خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ لائیو سٹاک، فشریز اور کوآپریٹو کا اجلاس بدھ کیروز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاورمیں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ لائیو سٹاک، فشریز اور کوآپریٹو کا اجلاس بدھ کیروز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاورمیں منعقد ہوا اجلاس کی صدارت چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی شیر علی آفریدی نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین وممبران اسمبلی محمد عبدالسلام آفریدی، ارباب محمد عثمان خان، عبدالمنعم مخدوم زادہ محمد آفتاب حیدر اور احمد کنڈی نے شرکت کی، جبکہ سیکرٹری محکمہ لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹو بمعہ متعلقہ افسران، محکمہ قانون اور صوبائی اسمبلی کے افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔ اجلاس کا مقصد محکمے کی کارکردگی، عوامی خدمات اور پالیسی عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لینا تھا۔اس موقع پر سابقہ اجلاس میں دیے گئے احکامات پر عملدرآمد کی پیشرفت پر غور کیا گیا۔ رکن کمیٹی احمد کنڈی کے سوال کے جواب میں سیکرٹری لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹو نے بتایا کہ صوبے بھر میں مچھلیوں کے غیر فطری اور غیر قانونی شکار پر مکمل پابندی عائد ہے، جن میں جنریٹر اور دھماکہ خیز مواد کے ذریعے شکار شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان جرائم پر 50 ہزار روپے جرمانہ اور چھ ماہ قید کی سزا مقرر ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران غیر قانونی شکار پر 92 لاکھ روپے جرمانہ وصول کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدامات آبی حیات کے تحفظ، مچھلیوں کی افزائش نسل اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں۔اجلاس میں لائیو سٹاک کے شعبے سے متعلق امور پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔ رکن قائمہ کمیٹی ارباب محمد عثمان خان نے مذبح خانوں میں قصائیوں کی باقاعدہ تربیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف گوشت کے معیار میں بہتری آئے گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ کمیٹی نے محکمہ لائیو سٹاک کو ہدایت کی کہ تمام ذیلی شعبہ جات بشمول ویٹرنری سروسز، ڈیری ڈیویلپمنٹ اور پولٹری کا ڈیٹا کمپیوٹرائزڈ کیا جائے۔ اس موقع پر عبدالسلام آفریدی نے کہا کہ محکمہ عوام میں یہ شعور بیدار کرے کہ شکار اور ذبح کے کن طریقوں سے حلال و حرام کا تعین ہوتا ہے، تاکہ صحت اور مذہبی اصولوں کے مطابق خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی شیر علی آفریدی نے محکمہ لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹو کی مجموعی کارکردگی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں قائم ریسرچ سینٹرز اپنی افادیت ثابت کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ دنیا بھر میں ڈیری فارمنگ، پولٹری اور فشریز کے شعبے معیشت میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ محکمے کو جدید خطوط پر استوار کر کے اسے منافع بخش اور خود کفیل ادارہ بنایا جائے۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں لوکل گورنمنٹ،حلال فوڈ اتھارٹی اور ٹی ایم اے سمیت متعلقہ محکموں کے افسران کو بھی طلب کیا جائے گا۔ اجلاس کے اختتام پر چیئرمین نے محکمہ کو ہدایت کی کہ تمام احکامات پر بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور آئندہ اجلاس میں جامع پیشرفت رپورٹ پیش کی جائے۔

مزید پڑھیں