رمضان المبارک 1447ھ کے چاند کی رؤیت کے سلسلے میں انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے سیکرٹری برائے اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور خیبرپختونخوا کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس جمعرات کے روز اُن کے دفتر پشاور میں منعقد ہوا

رمضان المبارک 1447ھ کے چاند کی رؤیت کے سلسلے میں انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے سیکرٹری برائے اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور خیبرپختونخوا کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس جمعرات کے روز اُن کے دفتر پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری اوقاف، ایڈمنسٹریٹر اوقاف، سیکشن آفیسر اوقاف سمیت محکمہ اطلاعات، محکمہ ریلیف/ڈی جی ریسکیو 1122 اور پولیس ڈیپارٹمنٹ کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ چیئرمین مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی اپنے 21 اراکین کے ہمراہ 29 شعبان 1447ھ، بمطابق 18 فروری 2026ء کو پشاور کا دورہ کریں گے، جہاں رمضان المبارک کے چاند کی رؤیت کا باضابطہ اہتمام کیا جائے گا۔ اجلاس کا بنیادی مقصد داخلی، انتظامی اور سکیورٹی امور کا جائزہ لے کر انہیں حتمی شکل دینا تھا۔محکمہ اطلاعات کی جانب سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریاض غفور نے میڈیا انتظامات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ تقریب کی جامع کوریج پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے یقینی بنائی جائے گی۔ریسکیو 1122 نے تقریب کے دوران دو ایمبولینسیں، دو فائر وہیکلز اور متعلقہ عملے کی تعیناتی کی تصدیق کی، جبکہ پولیس ڈیپارٹمنٹ نے فول پروف سکیورٹی انتظامات کی یقین دہانی کرائی۔ سکیورٹی پلان کے تحت بی ڈی ایس کلیئرنس، سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور ڈرون نگرانی کو یقینی بنایا جائے گا، اور حتمی سکیورٹی پلان 16 فروری تک مرتب کر لیا جائے گا۔پروٹوکول انتظامات کے حوالے سے مہمانوں کی آمدورفت کے لیے چار GLI گاڑیاں اور ایک ہائی ایس بمعہ ڈرائیورز و ایندھن فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ رمضان 1447ھ کا چاند 17 فروری 2026ء کو تقریباً شام 5 بجے پیدا ہوگا اور 18 فروری کی شام اس کے نظر آنے کے موزوں امکانات موجود ہیں۔اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ محکمہ اوقاف نشستوں کی ترتیب، مقام کے انتظامات اور پریس کانفرنس کے انعقاد کو یقینی بنائے گا اور پولیس کے ساتھ دیگر اقدامات میں مکمل معاونت فراہم کرے گا۔ اجلاس کے اختتام پر تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں بروقت مکمل کریں اور باہمی رابطہ برقرار رکھتے ہوئے کانفرنس اور رؤیتِ ہلال کے انتظامات کو پرامن، منظم اور مؤثر انداز میں یقینی بنائیں۔

مزید پڑھیں