Home Blog Page 97

وفاقی حکومت کی جانب سے ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے 278 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 284 روپے فی لٹر کرنے کے بعد صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی خیبر پختونخوا نے صوبے میں بین الاضلاعی مسافر بردار گاڑیوں کی کرایوں میں اضافے کا اعلامیہ جاری کردیا

وفاقی حکومت کی جانب سے ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے 278 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 284 روپے فی لٹر کرنے کے بعد صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی خیبر پختونخوا نے صوبے میں بین الاضلاعی مسافر بردار گاڑیوں کی کرایوں میں اضافے کا اعلامیہ جاری کردیا جس کے مطابق فلائنگ کوچز/ منی بسیں 2.99 روپے، اے سی بسیں 3.19 روپے، عام بسیں 2.84 روپے اور ڈیللیکس بسیں 2.94 روپے فی کلومیٹر فی مسافر کے حساب سے کرایہ وصول کریں گی، تفصیلات کے مطابق پشاور تاکوہاٹ فلائنگ کوچز/ منی بسیں 194 روپے، اے سی بسیں 207 روپے، عام بسیں 185 روپے اور ڈیلکس بسیں 191 روپے کرایہ وصول کریں گی اسی طرح پشاور تابنوں فلائنگ کوچز/ منی بسیں 583روپے،اے سی بسیں 622روپے،عام بسیں 554روپے اور ڈیلکس بسیں 573روپے،پشاور تاڈی آئی خان فلائنگ کوچز/ منی بسیں 957روپے،اے سی بسیں 1021روپے،عام بسیں 909روپے اور ڈیلکس بسیں 941روپے، پشاور تاہری پور فلائنگ کوچز/ منی بسیں 466روپے،اے سی بسیں 498روپے،عام بسیں 443روپے اور ڈیلکس بسیں 459روپے، پشاور تا ایبٹ آباد فلائنگ کوچز/ منی بسیں 583روپے،اے سی بسیں 622روپے،عام بسیں 554روپے اور ڈیلکس بسیں 573روپے، پشاور تا مانسہرہ فلائنگ کوچز/ منی بسیں 661روپے،اے سی بسیں 705روپے،عام بسیں 628روپے اور ڈیلکس بسیں 650روپے، پشاور تا مردان فلائنگ کوچز/ منی بسیں 173روپے،اے سی بسیں 185روپے،عام بسیں 165روپے اور ڈیلکس بسیں 171روپے،پشاور تا مالاکنڈ فلائنگ کوچز/ منی بسیں 353روپے،اے سی بسیں 376روپے،عام بسیں 335روپے اور ڈیلکس بسیں 347روپے، پشاور تا تیمرگرہ فلائنگ کوچز/ منی بسیں 529روپے،اے سی بسیں 565روپے،عام بسیں 503روپے اور ڈیلکس بسیں 520روپے، پشاور تا مینگورہ
فلائنگ کوچز/ منی بسیں 514روپے،اے سی بسیں 549روپے،عام بسیں 488روپے اور ڈیلکس بسیں 506روپے، پشاور تا دیر
فلائنگ کوچز/ منی بسیں 748روپے،اے سی بسیں 798روپے،عام بسیں 710روپے اور ڈیلکس بسیں 735روپے، پشاور تا چترال فلائنگ کوچز/ منی بسیں 1091روپے،اے سی بسیں 1164روپے،عام بسیں 1037روپے اور ڈیلکس بسیں 1037روپے،
پشاور تا چارسدہ فلائنگ کوچز/ منی بسیں 81روپے،اے سی بسیں 86روپے،عام بسیں 77روپے اور ڈیلکس بسیں 79روپے،
