Home Blog Page 98

گرلز کیڈٹ کالج مردان کے 10ویں بورڈ آف گورنرزکے اجلاس کا انعقاد، انفراسٹرکچر کی اپگریڈیشن سے متعلق اہم فیصلے

گرلز کیڈٹ کالج مردان کے 10ویں بورڈ آف گورنرز کا اجلاس کالج کی نئی عمارت میں منعقد ہوا۔ جس کی صدارت وزیر برائے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن خیبر پختونخوا، ارشد ایوب خان نے کی اجلاس میں بریگیڈئیر یامان کمانڈنٹ پنجاب رجمنٹ سنٹر، جاوید مروت کمشنر مردان ڈویژن، افتخار خان سپیشل سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن، زینب خاتون پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ،چیف پلاننگ آفیسر، فنانس ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے، ایکسین سی اینڈ ڈبلیواور دیگر متعلقہ ممبران نے شرکت کی۔اجلاس کے آغاز میں پرنسپل مسز طاہرہ مزمل نے ممبران کو کالج کی تعلیمی، تربیتی اور انتظامی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کیڈٹس کی نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں، حالیہ کامیابیوں اور درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا اور بتایا کہ کالج کی طالبات نے قومی سطح کے کھیلوں، تقریری اور نعتیہ مقابلوں میں نمایاں پوزیشنز حاصل کی ہیں۔اجلاس کے دوران کالج کےانفراسٹرکچر ،بجٹ 2025 اور دیگر مختلف ایجنڈا آئٹمز زیر بحث آئے۔بورڈ نے کالج کی نئی عمارت میں سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے لیے کئی اہم فیصلے کیے۔وزیر تعلیم ارشد ایوب نے اپنے خطاب میں کہا کہ
“گرلز کیڈٹ کالج مردان صوبے کی خواتین کے لیے ایک مثالی ادارہ ہےصوبائی حکومت کیڈٹ کالج کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ ہماری بیٹیاں مسلح افواج، سول سروسز، انجینئرنگ اورمیڈیکل کے شعبوں میں ملک کا نام روشن کر سکیں۔” انہوں نے پرنسپل اور کالج انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا۔اس موقع پربریگیڈیر یامان نے کیڈٹس کی فزیکل اور ملٹری ٹریننگ کو مزید بہتر بنانے کے لیے پاک آرمی کے تعاون کی یقین دہانی کرائی کمشنر مردان جاوید مروت نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کالج کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کاعزم ظاہر کیا۔بورڈ نے کالج کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ادارے کو ملک کی صف اول کا کیڈٹ کالج بنایا جائے گا۔ اجلاس کے اختتام پر تمام ممبران نے نئی عمارت کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا اور جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا۔

خیبر پختونخوا میں 125 نئے تعینات میڈیکل آفیسرز (فکسڈ پے) کو تقرری کے احکامات جاری

صوبائی وزیر صحت، خلیق الرحمان، نے نئے تعینات میڈیکل آفیسرز (فکسڈ پے) کو تقرری کے احکامات دیئے۔وزیر صحت نےاس حوالے سے منعقدہ تقریب کی صدارت کی۔ اس موقع پر کل 165 منتخب امیدواروں میں سے 125 میڈیکل آفیسرز کو تقرری لیٹرز حوالے کیے گئے۔ سیکرٹری صحت، شاہد اللہ خان، بھی اس موقع پر موجود تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت نے نئے تعینات ڈاکٹروں کو خوش آمدید کہا اور مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھرتی کا عمل مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر انجام دیا گیا، جس میں شفافیت، انصاف اور بغیر کسی جانبداری یا سفارش کے تقرری کو یقینی بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صوبے کے تمام اضلاع میں درکار انسانی وسائل کو پورا کرنے کے لیے بڑی تعداد میں ڈاکٹروں کی بھرتی کے ذریعے صحت کے نظام کو مضبوط بنا رہی ہے۔صوبائی وزیر صحت نے مزید کہا کہ تمام صحت کے مراکز، خصوصاً بنیادی اور ثانوی سطح پر، مکمل طور پر فعال بنائے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کا مشن ان دور دراز اور پسماندہ علاقوں تک صحت کی سہولیات پہنچانا ہے جہاں کبھی علاج کی سہولت ایک خواب ہوا کرتی تھی۔
خلیق الرحمان نے نئے تعینات ڈاکٹروں پر زور دیا کہ وہ عوام کی خدمت جذبہ، لگن اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی صلاحیتوں کو مثبت انداز میں بروئے کار لائیں اور عوام کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ محکمہ صحت ان کی ہر ممکن رہنمائی اور معاونت کرے گا۔ وزیر صحت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ڈاکٹروں کا رویہ اور مریضوں کے ساتھ ہمدردانہ برتاؤ صحت کی سہولیات کی بہتری میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔سیکرٹری صحت شاہد اللہ خان، نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور نئے ڈاکٹروں کو مبارکباد دیتے ہوئے انہیں پیشہ ورانہ اخلاقیات اور اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر صحت اور سیکرٹری صحت نے مشترکہ طور پر فکسڈ پے پر تعینات میڈیکل آفیسرز میں تقرری لیٹرز تقسیم کیے۔

محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ خیبر پختونخوا کے ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کے اعزاز میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام نوشہرہ میں ایک پروقار الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا

محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ خیبر پختونخوا کے ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کے اعزاز میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام نوشہرہ میں ایک پروقار الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر نوشہرہ کے اراکین صوبائی اسمبلی زر عالم خان، میاں عمر کاکا خیل ، چیف انجینئر امجد شمشیر، محکمہ کے افسران، ریٹائرڈ ملازمین، انجینئرز، اور دیگر عملے کی بڑی تعداد موجود تھی۔ تقریب میں صوبائی وزیر نے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے صوبائی ایسوسی ایشن کی نو منتخب کابینہ کے اراکین سے حلف بھی لیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر فضل شکور خان نے ریٹائرڈ ملازمین کی گراں قدر خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان افسران نے اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی عوام کی خدمت، محکمہ کی ترقی اور فلاحی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وقف کیے رکھی۔ ان کی انتھک محنت اور لگن کے باعث صوبے میں صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔انہوں نے مزید کہا کہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کا شعبہ عوامی فلاح و بہبود میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کا موثر نظام کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ صوبائی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے ادا کرنا نہ صرف ایک پیشہ ورانہ فریضہ ہے بلکہ ایک عبادت بھی ہے۔ انہوں نے سرکاری ملازمین پر زور دیا کہ وہ عوامی خدمت کے جذبے کے تحت اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنائیں اوردوسروں کے لیے مثال قائم کریں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی استعداد کار بڑھانے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے اور عوام کو معیاری سہولیات کی فراہمی کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ میں شفافیت، احتساب اور میرٹ کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ ترقیاتی منصوبوں کو بروقت اور مؤثر انداز میں مکمل کیا جا سکے۔انہوں نے ریٹائرڈ ملازمین کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا وسیع تجربہ اور پیشہ ورانہ مہارت آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی یہ ملازمین اپنے تجربے اور رہنمائی سے معاشرے کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیر صدارت کابینہ کی قائمہ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس بدھ کے روز پشاور میں منعقد ہوا، جس میں عوامی مفاد کے مختلف منصوبوں اور انتظامی امور بارےاہم فیصلے کیے گئے

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیر صدارت کابینہ کی قائمہ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس بدھ کے روز پشاور میں منعقد ہوا، جس میں عوامی مفاد کے مختلف منصوبوں اور انتظامی امور بارےاہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی، وزیر خزانہ مزمل اسلم، سیکرٹری محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم، سیکرٹری محکمہ کھیل و امور نوجوانان، محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ، محکمہ قانون، محکمہ خزانہ، اور محکمہ تعمیرات و مواصلات کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں پاکستان گرلز گائیڈ ایسوسی ایشن کے صوبائی چیپٹر کی انتظامی منتقلی کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس ضمن میں تجاویز پیش کی گئیں کہ ادارے کی بہتر کارکردگی اور تعلیمی ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے اسے محکمہ کھیل و امور نوجوانان سے واپس محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم (E&SE) خیبر پختونخوا کے سپرد کیا جائے۔ مزید برآں، یہ تجویز بھی زیر غور آئی کہ 2022 میں اس ادارے کو محکمہ ایجوکیشن سے محکمہ کھیل میں منتقل کرنے کے بعد 2025 تک اس کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا یا کمی، اور آیا محکمہ کھیل و امور نوجوانان کے پاس صوبے کے 35 ہزار سکولوں کے طلباء کے لیے سرگرمیوں کے انعقاد کی مطلوبہ استعداد موجود ہے یا نہیں۔کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم اور محکمہ کھیل و امور نوجوانان باہمی اشتراک سے جامع سفارشات مرتب کریں اور انہیں کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ مستقبل کے لائحہ عمل کا تعین کیا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد طالبات کی اس اہم تنظیم کو براہِ راست تعلیمی نظام سے منسلک کرکے اسے مزید مؤثر اور فعال بنانا ہے۔علاوہ ازیں، اجلاس میں پشاور کے بنیادی ڈھانچے اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات کو جدید بنانے کے حوالے سے جی ٹی روڈ پر “ٹرانسپورٹ کمپلیکس” کے قیام کے منصوبے پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ یہ منصوبہ 17 ایکڑ سے زائد رقبے پر محیط ہوگا، جس کی مرکزی عمارت پانچ منزلہ ہوگی، جبکہ 65 گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے بیسمنٹ بھی تعمیر کی جا رہی ہے۔اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ منصوبے کی تکمیل سے پشاور میں ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی اور مسافروں کو بین الاقوامی معیار کی سہولیات میسر آئیں گی۔ قائمہ کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام منصوبوں پر مقررہ مدت کے اندرعملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ عوام جلد از جلد ان کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان اور صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی کی مشترکہ پریس کانفرنس

