خیبر پختونخوا کے وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان نے حلقہ نیابت پی کے 26 بونیر کے علاقے پرشالئی میں تین مختلف مقامات پر کمیونٹی حجروں کے قیام کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔یہ عوامی فلاحی منصوبے صوبائی وزیر کے ترقیاتی فنڈ سے مکمل کیے گئے ہیں۔افتتاحی تقریبات میں صوبائی وزیر سید فخر جہان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی جبکہ مقامی عمائدین و مشران کے ہمراہ فیتہ کاٹ کر ان عوامی مراکز کا افتتاح کیا گیا۔اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین و رکن قومی اسمبلی بیرسٹر گوہر علی خان کے بھائی اور ضلعی رہنما احمد خان، بخراد خان، وقارالملک خان، قیصر علی ایڈووکیٹ، ارشاد عالم سمیت تحریک انصاف کے دیگر قائدین بھی موجود تھے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سید فخر جہان نے کہا کہ کمیونٹی حجرے ہماری ثقافت اور سماجی ہم آہنگی کا اہم حصہ ہیں جہاں عوامی مسائل کے حل، مشاورت اور باہمی روابط کو فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی فلاح و بہبود کے ایسے منصوبوں کو ترجیح دے رہی ہے جو براہِ راست عوام کو سہولت فراہم کریں اور مقامی سطح پر سماجی ڈھانچے کو مضبوط بنائیں۔مقامی مشران نے صوبائی وزیر کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سید فخر جہان علاقے کی تاریخ میں پہلے رکن اسمبلی ہیں جو حلقہ پی کے 26 کے ہر گاؤں کی یکساں ترقی کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔انہوں نے ان عوامی و روایتی ثقافتی منصوبوں پر صوبائی وزیر کا شکریہ ادا کیا۔مقامی زعماء کا کہنا تھا کہ علاقے میں عمران خان کے وژن کے مطابق صوبائی حکومت، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی قیادت اور صوبائی وزیر سید فخر جہان کی سرپرستی میں مختلف شعبہ جات میں نمایاں ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔دریں اثناء، صوبائی وزیر نے مقامی قیادت کے ہمراہ گاؤں امنور، نری تنگی اور غوحدرہ کا خصوصی دورہ کیا جہاں انہوں نے مقامی عمائدین، معززین اور پارٹی کارکنان سے ملاقاتیں کیں اور ان کے مسائل سنے۔ صوبائی وزیر نے موقع پر ہی متعلقہ حکام کو مسائل کے فوری حل کے لیے ہدایات جاری کیں۔صوبائی وزیر نے دورے کے دوران گاؤں امنور علیخا میرہ میں ایک بڑی شمولیتی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی جس میں عوامی ورکرز پارٹی تحصیل چغرزی کے صدر اور جماعت اسلامی کے اہم رکن صفدر خان نے اپنے خاندان اور عزیز و اقارب سمیت پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا پشاور زلمی کی پاکستان سپر لیگ کا فائنل جیتنے پر مبارکباد
پاکستان سپر لیگ 11 میں پشاور زلمی نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا، شفیع جان
پشاور زلمی کے کھلاڑیوں نے محنت، جذبے اور ٹیم ورک سے پاکستان سپر لیگ کا ٹائٹل اپنے نام کرلیا، شفیع جان
محنت اور لگن سے ہر میدان میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، شفیع جان
پاکستان میں نوجوان ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، ایسے ایونٹس کھیلوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، شفیع جان
کھیلوں کے فروغ سے مثبت سرگرمیوں کو تقویت ملتی ہے، شفیع جان
صوبائی حکومت نوجوان ٹیلنٹ کی تلاش اور نوجوانوں کو کھیلوں کی طرف راغب کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، شفیع جان
Provincial Government Introducing Interest-Free Loan Scheme for Journalists, CM’s aide on information
Special Assistant to the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa on Information and Public Relations, Shafi Jan, has said that the Khyber Pakhtunkhwa government firmly believes in free and responsible journalism and has placed the welfare of journalists among its top priorities.
He stated that the seed money of the endowment fund established for the welfare of journalists has been doubled to enable more journalists to benefit from it.
Shafi Jan further said that a special grant of Rs. 400 million has been approved for the payment of outstanding advertisement dues to newspapers, while an additional Rs. 400 bmillion will be released in the upcoming budget. He clarified that the payment of these dues to newspapers is being made conditional upon the clearance of journalists’ salaries and dues to ensure protection of their rights.