پشاور تا میران شاہ فلائنگ کوچز/ منی بسیں 780روپے،اے سی بسیں 833روپے،عام بسیں 741روپے اور ڈیلکس بسیں 767
روپے، مردان تا ہری پور موٹر وے فلائنگ کوچز/ منی بسیں 347روپے،اے سی بسیں 370روپے،عام بسیں 329روپے اور ڈیلکس بسیں 341روپے، پشاور تاٹانک فلائنگ کوچز/ منی بسیں 837روپے،اے سی بسیں 893روپے،عام بسیں 795روپے اور ڈیلکس بسیں 823روپے، مردان تا مانسہرہ موٹر وے فلائنگ کوچز/ منی بسیں 532روپے،اے سی بسیں 568روپے،عام بسیں 506
روپے اور ڈیلکس بسیں 523روپے، کوہاٹ تا ڈی آئی خان فلائنگ کوچز/ منی بسیں 694روپے،اے سی بسیں 740روپے،عام بسیں 659روپے اور ڈیلکس بسیں 682روپے،مردان تا ڈی آئی خان فلائنگ کوچز/ منی بسیں 1052روپے،اے سی بسیں 1123
روپے،عام بسیں 1000روپے اور ڈیلکس بسیں 1035روپے،مردان تا ایبٹ آباد موٹر وے فلائنگ کوچز/ منی بسیں 460روپے،
اے سی بسیں 491روپے،عام بسیں 437روپے اور ڈیلکس بسیں 453روپے، مینگورہ تا صوابی موٹر وے فلائنگ کوچز/ منی بسیں 389
روپے،اے سی بسیں 415روپے،عام بسیں 369روپے اور ڈیلکس بسیں 382روپے،مینگورہ تا مردان موٹر وے فلائنگ کوچز/ منی بسیں 317روپے،اے سی بسیں 338روپے،عام بسیں 301روپے اور ڈیلکس بسیں 312روپے، پشاور تا تیمر گرہ موٹر وے
فلائنگ کوچز/ منی بسیں 595روپے،اے سی بسیں 635روپے،عام بسیں 565روپے اور ڈیلکس بسیں 585روپے، پشاور تا مینگورہ موٹر وے فلائنگ کوچز/ منی بسیں 589روپے،اے سی بسیں 628روپے،عام بسیں 559روپے اور ڈیلکس بسیں 579روپے، پشاورتا بونیر موٹر وے فلائنگ کوچز/ منی بسیں 466روپے،اے سی بسیں 498روپے،عام بسیں 443روپے اور ڈیلکس بسیں 459روپے، پشاور تاباجوڑ فلائنگ کوچز/ منی بسیں 398روپے،اے سی بسیں 424روپے،عام بسیں 378روپے اور ڈیلکس بسیں 391روپے،مردان تاتیمرگرہ فلائنگ کوچز/ منی بسیں 323روپے،اے سی بسیں 345روپے،عام بسیں 345روپے اور ڈیلکس بسیں 307روپے،دان تا باجوڑ فلائنگ کوچز/ منی بسیں 404روپے،اے سی بسیں 431روپے،عام بسیں 383روپے اور ڈیلکس بسیں روپے397 روپے، پشاور تا لکی مروت فلائنگ کوچز/ منی بسیں 615روپے،اے سی بسیں 657روپے،عام بسیں 585روپے اور ڈیلکس بسیں 606
روپے، پشاور تا ہنگو فلائنگ کوچز/ منی بسیں 332روپے،اے سی بسیں 354روپے،عام بسیں 315روپے اور ڈیلکس بسیں 326
روپے، پشاور تا کرک فلائنگ کوچز/ منی بسیں 416روپے،اے سی بسیں 443روپے،عام بسیں 345روپے اور ڈیلکس بسیں 409
روپے، پشاور تا ٹل فلائنگ کوچز/ منی بسیں 499روپے،اے سی بسیں 533روپے،عام بسیں 474روپے اور ڈیلکس بسیں 491
روپے، پشاور تا کرم فلائنگ کوچز/ منی بسیں 646روپے،اے سی بسیں 689روپے،عام بسیں 613روپے اور ڈیلکس بسیں 635
روپے کرایہ وصول کریں گی۔

