سر خوائی بارانی ڈیم کی تعمیر سے علاقے میں زرعی انقلاب برپا ہوگا، کسانوں کی مالی خوشحالی یقینی بنائیں گے: طفیل انجم

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے بہبودِ آبادی طفیل انجم نے کہا ہے کہ ضلع مردان میں سر خوائی بارانی ڈیم تقریباً تین ارب روپے کی خطیر لاگت سے تعمیر کیا جائے گا، جس سے تقریباً 1162 ایکڑ بنجر زمین سیراب ہوگی۔ ڈیم کی تعمیر سے علاقے میں زرعی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، کسانوں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا اور سال کے بارہ مہینے زراعت کے لیے پانی کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز پشاور میں سر خوائی بارانی ڈیم سے متعلق منعقدہ ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل سمال ڈیمز انجینئر اختر رشید، ڈائریکٹر سمال ڈیمز سلیمان داؤد، ڈپٹی ڈائریکٹر سمال ڈیمز سید سلیمان سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں سر خوائی بارانی ڈیم کے مختلف پہلوؤں، تعمیراتی منصوبے اور اس کے علاقے کی زراعت اور معیشت پر مرتب ہونے والے مثبت اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ حکام نے معاونِ خصوصی کو منصوبے کی اہمیت اور متوقع فوائد کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
طفیل انجم نے کہا کہ سر خوائی بارانی ڈیم کی تعمیر ایک اہم عوامی اور زرعی منصوبہ ہے، جس سے نہ صرف بنجر زمینیں قابلِ کاشت بنیں گی بلکہ علاقے کے کسانوں کو سال بھر آبپاشی کے لیے پانی کی مستقل سہولت بھی میسر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل سے زرعی شعبے میں نمایاں بہتری آئے گی، پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہوگا اور علاقے میں حقیقی معنوں میں زرعی انقلاب برپا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت عوامی فلاح و بہبود اور زرعی شعبے کی ترقی کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے۔ دیہی علاقوں میں پانی کے ذخائر اور آبپاشی کے منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف کسانوں کی مالی خوشحالی ممکن ہوگی بلکہ مقامی معیشت بھی مستحکم ہوگی۔
معاونِ خصوصی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کے تمام تکنیکی اور انتظامی امور کو بروقت مکمل کرتے ہوئے تعمیراتی عمل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام جلد از جلد اس اہم منصوبے کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔

مزید پڑھیں