وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی نے پشاور میں خیبر پختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کے 43ویں اجلاس کی صدارت کی۔ اس موقع پر سیکرٹری ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ محمود اسلم وزیر، ڈائریکٹر جنرل ہائوسنگ اتھارٹی عمران وزیر اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ معاون خصوصی کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری ہاؤسنگ نے پچھلے اجلاس کے فیصلوں پر عمل درآمدسے آگاہ کیا اور کہا کہ ہاؤسنگ اتھارٹی کی زیر نگرانی مختلف منصبوں پر ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہے، اسی طرح ڈائریکٹر جنرل ہائوسنگ اتھارٹی عمران وزیر نے اجلاس کو بتایا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی روشنی میں جلو زئی ہاؤسنگ منصوبے کی توسیع سے متعلق ایک محکمانہ تحقیقاتی کمیٹی بنائی گئی، جس کی تیار کردہ رپورٹ بھی انہوں نے اجلاس میں پیش کی انہوں نے بتایا کہ اس رپورٹ کے مطابق محکمہ ہائوسنگ کی طرف سے کوئی غفلت و کوتاہی سامنے نہیں آئی۔اجلاس میں صوبائی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں ڈیلی ویجز کی اجرت 36ہزار سے بڑھا کر40ہزار روپے کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی ڈاکٹر امجد علی نے کہا کہ نیو پشاور ویلی کامنصوبہ کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں پی ڈی اے سے لے کر خیبر پختونخوا اتھارٹی کے سپرد کیا گیا ہے جس کے بعد اس منصوبے کی تکمیل کے لئے پی سی۔ ون میں ضروری ردوبدل کرنے کے ساتھ ساتھ ایکسپریس وے کا نقشہ بھی پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ کو منظوری کے لئے بھیجا گیا ہے تاکہ بروقت قانونی پیچیدیگوں کو دور کرتے ہوئے اسے پایا تکمیل تک پہنچایاجا سکے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ ہائوسنگ کے جاری منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل کو یقینی بنانے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں تاکہ عوام کو ان سکیموں کے ثمرات مل سکیں۔انہوں نے کہا کہ درپیش مسائل کو ان کے نوٹس میں لایا جائے تاکہ ان کا ازالہ کرتے ہوئے ترقیاتی عمل کوجاری رکھا جا سکے۔ اجلاس میں نیو پشاور ویلی کے لیے ساڑھے نو کلومیٹر ایکسپریس وے کی بھی منظوری دی گئی اور معاون خصوصی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس اہم سڑک کے لیے کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی جائیں انہوں نے ڈپٹی کمشنر بنوں/ ڈسٹرکٹ کنٹرولر بنوںسے کہا کہ وہ نیو بنی گل سٹی منصوبے کے لئے درکار اراضی کا حصول کو پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے یقینی بنائیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کی پوری پوری کوشش ہے کہ صوبے کے ہر ضلع کے عوام ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں ۔اجلاس کے اختتام پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی نے تمام شرکائ کا اجلاس میں شرکت کرنے اور منصوبوں کی تکمیل کے حوالے سے بہتر تجا ویز پیش کرنے پر شکریہ ادا کیا۔
UNICEF delegation meets KP health adviser to discuss post-flood situation & other health challenges
A high-level delegation from UNICEF, led by Country Head Pernille Ironside, met with Khyber Pakhtunkhwa Health Adviser Ihtesham Ali at his office to discuss ongoing health initiatives and post-flood challenges in the province.
The delegation included Chief of Field Office KP Radoslaw Rzehak, Health Team Lead Dr. Inamullah & Nutrition Lead Dr. Ayeen Khan Afridi. Secretary Health Shahidullah Khan was also present during the meeting and welcomed the delegation alongside the health adviser.
During the meeting, both sides exchanged views on the health situation in the province following recent floods, with particular focus on maternal and child health, nutrition, and healthcare infrastructure.
Ihtisham Ali expressed gratitude to UNICEF for its continued support to the provincial health department. UNICEF is currently supporting 450 nutritional sites across KP. The organization is also assisting in the implementation of DHIS 2 in 26 districts, oxygen management in 18 districts, capacity enhancement of 13 newborn care units, and solarization of four secondary-level hospitals under its climate-friendly health system initiative.
Highlighting the provincial government’s priorities, Ali said that in line with the vision of PTI’s founding leader, special attention is being given to health and education. He added that practical steps are being taken to improve basic health facilities in remote districts such as Kohistan and Torghar, while 72 health centers in southern and tribal districts are being made operational.