خیبرپختونخوا حکومت عوام کو سستی اور معیاری رہائشی سہولیات کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے، شفیع جان

پی ٹی آئی حکومت نے بانی چیئرمین عمران خان کے ویژن کے تحت رہائشی منصوبوں کی کامیاب تکمیل یقینی بنائی، شفیع جان

گزشتہ 12 سالوں میں ہاؤسنگ اتھارٹی نے 34ارب روپے کی لاگت سے 7 اہم رہائشی منصوبے مکمل کیے، شفیع جان

ان منصوبوں کے تحت 9,497 کنال اراضی پر 10,477 فلیٹس اور پلاٹس عوام کو فراہم کیے گئے، شفیع جان

ہاؤسنگ اتھارٹی کے زیر انتظام اس وقت 31 ارب روپے کی لاگت سے 7 بڑے رہائشی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے،شفیع جان

ان منصوبوں کے تحت 30447 کنال اراضی پر مشتمل 38,784 فلیٹس اور پلاٹس عوام کو میسر آئیں گے، شفیع جان

احساس اپنا گھر سکیم کے تحت عوام کو گھروں کی تعمیر، توسیع کے لئے 15 لاکھ روپے کے بلاسود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں، شفیع جان

احساس اپنا گھر سکیم کے تحت قرعہ اندازی کے ذریعے کامیاب 114 درخواست گزاروں کو جلد چیکس حوالے کئے جائینگے، شفیع جان

احساس اپنا گھر سکیم کے دوسرے مرحلے پر بھی کام شروع کردیا گیا ہے،شفیع جان

گزشتہ چار ماہ میں ہاؤسنگ اتھارٹی نے ترقیاتی، انتظامی اور قانونی شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں،شفیع جان

نیو پشاور ویلی منصوبے کے پی سی ون کی منظوری ہو چکی ہے، شفیع جان

نیو پشاور ویلی 1 لاکھ 6 ہزار کنال پر مشتمل ایک میگا رہائشی منصوبہ ہے،شفیع جان

جرما ٹاؤن شپ ، بنی گل سٹی بنوں، ہنگو ٹاؤن شپ، دنگرام ہاؤسنگ سکیم سوات اور میگا سٹی نوشہرہ پر تیزی سے کام جاری ہے،شفیع جان

تمام ہاؤسنگ سہولیات کو ڈیجیٹائز کر کے دستک ایپ پر فراہم کر دیا گیا ہے، شفیع جان

ہاؤسنگ اتھارٹی میں شفافیت کے لیے ای پیڈز (E-PADs) سسٹم کا نفاذ کر دیا گیا ہے،شفیع جان

نظرثانی شدہ لینڈ شیئرنگ ریگولیشنز 2025 کی منظوری دے دی گئی ہے،شفیع جان

سرکاری ملازمین کو رہائشی سہولیات کی فراہمی کے لئے ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کا قیام میں عمل لایا گیا ہے، شفیع جان

