Home Blog Page 94

Khyber Pakhtunkhwa Chief Secretary Chairs Meeting to Review Preparation for Shandur Polo

Khyber Pakhtunkhwa Chief Secretary Shahab Ali Shah has directed that all arrangements for the Shandur Polo Festival be finalized at the earliest, stating that the festival will be held from June 11 to 13 at the Shandur Polo Ground.

He was chairing a high-level meeting on Tuesday regarding preparations for the festival. The meeting was attended by Secretary Finance Kamran Afridi, Secretary Tourism Saadat Hassan, Secretary Administration Shahid Suhail, Additional Secretary Finance Muhammad Ikhlaq, Director General Khyber Pakhtunkhwa Culture and Tourism Authority Shehryar Mahmood, DG Aviation Atif Khan, Secretary Home Usman Mehsud, Commissioner Malakand, DPOs and Deputy Commissioners of Lower and Upper Chitral, officials of the National Highway Authority (NHA), and representatives of other relevant departments.

During the meeting, the Khyber Pakhtunkhwa Culture and Tourism Authority gave a detailed briefing on the festival preparations. The Chief Secretary directed all departments to enhance mutual coordination and expedite work on access roads. He also instructed the NHA to ensure timely availability of heavy machinery at locations affected by flash floods.

Emphasizing coordination with Gilgit-Baltistan authorities, he said that the successful conduct of the festival must be ensured through close collaboration. He further directed that road construction and maintenance work in Lower and Upper Chitral be accelerated, and that a temporary bridge be installed at Shehdas until a permanent concrete bridge is constructed, to facilitate smooth public movement.

He also stressed the need for effective promotion of the festival to attract a large number of domestic and international tourists.