خیبر پختونخوا میں قانون سازی کو مؤثر بنانے اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے خیبر پختونخوا کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کا اجلاس صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم ایڈوکیٹ کی زیر صدارت پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا میں قانون سازی کو مؤثر بنانے اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے خیبر پختونخوا کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کا اجلاس صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم ایڈوکیٹ کی زیر صدارت پشاور میں منعقد ہوا جس میں وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان، وزیر صحت خلیق الرحمان،ایڈوکیٹ جنرل کے پی شاہ فیصل اتمانخیل،سیکرٹری محکمہ قانون اختر سعید ترک، سیکرٹری ایکسائز خالد الیاس، محکمہ صحت، محکمہ قانون، محکمہ خزانہ، بورڈ آف ریونیو سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹانس ترمیمی ایکٹ 2025، خیبر پختونخوا،ھندو میرج بل، ہیلتھ کیئر کمیشن ترمیمی بل2025،ڈرگز ایکٹ 1976 ترمیمی بل، خیبر پختونخوا پروہیبیشن آف سموکنگ ٹوباکو پراڈکٹس اینڈ پروٹیکشن آف نان سموکرز ہیلتھ ایکٹ کے مسودات میں ضروری ترامیم کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔محکمہ ایکسائز کی جانب سے خیبرپختونخوا کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹنسز ایکٹ 2019 میں ترامیم کے مسودے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس کا مقصد قانون کو عالمی تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کرنا تھا۔موجودہ قانون کے تحت بڑی مقدار میں ہیروئن، کوکین، آئس وغیرہ پر موت کی سزا کو ختم کر کے عمر قید سے تبدیل کرنے کی اصولی منظوری کے حوالے سے آراء دی گئیں۔تفصیلی جائزے کے لیے قائم شدہ سب کمیٹی جس کی قیادت ایڈیشنل سیکرٹری ایکسائز،دیگر ارکان میں نمائندہ ایڈووکیٹ جنرل، محکمہ قانون، پراسی کیوشن، ڈی جی ایکسائز شامل ہیں، فوری طور پر مقدارِ منشیات، سزاؤں، ضمانت تناسب، پنجاب/سندھ قوانین سے موازنہ، اسلامی/سماجی اثرات اور اسٹیک ہولڈرز مشاورت مکمل کر کے رپورٹ جمع کرائے گی۔وزیر قانون نے ہدایت کی کہ منشیات کے خاتمے کی پالیسی برقرار رہے مگر سزائیں انسانی حقوق اور عالمی معیارات کے مطابق ہوں۔اجلاس میں ہندو میرج بل کے مجوزہ مسودے پر بھی تفصیلی غور کیا گیا جس کا مقصد صوبے میں ہندو برادری کو ازدواجی حقوق سے متعلق قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس بل کے تحت ہندو شہریوں کی شادیوں کی باقاعدہ رجسٹریشن، ازدواجی ریکارڈ کی درستگی اور قانونی دستاویزی حیثیت کو یقینی بنایا جائے گا، جس سے نہ صرف ان کے ذاتی اور سماجی مسائل حل ہوں گے بلکہ وراثت اور دیگر حقوق کے معاملات میں بھی آسانی پیدا ہوگی۔ ہندو میرج بل کے نفاذ سے خیبر پختونخوا کی ہندو برادری کو وہ قانونی حیثیت اور تحفظ ملے گا جو پاکستان کے دیگر صوبوں میں پہلے ہی سے رائج ہے، اور اس سے معاشرتی ہم آہنگی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ میں خاطر خواہ بہتری آئے گی۔اجلاس میں خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن ترمیمی بل کا جامع جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو ترمیمی نکات، عوامی شکایات کے ازالے کے طریقہ کار، ہیلتھ کیئر اداروں کے لائسنسنگ نظام، نگرانی کے مؤثر عمل، اور سروس ڈیلیوری میں شفافیت بڑھانے سے متعلق اہم تبدیلیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔وزیر قانون نے اس موقع پر کہا کہ صحت عامہ سے متعلق قوانین میں بہتری صوبے بھر میں معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ترمیمی بل میں عوامی مفاد، جوابدہی، شفافیت اور ادارہ جاتی مضبوطی کو اولین ترجیح دی جائے۔مزید برآں، اجلاس میں تجاویز دی گئیں کہ شکایات کے ازالے کے عمل کو آسان بنایا جائے، کمیشن کو دی گئی تحقیقات کے اختیارات کو واضح کیا جائے، جبکہ بعض شقوں میں تکنیکی بہتری لاتے ہوئے انہیں زمینی حقائق کے مطابق ڈھالا جائے۔وزیر قانون نے امید ظاہر کی کہ ترمیمی بل کی منظوری سے ہیلتھ کیئر کمیشن کی کارکردگی میں مؤثر اضافہ ہوگا اور عوام کو معیاری، محفوظ اور شفاف طبی خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔ اجلاس میں ڈرگز ایکٹ 1976 میں اہم ترامیم کی منظوری کے حوالے سے مختلف تجاویز زیر غور آئیں۔اجلاس میں خیبر پختونخوا پروہیبیشن آف سموکنگ ٹوباکو پراڈکٹس اینڈ پروٹیکشن آف نان سموکرز ہیلتھ ایکٹ کو عوامی صحت کے تحفظ اور غیر سموکرز کی فلاح کے لئے اہم قانونی اقدام قرار دیا گیا۔ اس ایکٹ کا مقصد صوبے میں تمباکو نوشی کی روک تھام، تمباکو مصنوعات کے استعمال کو محدود کرنا اور غیر سموکرز کو نقصان دہ دھوئیں سے بچانا ہے۔ قانون کے تحت عوامی مقامات، سرکاری دفاتر، اور دیگر پبلک ایریاز میں تمباکو نوشی پر پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ اس کی خلاف ورزی پر جرمانے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ اس کے ذریعے صحت مند معاشرہ تشکیل دینے، نوجوانوں کو تمباکو کے نقصانات سے بچانے اور عوامی صحت کو محفوظ بنانے کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنایا گیا ہے۔

