وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے پاکستان میں تعینات جرمن سفیر اینا لیپل نے منگل کے روز اسلام آباد میں ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور خصوصی طور پر صوبے میں جرمن اداروں کے تعاون سے جاری عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں مختلف سماجی شعبوں میں اشتراک کار اور تعاون کے دائرے کو وسیع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ ایم این اے فیصل امین گنڈاپور، محکمہ جنگلات کے اعلی حکام اور جرمن سفارتخانے کے دیگر حکام بھی ملاقات میں موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے جرمن سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت سماجی شعبوں میں جرمن اداروں کے تعاون اور اشتراک کار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، ہم پوٹینشل شعبوں میں جرمن حکومت کے مزید تعاون کے خواہاں ہیں، ہم اپنی آمدن بڑھانے کے لئے پوٹینشل سیکٹرز میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور بین الاقوامی اداروں سے بھی انہی شعبوں میں مزید تعاون کی توقع رکھتے ہیں۔ وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ صوبے کو امن و امان اور کلائمیٹ چینج جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، صوبائی حکومت کلائمیٹ چینج کے اثرات سے نمٹنے کے لئے متعدد منصوبوں پر کام کررہی ہے، سیلاب کے نقصانات کو کم کرنے کے لئے چھوٹے ڈیموں اور واٹر شیڈز کے منصوبوں پر کام جاری ہے، صوبائی حکومت کو اس شعبے میں بین الاقوامی تعاون درکار ہے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ جنگلات کے تحفظ اور ان کی سائینٹفک مینجمنٹ کے لئے جرمن اداروں کی تکنیکی معاونت کی ضرورت ہے،خصوصی طور پر جنگلات کے تحفظ اور فروغ کے لئے فارسٹ انسٹیٹیوٹ کو جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور عملے کو جدید تربیت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جنگلات کے تحفظ کے لئے پہاڑی علاقوں میں ایندھن کے متبادل ذرائع کی فراہمی ضروری ہے، اس شعبے میں صوبائی حکومت اور جرمن اداروں کے درمیان اشتراک کار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ جنگلات کی غیر قانونی کٹائی اور ٹمبرز کی غیر قانونی نقل و حمل کو روکنے کے لئے جی پی ایس ٹیکنالوجی اور کیٹیلاگنگ کا استعمال کر رہے ہیں، صوبائی حکومت اس مقصد کے لئے فارسٹ فورس کے قیام پر بھی کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں صوبے میں جنگلی حیات کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔مزید برآں اس سلسلے میں فارسٹ مینجمنٹ سسٹم کا بھی اجراءکردیا گیا ہے۔ علی امین گنڈاپور نے دیگر اہم اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجود صوبائی حکومت سرکاری امور میں شفافیت اور عوامی خدمات کی بہتر فراہمی کے لئے ای گورننس کے شعبے میں اقدامات اٹھا رہی ہے، اب تک صوبائی حکومت نے 37 مختلف عوامی خدمات کو ڈیجیٹائز کردیا ہے، اگلے چھ مہینوں میں 76 خدمات کو ڈیجیٹائز کیا جائے گا، صوبائی کابینہ اجلاسوں اور سمریوں کو پیپر لیس کردیا گیا ہے۔ جرمن سفیر نے اس موقع پر اپنی گفتگو میں کہا کہ جرمن حکومت خیبر پختونخوا میں مختلف شعبوں میں عوامی فلاح و بہبود کے کام کر رہی ہے،ان شعبوں میں ماحولیات، صحت، سماجی تحفظ، قابل تجدید توانائی، فنی تربیت، معاشی ترقی، گورننس اور دیگر شامل ہیں۔ اینا لیپل نے کلائمیٹ چینج کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے صوبائی حکومت کے بلین ٹری پراجیکٹ کو ایک بہترین منصوبہ قرار دیا اور کہا کہ ماحولیات اور جنگلات کے تحفظ کے شعبے میں جرمن اور صوبائی حکومت اشتراک کار کو مزید وسعت دے سکتے ہیں۔
خیبرپختونخوا حکومت کا افغانستان کے زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی سامان روانہ، وزیر اعلیٰ کا اظہارِ یکجہتی
وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی خصوصی ہدایات پر پختونخوا حکومت کی جانب سے افغانستان کے زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی سامان روانہ کردیا گیا۔ منگل کے روز وزیر اعلی کے معاون خصوصی برائے ریلیف نیک محمد خان، چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ اور دیگر حکام نے 35 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان پشاور میں تعینات افغان قونصل جنرل حافظ محب اللہ شاکر کے حوالے کردیا۔ امدادی سامان میں 500 ونٹرائز ٹینٹس، 500 فیملی سائز ٹینٹس، 1000 ترپال، 1500 گدے، 3000 تکیے، 1500 رضائیاں اور 500 کمبل شامل شامل ہیں۔ امدادی سامان میں دو ٹرکوں پر مشتمل ضروری ادویات بھی شامل ہیں۔ یہ سامان زلزلہ متاثرہ خاندانوں کی فوری ضروریات پوری کرنے اور انہیں موسم کی سختیوں سے بچانے کے لیے فراہم کیا گیا ہے۔ اس موقع پر حکام نے صوبائی حکومت کی طرف سے افغانستان میں زلزلے سے جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ افغان قونصل جنرل محب اللہ شاکر نے امدادی سامان کی فراہمی پر افغان حکومت کی طرف سے حکومتِ خیبر پختونخوا خصوصا وزیر اعلی علی امین گنڈاپور کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
اس سلسلے میں اپنے ایک بیان میں وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور صوبے کے عوام اپنے افعان بہن بھائیوں کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں اور صوبائی حکومت اس مشکل گھڑی میں اپنے متاثرہ خاندانوں اور افغان حکومت کی ہر ممکن مدد کرے گی۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں اور بازاروں کی بحالی کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات محمد سہیل آفریدی نے ضلع خیبر کے علاقے کٹہ کشتہ میں سیلاب سے متاثرہ پاک افغان شاہراہ اور علی مسجد بازار کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے متعلقہ محکمے کے افسران کے ہمراہ متاثرہ مقامات کا جائزہ لیا اور عوام سے ملاقات بھی کی۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ حالیہ شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں نے باڑہ، جمرود اور لنڈی کوتل میں سڑکوں، پلوں اور بازاروں کو نقصان پہنچایا ہے جس سے مقامی عوام کی آمدورفت اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کام ترجیحی بنیادوں پر شروع کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات کی ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں اور جلد ہی پاک افغان شاہراہ سمیت تمام مرکزی و ذیلی سڑکوں کو مرمت کر کے آمدورفت کے قابل بنایا جائے گا تاکہ عوام کی آمد ورفت اور تجارتی سرگرمیاں بحال کی جا سکے۔ معاون خصوصی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ موجودہ صورتحال میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں اور خاص طور پر نشیبی علاقوں میں رہنے والے شہری 10 ستمبر تک ممکنہ بارشوں اور سیلاب کے خطرے کے پیش نظر حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت عوام کی خدمت کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی ہمارا اولین فرض ہے، اور جلد ہی متاثرہ سڑکوں کو دوبارہ فعال بنا کر عوام کو سہولت فراہم کریں گے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے اقوام متحدہ کے ایک وفد نے جمعہ کے روز اسلام آباد میں ملاقات
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور سے اقوام متحدہ کے ایک وفد نے جمعہ کے روز اسلام آباد میں ملاقات کی۔ وفد کے اراکین میں یو این کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر برائے پاکستان محمد یحییٰ، یو این ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر آفس کی سربراہ افکے بوٹسمین اور یونائیٹڈ نیشنز آفس فار کوآرڈینیشن آف ہیومینیٹیرین افیئرز کے سربراہ کارلوس گیہا شامل تھے۔ ملاقات میں خیبر پختونخوا حکومت اور اقوام متحدہ کے مابین اشتراک کار، ترقیاتی منصوبوں اور باہمی دلچسپی کے اُمور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر خیبر پختونخوا حکومت اور اقوام متحدہ کے مابین اشتراک کار کو مزید وسعت دینے اور سیلاب متاثرین کی بحالی میں باہمی تعاون اور اشتراک کار پر اتفاق کیا گیا۔ وفد نے وزیر اعلیٰ سے خیبر پختونخوا میں حالیہ سیلابوں سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ وزیر اعلیٰ نے وفد کو آگاہ کیا کہ خیبر پختونخوا کے آٹھ اضلاع حالیہ سیلابوں اور بارشوں سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں ، ان سیلابوں سے چار سو سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 240 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ اسی طرح سیلابوں سے 664 گھروں کو مکمل اور2431 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔ مزید برآں سکولز، بنیادی مراکز صحت ، روڈز انفراسٹرکچر اور پینے کے پانی کی فراہمی کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ متاثرین کو فوری ریلیف کی فراہمی کے بعد جانی و مالی نقصانات کے معاوضوں کی ادائیگی پر کام شروع کیا گیا ہے، صوبائی حکومت نے اموات کے معاوضوں کو 10 لاکھ فی کس سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے، زخمیوں کا معاوضہ ڈھائی لاکھ روپے سے بڑھا کر پانچ لاکھ روپے کر دیا۔ اسی طرح مکمل منہدم گھروں کا معاوضہ 4 لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے، جزوی طور پر متاثرہ گھروں کا معاوضہ ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر تین لاکھ روپے کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلی دفعہ تباہ شدہ دکانوں کے مالکان کیلئے پانچ لاکھ روپے معاوضہ مقرر کیا گیا اور جن دوکانوں میں سیلابی ریلہ داخل ہوا تھا ان کی صفائی کیلئے ایک لاکھ روپے مقرر کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں صوبائی حکومت نے فصلوں، باغات اور مال مویشیوں کے نقصانات کیلئے بھی معاوضے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ معاوضوں کی ادائیگی کے لیے ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم رائج کیا ہے، رواں ہفتے اتوار تک تمام ادائیگیاں مکمل ہو جائیں گی۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ایسے کمسن بچے جن کا کوئی نہیں بچا، ایسے بچوں کو معاوضوں کی ادائیگی کیلئے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے ہاں اکاو¿نٹس کھولے جارہے ہیں۔ صوبائی حکومت سیلاب متاثرین کی بحالی و ریلیف اور ادائیگیوں میں سو فیصد شفافیت کو یقینی بنا رہی ہے اور متاثرین کو بروقت ریلیف کی فراہمی اور بحالی کے کاموں کی موثر نگرانی کیلئے اضافی افرادی قوت فراہم کی گئی۔ وزیر اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں اضافی طبی عملے اور موبائل میڈیکل یونٹس بھی تعینات کئے گئے ہیں جبکہ مراکز صحت میں ضروری ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔ اسی طرح امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کیلئے کابینہ اراکین نے متاثرہ علاقوں کے دورے کئے جبکہ انہوں نے خود بھی بونیر، سوات اور صوابی کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے نقصانات اور امدادی کاموں کا جائزہ لیا۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ متاثرین کو کم سے کم ممکنہ وقت میں دوبارہ اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں اور تباہ شدہ انفراسٹرکچرز کو جلد ازجلد بحال کرکے معمولات زندگی کو نارمل کریں۔
عمائدین مکالمہ: بیرسٹر ڈاکٹر سیف کاعوامی روابط پر زور، وفاقی حکومت کی بے حسی پر کڑی تنقید
پشاور میں سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (CRSS) کے زیر اہتمام پاک افغان قبائلی عمائدین مکالمہ منعقد ہوا جس میں سرحد کے دونوں اطراف سے عمائدین اور نمائندوں نے شرکت کی۔ مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور پاک افغان تعلقات کے مستقبل پر اظہارِ خیال کیا۔اپنے خطاب میں بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو محض جغرافیہ نہیں باندھتا بلکہ اس سے کہیں زیادہ مضبوط رشتے ہمارے درمیان موجود ہیں۔ انہوں نے کہا،“ہمارا سب سے مضبوط رشتہ مذہب ہے، ہماری ثقافتیں، روایات اور طرزِ زندگی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ریاستی سرحدیں مختلف ہو سکتی ہیں لیکن عوام ایک ہی ہیں۔”انہوں نے واضح کی دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ریاستوں کے درمیان تنازعات صدیوں پر محیط رہے، لیکن پائیدار امن ہمیشہ مکالمے کے ذریعے قائم ہوا۔ انہوں نے کہا،“یہاں تک کہ دوسری عالمی جنگ جیسی تباہ کن جنگ بھی بالآخر مذاکرات کی میز پر ختم ہوئی۔ ہمارے لیے سبق بالکل واضح ہے: مکالمہ کوئی اختیار نہیں بلکہ واحد راستہ ہے۔”مشیر اطلاعات نے زور دیا کہ اس خطے کے عام عوام ہی عدم استحکام کے سب سے بڑے متاثرین ہیں جبکہ چند عناصر اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا،“ہمارے خطے کی ترقی کا درد کسی اور کو نہیں۔ اگر ہم نے خود اتحاد اور استحکام قائم نہ کیا تو کوئی دوسرا ہمارے لیے یہ کام نہیں کرے گا۔ آج ہمارے فیصلے ہی طے کریں گے کہ ہماری آئندہ نسلیں جنگ وراثت میں پائیں گی یا امن۔”بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے امریکی انخلا کے بعد پاک افغان تعلقات میں پیدا ہونے والے خلا پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ“امریکی افواج کے انخلا کے بعد ایک سال سے زائد عرصہ کوئی باضابطہ سرکاری دورہ افغانستان کا نہیں ہوا، یہاں تک کہ کابل میں سفیر تک تعینات نہیں کیا گیا۔ یہ بے عملی خطرناک خلا پیدا کر رہی ہے جو اعتماد کو کمزور اور غلط فہمیوں کو فروغ دیتی ہے۔”انہوں نے وفاقی حکومت کی بے حسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ“افغانستان کے دورے کے لیے وفود کی تجاویز بار بار پیش کی گئیں مگر یا تو روک دی گئیں یا نظرانداز ہوئیں۔ ایسی سخت رویہ داری فاصلے مزید بڑھاتا ہے۔ سرحدی عوام اسلام آباد کی بے عملی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ عوامی سطح پر روابط اور مکالمے کو فروغ دینا چاہیے، روکنا نہیں۔”خطاب کے اختتام پر بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ صرف ریاستی قیادت سے تعلقات کی بہتری کی توقع کافی نہیں۔“یہ ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے، دونوں ممالک کے عوام پر۔ ہماری آوازیں، ہمارا اتحاد اور ہمارا مکالمہ ہی امن کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔”انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت ایسے تمام پلیٹ فارمز کی حمایت جاری رکھے گا جو باہمی اعتماد اور تعاون کو فروغ دیتے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں ترجیحی منصوبوں کے لیے 20 ارب روپے مختص، وزیراعلیٰ کی بروقت تکمیل پر زور
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت بدھ کے روز ترجیحی ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اجلاس وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں منعقد ہوا جس میں صحت ، تعلیم، آبنوشی، مواصلات، آبپاشی، ریلیف اور دیگر شعبہ جات کے رواں مالی سال کے دوران مکمل کرنے کے لئے پبلک سروس ڈیلیوری کے اہم منصوبوں کی نشاندھی کی گئی جبکہ صوبائی کابینہ نے ان ترجیحی اور تکمیل کے قریب منصوبوں کی جلد تکمیل کے لیے اضافی 20 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری پلاننگ و ڈویلپمنٹ اکرام اللہ خان کے علاوہ متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ وزیر اعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترجیحی ترقیاتی منصوبوں کے لیے اضافی فنڈز مختص کرنے کا مقصد ان کو جلد مکمل کرکے فعال بنانا ہے، یہ عوامی خدمات کی فراہمی کے فوری نوعیت کے منصوبے ہیں اور ان کی بروقت تکمیل اہم ترجیح ہے تاکہ لوگوں کو سروس ڈیلیوری بلاتاخیر شروع ہو۔ گذشتہ سال کے آخری تین ماہ میں تکمیل کے قریب منصوبوں کو جو اضافی فندنگ ہوئی ہے اس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے ہیں،رواں سال ابتداءہی سے اس فارمولہ کہ تحت فنڈز ریلیز ہونگے تاکہ تکمیل کے قریب منصوبے رواں سال ہی مکمل ہو جائیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت تکمیل کے قریب منصوبوں کو فوری طور پر مکمل کرنا چاہتی ہے تاکہ سروس ڈیلیوری میں تاخیرنہ ہو۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کا دانشمندانہ استعمال اور ترقیاتی فنڈز کے استعمال میں ترجیحات کا تعین انتہائی اہم ہے،جن جن منصوبوں پر 80 فیصد کام ہو چکا ہے، انہیں بھرپور فنڈنگ کر کے جلد مکمل کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ ان منصوبوں کے لیے جو 20 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں انہیں جلد از جلد ریلیز کیا جائے اور کہا کہ متعلقہ انتظامی سیکرٹریز خود ان منصوبوں پر پیشرفت کی نگرانی کریں تاکہ ان کی بروقت تکمیل یقینی ہو۔