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان تاج محمد خان ترند نے نیشنل گیمز 2026 میں میڈلز جیتنے والے کھلاڑیوں میں مجموعی طور پر 26.6 ملین روپے (دو کروڑ 66 لاکھ روپے) کے نقد انعامات تقسیم کیے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان تاج محمد خان ترند نے نیشنل گیمز 2026 میں میڈلز جیتنے والے کھلاڑیوں میں مجموعی طور پر 26.6 ملین روپے (دو کروڑ 66 لاکھ روپے) کے نقد انعامات تقسیم کیے۔اس سلسلے میں پشاور سپورٹس کمپلیکس میں خیبرپختونخوا کے میڈل یافتہ کھلاڑیوں کے اعزاز میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی تاج محمد خان ترند تھے، جنہوں نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے
تقریب میں خیبرپختونخوا اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر ہارون ظفر، سیکرٹری سپورٹس آصف خان، ڈائریکٹر جنرل سپورٹس تاشفین حیدر، ڈائریکٹر سپورٹس جمشید بلوچ، مختلف کھیلوں کی ایسوسی ایشنز کے عہدیداران اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔اس موقع پر انڈر 23 گیمز کی ٹرافی ریجنل سپورٹس آفیسر کاشف فرحان کے حوالے کی گئی۔ یہ ٹرافی پشاور ریجن نے اپنے نام کی۔تقریب میں گولڈ میڈل جیتنے والے ہر کھلاڑی کو 6 لاکھ روپے، سلور میڈل جیتنے والے کو 4 لاکھ روپے جبکہ برونز میڈل حاصل کرنے والے کھلاڑی کو 3 لاکھ روپے کانقد انعام دیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تاج محمد خان ترند نے کہا کہ یہ خوشی اور فخر کا موقع ہے کہ ہم اپنے ان ہیروز کے ساتھ موجود ہیں جنہوں نے نیشنل گیمز میں خیبرپختونخوا کا نام روشن کیا۔ انہوں نے کھلاڑیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے پہلے گولڈ میڈلسٹ کے لیے 3 لاکھ، سلور کے لیے 2 لاکھ اور برونز کے لیے ایک لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا تھا، تاہم اب ان انعامات کی رقم دگنی کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کوچز کے لیے بھی ایک، ایک لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کی کامیابی میں کوچز کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔مشیر کھیل نے کہا کہ صوبائی حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق صوبے میں کھیلوں کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ سہولیات کی بہتری کے لیے سوئمنگ پول سمیت متعدد منصوبے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیے گئے ہیں، جبکہ آئندہ تمام اضلاع میں کھیلوں کی بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان صلاحیتوں کو مزید نکھارا جائے اور انہیں بہتر مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ عید کے بعد نیشنل جونیئر چیمپئن شپ کا انعقاد کیا جائے گا، جبکہ آئندہ برس مزید بڑے پیمانے پر کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے جائیں گے۔
تاج محمد خان ترند نے انعامی رقم کی شفاف تقسیم کے لیے جاز کیش کے ساتھ معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے کھلاڑیوں کو ادائیگیوں میں مزید سہولت اور شفافیت میسر آئے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کھلاڑیوں کی ہر ممکن سرپرستی اور حوصلہ افزائی جاری رکھے گی۔
گولڈ میڈلز حاصل کرنے والوں میں سیلنگ کی حجاب اجمل، جوڈو کے سید فیصل شاہ، باڈی بلڈنگ کے شاہد خان، کراٹے کے مراد خان، ٹیبل ٹینس کے فہد خواجہ اور عثمان خلیل شامل تھے۔
سلور میڈلز جیتنے والوں میں سیلنگ کی مریم سجاد، تحریم فاطمہ، رحیم داد خان، کاشف سعید، عاطف رزاق، عبدالہادی اور امینہ اجمل، جوڈو کے محمد عباس اور آصفہ نور، باڈی بلڈنگ کے الیاس خالد، تائیکوانڈو کے محمد احسن، طارق خان، سندس خان، اریبہ جاوید اور میمونہ نصیر، فنسنگ کے بریال خان، اویس خان، اویس احمد اور اقراش زمان، سکواش کی ماہ نور علی، سحرش علی، علیشبہ اور رانیہ علی، ووشو کی نور الایمان، باکسنگ کی عائشہ اور گالف کی سائرہ امین شامل تھیں۔اسی طرح برونز میڈلز حاصل کرنے والی ٹیموں اور کھلاڑیوں میں خواتین کبڈی، خواتین ٹیبل ٹینس، مرد ٹیبل ٹینس، تائیکوانڈو کی وریشہ، بیڈمنٹن کے مراد علی، ووشو کے صمد علی، باکسنگ کے محمد عامر اور منال، گالف کی زینب مر، ٹینس کے برکت اللہ اور مردوں کی ٹینس ٹیم شامل تھے۔
کوچز کامران علی، ہدایت اللہ خلیل، ذوالفقار بٹ، اکرم اور ابصار علی کو بھی نقد انعامات سے نوازا گیا۔
تقریب کے دوران پاک افغان ٹی ٹونٹی وہیل چیئر کرکٹ سیریز جیتنے والی ٹیم کے کھلاڑیوں گوہر علی آفریدی، ایاز خان، زوار نور، مثل خان، زوار خان، ساجد علی، شاہ فیصل اور محمد سعید کو بھی نقد انعامات دئے گئے

صوبائی حکومت کے اقدامات کی بدولت خیبرپختونخوا زرعی پیداوار میں خود کفالت کی جانب گامزن ہے، سیکرٹری زراعت ڈاکٹر محمد بختیار

