کے سینٹر آف ایکسی لینس اِن ٹرانسپورٹیشن / ریلوے انجینئرنگ کے ساتھ منگل کے روز چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی موجودگی میں طے پایا۔ایم او یو کے تحت دونوں ادارے انسانی وسائل کی تربیت، تحقیقی سرگرمیوں، مہارتوں کے فروغ اور شہری آمدورفت و ریلوے کے شعبے میں تکنیکی معاونت کے لیے مل کر کام کریں گے۔ اس شراکت داری کے ذریعے محکمہ ٹرانسپورٹ کے افسران ریلوے سسٹمز انجینئرنگ اور ٹرانسپورٹیشن سسٹمز انجینئرنگ میں خصوصی ایم ایس پروگرامز کے علاوہ قلیل مدتی پیشہ ورانہ اور آئی ٹی تربیتی کورسز بھی کر سکیں گے۔معاہدے میں مشترکہ تحقیقی منصوبے، پالیسی معاونت، ٹرانسپورٹ سے متعلق مسائل پر مطالعاتی و عملی مشقیں، اور مختلف ٹرانسپورٹ منصوبوں کے لیے مشاورتی خدمات بھی شامل ہیں، جن میں صوبے میں مضافاتی اور مسافر ریل منصوبوں کی ابتدائی فزیبلٹی اسٹڈیز شامل ہوں گی۔پانچ سالہ مدت کے لیے طے پانے والا یہ ایم او یو صوبائی حکومت کے جدید، پائیدار اور تحقیق پر مبنی ٹرانسپورٹ نظام کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، جس کے ذریعے تعلیمی مہارت سے استفادہ کرتے ہوئے پالیسی سازی اور بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی کو مضبوط بنایا جائے گا۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کی پشاور پریس کلب آمد/نو منتخب کابینہ کو مبارکباد/ میڈیا سے گفتگو

معاون خصوصی شفیع جان کی پشاور پریس کلب کی نو منتخب کابینہ کو مبارکباد

نو منتخب کابینہ کا جمہوری عمل کے ذریعے انتخاب جمہوریت کی بہترین مثال ہے، شفیع جان

صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے، صوبے کے صحافیوں نے مشکل حالات میں ذمہ دارانہ کردار ادا کیا، شفیع جان

صوبائی حکومت صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات کر رہی ہے، شفیع جان

معاون خصوصی کا شہید صحافیوں کو خراج عقیدت، عنقریب صحافیوں کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان ہوگا، شفیع جان

صوبائی حکومت کے صحافی دوست اقدامات قابل تحسین ہیں، صدر پشاور پریس کلب ایم ریاض

امید ہے صوبائی حکومت صحافیوں کے لیے اقدامات کا تسلسل برقرار رکھے گی،ایم ریاض

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا دورہ پنجاب انتہائی کامیاب رہا،دورے کا مقصد اسٹریٹ موومنٹ کا آغاز تھا، شفیع جان

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اسٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں سندھ اور بلوچستان کا بھی دورہ کریں گے، شفیع جان

اسٹریٹ موومنٹ کے بعد سیاسی تحریک کی کال دی جائے گی، شفیع جان

پنجاب دورے کے دوران لاہور میں کرفیو، اندھیرے اور مکمل بندش کا سماں تھا، شفیع جان

چکری سے لے کر لبرٹی اور فوڈ اسٹریٹ تک راستے بند کیے گئے تھے، شفیع جان

عظمیٰ بخاری ایک سیاسی خانہ بدوش ہیں،کبھی پیپلز پارٹی اور کبھی ن لیگ میں رہیں، شفیع جان

عظمیٰ بخاری کے شوہر فارم 47 کے ذریعے پنجاب اسمبلی کے رکن بنے، شفیع جان

عظمی بخاری کی ہدایت پر اراکین سے بدتمیزی اور نام نہاد صحافیوں کو اسمبلی پہنچایا گیا، شفیع جان

عظمیٰ بخاری کو ن لیگ نے پی ٹی آئی پر الزامات کے لیے بھرتی کیا ہے، شفیع جان

صوبائی حکومت قیام امن کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، شفیع جان

وزیراعلیٰ نے پولیس اور سی ٹی ڈی کے لیے 31 ارب روپے کے پیکج کی منظوری دی، شفیع جان

پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے، شفیع جان

وفاق صوبے کے بقایا جات ادا نہیں کر رہا، صوبے کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے، شفیع جان