He added that the provincial government, under the leadership of Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Muhammad Sohail Afridi, is also introducing an easy interest-free loan scheme for journalists.
He expressed these views while addressing a ceremony held at the National Press Club Islamabad in connection with World Press Freedom Day, organized by the Pakistan Federal Union of Journalists.
The Special Assistant said that the current federal government’s attitude towards journalists is regrettable. Actions are being taken against journalists under laws such as the PECA Act, and prominent journalists are being taken off air. He paid tribute to the martyred journalists who sacrificed their lives for press freedom.
He said that there is complete political and media freedom in Khyber Pakhtunkhwa, and criticism of any government member, including the Chief Minister, is fully allowed without any punitive action. He added that political parties have full freedom to hold gatherings, whereas in other provinces, Pakistan Tehreek-e-Insaf is being restricted from political activities.
He further said that during the general elections, election results were changed through Form 47; however, despite this, the party continues to enjoy public trust.
KP Leads in Good Governance with Record 52 Cabinet Meetings: Muzzammil Aslam
Advisor to the Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa on Finance Muzzammil Aslam has issued an important statement regarding cabinet meetings and good governance, stating that Khyber Pakhtunkhwa has surpassed other provinces in good governance. Compared to other provinces, the Khyber Pakhtunkhwa cabinet has held the highest number of meetings. He said that since February 8, 2024, a total of 52 cabinet meetings have been held in Khyber Pakhtunkhwa, while the Punjab government has held 32 meetings. Similarly, according to an estimate, Sindh has held between 40 to 50 meetings, whereas Balochistan has held fewer than 30. He added that the Khyber Pakhtunkhwa government believes in revolutionary reforms and initiatives.
وزیر ایکسائز سید فخرجہان کا ضلع بونیر میں تحصیل گاگرا ٹی ایم اے کیلئے جدید سینیٹیشن مشینری فراہمی منصوبے کا افتتاح
خیبر پختونخوا کے وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول نے اتوار کے روز ضلع بونیر میں تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن گاگرا کیلئے جدید سینیٹیشن مشینری فراہمی منصوبے کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔
تحصیل سطح پر شہری علاقوں کی صفائی وستھرائی کیلئے اس اہم سینیٹیشن منصوبے پر مجموعی طور پر 2 کروڑ 50 لاکھ روپے لاگت آئی ہے جس کے تحت جدید گاڑیاں اور مشینری خریدی گئی ہے تاکہ صفائی کے نظام کو مؤثر اور تیز رفتار بنایا جا سکے۔افتتاحی تقریب میں تحصیل میونسپل افیسر امیر عالم خان، پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے بھائی احمد خان،سابق سپیکر تحصیل گاگرا وقارالملک خان اورقیصر علی ایڈوکیٹ موجود تھے۔
اس موقع پر افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سید فخرجہان نے کہا کہ موجودہ حکومت عوامی خدمت، شفافیت اور گڈ گورننس کے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے صوبے میں ترقیاتی عمل کو تیز کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف بلدیاتی نظام کی بہتری کی عکاسی کرتا ہے بلکہ بانی چیئر مین عمران خان کے وژن کے مطابق عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کی عملی مثال بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹی ایم اے گاگرا کیلئے جدید سینیٹیشن مشینری کی خریداری و فراہمی ایک اہم سنگِ میل ہے جس سے عوامی سہولت میں آسانی آئے گی اور صفائی کے نظام کو مزید مؤثر، منظم اور پائیدار بنایا جائے گا۔جدید مشینری کی دستیابی سے کچرے کی بروقت منتقلی اور محفوظ تلفی ممکن ہوگی جس کے نتیجے میں شہری علاقوں میں صفائی کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی اور عوام کو بہتر بلدیاتی سہولیات میسر آئیں گی۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ عوام کی خدمت اور فلاح و بہبود صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اسی وژن کے تحت ترقیاتی منصوبوں کا دائرہ کار بڑھایا جا رہا ہے تاکہ ہر شہری کو یکساں سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اس طرح کے عوامی منصوبوں کا سفر حلقے میں جاری رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام ماحولیاتی آلودگی میں کمی، صحتِ عامہ کے تحفظ اور ایک صاف ستھرے معاشرے کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گا۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شفافیت اور مؤثر سروس ڈلیوری کے ذریعے عوامی خوشحالی کیلئے حلقے میں ایسے اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رکھے جائیں گے۔
CM’s aide on Information Shafi Jan’s message on World Press Freedom Day
Special Assistant to the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa on Information and Public Relations, Shafi Jan, in his message on the occasion of World Press Freedom Day on 3rd May,has said that free and responsible journalism forms the foundation of any democratic society and plays a vital role in promoting transparency, accountability, and public awareness.