اراکینِ اسمبلی کی فول پروف سیکیورٹی یقینی بنائی جائے گی، اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت اہم اجلاس
سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی جناب بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت اسپیکر چیمبر میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سی سی پی او پشاور، ڈی آئی جی اور ایڈیشنل سیکرٹری ہوم نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر صوبائی اسمبلی، ایم پی اے ہاسٹل پشاور، اراکینِ صوبائی اسمبلی کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔اس موقع پر اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کہا کہ اراکینِ اسمبلی عوام کے لاکھوں ووٹرز کے نمائندے ہیں اور ان کے جان و مال کا تحفظ ریاستی اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی حساس صورتحال میں عوامی نمائندوں کی سیکیورٹی پر کسی قسم کا سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں۔اسپیکر نے واضح ہدایت دی کہ صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ، ایم پی اے ہاسٹل میں تعینات نفری کی تعداد اور موثر سیکورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جائے اور اراکینِ اسمبلی کو فراہم کیے جانے والے پولیس گن مین کی تعیناتی اور ان کے ہمراہ رہنے کے حوالے سے جامع ایس او پیز مرتب کیے جائیں۔ اس مقصد کے لیے اسپیکر نے پارلیمانی اراکین، ہوم ڈیپارٹمنٹ اور پولیس کی ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا، جو اراکینِ اسمبلی کی سیکیورٹی کے لیے ایک واضح اور قابلِ عمل لائحہ عمل تیار کرے گی تاکہ منتخب نمائندوں کو کسی ناگہانی خطرات سے موثر طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔
خیبرپختونخوا میں اے آئی اور سائبر سکیورٹی ورکشاپ کا انعقاد، نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنے پر زور
محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی خیبرپختونخوا کے زیرِ اہتمام غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ، صوابی میں ‘ایمپاورمنٹ آف نیکسٹ جنریشن: اے آئی اور سائبر سکیورٹی’ کے عنوان سے شاندار تقریب کا انعقاد، جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و آئی ٹی ڈاکٹر شفقت ایاز نے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی۔محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی خیبرپختونخوا کے زیرِ اہتمام غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ، صوابی میں تین روزہ تربیتی ورکشاپ “ایمپاورمنٹ آف نیکسٹ جنریشن: اے آئی اور سائبر سکیورٹی” کا انعقاد کیا گیا۔ اس ورکشاپ میں ضم شدہ اضلاع (Merged Areas) کے طلبہ و طالبات نے خصوصی طور پر شرکت کی۔تقریب کے مہمانِ خصوصی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز تھے۔ اس موقع پر غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ کے ریکٹر ڈاکٹر فضل خالد، مختلف پروفیسرز، لیکچررز اور طلبہ نے بھی شرکت کی۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے نوجوانوں کو جدید علوم، بالخصوص مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اور سائبر سکیورٹی جیسے شعبوں میں آگے لانا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ تربیتی پروگرام نہ صرف طلبہ کو جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے رجحانات سے روشناس کرائے گا بلکہ انہیں قومی و بین الاقوامی سطح پر روزگار اور ریسرچ کے مواقع بھی فراہم کرے گا۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے زور دے کر کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے وژن کے مطابق نوجوانوں کو بااختیار بنانا، خود انحصاری اور جدید علوم سے آراستہ کرنا ایک قومی مشن ہے۔ اسی وژن کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور عملی جامہ پہنا رہے ہیں تاکہ صوبے کے نوجوان خصوصاً مرجڈ ایریاز کے طلبہ ڈیجیٹل دنیا میں قائدانہ کردار ادا کر سکیں۔اس موقع پر ماہرین نے مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، ای۔کامرس اور ڈیجیٹل اکانومی کے مختلف پہلوؤں پر طلبہ کو آگاہ کیا اور عملی تربیت فراہم کی۔ شرکاء نے اس تربیتی ورکشاپ کو ایک انقلابی اقدام قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات ضم شدہ اضلاع کے طلبہ کے لئے تعلیمی اور عملی دنیا کے دروازے کھولیں گے۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے آخر میں کہا کہ محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی نوجوانوں کے لئے مزید ایسے تربیتی پروگرام منعقد کرے گا تاکہ خیبرپختونخوا کے طلبہ ملک کے ڈیجیٹل مستقبل میں قائدانہ کردار ادا کر سکیں اور دنیا میں پاکستان کا نام روشن کریں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا علماء بورڈ سے ملاقات، آئمہ کے اعزازیہ میں اضافہ اور مدارس کے طلبہ کے لیے وظائف کا اعلان
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور سے پیر کے روز متحدہ علماءبورڈ کے وفد نے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں ملاقات کی جس میں مدارس اور مدارس میں زیر تعلیم طلبہ کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صوبائی وزیر برائے اوقاف و مذہبی امور عدنان قادری اور محکمہ اوقاف کے حکام بھی ملاقات میں شریک ہوئے۔ وزیر اعلیٰ نے آئمہ کرام کے لیے اعزازیہ کی رقم 10 ہزار روپے سے بڑھا کر 15 ہزار روپے کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اعزازیہ کے پروگرام میں مزید رجسٹرڈ آئمہ کرام کو بھی شامل کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے صوبائی حکومت کے وظیفہ پروگرام میں مدارس کے ٹیکنیکل سکلز میں سند یافتہ دو ہزار طلبہ کو بھی شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اپنی گفتگو میں کہا کہ متحدہ علماءبورڈ اپنی طرف سے سولرائزیشن پرگرام میں شامل کرنے کے لیے 200 مدارس کی نشاندہی کرے۔ اس کے علاو¿ہ وزیر اعلیٰ نے متحدہ علماءبورڈ کے مطالبے پر بورڈ کو قانونی حیثیت دینے کے لیے محکمہ اوقاف کو قانون سازی کرنے کے لیے اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ مزید برآں ، وزیر اعلیٰ نے محکمہ اوقاف کو علاقائی اور صوبائی سطح پر نعت و قرات کے مقابلے منعقد کرنے کی ہدایت کی جبکہ علمائے کرام سے حکومت کی جانب سے منعقد ہونے والی سیرت کانفرنس اور دیگر مذہبی پروگراموں میں بھر پور شرکت کی استدعا کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماری نوجوان نسل کو سیرت النبی سے روشناس کرانا ناگزیر ہے، علماءمختلف مواقع پر منعقدہ پروگراموں میں شرکت کریں اور ہماری نئی نسل کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرائیں۔ وزیر اعلیٰ نے اپنی گفتگو میں کہا کہ صوبے میں امن و امان کی بحالی اور مختلف اُمور میں حکومت کی رہنمائی میں علماءکا کردار نہایت اہم ہے، وفاقی حکومت نے امن کے لیے پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے اتفاق کر لیا ہے، علمائ ان مذکرات میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں،صوبائی حکومت صوبے میں امن وامان کے قیام کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے جبکہ اس سلسلے میں علمائے کرام کا کردار نہایت اہم ہے۔ متحدہ علماء بورڈ نے بورڈ اراکین کے لیے اعزازیہ کی منظوری پر وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔
سیلاب متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی تیز کرنے کی ہدایت، وزیراعلیٰ نے 6 دن کی ڈیڈ لائن مقرر کردی