حکومت کے بیرونی سرمایہ کاری دعوے صرف دعوے ہی رہ گئے پچھلے 5 ماہ میں پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری صرف 313 ملین ڈالر رہی۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے 2025 کے احتتام پر بیرونی سرمایہ کاری سے متعلق اہم بیان بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے 5 ماہ میں پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری صرف 313 ملین ڈالر رہی۔ حکومت کے بیرونی سرمایہ کاری دعوے صرف دعوے ہی رہ گئے اور پی ایم ایل این کا دعویٰ کہ نواز شریف کے سعودی اور امارات سے تعلقات ہیں تو نواز شریف کے تعلقات کہاں گئے اور بیرونی سرمایہ کاری کہاں گئی۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گزشتہ روز ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کیا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ سربراہ مملکت کے زیادہ بیرونی دورے کا ریکارڈ شہباز شریف کے نام جاتا ہے شہباز شریف نے پچھلے دو سالوں میں تقریباً 40 بیرونی دورے کر چکے ہیں اور 2022 سے تقریباً 60 بیرونی دورے کر چکے ہیں ویسے زیادہ بیرونی دورے کی وجہ سے شہباز شریف کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں ہونا چاہیے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ شہباز شریف اگر ہر دورے میں 10 ملین ڈالر لاتے تو 600 ملین ڈالر بنتے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت اور ذرداری صاحب کہہ رہے ہیں کہ انڈیا کو چنے چبوائے گے تب چنے چبوا سکتے ہیں جب معیشت مضبوط ہوگی۔ مضبوط دفاع کیلئے مضبوط معیشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ داد دیتا ہوں افواج پاکستان کو محدود وسائل میں انڈیا کو ٹف ٹائم دیا اور حال ہی میں ہرایا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ انڈیا میں پچھلے سال 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئی ہے اور انڈیا سرمایہ کاری سب سے زیادہ صنعت میں ہیں جبکہ ہمارا صنعتی سیکٹر منفی میں ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ مصر اسلامی ملک ہے جس میں رواں سال 9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متحدہ عرب امارات سے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں لڑائیوں کے باوجود 1.7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئی ہے اور سری لنکا جو ڈیفالٹ کرگیا تھا رواں سال سرمایہ کاری 827 ملین ڈالر آئی ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا اور مصر میں ایس آئی ایف سی بھی نہیں ہے ہمارے حکمرانوں کو ایس آئی ایف سی کی بھی سپورٹ حاصل ہے پھر بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ سٹاک مارکیٹ کی روزانہ باتیں کرتے ہیں وھاں سے بھی بیرونی سرمایہ کاری چلی گئی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ بڑے بڑے سرمایہ کار کمپنیاں پاکستان سے جا رہی ہے۔ ٹیلی نار ہاتھ جوڑ کر چلا گیا جبکہ جاز ٹیلی کام نے بزنس ٹاور بیچ دیا۔ اس وجہ سے پاکستان سے مزید ڈالر جائیں گے کیونکہ مقامی کمپنی اتصالات خرید رہے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت نے متحدہ ارب امارات کو تین ارب ڈالر واپس کرنے تھے جو نہ کرسکے اسحاق ڈار کہہ رہے کہ دو ارب ڈالر اگلے سال رول اوور کرینگے جبکہ ایک ارب ڈالر کے فوجی فاؤنڈیشن میں شئیرز دینگے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ معاشی کارکردگی کی بجائے حکومت کی کارکردگی صرف آئین میں ترامیم کرانا ہے اور حکومت قوم سے معافی مانگے وہ تقریباً چار سالوں میں معیشت کیلئے کچھ نہ کر سکے۔

کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے خیبر پختونخوا میں ادارہ جاتی اقدامات مضبوط بنانے کا عزم