He emphasized that access to reliable information, along with the role of media in fostering dialogue and mutual trust, is of paramount importance for peace, economic stability, sustainable development, and the protection of human rights.
Shafi Jan noted that in the present era, while the speed of information dissemination has increased significantly, challenges such as fake news, propaganda and the misuse of artificial intelligence are also emerging, which undermine public trust.
He also expressed concern over the growing pressures on press freedom worldwide. He further stated that the threats and economic hardships faced by journalists require urgent attention.
The Special Assistant reaffirmed that the Government of Khyber Pakhtunkhwa remains committed to safeguard press freedom, ensuring the protection of journalists, and promoting their professional rights, and is taking all possible steps in this regard.
He also paid tribute to journalists who sacrificed their lives in the line of duty, stating that their services and sacrifices will always be remembered with respect and honor.
صوبائی کابینہ کا 52واں اجلاس
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں جاری ڈرون حملوں اور وفاق کی جانب سے صوبے کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج کا اجلاس خصوصی طور پر مسلسل ڈرون حملوں کے خلاف بلایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سمجھتی ہے کہ ڈرون حملے اور فوجی آپریشنز، جن کے نتیجے میں کولیٹرل ڈیمیج ہو رہا ہے، صوبے کی عوام کے لیے ناسور بن چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے اور عوام میں انتقام کے رجحانات بڑھ رہے ہیں، جو پورے ملک کے لیے نقصان دہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کولیٹرل ڈیمیج کے باعث قیمتی انسانی جانوں کا مسلسل ضیاع ہو رہا ہے جس کی صوبائی حکومت شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اجلاس کا دوسرا مقصد صوبے کے حقوق پر ڈاکے اور وفاق کی جانب سے مسلسل ناانصافی کے خلاف مؤثر لائحہ عمل طے کرنا ہے۔ صوبائی کابینہ نے صوبے کو درپیش گیس بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ خیبر پختونخوا گیس پیدا کرنے والا صوبہ ہونے کے باوجود بدترین لوڈشیڈنگ کا شکار ہے، جس سے کمرشل سرگرمیاں اور سی این جی انڈسٹری بری طرح متاثر ہو رہی ہیں جبکہ گھریلو صارفین بھی شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت قدرتی وسائل پر پہلا حق اسی صوبے کا ہے جہاں وہ پیدا ہوتے ہیں، تاہم اس آئینی تقاضے پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا 400 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کر رہا ہے جبکہ صوبے کی ضرورت 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، اس کے باوجود لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ اپنی ضرورت سے زائد 250 ایم ایم سی ایف ڈی گیس وفاق اور دیگر صوبوں کو فراہم کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود مقامی، کاروباری اور گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی بند ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وفاق کی جانب سے صوبے کے ساتھ مسلسل امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے جس سے عوام میں بے چینی اور نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی شیئر، بقایاجات، گندم، گیس اور بجلی سمیت متعدد شعبوں میں خیبر پختونخوا کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے جبکہ پنجاب کی جانب سے گندم کی فراہمی بھی روکی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا گیس، بجلی، معدنیات اور جنگلات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر کے ملک کی خدمت کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود صوبے کے ساتھ امتیازی رویہ رکھا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے خبردار کیا کہ اگر گیس کا مسئلہ دو دن کے