خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ خزانہ کا اجلاس منگل کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ خزانہ کا اجلاس منگل کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین اور رکن صوبائی اسمبلی ارباب محمد عثمان خان نے کی۔ اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی اورنگزیب خان، احمد کنڈی، منیر حسین، شیر علی آفریدی، گروپال سنگھ، مخدوم زادہ محمد آفتاب حیدر، عسکر پرویز، نثار باز، محترمہ آمنہ سردار، محترمہ شازیہ تماس خان، محترمہ ثوبیہ شاہد اور محترمہ مدینہ گل نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری خزانہ، محکمہ قانون، صحت اور اوقاف کے حکام، بینک آف خیبر کے منیجنگ ڈائریکٹر اور صوبائی اسمبلی کے افسران بھی موجود تھے۔اجلاس میں 9 ستمبر 2025 کو جاری کیے گئے سابقہ احکامات کی روشنی میں محکمہ خزانہ، صحت اور اوقاف کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور زیر التوا امور پر وضاحت طلب کی گئی۔ سیکرٹری خزانہ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ صوبے کے تمام محکموں کا جاری اور ترقیاتی بجٹ محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے، تاہم چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ صوبے کے تمام مالیاتی فنڈز کو ایک ہی جامع پلیٹ فارم پر نمایاں کرنے کے لیے مؤثر نظام وضع کیا جائے۔ سیکرٹری خزانہ نے مزید بتایا کہ ضم اضلاع (سابقہ فاٹا) کی اصلاحات کا بڑا مالی بوجھ صوبائی بجٹ پر اثر انداز ہو رہا ہے۔اجلاس میں محکمہ صحت کی جانب سے ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کے بجٹ کی مکمل تفصیلات پیش کی گئیں، جبکہ قائمہ کمیٹی نے پورے صوبے کے ریونیو ڈیٹا کی تفصیلات طلب کر لیں۔ ایم ایس محکمہ صحت نے رکن صوبائی اسمبلی نثار باز کے سوال پر ڈی ایچ کیو باجوڑ میں متعلقہ افسران کے خلاف انکوائری رپورٹ اور انصاف سہولت کارڈ سے متعلق مکمل معلومات فراہم کیں۔ این ایف سی ایوارڈ سے متعلق سوالات کے جواب میں محکمہ خزانہ نے وضاحت پیش کی، جبکہ رکن اسمبلی محترمہ ثوبیہ شاہد نے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا کو پنجاب اور سندھ کی طرز پر این ایف سی ایوارڈ میں منصفانہ حصہ دیا جائے۔اجلاس میں محکمہ اوقاف سے صوبے کی مختلف مساجد کی سولرائزیشن سے متعلق تفصیلات طلب کی گئیں۔ محترمہ آمنہ سردار نے بینک آف خیبر کے حکام کو قرضوں کی مکمل تفصیل فراہم کرنے کی ہدایت کی، جبکہ رکن صوبائی اسمبلی عسکر پرویز نے پشاور میں چرچ پر خودکش حملے کے شہداء اور زخمیوں کے معاوضے کے معاملے پر محکمہ اوقاف سے وضاحت طلب کی۔ اجلاس کے اختتام پر مختلف امور پر سفارشات مرتب کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کو آئندہ اجلاس میں پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔

مزید پڑھیں