کم عمری کی شادی کی روک تھام اور بچیوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے خیبر پختونخوا میں ادارہ جاتی اقدامات کو مضبوط بنانے کے سلسلے میں ایک صوبائی شوکیسنگ تقریب منگل کے روز پشاور میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں محکمہ بلدیات، انتخابات و دیہی ترقی، گروپ ڈویلپمنٹ پاکستان، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (یو این ایف پی اے)، برطانوی حکومت کے ادارہ برائے خارجہ، دولتِ مشترکہ و ترقی (ایف سی ڈی او)، سرکاری اداروں، سول سوسائٹی اور فرنٹ لائن اہلکاروں نے شرکت کی۔تقریب کے انعقاد کا مقصد یہ اجاگر کرنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں کم عمری کی شادی کی روک تھام کو مہم کے ساتھ ساتھ گورننس، سروس ڈیلیوری اور احتسابی نظام کا مستقل حصہ بنایا جائے اور اس ضمن میں اداراجاتی اقدامات کو مزید مستحکم اور منظم کیا جائے۔مقررین نے بتایا کہ محکمہ بلدیات کی کثیر سالہ اصلاحات اب کم عمری کی شادی کی روک تھام کو مقامی حکومت کی بنیادی ترجیح کے طور پر شامل کر چکی ہے۔شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ 2024 سے اب تک اس اقدام کے تحت خیبر پختونخوا بھر میں 976 فرنٹ لائن اور نگران افسران کو تربیت دی گئی ہے، جن میں 416 نکاح رجسٹرارز، 395 ویلج اور نیبرہوڈ کونسل سیکرٹریز اور 96 نگران افسران شامل ہیں۔ تربیتی پروگرامز میں بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین، کم عمری کی شادی، صنفی مساوات اور خاندانی قوانین پر خصوصی توجہ دی گئی۔اس کے ساتھ ساتھ 33 ماسٹر ٹرینرز پر مشتمل ایک ورک فورس تیار کی گئی ہے تاکہ یہ عمل حکومتی ڈھانچے کے اندر مسلسل جاری رہے اور بیرونی معاونت پر انحصار کم ہو۔اس موقع پر ڈائریکٹر محکمہ بلدیات، انتخابات و دیہی ترقی خیبر پختونخوا سردارالملک نے کہا کہ نکاح رجسٹریشن کے نظام کو باقاعدہ، شفاف اور مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق نگرانی اور معائنہ کے نظام کو مضبوط کر کے کم عمری کی شادی کی روک تھام کو روزمرہ انتظامی نگرانی کا حصہ بنایا جا رہا ہے، تاکہ قانون پر عملدرآمد صوبے کے تمام اضلاع میں یکساں اور پائیدار بنیادوں پر ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ کم عمری کی شادی کسی ایک طبقے یا کمیونٹی کا مسئلہ نہیں، اس لیے حکومت تمام برادریوں، بشمول اقلیتوں، میں نکاح رجسٹریشن کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کر رہی ہے تاکہ ہر بچے کو برابر قانونی تحفظ مل سکے۔بتایا گیا کہ نکاح رجسٹرارز کے لیے معیاری سرٹیفکیشن اور تجدیدِ سرٹیفکیشن کے اصول وضع کیے جا چکے ہیں، جبکہ ہری پور اور نوشہرہ میں نگرانی اور مانیٹرنگ کے نظام کا پائلٹ منصوبہ بھی شروع کیا گیا ہے، جس سے عمر کی تصدیق، دستاویزات اور احتساب کے عمل کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔سابق ڈائریکٹر آپریشنز سعید الرحمن نے کہا کہ تجربات سے یہ واضح ہوا ہے کہ ادارہ جاتی اصلاحات شواہد پر مبنی ہونی چاہئیں اور فرنٹ لائن عملے میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق جب مقامی اہلکار قانون اور کم عمری کی شادی کے سماجی نقصانات کو سمجھتے ہیں تو روک تھام عملی سطح پر ممکن ہو جاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ نکاح نامے میں دلہا اور دلہن کی عمر کے لازمی خانے شامل کرنے اور نادرا کے اشتراک سے نکاح رجسٹریشن کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے موبائل ایپ کا پائلٹ منصوبہ بھی زیرِ غور ہے۔چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کے ڈپٹی چیف اعجاز احمد خان نے مقامی حکومتوں، نکاح رجسٹرارز اور تحفظاتی اداروں کے درمیان مضبوط رابطے کو بروقت نشاندہی اور مؤثر کارروائی کے لیے ضروری قرار دیا۔خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں کی چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس نے کہا کہ نکاح رجسٹریشن قوانین کا مستقل نفاذ بچیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ریاستی عزم کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کم عمری کی شادی کی روک تھام کے لیے جامع حکمتِ عملی اپنانے اور سی ایم آر اے بل کی منظوری پر بھی زور دیا۔گروپ ڈویلپمنٹ پاکستان کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمین شیخ نے کہا کہ اس اقدام نے کم عمری کی شادی کی روک تھام کو ایک وقتی منصوبے کے بجائے حکمرانی کے نظام کا حصہ بنا دیا ہے۔ یو این ایف پی اے کی صوبائی کوآرڈینیٹر ماہ جبین قاضی نے کہا کہ پائیدار نتائج اسی وقت حاصل ہوتے ہیں جب اصلاحات حکومتی نظام کے اندر شامل ہوں۔تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ کم عمری کی شادی کا خاتمہ بچیوں کی تعلیم، صحت، تحفظ اور باوقار مستقبل کے لیے ناگزیر ہے اور اس مقصد کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات کا عمل مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان نے کہا ہے کہ صوبائی کابینہ نے سال 2025 میں آنے والی سیلابی آفت میں بونیر اور صوبے کے دیگر علاقوں میں لوگوں کے نقصانات کا ازلہ کرنے کیلئیدوکانات،رکشوں،پٹرول پمپس،گاڑیوں،اٹا کی آبی چکیوں (جرندہ) اور فیکٹریوں کے مالکان کے نقصانات پر مدد کیلئے مالی معاونت کی منظوری دی ہے

