وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکے مشیرِ برائے سماجی بہبود و خصوصی تعلیم ملک لیاقت علی خان کا مختلف اداروں کا تفصیلی دورہ ،خصوصی تعلیمی اداروں کے لیے گاڑیایوں کی چابیاںتقسیم کیں

مشیرِ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا برائے سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان نے جمعرات کے روزسپیشل وومن ایجوکیشن کمپلیکش حیات آباد پشاور میںیتیم اور خصوصی بچوں کی سفری سہولت کے لئے خصوصی تعلیمی اداروںمیں گاڑیوں تقسیم کیں۔اس حوالے سے منعقدہ تقریب میں سیکرٹری محکمہ سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ، ڈائریکٹر محکمہ سماجی بہبود اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ مشیرِ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا برائے سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان نے آج مختلف فلاحی اداروں اور خصوصی تعلیم سے متعلق سرگرمیوں میں شرکت کرتے ہوئے خصوصی بچوں، خواتین، بزرگ شہریوں اور دیگر مستحق طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی تعلیمی اداروں کو گاڑیوں کی فرہمی کا مقصد خصوصی بچوں کی محفوظ، بروقت اور باوقار آمدورفت کو یقینی بنانا ہے۔اس موقع پرتقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ حکومتِ خیبرپختونخوا خصوصی افراد کی تعلیم، بحالی اور فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور خصوصی تعلیمی اداروں کو سفری سہولیات کی فراہمی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ خصوصی تعلیم کے لیے 11 نئی گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں، جن میں سے 5 گاڑیاں زمونگ کور پشاور کے لیے مختص کی گئی ہیں جبکہ باقی گاڑیاں مختلف اضلاع میں ضرورت کے مطابق فراہم کی جائیں گی۔انہوں نےکہاکہ جلد ہی 23 نئی منی بسیں بھی محکمہ کو موصول ہوں گی، جنہیں یتیم اور خصوصی بچوں کی سہولت کے پیشِ نظر ضرورت مند اداروں میں شفاف انداز سےتقسیم کیا جائے گا تاکہ بچوں کو بہتر سفری سہولیات میسر آ سکیں۔اس موقع پر انہوں نے گاڑیوں کی چابیاں بھی تقسیم کیں۔قبل ازیںل مشیرِ وزیراعلیٰ نے یونیسف کے زیر اہمتام خصوصی بچوں کے لئے منعقدہ تقریب میں بھیشرکت کی، جہاں انہوں نے خصوصی بچوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے منعقدہ نمائش کا تفصیلی معائنہ کیا۔ انہوں نے بچوں کے فن پاروں، تخلیقی صلاحیتوں اور مختلف ہنر کو سراہتے ہوئے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے خصوصی بچوں میں اسناد تقسیم کیں۔انہوں نے خصوصی بچوں کے لیےفی کس 30 ہزار روپے کے انعام کا بھیاعلان کیا اور کہا کہ خصوصی بچے، بالخصوص ہماری بیٹیاں، معاشرے کااہم حصہ ہیں حکومت انہیں معیاری تعلیم، ہنر مندی اور روشن مستقبل کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ چھ ماہ کے دوران خصوصی بچوں کے لیے جدید اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ نئے ہنرز پر مبنیپروگرامز متعارف کرائے جائیں گے، جبکہ خصوصی بچوں کی رجسٹریشن کو جامع اور مؤثر بنانے کے لیے خصوصی ٹیمیں گھر جا کر رجسٹریشن کا عمل مکمل کریں گی تاکہ کوئی بھی مستحق بچہ حکومتی سہولیات سے محروم نہ رہے۔بعد ازاں مشیرِ وزیراعلیٰ نے سیکرٹری محکمہ سماجی بہبود اور ڈائریکٹر محکمہ سماجی بہبود کے ہمراہ اولڈ سٹیزن ہوم حیات آباد، پشاور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بزرگ رہائشیوں سے ملاقات کی، ان کی خیریت دریافت کی اور ادارے میں فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے پانی کی فراہمی کے نظام کا معائنہ کرتے ہوئے فوری ہدایات جاری کیں کہ واٹر فلٹر اور واٹر کولرز کو ہر وقت فعال اور صاف رکھا جائے تاکہ بزرگ شہریوں کو صاف اور ٹھنڈا پینے کا پانی میسر ہو۔انہوں نے بزرگ شہریوں سے ان کےمسائل، صحت، خوراک اور دیگر ضروریات کے بارے میں دریافت کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بزرگوں کی دیکھ بھال، علاج، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اولڈ سٹیزن ہوم میں مقیم بزرگ ہمارے لیے قابلِ احترام ہیں اور ان کی خدمت محکمہ سماجی بہبود کی اولین ذمہ داری ہے۔ مشیرِ وزیراعلیٰ نے زمونگ کور گرلز
ہاسٹل کا بھی اچانک دورہ کیا۔ انہوں نے ہاسٹل میں صفائی ستھرائی، کچن، کھانے پینے کی اشیاء، خوراک کی تیاری کے معیار اور استعمال ہونے والے برتنوں کا تفصیلی معائنہ کیا اور متعلقہ حکام کو صفائی کے انتظامات مزید بہتر بنانے اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت کی۔ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ تمام فلاحی اداروں میں بچوں کو اعلیٰ معیار کی خوراک، صاف ستھرا ماحول اور بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا، “یہ بچے ہماری ذمہ داری اور ہماری امانت ہیں، ہم ہی ان کے محافظ ہیں۔ ان کی بہترین دیکھ بھال، معیاری خوراک اور محفوظ ماحول کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔”ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی صحت، صفائی، خوراک اور رہائشی سہولیات کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور تمام فلاحی اداروں میں مؤثر نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ خصوصی بچوں، یتیم بچیوں، بزرگ شہریوں اور دیگر مستحق افراد کو بہترین سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جا سکے۔

مزید پڑھیں