داخلہ مہم کے حوالے سے بے بنیاد اور من گھڑت پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم خالد خان

سیکرٹری محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبرپختونخوا خالد خان نے کہا ہے کہ رواں سال صوبے کی داخلہ مہم گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ دے گی اور ستمبر تک سکول سے باہر لاکھوں بچوں کو تعلیمی اداروں میں داخل کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ داخلہ مہم کے حوالے سے پھیلایا جانے والا منفی پروپیگنڈا بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے، کیونکہ اب تک چھ لاکھ سے زائد بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کیا جا چکا ہے، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ تعداد ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمِ گرما کے دوران داخلہ مہم کی رفتار عارضی طور پر سست ہو جاتی ہے، تاہم جیسے ہی گرمیوں کی تعطیلات ختم ہوتی ہیں اور ستمبر کا آغاز ہوتا ہے تو داخلہ مہم مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھتی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ستمبر تک داخلوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آئے گا اور مقررہ اہداف سے بھی بہتر نتائج حاصل کیے جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مردان بورڈ میں منعقدہ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ایجوکیشن، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (میل و فیمیل)،محکمہ تعلیم کے افسران، اساتذہ اور عوام کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔کھلی کچہری کے دوران اساتذہ اور شہریوں نے محکمہ تعلیم سے متعلق اپنے مسائل، تجاویز اور شکایات سیکرٹری کے سامنے پیش کیں۔ سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم نے متعلقہ حکام کو مسائل کے بروقت حل کے لیے ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو معیاری اور بہتر تعلیمی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے سرکاری سکولوں میں فرنیچر کی فراہمی کے لیے سات ارب روپے سے زائد فنڈز جاری کیے ہیں، جبکہ پیرنٹ ٹیچر کونسل (PTC) فنڈز کی مد میں بھی اربوں روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ اس وقت ہر سکول کے پی ٹی سی اکاؤنٹ میں لاکھوں روپے موجود ہیں تاکہ مقامی سطح پر ضروری تعلیمی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔خالد خان نے کہا کہ سال 2022 میں بھرتی ہونے والے اساتذہ کی ریگولرائزیشن کا معاملہ جلد حل کر لیا جائے گا، جس کے لیے سمری صوبائی کابینہ کو ارسال کر دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سکولوں میں طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر نئے کلاس رومز کی تعمیر کے لیے بھی اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ گنجائش سے زیادہ طلبہ کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ درسی کتب کی کمی کے دیرینہ مسئلے کے خاتمے کے لیے سمسٹر وائز کتابوں کی فراہمی کا نیا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس سے کتابوں کی بروقت دستیابی ممکن ہوگی اور یہ مسئلہ مستقل طور پر حل ہو جائے گا۔سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم خالد خان نے مزید بتایا کہ حکومت طلبہ کی کیمپنگ پر بھی خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں آئندہ سال ایک لاکھ طلبہ کی کیمپنگ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ طلبہ کو نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیر نصابی، تربیتی اور قائدانہ صلاحیتوں کے فروغ کے بہتر مواقع بھی فراہم کیے جا سکیں۔تقریب کے اختتام پر سیکرٹری خالد خان نے اساتذہ، محکمہ تعلیم کے افسران اور دیگر شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں معیاری تعلیم کے فروغ، تعلیمی سہولیات کی بہتری اور ہر بچے تک تعلیم کی رسائی کے لیے حکومت تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔

مزید پڑھیں