اندر حل نہ کیا گیا تو صوبائی حکومت تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر بھرپور احتجاج کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام، بزنس کمیونٹی، تاجروں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ کھڑی ہوگی اور مشترکہ احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈرون حملوں کے خلاف بھی بھرپور عوامی ردعمل دیا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کل قبائلی مشران اور تمام سیاسی جماعتوں کا لویہ جرگہ طلب کیا گیا ہے جس میں آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ اگر وفاقی حکومت نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو صوبائی حکومت سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوگی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے صوبائی کابینہ کے 52ویں اجلاس کے اہم فیصلوں سے متعلق میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کابینہ نے ماحولیاتی تحفظ، اقلیتی فلاح، آبپاشی، صحت، تعلیم، بلدیات اور غذائی تحفظ سے متعلق کئی اہم فیصلوں کی منظوری دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ نے خیبرپختونخوا کلائمیٹ ایکشن بورڈ (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری دی، جس کا مقصد خیبرپختونخوا کلائمیٹ کونسل کے ذریعے کلائمیٹ ایکشن بورڈ کی نگرانی اور مؤثر رہنمائی کو یقینی بنانا ہے۔ اس ترمیم کے تحت ہنگامی صورتحال، بحالی اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی فنڈ بھی قائم کیا جائے گا تاکہ متاثرہ علاقوں میں بروقت بحالی اور تعمیرِ نو ممکن بنائی جا سکے۔
شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے وزیراعلیٰ ڈیجیٹل انکلوژن پروگرام برائے اقلیتی طلبہ کے لیے 11 کروڑ 25 لاکھ روپے کی خصوصی گرانٹ کی منظوری دی۔ اسی طرح دہشت گردی سے متاثرہ اقلیتوں کے لئے قائم انڈومنٹ فنڈ کی رقم 20 کروڑ روپے سے بڑھا کر 30 کروڑ روپے کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ نے خصوصی رعایت دیتے ہوئے مردان، نوشہرہ اور ہری پور میں مختلف واقعات کے متاثرین کے لیے امدادی پیکج منظور کیا، جس کے تحت جاں بحق افراد کے لواحقین کو 25 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو 10 لاکھ روپے فی کس ادا کیے جائیں گے۔
کابینہ نے خیبرپختونخوا ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے لیے 16 کروڑ 81 لاکھ روپے گرانٹ اِن ایڈ کی منظوری بھی دی۔ اس کے علاوہ بہائی برادری کے لیے اسپیشل میرج ایکٹ 1872 کے تحت دو میرج رجسٹرار مقرر کرنے اور لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے لیے مختلف کیڈرز کی چھ نئی آسامیوں کی منظوری بھی دی گئی۔
شفیع جان کے مطابق کابینہ نے خیبرپختونخوا گورنمنٹ سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے مالیاتی قواعد 2026، خیبرپختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کے سروس رولز و ضوابط میں ترمیم اور مزید سکول لیڈرز کی کنٹریکٹ بنیادوں پر دوبارہ تعیناتی کی بھی منظوری دی۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ نے انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ سائنسز (فاؤنٹین ہاؤس) پشاور کو ایم ٹی آئی حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور کا زیلی ادارہ قرار دینے کی منظوری دی۔ اسی طرح خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی میں ڈائریکٹر جنرل کی پوسٹ پر تعیناتی کی بھی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے محکمہ زراعت کو مالاکنڈ ڈویژن میں ٹمپریٹ رائس ریسرچ اسٹیشن قائم کرنے کے لیے اراضی کی منتقلی کی بھی منظوری دی۔
شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے مینگورہ سوات میں میاں گل عبدالحق جہانزیب کڈنی ہسپتال کو جدید کڈنی ٹرانسپلانٹ سینٹر بنانے کے لیے 18 کروڑ روپے اضافی گرانٹ کی منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے جدید طبی سہولیات فراہم ہوں گی اور مریضوں کو اپنے علاقے میں ہی گردوں کی پیوندکاری کی سہولت میسر آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ نے عوام کو پیدائش، وفات، شادی، طلاق اور دیگر اہم اندراجات کی آن لائن رجسٹریشن اور سرٹیفکیٹ فراہمی کے لیے ڈیجیٹل اصلاحات کی منظوری بھی دی ہے۔