The adviser further noted that several hospitals are being outsourced to improve maternal and child healthcare services.
Ms. Ironside appreciated the health department’s efforts in establishing nutrition services for pregnant women and children at Afghan holding camp.
Secretary Health Shahidullah Khan informed the delegation that the department is planning to integrate the nutrition program into the regular budget. He said the Planning and Development Department is working on a project with a special focus on reducing stunting among children.
He added that 250 primary care centers are being revamped to provide round-the-clock maternity services. With UNICEF’s support, neonatal ICUs have already been established, and ten more newborn centers are planned for the current fiscal year.
To improve routine immunization, vaccination hours at health centers have been extended. The process of registering newborns immediately after delivery has also been initiated in several hospitals, strengthening the birth dose initiative.
At the conclusion of the meeting, Ali and Mr. Khan presented an honorary shield to the UNICEF Country Head, while UNICEF also presented a shield to the health department in recognition of their partnership.
عوامی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو
وزیر خوراک کا ولی انٹرچینج طورو روڈ کا ایم ڈی پی کے ایچ اے اور دیگر افسران کے ہمراہ تفصیلی دورہ
وزیر خوراک خیبرپختونخوا ظاہر شاہ طورو نے گزشتہ روز مینیجنگ ڈائریکٹر پختونخوا ہائی وے اتھارٹی اور متعلقہ افسران کے ہمراہ ولی انٹرچینج طورو روڈ کا تفصیلی دورہ کیا۔اس موقع پر تحصیل صدر مردان الیاس طورو اور جہانگیر خان بھی موجود تھے۔وفد نے ولی انٹرچینج سے طورو روڈ کا معائنہ کیا اور سڑک کی دوبارہ تعمیر اور مرمت پر غور کیا۔ صوبائی وزیر نے موقع پر موجود عوامی نمائندوں اور شہریوں کے مسائل بھی سنے اور ان کے فوری حل کے لیے احکامات جاری کیے۔اس موقع پر صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ مذکورہ روڈ پر مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت زیادہ ہونے کی وجہ سے سڑک کی حالت خراب ہو چکی ہے۔ وزیر خوراک نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ عوامی مشکلات کے ازالے کے لیے سڑک کی دوبارہ پختگی اور مرمت کے لیے ایمرجنسی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں۔وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے اس موقع پر کہا کہ عوامی فلاح و بہبود حکومت خیبرپختونخوا کی اولین ترجیح ہے اور تمام سرکاری اداروں کو عوامی خدمت میں بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں عملی اقدامات اٹھا رہی ہے
وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی اقراء نیشنل یونیورسٹی پشاور کے زیر اہتمام منعقدہ دو روزہ دوسری بین الشعبہ ہائے کانفرنس 2025 سے بطور مہمان خصوصی خطاب
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہا ہے کہ انڈسٹری اور اکیڈیمیا کے درمیان روابطے کا فقدان دور کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور صوبائی حکومت اس ضمن میں بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ وہ آج اقراء نیشنل یونیورسٹی پشاور کے زیر اہتمام منعقدہ دو روزہ دوسری بین الشعبہ ہائے کانفرنس 2025 سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔تقریب میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے آئی ٹی و ڈیجیٹائزیشن شفقت ایاز، وائس چانسلر اقراء نیشنل یونیورسٹی ڈاکٹر ملک تیمور علی، مشیر چانسلر یاسر خورشید، ڈائریکٹر اورک ڈاکٹر شیراز سمیت مختلف جامعات کے اساتذہ، محققین، طلبہ اور انڈسٹری کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جامعات کی تحقیق کو عملی زندگی سے جوڑنا اور ریسرچ پراڈکٹس کی کمرشلائزیشن وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریسرچ صرف کتابوں اور جرائد تک محدود رہی تو اس کا معاشی اور سماجی فائدہ حاصل نہیں ہو سکے گا۔ اس کے لیے انڈسٹری کو جامعات سے منسلک کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے خیبرپختونخوا نے ایک طویل عرصہ بدامنی کا سامنا کیا جس کی وجہ سے صوبے کی صنعتیں مشکلات سے دوچار رہیں۔ اب جبکہ امن قائم ہو رہا ہے تو صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ تعلیمی ادارے اور انڈسٹری مل کر ترقی کا سفر آگے بڑھائیں۔مینا خان آفریدی نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ صرف ڈگری کے حصول کو مقصد نہ بنائیں بلکہ ہنر، نئی سوچ اور اختراعی خیالات کے ساتھ میدان عمل میں آئیں۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے واضح ہدایات ہیں کہ نوجوانوں کو مرکز ترجیح بنایا جائے کیونکہ وہی ملک کا مستقبل ہیں۔ وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت جامعات کی ریسرچ کو انڈسٹری سے منسلک کرنے کے لیے پالیسی سطح پر مزید اقدامات کرے گی اور اس ضمن میں وسائل اور معاونت فراہم کی جائے گی۔وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے سائنس و آئی ٹی ڈاکٹر شفقت ایاز نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ صوبائی حکومت نے اب تک 26 محکموں کو ڈیجیٹائزڈ کر دیا ہے جبکہ باقی ماندہ چھ محکموں کی ڈیجیٹائزیشن پر تیزی سے کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل سلوشنز کے ذریعے نہ صرف شفافیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے بلکہ عوامی خدمات کو تیز اور آسان بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نئی اور دیرپا ریسرچ آئیڈیاز اور پراڈکٹس کو گرانٹس کے ذریعے سپورٹ کر رہی ہے تاکہ تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے درمیان خلا کو پر کیا جا سکے اور نوجوانوں کو اپنے آئیڈیاز کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ملے۔وائس چانسلر اقراء نیشنل یونیورسٹی ڈاکٹر ملک تیمور علی نے کہا کہ یونیورسٹی ریسرچ کے ذریعے مقامی اور قومی مسائل کے حل کے لیے پالیسی ساز اداروں اور انڈسٹری کے ساتھ تعاون کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو انٹرپرینیورشپ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی طرف راغب کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ ڈائریکٹر آفس آف دی ریسرچ اینڈ کمرشلائزیشن ڈاکٹر شیراز نے کہا کہ اقراء نیشنل یونیورسٹی ملک کے تعلیمی منظرنامے میں ایک فعال کردار ادا کر رہی ہے اور طلبہ کو جدید تحقیقی رجحانات سے ہم آہنگ کر رہی ہے۔
خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کی پشاور، نوشہرہ، مردان اور ہری پور میں بڑی کاروائیاں، مضر صحت و غیر معیاری خوراک برآمد کرکے تلف، جرمانے عائد
خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی فوڈ سیفٹی ٹیموں نے ڈائریکٹر جنرل واصف سعید کی نگرانی میں پشاور، نوشہرہ، مردان اور ہری پور میں بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے مضر صحت اور غیر معیاری خوردونوش اشیاء برآمد کرلیں۔ترجمان فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ فوڈ سیفٹی ٹیم پشاور نے گزشتہ روز کوہاٹ روڈ پشاور پر واقع ایک ڈسٹریبیوشن پوائنٹ پر چھاپے کے دوران تقریباً دو ہزار لیٹر جعلی اور غیر معیاری مشروبات برآمد کرکے سرکاری تحویل میں لے لیااور پوائنٹ کو سیل کردیا اور قانونی کارروائی کا آغاز بھی کیا۔ تفصیلات کیمطابق نوشہرہ فوڈ سیفٹی ٹیم نے اکوڑہ خٹک میں ایک گاڑی سے 400 کلو باسی اور غیر معیاری چکن پارٹس پکڑ کر تلف کیے گئے جبکہ ایک ہوٹل کی واٹر ٹینکی کی ناقص صورتحال پر گندا پانی ضائع کردیا گیا۔ اسی طرح صوابی روڈ جھانگیری پر ایک بیکری یونٹ سے 100 کلو غیر معیاری مٹھائیاں برآمد ہوئیں جو تلف کردی گئیں۔ترجمان فوڈ اتھارٹی کا مزید کہنا تھا کہ فوڈ سیفٹی اتھارٹی مردان ٹیم نے پار ہوتی میں کارروائی کرتے ہوئے ایک مصالحہ فیکٹری سے 40 کلو چوکر، 100 کلو چوکر ملا مصالحہ اور 4 کلو غیر معیاری و مضر صحت رنگ برآمد کرلیا۔ فیکٹری میں مشہور برانڈز کے نام سے جعلی مصالحے بھی تیار کیے جارہے تھے، ملزمان کو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا جبکہ صفائی کی ابتر صورتحال اور ورکرز کے میڈیکل سرٹیفکیٹس کی عدم دستیابی پر فیکٹری کو سیل کردیا گیا۔ اسی طرح ہری پور کی ٹیم نے حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں واقع ایک مشروبات بنانے والی فیکٹری پر رات گئے چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران 1080 کلو ایکسپائر پلپ برآمد ہوا جو جوسز میں استعمال ہورہا تھا، جسے موقع پر تلف کردیا گیا اور پروڈکشن بند کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی۔فوڈ اتھارٹی کے مطابق حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کا آغاز بھی کردیا گیا۔وزیر خوراک خیبرپختونخوا ظاہر شاہ طورو نے کامیاب کارروائیوں پر فوڈ سیفٹی ٹیموں کو سراہا اور کہا کہ غیر معیاری خوراک میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کی صحت پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا اور شہریوں کو محفوظ خوراک کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