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی کی قیادت میں حکومت عوام کو سستی، معیاری اور محفوظ رہائش کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ معدنیات کا اجلاس منگل کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ معدنیات کا اجلاس منگل کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین اور رکن صوبائی اسمبلی اکرام اللہ غازی نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین و ممبران صوبائی اسمبلی محمد یامین خان، محمد زبیر خان، محمد انور خان، احمد کریم کنڈی، محترمہ فائزہ ملک اور صوبیہ شاہد نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ سیکرٹری معدنیات، ڈائریکٹر جنرل معدنیات معہ متعلقہ عملہ، محکمہ قانون، ایڈشنل ایڈووکیٹ جنرل اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں مختلف پارلیمانی سوالات اور سابقہ اجلاس کے احکامات پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ رکن صوبائی اسمبلی احمد کریم کنڈی کی جانب سے گزشتہ اجلاس میں پیش کیے گئے سوال پر محکمہ معدنیات نے کمیٹی کو متعلقہ امور سے آگاہ کیا۔جس پر چیئرمین قائمہ کمیٹی نے اسمبلی حکام اور محکمہ معدنیات کو ہدایت کی کہ اگلے ہفتے ایک اجلاس بلوایا جائے جس میں متعلقہ افسران کو مدعو کیا جائے تاکہ تمام بند لیزوں پر دوبارہ سے کام کا آغاز کروایا جاسکے اور مستقبل میں تنازعات سے بھی بچا جاسکے اور عوام کے ساتھ ساتھ صوبے کو اس کے ترقیاتی اور محصولاتی ثمرات مل سکیں۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی اکرام اللہ غازی نے محکمہ معدنیات کو ہدایات کی کہ محکمے سے منسلک تمام لیگل ایڈوائزر کا مکمل ڈیٹا بمع ان کی تنخواہوں اور دیگر مراعات کے جلد از جلد کمیٹی کو فراہم کیاجائے۔ اسی طرح محکمے کے تمام زیر التوا کیسز کا بروقت خاتمہ یقینی بنایا جائے تاکہ لوگوں کو اس کے مثبت نتائج مل سکیں۔ اکرام اللہ غازی نے مزید ہدایت کی کہ محکمے میں دو سالہ پوسٹنگ ٹرانسفر پالیسی پر بھی سختی سے عملدرآمد کروایا جائے اور ان تمام افسران کا تبادلہ کروایا جائے جنہوں نے ایک ہی سٹیشن پر دو یا دو سال سے زیادہ کا عرصہ گزار رکھا ہو اور اس تمام عمل میں مکمل میرٹ اور شفافیت سے کام لیا جائے۔اجلاس کے اختتام پر چیئرمین قائمہ کمیٹی نے حکم دیا کہ آئندہ اجلاس میں جیالوجی اور معدنیات کے شعبے سے وابستہ ماہرین کو بھی بلوایا جائے تاکہ ان سے مفید مشورات مل سکے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منرل ٹیسٹنگ اتھارٹی کے قیام کو بھی جلد از جلد عملی جامہ پہنایا جائے تاکہ معدنیات کے شعبے میں صوبے کو تر قی سے ہمکنار کیا جاسکے اور معدنیات کی مد میں حاصل ہونے والے محصولات کو مزید بہتر اور مستحکم بنایا جاسکے۔

باڑاگلی سمر کیمپ، نتھیا گلی میں 4 روزہ یوتھ کنونشن کامیابی سے اختتام پذیر

خیبرپختونخوا میں نوجوانوں کی فکری رہنمائی، سماجی ہم آہنگی اور انسدادِ انتہا پسندی کے فروغ کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز خیبرپختونخوا نے 4 روزہ یوتھ کنونشن کا انعقاد کیا۔وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد خان ترند کی ہدایت پر باڑاگلی سمر کیمپ، نتھیا گلی ایبٹ آباد میں 4 روزہ یوتھ کنونشن برائے انسدادِ پرتشدد انتہا پسندی کا کامیاب انعقاد کیا، جو 10 سے 13 اپریل 2026 تک جاری رہا۔یہ کنونشن شعبہ تاریخ، یونیورسٹی آف پشاور، NIPS اور KP CVE کے اشتراک سے منعقد ہوا، جس میں 120 نوجوانوں نے حصہ لیا۔ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز نے پروگرام کی منصوبہ بندی، انتظامات اور نوجوانوں کی مؤثر شمولیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔مقررین اور شرکاء نے اس اقدام کو نوجوانوں کی تربیت اور امن کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔

انٹر کلب ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ کا آغاز کھیلوں کی سہولیات مزید اپڈیٹ کی جائیں گی، تاج محمد خان ترند

