خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس جمعرات کے روز خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو) پشاور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرپرسن ذیلی کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی محترمہ ثوبیہ شاہد نے کی۔ اجلاس میں اراکین اسمبلی عبید الرحمن، عدنان خان اور سریش کمار سمیت محکمہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل، خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے اعلیٰ حکام، محکمہ قانون اور صوبائی اسمبلی کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں 15 ستمبر 2025 کو ہونے والے گزشتہ اجلاس میں جاری کردہ ہدایات پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران ڈائریکٹر جنرل محکمہ صحت نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی جانب سے ملک بھر میں میڈیکل کالجز کی رجسٹریشن پر عائد پابندی کے باعث تیمرگرہ میڈیکل کالج کی رجسٹریشن ممکن نہ ہو سکی تھی۔ تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے پابندی کے خاتمے کے بعد مذکورہ کالج کی رجسٹریشن کا معاملہ دوبارہ پی ایم ڈی سی کے ساتھ اٹھایا جائے گا اور اسے جلد از جلد مکمل کیا جائے گا تاکہ طلبہ کو داخلوں کا موقع فراہم کیا جا سکے۔ کمیٹی اراکین نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ کالج کی غیر فعالیت کے باوجود پہلے سے تعینات عملے پر صوبائی خزانے سے سالانہ کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں، لہٰذا رجسٹریشن کے عمل کو فوری طور پر مکمل کیا جائے اور آئندہ اجلاس میں پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے۔ محکمہ صحت کے حکام نے یقین دہانی کرائی کہ تمام تعینات پروفیسرز اور اسسٹنٹ پروفیسرز پی ایم ڈی سی سے تصدیق شدہ ہیں۔چیئرپرسن ذیلی کمیٹی ثوبیہ شاہد نے اجلاس میں ثمر باغ ہسپتال کو اپ گریڈ کرکے اسے ثمر باغ ٹیچنگ ہسپتال کا درجہ دینے کی سفارش کی کی، جس کی کمیٹی کے تمام اراکین نے متفقہ طور پر تائید کی۔ محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ اس سلسلے میں جلد نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا اور آئندہ اجلاس میں اس حوالے سے رپورٹ پیش کی جائے گی۔اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی اور اقلیتی برادری کے نمائندے سریش کمار نے میڈیکل کالج میں داخلوں کے لیے مختص دو فیصد اقلیتی کوٹے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئینِ پاکستان میں اقلیتوں کے کوٹے کو تحفظ حاصل ہے، تاہم اس پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ اس پر خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے حکام نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ داخلہ سیشن میں اقلیتی برادری کے کوٹے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ تمام فیصلوں پر بروقت عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور پیش رفت سے کمیٹی کو آگاہ رکھا جائے۔