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان کی زیر صدارت ضم شدہ اضلاع میں آبپاشی منصوبوں سے متعلق اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری آبپاشی محمد آیاز، چیف انجینئر مرج ڈسٹرکٹس آفتاب احمد سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان کی زیر صدارت ضم شدہ اضلاع میں آبپاشی منصوبوں سے متعلق اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری آبپاشی محمد آیاز، چیف انجینئر مرج ڈسٹرکٹس آفتاب احمد سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران سیکرٹری آبپاشی نے صوبائی وزیر کو مہمند، سلارزی، تنگی سپینہ، اپر کرم، خیبر، اپر و لوئر وزیرستان، ساؤتھ وزیرستان اور دیگر علاقوں میں جاری ترقیاتی و تعمیراتی منصوبوں سمیت دیگر اہم سکیموں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ضم شدہ اضلاع میں متعدد منصوبے تکمیل کے قریب ہیں جن سے نہ صرف زرعی پیداوار بڑھے گی بلکہ عوام کو صاف اور مؤثر آبی سہولیات بھی فراہم ہوگی۔ صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ضم شدہ اضلاع میں ترقیاتی کاموں کی رفتار میں مزید تیزی لائی جائے تاکہ پسماندہ علاقوں کے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی وژنری قیادت میں صوبائی حکومت ان علاقوں کو قومی دھارے میں لانے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن وسائل فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ہر شعبے میں شفافیت اور عدل و انصاف کو ترجیح دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع سمیت خیبرپختونخوا کے تمام علاقوں میں عوامی فلاح و بہبود کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات، ترقیاتی منصوبے اور بہتر سروس فراہم کی جا سکے۔ ریاض خان نے اس بات پر زور دیا کہ تمام افسران ٹیم ورک، شفافیت اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت محکمہ آبپاشی کو ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی تاکہ منصوبے بروقت مکمل ہوں اور عوام کے مسائل کا مستقل حل یقینی بنایا جا سکے۔ صوبائی وزیر آبپاشی نے خبردار کیا کہ خیبرپختونخوا خصوصاً ضم شدہ اضلاع میں محکمہ آبپاشی کی کارکردگی کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی ہے کوئی بھی اہلکار کرپشن، غفلت یا ناقص کارکردگی کا مرتکب ہوا تو اس کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہر منصوبے کی نگرانی اور معیار کی پاسداری انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اس سلسلے میں کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔