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان نے کہا ہے کہ صوبائی کابینہ نے سال 2025 میں آنے والی سیلابی آفت میں بونیر اور صوبے کے دیگر علاقوں میں لوگوں کے نقصانات کا ازلہ کرنے کیلئیدوکانات،رکشوں،پٹرول پمپس،گاڑیوں،اٹا کی آبی چکیوں (جرندہ) اور فیکٹریوں کے مالکان کے نقصانات پر مدد کیلئے مالی معاونت کی منظوری دی ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ اقدام بونیر کے متاثرین سیلاب اور اس آفت میں متاثرہ دیگر علاقوں کے متاثرین کیلئے صوبائی حکومت کی ایک اہم کاوش ہے جس سے متاثرہ خاندانوں کے نقصانات کا ازالہ ہو سکے گا۔واضح رہے کہ اگست 2025 میں آسمانی بجلی گرنے سے رونما ہونے والے ہولناک سیلاب سے ضلع بونیر میں کافی جانی و مالی نقصانات رونما ہوئے تھے اور صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کی گذارش پر وزیر اعلی خیبرپختونخوا نے اپنے دورہ بونیر کے دوران خصوصی اعلان میں متاثرہ گھروں اور انسانی نقصانات کیلئے معاوضے کو بھی بڑھایا تھا۔اسی طرح سیلاب میں رکشہ و گاڑیوں کے نقصانات،پیٹرول پمپس، پن چکیوں،دوکانات اور ماربل فیکٹریز کے نقصانات معاوضے سے رہ گئے تھے۔اب صوبائی حکومت نے ان کی مالی معاوضے کی منظوری دی یے۔

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کی مختلف جامعات میں ملازمین کی بھرتی کے اجازت ناموں سے متعلق امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کی مختلف جامعات میں ملازمین کی بھرتی کے اجازت ناموں سے متعلق امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں جامعہ گومل، جامعہ ملاکنڈ، جامعہ کوہاٹ سمیت دیگر جامعات کے وائس چانسلرز اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران اس بات پر تفصیلی گفتگو ہوئی کہ بعض جامعات میں ملازمین کی بھرتی کے عمل کو اجازت ناموں کے حوالے سے درپیش مسائل کا سامنا ہے۔ وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ جن جامعات کے پاس محکمہ اعلیٰ تعلیم اور محکمہ خزانہ سے ملازمین کی بھرتی کے لیے باضابطہ اجازت نامہ موجود ہے، وہ بلا تاخیر بھرتی کا عمل مکمل کریں تاکہ تعلیمی و انتظامی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ وہ جامعات جن کے پاس ابھی تک محکمہ اعلیٰ تعلیم اور محکمہ خزانہ کا اجازت نامہ موجود نہیں، وہ فوری طور پر متعلقہ محکموں کے ساتھ اجازت نامے کے حصول کا عمل مکمل کریں۔ وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے واضح کیا کہ اجازت ناموں کا مقصد جامعات کو غیر ضروری پابندیوں میں جکڑنا نہیں بلکہ انہیں انتظامی اور مالی امور میں بہتر رہنمائی فراہم کرنا ہے۔مینا خان آفریدی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جہاں جہاں جامعات کو رہنمائی اور معاونت درکار ہوگی، صوبائی حکومت انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی جامعات کو انتظامی، مالی اور تعلیمی لحاظ سے بااختیار بنانا حکومت کا مشن ہے تاکہ اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے اور ادارے خودمختاری کے ساتھ مؤثر انداز میں اپنے فرائض انجام دے سکیں۔اجلاس کے اختتام پر وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت خیبرپختونخوا صوبے کی جامعات کے مسائل کے حل اور انہیں مضبوط ادارے بنانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرتی رہے گی۔

