خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ زراعت کا اجلاس جمعرات کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ زراعت کا اجلاس جمعرات کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین قائمہ کمیٹی اور رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام افریدی نے کی۔ اجلاس میں قائمہ کمیٹی کے اراکین و ممبران صوبائی اسمبلی زرشاد خان، داؤد شاہ، مخدوم زادہ محمد آفتاب حیدر محمد نثار باز، شرافت علی اور فضل الٰہی نے شرکت کی، جبکہ سپیشل سیکرٹری زراعت، ڈائریکٹر جنرل زراعت، محکمہ قانون، محکمہ خزانہ اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے متعلقہ افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس کے آغاز میں چیئرمین قائمہ کمیٹی عبدالسلام افریدی نے کہا کہ محکمہ زراعت کا یہ اجلاس غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ صوبے کے مختلف اضلاع میں کسانوں کو فراہم کیا گیا گندم کا ناقص بیج نہ اگنے کے باعث پورے صوبے میں گندم کی پیداوار متاثر ہوئی، جس سے کسانوں اور زرعی زمین مالکان کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس موقع پر سپیشل سیکرٹری اور ڈی جی زراعت نے وضاحت پیش کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں محکمہ زراعت کے سیڈ سینٹرز کے ذریعے بیج فراہم کیا جاتا ہے اور ڈیرہ اسماعیل خان سیڈ سینٹر سے تقریباً 37 ہزار سر بمہر گندم کے بیگز مختلف اضلاع کے کسانوں نے خریدے تھے، جو ناقص ہونے کے باعث کاشت کے بعد اگ نہ سکے۔کمیٹی اراکین کی جانب سے ذمہ داران کے خلاف کارروائی سے متعلق سوالات پر ڈی جی زراعت نے بتایا کہ 17، 18 اور 19 گریڈ کے آٹھ افسران کو معطل کر کے ان کے خلاف محکمانہ انکوائری شروع کی جا چکی ہے۔ اس پر رکن کمیٹی فضل الٰہی نے معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک سب کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی، جس میں کسانوں کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ سب کمیٹی کی سفارشات تک معطل افسران کو بحال رکھا جائے گا اور ذمہ داروں کا حتمی تعین سب کمیٹی کرے گی۔ اجلاس کے اختتام پر چیئرمین قائمہ کمیٹی نے محکمہ زراعت کے اعلیٰ حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں درست اور مکمل اعداد و شمار پیش کیے جائیں، تاکہ معاملے پر مزید کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

مزید پڑھیں