وزیرِ صحت کی زیر صدارت صحت کارڈ سروسز سے متعلق اہم اجلاس

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمن نے صحت کارڈ پلس پروگرام سے متعلق ایک اہم اجلاس کی صدارت کی جس میں عوام کو درپیش صحت کے مسائل کے حل، طبی سہولیات کی بہتری، شفافیت کو یقینی بنانے اور طبی مراکز میں سہولیات کی فراہمی کے امور کا جائزہ لیاگیا۔ اس موقع پر
ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ شاہد یونس اور سی ای او صحت سہولت پروگرام ریاض تنولی بھی اجلاس میں موجود تھے۔وزیرِ صحت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام ہسپتالوں میں صحت کارڈ سروسز کے لیے ون ونڈو آپریشن کا قیام یقینی بنایا جائے تاکہ مریضوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ون ونڈو ڈیسک کے قیام سے پورا عمل مزید مؤثر ہوگا، عملے کے درمیان ہم آہنگی بڑھے گی، تاخیر کم ہوگی اور مستفیدین کو فوری سہولت ملے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ محکمہ صحت مریضوں کو درپیش مسائل اور رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے پرعزم ہے اور تمام خلا اور کمزوریوں کو دور کیا جا رہا ہے۔ادویات کی فراہمی سے متعلق ایک اہم مسئلے پر بات کرتے ہوئے وزیر صحت نے اس بات کو یقینی بنانے کی سخت ہدایات جاری کیں کہ ڈاکٹرز کی جانب سے تجویز کردہ اصل ادویات ہی مریضوں کو فراہم کی جائیں۔ انہوں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا کہ بعض اوقات تجویز کردہ ادویات کی جگہ دوسری متبادل اقسام یا فارمولے دے دیے جاتے ہیں، جو کہ قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ علاج یا سرجری کے لیے تجویز کردہ ادویات میں کسی بھی قسم کی غیر مجاز تبدیلی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔وزیرِ صحت نے صوبائی حکومت اور محکمہ صحت کے عوام کو معیاری صحت سہولیات کی فراہمی کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ شعبہ صحت میں اصلاحات جاری ہیں اور تمام کمزوریاں خصوصی طور پر صحت کارڈ سے متعلق مشکلات دور کی جا رہی ہیں، اور بہت جلد نظام کو مکمل طور پر بہتر اور مؤثر شکل میں لایا جائے گا۔انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے شبانہ روز کوششیں کر رہی ہے اور عوام جلد ہی صحت کے شعبے میں مثبت اور نمایاں تبدیلیاں دیکھیں گے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیر صدارت ضلع چارسدہ میں پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) کے تحت مساجد اور مدارس کی سولرائزیشن کے جاری اور نئے منصوبوں سے متعلق ایک اہم اجلاس بدھ کے روز پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیر صدارت ضلع چارسدہ میں پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) کے تحت مساجد اور مدارس کی سولرائزیشن کے جاری اور نئے منصوبوں سے متعلق ایک اہم اجلاس بدھ کے روز پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پیڈو کے پراجیکٹ ڈائریکٹر سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے پراجیکٹ ڈائریکٹر نے بتایا کہ ضلع چارسدہ میں پہلے مرحلے میں جن مساجد اور مدارس کو شمسی توانائی کے نظام پر منتقل کرنے کے منصوبے شامل تھے جنہیں مکمل کر لیا گیا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ پچھلی حکومت کے دوران رہ جانے والے پراجیکٹس میں سے 10کو بہت جلد مکمل کر لیا جائے گا۔پراجیکٹ ڈائریکٹر نے صوبائی وزیر کو آگاہ کیا کہ ضلع چارسدہ کے لیے نئے پراجیکٹس میں 30 مساجد اور 10 مدارس کی سولرائزیشن کی منظوری دے دی گئی ہے، جن کی تکمیل کے لیے صرف کنٹریکٹر کی ہائرنگ باقی ہے۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ضلع چارسدہ میں سرکاری اور نجی یتیم خانوں کی سولرائزیشن کا منصوبہ بھی پائپ لائن میں ہے۔ نئے پراجیکٹ کے تحت محکمہ سماجی بہبود کے ساتھ رجسٹرڈ نجی یتیم خانوں کو بھی شمسی توانائی کے نظام پر منتقل کیا جائے گا۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ضلع میں محکمہ سماجی بہبود کے زیر انتظام چلنے والے لنگر خانے، سرکاری کالجز، سکولز، بی ایچ یوز اور ہسپتالوں کی سولرائزیشن بھی نئے منصوبے کا حصہ ہیں، جنہیں مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا۔صوبائی وزیر فضل شکور خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ ضلع چارسدہ میں مساجد اور مدارس کو شمسی توانائی کے نظام پر منتقل کرنے سے متعلق پیڈو کے تمام منصوبوں کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی سہولت اور توانائی کے متبادل ذرائع کے فروغ کے لیے سولرائزیشن پروگرام انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اس لیے تمام منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل ہر صورت یقینی بنائی جائے۔