سیکرٹری زراعت خیبرپختونخوا ڈاکٹر محمد بختیار خان سے عالمی ادارہ خوراک و زراعت کے کنٹری ڈائریکٹر جیمز اوتھ کی قیادت میں ایک وفد نے منگل کے روز ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس موقع پر محکمہ زراعت کے مختلف شعبہ جات کے ڈائریکٹرز سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔بعد ازاں صوبائی حکومت اور عالمی ادارہ خوراک و زراعت کے باہمی اشتراک سے متعلق ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے میں جاری مختلف زرعی منصوبوں، ان کی پیش رفت اور تعاون کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کے دوران کنٹری ڈائریکٹر نے خیبرپختونخوا میں قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں زرعی فصلوں کے تحفظ، فی ایکڑ پیداوار میں اضافے اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے صوبائی حکومت کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری زراعت ڈاکٹر محمد بختیار خان نے صوبے میں زرعی ترقی،بالخصوص زمینداروں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے عالمی ادارہ خوراک و زراعت کے تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اس تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور امید رکھتی ہے کہ یہ اشتراک آئندہ دنوں میں مزید مؤثر اور نتیجہ خیز ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ شعبہ زراعت موجودہ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ایک اہم شعبہ ہے، کیونکہ زراعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اس شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔
سیکرٹری زراعت نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ اور صوبائی حکومت کے ویژن کے مطابق صوبے میں زرعی شعبے میں جدت لانے، زمین کی پیداواری استعداد بڑھانے اور زمینداروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کے لیے متعدد اہم منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے صوبے میں زرعی شعبہ جدید خطوط پر استوار ہوگا اور خیبرپختونخوا زرعی پیداوار میں خود کفالت کی جانب تیزی سے گامزن ہوگا۔

خیبرپختونخوا میں سیلز ٹیکس کی ریکارڈ وصولی، مشیر خزانہ مزمل اسلم کی کیپرا ٹیم کو مبارکباد

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں اپریل 2026 کے دوران تاریخ کی بلند ترین وصولی ریکارڈ کی گئی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی (کیپرا) نے اپریل کے مہینے میں 25 فیصد نمایاں اضافے کے ساتھ 4.45 ارب روپے وصول کیے۔
مشیر خزانہ کے مطابق گزشتہ سال اپریل 2025 کے دوران اسی مد میں 3.56 ارب روپے وصول ہوئے تھے، جس کے مقابلے میں رواں سال کی وصولیوں میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔مزمل اسلم نے ڈائریکٹر جنرل کیپرا محترمہ ارم ناز اور ان کی پوری ٹیم کو شاندار کارکردگی اور ریکارڈ محصولات وصولی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ کیپرا آئندہ بھی اسی جذبے اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ صوبے کی مالی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کی ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے چارسدہ میں ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگزئی پر قاتلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں شفیع جان نے کہا کہ مولانا محمد ادریس ترنگزئی کی شہادت انتہائی افسوسناک ہے اور ان پر حملہ ایک بزدلانہ فعل ہے۔واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا انہوں نے کہا کہ شہید مولانا شیخ ادریس کی دینی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور ان کا خلا تادیر پُر نہیں ہو سکے گا۔معاون خصوصی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔شفیع جان نے واقعے میں زخمی ہونے والے دو پولیس اہلکاروں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت دکھ کی اس گھڑی میں شہید کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے

معاون خصوصی شفیع جان کا لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کے کنٹریکٹ ملازمین سے کامیاب مذاکرات، ملازمین کا احتجاج ختم کرنے کا اعلان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی ہدایات پر معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے پشاور میں لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کے کنٹریکٹ ملازمین کے احتجاجی نمائندہ وفد سے کامیاب مذاکرات کیے، جس کے نتیجے میں لیڈی ہیلتھ ورکرز نے پشاور میں جاری اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا یے۔مذاکرات کے دوران لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مسائل، بالخصوص تنخواہوں کی مد میں بقایا جات اور دیگر امور پر بات چیت کی گئی۔ معاون خصوصی شفیع جان نے وفد کو یقین دلایا کہ صوبائی حکومت ان کے جائز مطالبات کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور مزید اقدامات کئے جائیں گے۔بعد ازاں اسمبلی چوک میں احتجاجی ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مطالبات کے حل کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تمام مطالبات کا جامع جائزہ لے کر قابلِ عمل سفارشات پیش کرے گی۔انہوں نے اعلان کیا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کے کنٹریکٹ ملازمین کی دو ماہ کی بقایا تنخواہیں دو دن کے اندر ادا کر دی جائیں گی، جبکہ مزید چار ماہ کی تنخواہیں بھی جلد جاری کی جائیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے وژن کے مطابق عوامی فلاح کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کو عوام اور سرکاری ملازمین کو درپیش مسائل کا مکمل ادراک ہے، اور صوبائی حکومت ان کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔شفیع جان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت لیڈی ہیلتھ ورکرز کو بہتر اور محفوظ کام کا ماحول فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ صحت کا شعبہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ انتہائی مشکل حالات میں فیلڈ میں کام کرتے ہوئے عوام کو بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔ ان کی محنت، لگن اور خدمات قابلِ تحسین ہیں، اور صوبائی حکومت ان کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان نے سابقہ جنرل کونسلر حضرت خان کے ہمراہ بٹئی ضلع بونیر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان نے سابقہ جنرل کونسلر حضرت خان کے ہمراہ بٹئی ضلع بونیر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور مختلف آبی گزرگاہوں ( واٹر ویز ) کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے موقع پر صوبائی وزیر کو متعلقہ حکام نے متاثرہ علاقوں میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات، واٹر ویز کی موجودہ صورتحال اور نکاسی آب میں درپیش مسائل کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے واٹر ویز کا تفصیلی معائنہ کیا اور ہدایت کی کہ نکاسی آب کے نظام کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے تاکہ آئندہ کسی بھی ممکنہ سیلابی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ انشاءاللہ 11 مئی کو واٹر ویز کی صفائی کے لیے باضابطہ طور پر ٹینڈر جاری کیا جائے گا، جس کے بعد صفائی کا کام فوری طور پر شروع ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ واٹر ویز کی بروقت صفائی نہ صرف سیلابی خطرات کو کم کرے گی بلکہ مقامی آبادی کو درپیش مسائل میں بھی نمایاں کمی لائے گی۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ صفائی کے عمل میں شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا صوبائی حکومت عوام کو قدرتی آفات سے محفوظ بنانے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ علاقے کی مسلسل نگرانی جاری رکھیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات یقینی بنائیں تاکہ عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جا سکے۔اس موقع پر سابقہ جنرل کونسلر حضرت خان نے صوبائی وزیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بٹئی کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور واٹر ویز کی صفائی سے علاقے میں سیلابی خطرات میں نمایاں کمی آئے گی۔

مون سون بارشوں اور گلیشیئر پگھلنے کے خطرات: چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کا اداروں کو احتیاطی تدابیر کے تحت مؤثر اقدامات کا حکم

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں مون سون بارشوں اور پہاڑی علاقوں میں گلاف (گلیشیئر پھٹنے) کے خطرے کے پیش کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
مون سون بارشوں کے دوران اداروں کی تیاریوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ صوبے بھر میں ندی نالوں کی صفائی کا کام جاری ہے۔ محکمہ آبپاشی نے اب تک پانی کے بہاؤ کے راستوں سے 703 کنال اراضی واگزار کروا لی ہے اور 227 غیر قانونی تعمیرات کو ہٹا دیا گیا ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ریسکیو 1122 نے گزشتہ سالوں میں سیلاب سے متاثر رہنے والے 17 حساس اضلاع سمیت پورے صوبے میں تیاریاں مکمل کر لی ہیں جس کے تحت اس ماہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے خصوصی مشقیں (موک ڈرلز) کی جائیں گی، ماہر تیراک 24 گھنٹے دستیاب رہیں گے۔ اسی طرح صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے بھی امدادی سامان کا سٹاک مکمل رکھا ہے. چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ پہاڑی علاقوں میں ارلی وارننگ سسٹم (پیشگی اطلاع) کو مکمل فعال رکھا جائے۔اس نظام کی دوبارہ جانچ پڑتال کی جائے تاکہ ہنگامی صورتحال میں اطلاع زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مقامی آبادی کو موسم اور خطرات کی صورتحال سے مسلسل باخبر رکھا جائے۔ انہوں نے دریاؤں کے کنارے دفعہ 144 کے نفاذ پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ اشیائے ضروریہ کا ذخیرہ یقینی بنائیں اور تمام ادارے آپس میں مضبوط رابطہ رکھیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیلاب و گلف سے بچاؤ کی حکمت عملی میں کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام افسران کی ذمہ داریوں کی کڑی نگرانی ہوگی۔