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت پیر کے روز ایک ویڈیو لنک اجلاس منعقد ہوا جس میں سیلاب متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگیوں پر اب تک کی پیشرفت کا ضلع وار جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم،چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ کے علاوہ سیکرٹری ریلیف، ڈی جی پی ڈی ایم اے اور سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اجلاس میں شریک ہوئے۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو سیلاب متاثرین کے ہر قسم کے معاوضوں کی ادائیگیوں کے لئے چھ دنوں کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے اور کہا ہے کہ متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگیوں پر کام کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے اور آنے والے اتوار تک متاثرین کو ہر قسم کے معاوضوں کی ادائیگیوں کو یقینی بنایا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے مزید ہدایت کی ہے کہ جاں بحق افراد کے وہ کمسن بچے جن کے شناختی کارڈ اور بینک اکاو¿نٹ نہیں بن سکتے ان کو معاوضوں کی ادائیگیوں کے لئے کوئی قابل عمل طریقہ کار وضع کیا جائے جبکہ زخمیوں کی تصدیق کے عمل کو جلد مکمل کرنے کے لئے محکمہ صحت کی مزید ٹیمیں تعینات کی جائیں اور جو افراد اب تک لاپتہ ہیں ان کے لواحقین کو بھی معاوضوں کی ادائیگی کی جائے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ متاثرہ گھروں اور دوکانوں کی تصدیق کے عمل کو بھی جلد مکمل کرنے کے لئے مزید ٹیمیں لگائی جائیں جبکہ آبی گزرگاہوں پر قائم تباہ شدہ گھروں کا بھی ڈیٹا اکٹھا کرنے پر کام شروع کیا جائے اور ایسے گھروں کے مالکان کے لئے محفوظ مقامات پر گھر تعمیر کرنے کے لئے متاثرین سے بات چیت شروع کی جائے۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ جن کے گھروں میں سیلابی ریلہ اور ملبہ داخل ہوا ہے انہیں گھروں کی صفائی کے لئے ایک لاکھ روپے فی گھرانہ ادائیگی کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگیوں اور بحالی کے کاموں کے لئے پی ڈی ایم اے کو درکار پانچ ارب روپے فوری جاری کئے جائیں۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ باجوڑ کے نقل مکانی کرنے والے گھرانوں کو نن فوڈ آئٹمز کی بجائے نقد ادائیگیاں کی جائیں۔ اجلاس کو سیلابوں سے ہونے والے نقصانات اور متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگیوں کی تازہ صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اب تک صوبے میں 406 اموات اور 247 زخمیوں کی تصدیق ہوچکی ہے۔ 406 جاں بحق افراد میں سے 332 افراد کے لواحقین کو 20 لاکھ روپے فی کس کے حساب سے معاوضوں کی ادائیگی ہو چکی ہے۔ اسی طرح زخمیوں کو بھی پانچ لاکھ روپے فی کس کے حساب سے معاوضوں کی ادائیگی شروع ہوگئی ہے اور اب تک 35 زخمیوں کو معاوضوں کی ادائیگی کر دی گئی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک 28 افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش کا کام جاری ہے۔ اب تک 5720 متاثرہ خاندانوں میں سے 4398 خاندانوں کو فوڈ پیکج کی رقوم کی ادائیگی ہوگئی ہے۔ باجوڑ کے نقل مکانی کرنے والے 9698 افراد کو فوڈ پیکج فراہم کیا گیا ہے۔ دیگر نقصانات بارے بتایا گیا کہ اب تک کی رپورٹس کے مطابق 598 گھروں کو مکمل طور پر اور 2971 گھروں کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے جبکہ متاثرہ گھروں کے مالکان کو بھی معاوضوں کی ادائیگی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اوراب تک 43 متاثرہ گھروں کے مالکان کو معاوضوں کی ادائیگی ہوگئی ہے۔ سیلابوں سے 526 رابطہ سڑکیں اور 106 پل متاثر ہوئے ہیں جبکہ 326 تعلیمی مراکز، 38 صحت کے مراکز اور 67 سرکاری دفاتر متاثر ہوئے ہیں۔ صوبے میں 2808 دوکانیں متاثر ہوئی ہیں، نقصانات کا تخمینہ لگانے کے بعد مالکان کو معاوضوں کی ادائیگی کا عمل شروع کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی کا عمل مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے تاکہ جلد بحالی کے عمل کا آغاز کیا جا سکے، متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی اور بحالی کے لئے وسائل کی کمی نہیں، متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی اور بحالی کے کاموں کے لئے فنڈز کے استعمال میں مکمل شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور اس مقصد کے لئے مانیٹرنگ کے عمل کو مزید موثر بنایا جائے۔