ڈپٹی کمشنر چارسدہ ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر کی ہدایت پر ضلع چارسدہ میں عرصہ دراز سے بند سرکاری اسکولوں کی بحالی اور ان سے متعلقہ انتظامی امور کے حل کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا

ڈپٹی کمشنر چارسدہ ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر کی ہدایت پر ضلع چارسدہ میں عرصہ دراز سے بند سرکاری اسکولوں کی بحالی اور ان سے متعلقہ انتظامی امور کے حل کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چارسدہ مس رینہ سہروردی نے کی۔
اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنرز، تمام تحصیل داران، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (میل و فیمیل)، ڈی ایس پی چارسدہ، تمام تحصیل میونسپل آفیسرز، ڈسٹرکٹ آفیسر لائیو اسٹاک اور ڈسٹرکٹ ریونیو آفیسر سمیت تمام متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے اجلاس کے شرکاء کو ہدایت کی کہ ضلع بھر میں بند پڑے سرکاری اسکولوں سے متعلقہ تمام معاملات کو موجودہ ریونیو ریکارڈ کی روشنی میں فوری طور پر حل کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بند اسکولوں کی بحالی، رکاوٹوں کا خاتمہ، اراضی سے متعلق مسائل کا حل اور تعلیمی سرگرمیوں کی فوری بحالی متعلقہ افسران کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ
تعلیم ہماری ترقی کی بنیاد ہے اور بند پڑے اسکولوں کو فعال کرنا ہماری پہلی ترجیح ہے۔ تمام افسران اپنی ذمہ داریاں بھرپور ایمانداری اور دیانت کے ساتھ نبھائیں تاکہ ہمارے بچوں کا روشن مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔
آخر میں انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ اسکولوں کی بحالی کے لیے پیش رفت رپورٹ جلد از جلد جمع کرائی جائے اور عملدرآمد میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی

صوبائی وزیرِ محنت فیصل خان ترکئی کاخیبر پختونخوا ورکرز ویلفیئر بورڈ آمد پر پرتپاک استقبال

ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا میں نئے وزیرِ محنت فیصل خان ترکئی کے آمد پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر وزیرِ محنت کا استقبال سیکرٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ جناب شیر عالم خان نے کیا، جن کے ہمراہ ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن سیف اللہ خان، ڈائریکٹر ایجوکیشن عارف علی، ڈائریکٹر فنانس محمد علی، ڈائریکٹر جنرل ورکس آصف مجید اور بورڈ کے دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔

ملاقات کے دوران وزیرِ محنت کو ورکرز ویلفیئر بورڈ کے دائرہ کار، جاری منصوبوں اور مزدوروں و ان کے بچوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ سیکرٹری شیر عالم خان نے بورڈ کے کام، ترقیاتی منصوبوں اور مزدوروں کو درپیش چیلنجز سے بھی وزیر کو آگاہ کیا۔

وزیرِ محنت نے مزدوروں کے مسائل کو قواعد و ضوابط کے مطابق جلد از جلد حل کرنے کی یقین دہانی کروائی اور افسران کو ہدایت کی کہ وہ تمام انتظامی و تعلیمی امور کی نگرانی اور بہتری پر خصوصی توجہ دیں۔

