خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم اوربااختیار خواتین کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین اور رکن صوبائی اسمبلی زبیر خان نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین و ممبرانِ صوبائی اسمبلی انور زیب خان، نیلوفر بابر، اسماء عالم اور صوبیہ شاہد نے شرکت کی، جبکہ سیکرٹری زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود و خصوصی تعلیم، محکمہ قانون اور صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا کے متعلقہ افسران و عملہ بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں عشر کے نظام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں موجودہ طریقہ کار، درپیش مسائل اور عملی اقدامات سے کمیٹی کو آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی کے اراکین نے عشر کی وصولی اور تقسیم کے عمل میں شفافیت اور بہتری کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں اورمحکمہ کی جانب سے کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر کی گئی کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا اور عشر سے متعلق گزشتہ 20 سال کا ریکارڈ بھی کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا۔ کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ اسمبلی کے فلور پر بل کے ذریعے عشر کو بورڈ آف ریونیو سے علیحدہ کیے جانے کے باوجود اسے دوبارہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کیوں کیا گیا۔محکمے نے وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ عشر کے مؤثر نفاذ کے لیے 100 اسامیوں کی ضرورت تھی جن کی منظوری محکمہ خزانہ نے دی تھی، تاہم بعد ازاں یہ اسامیاں ختم کر دی گئیں جس کے باعث عشر دوبارہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے تحت چلا گیا، جیسا کہ ملک کے دیگر صوبوں میں بھی رائج ہے۔ کمیٹی کو مزید آگاہ کیا گیا کہ عشر ہر زمین سے اگنے والی پیداوار پر دسواں حصہ بنتا ہے اور اس کی ادائیگی زمین مالکان اور زمینداروں کی رضاکارانہ صوابدید پر ہوتی ہے۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی نے ہدایت کی کہ عشر اور زکوٰۃ سے متعلق صوبے کے تمام اضلاع کا جامع ڈیٹا آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے۔اجلاس میں سپیشل ایجوکیشن حیات آباد کمپلیکس کو گاڑیوں کی فراہمی کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔ محکمے نے بتایا کہ 23 گاڑیاں خریدی گئی ہیں جن میں سے دو گاڑیاں عنقریب سپیشل ایجوکیشن حیات آباد کمپلیکس کو فراہم کر دی جائیں گی جبکہ باقی گاڑیاں صوبے کے مختلف اضلاع میں تقسیم کی جائیں گی۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ اس حوالے سے آئندہ اجلاس میں تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ زکوٰۃ فنڈ بیواؤں، یتیموں، معذور افراد اور مستحق بچیوں کی شادی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس کے لیے پورے صوبے میں زکوٰۃ کمیٹیاں قائم ہیں۔