کمشنر پشاور کی زیر صدارت صوبائی حکومت کی ہدایات پر نگرانی طریقہ کار صوبائی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے اجلاس
نگرانی طریقہ کار صوبائی ایکشن پلان کے تحت عوامی مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہریوں کو نتیجہ خیز بنایا جائے، کھلی کچہریوں کے زریعے موصول تمام شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے، تعلیم اور صحت پر خصوصی توجہ دی جائے، قبائلی ضلع مہمند اور ضلع خیبر میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن میں مزید تیزی لائی جائے، موسم میں تبدیلی کے پیشِ نظر ڈینگی کے روک تھام کے لیے پیشگی اقدامات مزید تیز کئے جائیں، تمام اضلاع میں غیر قانونی مائننگ کی روک تھام یقینی بنائی جائے، پشاور ڈویژن کے تمام پانچوں اضلاع میں آٹے کی قیمتیں اعتدال پر رکھنے کے لیے اسسٹنٹ کمشنرز کے زریعے مارکیٹ سروئے کرنے اور قمیتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں، عوام کو معیاری اشیائے خوردونوش کی سرکاری نرخ پر فراہمی کے لیے چھاپوں کا سلسلہ تیز کیا جائے، تمام اضلاع میں مدارس رجسٹریشن جلد سے جلد مکمل کی جائے اور غیر قانونی کرشک پلانٹس اور اسلحہ کی نمائش پر پابندی عائد کی جائے۔یہ احکامات کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے صوبائی حکومت کی ہدایات پر نگرانی طریقہ کار صوبائی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے ویڈیو لنک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جاری کیے ویڈیو لنک اجلاس میں پشاور ڈویژن کے تمام پانچوں اضلاع پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، قبائلی ضلع مہمند اور ضلع خیبر کے ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز نے بزریعہ ویڈیو لنک شرکت کی اجلاس میں تمام پانچوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز نے اپنے اپنے اضلاع میں امن و امان، خدمات کی فراہمی اور مختلف امور سے متعلق کمشنر پشاور ڈویژن کو تفصیلی آگاہی دی جس کے تناظر میں ضروری احکامات جاری کیے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے صوبائی حکومت کی جانب سے نگرانی طریقہ کار صوبائی ایکشن پلان پر پورا پورا عمل درآمد کرنے، خدمات اور سہولیات کی فراہمی میں تیزی لانے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے اگلے ہفتے جائزہ اجلاس طلب کیا
مشیر صحت احتشام علی سے یونیسیف کے وفد کی ملاقات
مشیر صحت خیبر پختونخوا احتشام علی سے ان کے دفتر میں یونیسیف کے اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت یونیسیف کی کنٹری ہیڈ پرنیلا آئرن سائیڈ کر رہی تھیں۔ وفد میں چیف آف فیلڈ آفس خیبر پختونخوا راڈوسلا راڈک، ہیلتھ ٹیم لیڈ ڈاکٹر انعام اللہ اور نیوٹریشن لیڈ ڈاکٹر آئین خان آفریدی شامل تھے۔ مشیر صحت کے ہمراہ سیکرٹری ہیلتھ شاہداللہ خان نے وفد کا استقبال کیا۔ملاقات کے دوران صوبے میں حالیہ سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال، ماں اور بچے کی صحت، نیوٹریشن، اور دیگر اہم شعبہ جات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مشیر صحت احتشام علی نے محکمہ صحت کے ساتھ یونیسیف کے جاری تعاون پر کنٹری ہیڈ اور ان کے وفد کا شکریہ ادا کیا۔یونیسیف کی جانب سے صوبے میں 450 نیوٹریشنل سائیٹس کی معاونت کی جا رہی ہے۔ مزید برآں، 26 اضلاع میں ڈی ایچ آئی ایس ٹوکے نفاذ، 18 اضلاع میں آکسیجن مینجمنٹ، 13 نیو بارن کیئر یونٹس کی استعداد کار میں اضافہ، اور چار سیکنڈری سطح کے اسپتالوں میں سولرائزیشن کے منصوبے پر کام جاری ہے۔مشیر صحت نے وفد کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کے ویژن کے مطابق حکومت کی خصوصی توجہ صحت اور تعلیم پر مرکوز ہے۔ دور دراز علاقوں جیسے کوہستان اور تورغر میں صحت کی بنیادی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ جنوبی و قبائلی اضلاع میں 72 مراکز صحت کو فعال بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے کئی اسپتالوں کو آؤٹ سورس کیا جا رہا ہے تاکہ خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔یونیسیف کی کنٹری ہیڈ نے افغان ہولڈنگ کیمپ میں حاملہ خواتین اور بچوں کے لیے نیوٹریشنل سہولیات کے قیام پر محکمہ صحت کی تعریف کی۔سیکرٹری ہیلتھ شاہداللہ خان نے وفد کو آگاہ کیا کہ نیوٹریشن پروگرام کو بجٹ کا باقاعدہ حصہ بنانے کے لیے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ محکمہ پی اینڈ ڈی اس حوالے سے ایک منصوبے پر کام کر رہا ہے جس میں بچوں کی نشوونما (سٹنٹنگ) پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ 250 پرائمری کیئر سنٹرز کو ری ویمپ کیا جا رہا ہے جہاں 24/7 زچگی کی سہولیات دستیاب ہوں گی۔یونیسیف کے تعاون سے نیونیٹل آئی سی یوز قائم کیے جا چکے ہیں اور رواں مالی سال میں مزید 10 نیو بارن سنٹرز قائم کیے جائیں گے۔سیکرٹری ہیلتھ نے یہ بھی بتایا کہ معمول کی امیونائزیشن کو مؤثر بنانے کے لیے ویکسینیشن کے اوقات کار میں توسیع کی گئی ہے۔ زچگی کے فوری بعد بچوں کی رجسٹریشن کا عمل کئی اسپتالوں میں شروع کیا جا چکا ہے، جس سے برتھ ڈوز انیشیٹیو کو تقویت مل رہی ہے۔ملاقات کے اختتام پر مشیر صحت احتشام علی اور سیکرٹری ہیلتھ شاہداللہ خان نے یونیسیف کی کنٹری ہیڈ کو اعزازی شیلڈ پیش کی، جبکہ یونیسیف کی جانب سے محکمہ صحت کو بھی اعزازی شیلڈ دی گئی۔
تیسری انٹرنیشنل لائیو سٹاک، پولٹری اینڈ فشریز ایکسپو2025کا انعقاد صوبے میں لائیو سٹاک، پولٹری اور فشریز کے شعبوں کی ترقی میں بہتر نتائج کا حامل ہوگا۔ وزیر لائیو سٹاک۔
صوبائی وزیر لائیو سٹاک نے جمعرات کے روز پشاور میں منعقدہ تیسری انٹرنیشنل لائیو سٹاک، پولٹری اینڈ فشریز ایکسپو2025 کے سٹالوں کا معائنہ کیا اور سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی کو سراہا۔
خیبرپختونخوا کے وزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ پشاور میں منعقد ہونے والی تیسری انٹرنیشنل لائیو سٹاک، پولٹری اینڈ فشریز ایکسپو 2025 صوبے میں لائیو سٹاک، پولٹری اور فشریز کے شعبوں کی ترقی کے حوالے سے بہترین نتائج فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس ایکسپو میں بڑی تعداد میں سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی نہ صرف قابل تحسین ہے بلکہ یہ صوبے کی معیشت کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت محکمہ لائیو سٹاک، فشریز اور کوآپریٹیو کی ترقی کے لیے انقلابی اقدامات کر رہی ہے تاکہ کسانوں، سرمایہ کاروں اور متعلقہ شعبوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ایکسپو کے انعقاد سے صوبے کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے جبکہ صوبہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مرکز کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روزپشاور میں تیسری انٹرنیشنل لائیو سٹاک، پولٹری اینڈ فشریز ایکسپو خیبرپختونخوا کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری برائے لائیو سٹاک اینڈ فشریز و ایم پی اے ملک عدیل اقبال، ایم پی اے وچیئرمین ڈیڈیک سوات اختر خان ایڈوکیٹ اور ایم پی اے شفیع جان سمیت ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک ایکسٹینشن ڈاکٹر اصل خان، ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک ریسرچ اعجاز علی، ڈائریکٹر جنرل فشریز محمد شفیع مروت اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ اس دو روزہ ایکسپو کا انعقاد حکومت خیبرپختونخوا، لائیو سٹاک سیکٹر اور لائیو سٹاک اینڈ پولٹری ویلفیئر ایسوسی ایشن کے تعاون سے کیا گیا تھا جس کا مقصد لائیو سٹاک، پولٹری اور فشریز کے شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور مویشی پال کسانوں کو عالمی معیار کے مواقع فراہم کرنا تھا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے تیسری انٹرنیشنل لائیو سٹاک، پولٹری اور فشریز ایکسپو 2025 کے دوران لگائے گئے مختلف سٹالز کا تفصیلی معائنہ کیا۔ صوبائی وزیر نے بہترین انتظامات اور شرکاء کی بھرپور دلچسپی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے منتظمین کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایکسپو خیبرپختونخوا کے لائیو سٹاک، پولٹری اور فشریز کے شعبوں میں ایک تاریخی سنگ میل ہے جو نہ صرف صوبے کی معیشت کو استحکام دے گی بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کے لیے بھی نئے مواقع فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ایونٹ کے ذریعے صوبہ اور ملک دونوں کی لائیو سٹاک انڈسٹری کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔قبل ازیں صوبائی وزیر نے ایکسپو2025 میں لگائے گئے مختلف سٹالوں کے معائنہ کے دوران اس پروگرام کے انعقاد میں منتظمین کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کی تعریف کی۔تقریب کے اختتام پر شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔
Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa Reviews Progress on Good Governance Roadmap Targets for Different Departments
Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa, Shahab Ali Shah, chaired a review meeting on the good governance roadmap interventions of the Construction and Works (C&W), Minerals and Energy, and Power Departments, attended by Secretaries and relevant officials.
The meeting reviewed key interventions of the C&W department, with the Chief Secretary focusing on three critical areas. Directions were given on adopting light gauge structures for cost-effectiveness and time-saving; initially eight schools have been identified for such structures, with PC1 ready, promising one-third less construction time and 50 years of sustainability. The CS directed an internal departmental review of the roadmap for enhanced output.
Achievements include a 100 percent shift to E-Pads, with directives to ensure 100 percent e-procurement, streamlining bid submission, call deposits, and work analysis online. C&W is to acquire high-end technical expertise to bolster capacity, with a Strategic Planning Design and Support Unit (SPDSU) legal draft ready. SPDSU is envisioned to drive excellence and quality assurance with dedicated HR and tools.
Discussions covered major projects like the Peshawar-DI Khan Motorway (365 km), Swat Motorway Phase 2, and operationalizing RAMS for condition assessment of roads, enabling data-driven assessments. RAMS already operationalized in Peshawar, DI Khan and Haripur.
Regarding the Mines and Minerals Development Department, efforts are ongoing for geological mapping of KP covering 26 maps, crucial for industrial development. The Chief Secretary stressed the importance of mapping, linkage to industrial growth, aiming to map KP’s mining potential by June 2026 alongside developing frameworks to tap this potential. Initiatives include regular site inspections, data upload on the Mining Cadastral System, scholarships for miners’ children, system for digitized payments, and introducing cards for mine labor linked to online registration. Chief Secretary stated that (KPMDMCL) Khyber Pakhtunkhwa Minerals Development and Management Company Limited operationalization is crucial for project execution and investment facilitation.
For the Energy and Power Department, focus areas included establishing an international renewable energy certificate framework to leverage KP’s clean energy potential, and progress on projects like Madyan hydropower project, Kalam Gabral (88 MW), and Balakot (300 MW), with e-procurement implementation via E-Pads completed.
The Chief Secretary emphasized categorization of departments based on roadmap interventions, underscoring the government’s commitment to development and effective governance in Khyber Pakhtunkhwa.
New UNICEF County Representative Calls on Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa in Peshawar
Ms. Pernille Ironside, the newly appointed Country Representative of UNICEF, met with Shahab Ali Shah, Chief Secretary of Khyber Pakhtunkhwa, for an introductory meeting in Peshawar on Wednesday. They agreed to further strengthen the strategic partnership and enhance future cooperation between UNICEF and the Government of Khyber Pakhtunkhwa.