اس کے علاوہ وزیر نے ریگی شاہی بالا الاٹمنٹ پر بھی بحث کی اور ہدایت دی کہ یہ پلاٹ جلد از جلد الاٹ کیا جائے۔ وزیرِ محنت نے مزید کہا کہ الاٹمنٹ کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے انکروچمنٹ (Encroachment) تجاوزات کے مسائل پر فوری توجہ دی جائے اور الاٹمنٹ کی تقریب کے لیے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو بھی مدعو کیا جائے گا تاکہ باقاعدہ افتتاح کیا جا سکیں۔

صوبائی وزیر لیبر کا بورڈ کا یہ دورہ اور اعلیٰ حکام سے ملاقات بورڈ کے نظام میں مزید شفافیت لانے اور ملازمین، ورکرز اور ان کے بچوں کیلئے اٹھانے والے فلاحی اقدامات کو مزید مضبوط اور موثر کرنے کا عہد ظاہر کرتی ہے

WSSCM Represents Pakistan at Global Water Congress in Germany

The Water and Sanitation Services Company Mardan (WSSCM) proudly represented Pakistan at the 6th Global Water Operators’ Partnerships (WOPs) Congress held in Bonn, Germany Organized by the Global Water Operators’ Partnerships Alliance (GWOPA) under UN-Habitat, the event brought together over 550 delegates from 70 countries to promote collaboration and knowledge sharing in the global water and sanitation sector.
The WSSCM delegation led by Chairman Board of Directors Engr. Adil Nawaz, Chief Executive Officer Shahid Khan, and Senior Manager Planning and Projects Imran Zaman actively participated in plenary sessions, technical discussions, and field visits, showcasing Pakistan’s achievements in water utility reforms and innovation.
During the congress, WSSCM presented its successful implementation of the Europe Union WOP Phase I Project, highlighting key milestones such as reducing non-revenue water (NRW) from 52% to 39%, introducing SCADA based monitoring for six tube wells, improving revenue collection by 11% and training over 100 staff members in operations, billing, and customer services. A poster titled “Transforming Utility Performance in Pakistan” was also displayed, drawing attention to WSSCM’s strides in digitalization, customer engagement and urban resilience.
The four day event, themed “Solidarity in Action: Stronger Utilities for Thriving Cities,” emphasized collaboration, climate resilience, and the human right to water and sanitation. WSSCM delegates also participated in a technical visit to the Salierweg Wastewater Treatment Plant, gaining valuable insights into sustainable wastewater management and automation systems relevant to Mardan’s future infrastructure.
Speaking on the occasion, Chairman Board of Directors Engineer Adil Nawaz and CEO Shahid Khan stated that participation in the global congress “reaffirms our commitment to sustainable water management, digital transformation, and achieving Sustainable Development Goal 6 (Clean Water and Sanitation).”
The WSSCM delegation returned with valuable learnings and potential collaboration opportunities for the upcoming EU-WOP Phase II Project, aiming to further strengthen service delivery, climate resilience, and international partnerships.
The company expressed gratitude to GWOPA, UN-Habitat, Budapest Waterworks, and the European Union for their continued technical and financial support in enhancing Pakistan’s urban water services.