غذائی تحفظ کے حوالے سے شفیع جان نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے سرکاری شعبے سے 2 لاکھ 25 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدنے کی منظوری دی ہے۔ گندم کی قیمت 3 ہزار 500 روپے فی 40 کلو مقرر کی گئی ہے جبکہ اس خریداری پر مجموعی طور پر 19 ارب 68 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔
دلکش نغموں کا امین، فطرت کا حسین مہمان — توت خوراکہ پرندہ کے تحفظ کیلئے مشترکہ عزم
محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبر پختونخوا کی جانب سے عوامی آگاہی مہم کے تحت خوبصورت اور دلکش آواز کے حامل پرندے “توت خوراکہ” کے تحفظ کیلئے ایک جامع پیغام جاری کیا گیا ہے۔ یہ پرندہ نہ صرف قدرت کی رنگینیوں کا حسین استعارہ ہے اور ہمارے ماحولیاتی نظام کا ایک نہایت اہم جزو بھی ہے۔ماہرین کے مطابق توت خوراکہ (Berry-eating bird) بہار کے موسم میں بالخصوص پاکستان کے سرسبز علاقوں میں نمودار ہوتا ہے اور مختلف اقسام کے جنگلی پھلوں خصوصاً شہتوت اور بیریوں سے اپنی غذا حاصل کرتا ہے۔ اس کی خوش الحان چہچہاہٹ صبح کی فضاؤں میں ایک روح پرور نغمہ بکھیرتی ہے جو فطرت کے حسن کو دوبالا کر دیتی ہے۔محکمہ نے اپنے پیغام میں واضح کیا ہے کہ یہ پرندہ کسی بھی طرح کے شکار یا نقصان کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بدقسمتی سے بعض عناصر کی جانب سے غلیل اور بندوق کے ذریعے ایسے معصوم پرندوں کا شکار کیا جاتا ہے جو نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ ماحول کے قدرتی توازن کو بھی شدید متاثر کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پرندے بیجوں کی افزائش اور جنگلات کے قدرتی پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان کا تحفظ درحقیقت ہماری اپنی بقا سے جڑا ہوا ہے۔محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات کے سیکرٹری جنید خان نے عوام، بالخصوص بچوں اور نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ فطرت دوست رویوں کو اپنائیں، سکولوں اور کمیونٹی سطح پر آگاہی کو فروغ دیں اور جنگلی حیات کے تحفظ میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔ اس سلسلے میں مقامی کمیونٹیز، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے اشتراک سے آگاہی پروگرامز بھی ترتیب دیے جا رہے ہیں تاکہ ماحول دوست سوچ کو فروغ دیا جا سکے۔محکمہ کے ترجمان لطیف الرحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر ہم آج ان خوبصورت پرندوں کو بچائیں گے تو آنے والی نسلیں بھی ان کے سحر انگیز نغموں اور دلکش موجودگی سے لطف اندوز ہو سکیں گی۔ جنگلی حیات کا تحفظ محض ایک ذمہ داری نہیں بلکہ ہماری تہذیبی اور اخلاقی وراثت کا حصہ ہے۔محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبر پختونخوا نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر قانونی شکار کی نشاندہی کریں، درختوں اور قدرتی مسکن کو محفوظ بنائیں اور ایک سرسبز و پائیدار خیبر پختونخوا کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے حیات آباد میں واقع حبیب فزیوتھراپی کمپلیکس کا دورہ کیا۔ یہ دورہ صوبے میں بحالی صحت کی سہولیات کو مزید مؤثر بنانے کے حکومتی عزم کا حصہ ہے
دورے کے موقع پر وزیر صحت کا ادارے کی انتظامیہ اور متعلقہ حکام نے پرتپاک استقبال کیا۔ وزیر صحت نے اس موقع پر جسمانی معذوری کا شکار افراد میں 20 ویل چیئرز تقسیم کیں، جو حکومت کی جانب سے خصوصی افراد کی فلاح و بہبود اور ان کی معاونت کے عزم کا واضح اظہار ہے۔
اس موقع پر ڈائریکٹر ایم ایم آئی اور حبیب فزیوتھراپی کمپلیکس کی انتظامیہ نے وزیر صحت کو ادارے میں فراہم کی جانے والی مختلف طبی سہولیات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ادارے میں فزیوتھراپی، اسپیچ تھراپی، آڈیالوجی، نفسیاتی خدمات (سائیکالوجی) اور معاون آلات (Assistive Devices) کی فراہمی جیسی اہم سہولیات دستیاب ہیں، جہاں صوبے بھر سے مریض علاج کی غرض سے آتے ہیں۔
صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے کمپلیکس کے مختلف شعبوں کا دورہ بھی کیا اور زیر علاج مریضوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے خاص طور پر پولیو، فالج (اسٹروک)، اعصابی امراض میں مبتلا مریضوں، خصوصی بچوں اور بزرگ افراد کے علاج و بحالی کے عمل کا جائزہ لیا۔ وزیر صحت نے مریضوں اور ان کے اہل خانہ سے بات چیت کی اور فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر صحت خلیق الرحمان نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا صحت کے شعبے میں بہتری کے ساتھ ساتھ بحالی صحت کی سہولیات کو بھی ترجیح دے رہی ہے تاکہ خصوصی افراد کو معاشرے میں باعزت اور خودمختار زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا وژن ہے کہ کوئی بھی فرد علاج اور بحالی کی سہولیات سے محروم نہ رہے۔انہوں نے ادارے کے ڈاکٹرز، تھراپسٹس اور دیگر عملے کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ نہایت محنت اور لگن سے مریضوں کی بحالی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ وزیر صحت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے اور جدید آلات و تربیت یافتہ افرادی قوت کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
صوبائی وزیر صحت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مستقبل میں ایسے اداروں کو مزید مضبوط کرے گی اور صوبے کے دور دراز علاقوں تک بحالی صحت کی سہولیات کا دائرہ کار وسیع کیا جائے گا۔دورے کے اختتام پر وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ ایک مضبوط صحت کا نظام وہی ہوتا ہے جہاں مریضوں کو نہ صرف علاج بلکہ مکمل بحالی اور بہتر معیارِ زندگی بھی فراہم کیا جائے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان نے محکمہ ایکسائز کے افسران اور عملے کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ رواں مالی سال کیلئے ٹیکس محاصل کی مد میں متعین اہداف کو ہر حالت میں پوری کرے
خیبر پختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان نے محکمہ ایکسائز کے افسران اور عملے کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ رواں مالی سال کیلئے ٹیکس محاصل کی مد میں متعین اہداف کو ہر حالت میں پوری کرے۔ انھوں نے جون تک صوبہ بھر میں ایکسائز وٹیکسیش دفاترکی ریکوری کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے احکامات جاری کئے۔یہ ہدایات انھوں نے جمعرات کے روز پشاور میں محکمہ ایکسائز کی ماہانہ ٹیکس ریکوری کارکردگی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیے۔ اجلاس میں سیکرٹری ایکسائز وٹیکسیش اور نارکوٹکس کنٹرول خالد الیاس، ڈایریکٹر جنرل ایکسائز عبدالحلیم خان سمیت ایڈیشنل ڈایریکٹر جنرل، ڈایریکٹرز،پشاور کے مختلف ایکسائز دفاتر کے افسران اور بذریعہ زوم دیگر اضلاع کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں مارچ 2026 تک سال رواں کے دوران 9 مہینوں میں محکمہ کے مختلف دفاتر کی جانب سے اکھٹے کیے گئے محصولات کے اعدادوشمار اور سال بھر کیلئے متعین اہداف کا تقابلی جایزہ لیا گیا۔اجلاس میں صوبائی وزیر کو اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے سال 2025 اور 26 کے پہلے 9 ماہ جولائی تا مارچ کے دوران ٹیکسوں کی وصولی میں نمایاں پیش رفت دکھائی گئی۔انہیں بتایا گیا کہ ٹیکسیشن کے تمام ہیڈز میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں واضح اضافہ حاصل ہوا ہے کیونکہ مجموعی ریکوری میں جولائی تا مارچ کے 9 ماہ کے دوران مجموعی ٹیکس ریکوری 5136.8 ملین روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ اعداد وشمار 4314.6 ملین روپے تھے۔اسی طرح مجموعی طور پر 9 مہینوں کے دوران 822.2 ملین روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہے اور ایندہ 3 مہینوں کے دوران مزید محاصل سے متعین ہدف کو پورا کیا جا سکے گا۔اس موقع پر مختلف ای ٹی اوز کے اعشاریوں کو بہتر کرنے کی ہدایت کی گء اور صوبائی وزیر نے کہا کہ اہداف کے حصول کے حوالے سے کسی بھی طرح کی نرمی کی گنجائش نہیں ہے جبکہ متعین ٹارگٹس کو جون تک ہر حالت میں حاصل کرنا ہوگا۔انھوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بعض ای ٹی اوز کی کوششوں کو سراہا