پشاور میں انٹر کلب ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔ چیمپئن شپ میں پشاور ریجن کے 8 کلبوں کے 40 سے زائد کھلاڑی 6 مختلف کیٹیگریز میں حصہ لے رہے ہیں۔افتتاحی تقریب پشاور سپورٹس کمپلیکس کے جمنازیم ہال میں منعقد ہوئی جس کے مہمانِ خصوصی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد ترند تھے۔ انہوں نے فیتہ کاٹ کر چیمپئن شپ کا افتتاح کیا۔تقریب میں ڈائریکٹر جنرل سپورٹس خیبرپختونخوا تاشفین حیدر، اے ڈی سی ریلیف مہران، خیبرپختونخوا اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر ہارون ظفر، سیکرٹری ذوالفقار علی بٹ، پاکستان باڈی بلڈنگ فیڈریشن کے صدر طارق پرویز، الیاس آفریدی، امجد خان، اسسٹنٹ ڈائریکٹر فنانس شاہ فیصل، چیف کوچ شفقت اللہ، ریجنل سپورٹس آفیسر کاشف فرحان، صوبائی ویٹ لفٹنگ ایسوسی ایشن کے صدر شیراز محمد اور ایڈمنسٹریٹر پشاور سپورٹس کمپلیکس یوسف آفریدی سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔تین روزہ چیمپئن شپ میں 55، 65، 73، 81، 89 اور 89+ کلوگرام کیٹیگریز میں مقابلے ہوں گے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی تاج محمد ترند نے کہا کہ ریجنل سطح پر کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد خوش آئند ہے، ایسے ایونٹس سے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے مواقع ملتے ہیں اور نیا ٹیلنٹ سامنے آتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتِ خیبرپختونخوا کے ویژن کے مطابق کھیلوں کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پشاور سپورٹس کمپلیکس میں کھیلوں کی تمام سہولیات کو مزید جدید بنایا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔افتتاحی تقریب میں کھلاڑیوں نے شاندار ڈیمانسٹریشن پیش کی جسے حاضرین نے خوب سراہا، جبکہ مہمانوں کو روایتی پگڑیاں بھی پہنائی گئیں۔

احساس انٹرن شپ پروگرام پر پیش رفت، طلبہ کے لیے ماہانہ وظیفے کی تجویز

محکمہ اعلی تعلیم سیکرٹریٹ میں احساس انٹرن شپ پروگرام کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں مجوزہ پروگرام پر صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ کے مطابق خیبرپختونخوا کے ڈومیسائل رکھنے والے بی ایس فارغ التحصیل طلبہ کو اس پروگرام کے تحت انٹرن شپ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ انٹرن شپ کا دورانیہ کم از کم دو ماہ جبکہ زیادہ سے زیادہ چھ ماہ ہوگا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ منتخب انٹرنز کو 25 ہزار روپے ماہانہ معاوضہ دیا جائے گا، جبکہ پروگرام کے لیے کم از کم 3.0 جی پی اے رکھنے والے طلبہ کو اہل قرار دیا جائے گا۔مزید بتایا گیا کہ انٹرن شپ پروگرام کے مؤثر نفاذ کے لیے جامعات اور ڈگری کالجز کی سطح پر کوآرڈینیشن آفسز قائم کیے جائیں گے تاکہ طلبہ کو بہتر رہنمائی اور سہولت فراہم کی جا سکے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے کہا کہ احساس انٹرن شپ پروگرام کا مقصد طلبہ کو عملی میدان کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور انہیں مارکیٹ کے لیے تیار کرنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بہت جلد اس پروگرام کا باضابطہ افتتاح کریں گے، جس سے صوبے کے نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔

Arrest of Peaceful PTI Workers Outside Adiala Jail Reflects Authoritarian Governance in Punjab: Shafi Jan

Special Assistant to the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa on Information and Public Relations, Shafi Jan, has stated that the arrest of peaceful workers of Pakistan Tehreek-e-Insaf outside Adiala Jail is highly condemnable and regrettable. He said that this action by the Punjab government is a clear example of authoritarian governance in the province.

He said that, in accordance with court orders, the sisters of PTI’s founding chairman Imran Khan and the party’s lawyers had gone to meet him. However, the Punjab government not only denied them permission to meet—openly violating the Constitution, law, court orders, and jail rules—but also arrested peaceful workers.

Shafi Jan stated that meetings of the founding chairman with his family, political leadership, and party lawyers are a fundamental right under the Constitution and law, which cannot be taken away under any circumstances.However, the Punjab government is continuously creating obstacles to these meetings.

He added that the undeclared ban on meetings with Imran Khan is a blatant violation of fundamental human rights. He said that keeping the founding chairman in solitary confinement is the worst example of political victimization, and that the authoritarian style of governance of both the federal and Punjab governments has been exposed before the nation.

He further stated that the federal government has become blinded by political revenge and is pushing the country toward crises. The Special Assistant added that the federal government is entirely focused on curbing the political activities of PTI, arresting peaceful workers, filing fabricated cases and pursuing political vendettas, while the public continues to suffer due to poor economic and anti-people policies.

Reaffirming his commitment, he said that PTI will continue its legal and peaceful political struggle for the supremacy of the Constitution and law, as well as for the release of Imran Khan, emphasizing that PTI is a peaceful and democratic political party that firmly believes in the rule of law.