محکمہ ایکسائز کی پشاور میں کارروائیاں، 1005 گرام آئس اور شراب برآمد، ملزمان گرفتار

محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول خیبر پختونخوا نے تھانہ ایکسائز پشاور ریجن کے تحت منشیات کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے دوران بھاری مقدار میں آئس اور شراب برآمد کر کے ملزمان کو گرفتار کر لیا۔محکمہ سے موصولہ تفصیلات کے مطابق تھانہ ایکسائز پشاور ریجن نے خفیہ اطلاع پر ایچ گول چوک پشاور کے قریب کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شخص سے تلاشی کے دوران اس کے قبضے سے 1005 گرام آئس برآمد ہوئی۔ ملزم کی شناخت مشتاق احمد ولد محمد شاہد، سکنہ باڑہ کے نام سے ہوئی، جسے موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔ملزم کے خلاف تھانہ ایکسائز پشاور ریجن میں مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔دریں اثناء، ایک اور کارروائی کے دوران ایکسائز ٹیم نے 3 بوتل شراب برآمد کر کے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا۔ اس حوالے سے بھی مقدمہ درج کر کے مزید قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔محکمہ ایکسائز حکام کے مطابق منشیات کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور معاشرے کو اس ناسور سے پاک کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیر صدارت سنٹر ریجن میں جاری اور مجوزہل ترقیاتی سکیموں سے متعلق ایک اہم اجلاس پیر کے روز صوبائی وزیر کے دفتر پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیر صدارت سنٹر ریجن میں جاری اور مجوزہل ترقیاتی سکیموں سے متعلق ایک اہم اجلاس پیر کے روز صوبائی وزیر کے دفتر پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیف انجینئر سنٹر امجد شمشیر نے شرکت کی۔اجلاس میں صوبائی وزیر کو سنٹر ریجن میں جاری ترقیاتی منصوبوں، تکمیل کے قریب سکیموں اور نئے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے تحت مجوزہ منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ چیف انجینئر سنٹر نے منصوبوں کی موجودہ پیش رفت، درپیش چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالی۔صوبائی وزیر فضل شکور خان نے اس موقع پر ہدایت جاری کی کہ تمام جاری سکیموں پر کام کی رفتار کو تیز کیا جائے اور ان میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو صاف پانی کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اس لیے منصوبوں کی بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تکمیل کے قریب سکیموں پر کام کی رفتار تیز کی جائے تاکہ عوام کو جلد از جلد ان کے ثمرات فراہم کیے جا سکیں۔ صوبائی وزیر نے افسران کو تاکید کی کہ وہ فیلڈ میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں اور جاری منصوبوں کی خود نگرانی کریں۔فضل شکور خان نے نئے اے ڈی پی منصوبوں کے حوالے سے بھی واضح کیا کہ ایسے منصوبے ترجیحی بنیادوں پر شامل کیے جائیں جو عوامی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں اور پائیدار حل فراہم کریں۔ انہوں نے شفافیت، میرٹ اور موثر نگرانی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے باہمی رابطہ اور ہم آہنگی کو فروغ دیں تاکہ صوبے بھر میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے منصوبوں کے مثبت نتائج سامنے آئیں۔