ایکسائز اینٹیلیجنس کی بڑی کارروائی،20 کلوگرام سے زائد چرس برآمد، منشیات سمگلنگ کی کوشش ناکام

محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا نے منشیات سمگلنگ کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے بھاری مقدار میں چرس برآمد کرلی ہے۔ صوبائی حکومت کے انسداد منشیات کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اور وزیر ایکسائز سید فخرجہان کی ہدایات کی روشنی میں جاری کاروائیوں کے تسلسل میں محکمہ ایکسائز کے بیورو آف اینٹیلیجنس اینڈ انویسٹیگیشن کی ٹیم نے خفیہ اطلاع پر تختہ بیگ چیک پوسٹ کے قریب ایک کارروائی عمل میں لائی۔ پروونشل انچارج سعود خان گنڈا پور اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر نارکوٹکس کنٹرول ماجد خان کی نگرانی میں ہونے والی اس کاروائی میں انسپکٹر معظم جان خان اور ٹیم نے گاڑی نمبر 1092 کی تلاشی لی جس کے دوران گاڑی سے 20 ہزار 400 گرام چرس برآمد ہوئی۔محکمہ ایکسائز نے ملزمان کے خلاف تھانہ ایکسائز خیبر میں مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے

خیبر پختونخوا کے وزیر ریلیف، بحالی و آبادکاری عاقب اللہ خان نے ضلع صوابی میں جھنڈا اور پجمن جنازگاہوں کا افتتاح کیا

خیبر پختونخوا کے وزیر ریلیف، بحالی و آبادکاری عاقب اللہ خان نے کہا ہے صوبائی حکومت عوامی مفادات کے عین مطابق اجتماعی نوعیت کے منصوبوں کے قیام کے لیے کوشاں ہے، ضلع صوابی میں 12 ملین روپے کی لاگت سے جھنڈا جنازگاہ کا قیام جبکہ 6.5 ملین روپے کی لاگت سے پجمن جنازگاہ کی توسیع کا منصوبہ یقینی بنایا گیا، جو کہ یہاں کے عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر عاقب اللہ خان نے گزشتہ روز ضلع صوابی میں جھنڈا اور پجمن جنازگاہوں کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر علاقائی عمائدین اور پارٹی کارکنان بھی ان کے ہمراہ تھے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عاقب اللہ خان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی ہدایات پر عوامی خدمت، شفافیت اور گڈ گورننس کے فروغ کیلئے اقدامات جاری ہیں، جس کے تحت عوامی فلاحی اقدامات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

خواتین کے خلاف کام کی جگہ پر ہراسگی کے قانون میں ضروری ترامیم کے حوالے سے ایک اہم اجلاس صوبائی وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور خیبر پختونخوا آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیر صدارت منعقد ہوا

خواتین کے خلاف کام کی جگہ پر ہراسگی کے قانون میں ضروری ترامیم کے حوالے سے ایک اہم اجلاس صوبائی وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور خیبر پختونخوا آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں خاتون محتسب رباب مہدی، سیکرٹری محکمہ قانون اختر سعید ترک، ایڈووکیٹ جنرل آفس کے حکام، محکمہ قانون کے افسران اور دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران خواتین کی ہراسگی سے متعلق موجودہ قانون میں ضروری ترامیم کے ذریعے اسے مزید مؤثر بنانے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ قانون میں واضح، جامع اور قابلِ عمل ترامیم وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ خواتین کو ہراسگی جیسے سنگین مسئلے سے مؤثر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔اجلاس میں قانون کی تمام سیکشنز اور ذیلی سیکشنز کو فصیح، واضح اور مربوط انداز میں مرتب کرنے پر زور دیا گیا تاکہ قانونی ابہام کا خاتمہ ہو اور عملدرآمد میں آسانی پیدا ہو۔ اس موقع پر موجودہ ایکٹ اور مجوزہ ترامیم کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا گیا، جبکہ قانون میں مزید بہتری لانے کے لیے مختلف عملی تجاویز زیر غور آئیں۔وزیر قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انہیں محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، اور ہراسگی کے قانون کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ مجوزہ ترامیم کو جلد حتمی شکل دے کر عملی پیش رفت کو یقینی بنایا جائے۔