خیبرپختونخوا کے ساتھ وفاق کا غیر منصفانہ رویہ ناقابل برداشت ہے، صوبے کو اس کا حق دیا جائے، بقایاجات فوری ادا کئے جائیں، معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کے آئینی حقوق کی حق تلفی اور مالی حقوق کی مسلسل عدم ادائیگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو میں انہوں نے وفاق کے معاندانہ رویے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ صوبہ کئی ماہ سے اپنے جائز واجبات سے محروم ہے، جس کا براہ راست اثر صوبے کی معاشی صورتحال اور ترقیاتی عمل پر پڑ رہا ہے۔شفیع جان نے کہا کہ 25ویں آئینی ترمیم کے تحت وفاق ضم اضلاع کی ترقی کے لئے سالانہ 100 ارب روپے دینے کا پابند ہے، لیکن بدقسمتی سے اب تک یہ فنڈز جاری نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث ضم اضلاع میں متعدد ترقیاتی منصوبے رُکے پڑے ہیں، جس سے نہ صرف عوام متاثر ہو رہے ہیں بلکہ امن و امان کی صورتحال پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو این ایف سی کی مد میں ایک فیصد شئیر وار ان ٹیرر کی مد میں ملتا ہے،معاون خصوصی نے اس بات پر زور دیا کہ خیبرپختونخوا ملک میں سب سے زیادہ پن بجلی پیدا کرنے والا صوبہ ہے، اس کے باوجود نیٹ ہائیڈل پرافٹ کی مد میں وفاق کی جانب سے اربوں روپے کے بقایاجات تا حال ادا نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ادائیگیاں صوبے کا آئینی اور قانونی حق ہیں اور ان کی بروقت فراہمی سے صوبے کو مالی استحکام مل سکتا ہے۔انہوں نے وفاقی ٹیکس شیئر میں غیر اعلانیہ کٹوتیوں اور تاخیر سے ادائیگیوں پر بھی شدید اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے مالی نظم و ضبط برقرار رکھا ہوا ہے، لیکن وفاقی عدم تعاون کے باعث صوبے کی مالی خودمختاری شدید متاثر ہو رہی ہے۔شفیع جان نے مطالبہ کیا کہ وفاق تمام زیر التواء مالی واجبات فوری جاری کرے اور صوبے کے جائز حقوق تسلیم کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر وفاق نے اپنے آئینی فرائض ادا نہ کئے تو صوبائی حکومت اپنے حقوق کے حصول کے لئے ہر آئینی، قانونی اور سیاسی راستہ اختیار کرے گی، اور ضرورت پڑنے پر معاملہ پارلیمنٹ اور عدالتوں تک لے جایا جائے گا۔

U.S. Consul General Visits KP-BOIT to Discuss Technical Collaboration

The U.S. Consul General in Peshawar, Thomas Eckert, visited Khyber Pakhtunkhwa Board of Investment & Trade (KP-BOIT) for an interactive meeting with Vice Chairman KP-BOIT, Hassan Masood Kunwar, Secretary Industries, Commerce & Technical Education (IC&TE), Masood Ahmad and President All Pakistan Mine Owners Association Khyber Pakhtunkhwa, and senior members of the Association.
Meeting focused on enhancing cooperation in province’s mines and minerals sector, strengthening investment opportunities, and exploring areas where U.S. technical expertise could contribute to sectoral growth.
Vice Chairman KP-BOIT, Secretary Industries C&TE, and President All Pakistan Mines Owners Association KP warmly welcomed and formally received US Consul General Thomas Eckert in KP-BOIT office.
During discussion, All Pakistan Mine Owners Association Khyber Pakhtunkhwa shared key priorities of local mining community. They requested Consulate’s assistance and support in facilitating local leaseholders to adopt international standards for reporting mineral exploration, reserves, and resources, enabling KP’s mineral potential to be recognized globally and evaluated with accuracy and transparency.
The Association also called for support in linking U.S. investors with local leaseholders, particularly for joint ventures aimed at installing modern mineral up-gradation facilities, including washing and beneficiation plants for metallic minerals. Such collaboration, they noted, would significantly improve processing quality, value addition, and overall competitiveness of KP’s mineral exports.
Another major need presented by the Association was establishment of a globally recognized, state-of-the-art mineral testing and certification laboratory in Khyber Pakhtunkhwa. They emphasized that such a facility would play a critical role in ensuring reliable testing, international certification, and improved market access.
They requested U.S. technical guidance and support for potential joint ventures in ongoing mining projects across the province.
In response, Thomas Eckert welcomed points raised and expressed a strong interest in expanding cooperation. He presented the idea to organize a Minerals Expo in Peshawar, where all mineral commodities of Khyber Pakhtunkhwa could be showcased to international investors.
He assured that U.S. companies and investors would actively participate in the Expo.
Vice Chairman KP-BOIT and Secretary Industries C&TE thanked Consul General for his visit and reaffirmed government’s commitment to facilitating investment, improving sector governance, and encouraging long-term partnerships that benefit both local stakeholders and international investors.
Meeting concluded with a shared commitment to continued engagement and collaboration for sustainable development of mines and minerals sector in Khyber Pakhtunkhwa.