خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے طریقہ کار و ضابطہ کارروائی، استحقاق اور حکومتی یقین دہانیوں کے نفاذ کا ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے طریقہ کار و ضابطہ کارروائی، استحقاق اور حکومتی یقین دہانیوں کے نفاذ کا ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں سپیکر کے پی اسمبلی بابر سلیم سواتی، ڈپٹی سپیکر و چیئرپرسن کمیٹی ثریا بی بی اور صوبائی وزیر برائے قانون و پارلیمانی امور آفتاب عالم ایڈووکیٹ سمیت کمیٹی کے اراکین اور ممبران صوبائی اسمبلی صوبیہ شاہد اور محمد عبدالسلام نے شرکت کی جبکہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل انعام خان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں خیبر پختونخوا اسمبلی (اختیارات، استثنیٰ اور مراعات) ایکٹ 1988 پر تفصیلی غور کیا گیا جو ایوان کی جانب سے قائمہ کمیٹی کو بھیجا گیا تھا۔ اجلاس کے دوران اسمبلی کارروائی میں نان الیکٹڈ مشیروں، معاونینِ خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل کی شرکت اور اس حوالے سے ان کے استحقاق پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں تجویز دی گئی کہ دورانِ اسمبلی کارروائی کسی بھی غیر معمولی صورتِ حال یا مشکلات کی صورت میں اسمبلی سٹاف کے لیے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو خصوصی استحقاق حاصل ہونا چاہیے۔ کسی اجلاس، بورڈ یا چیئرپرسن شپ کی صدارت کے حوالے سے صوبائی وزیر قانون نے واضح کیا کہ یہ معاملہ آئینی اختیارات کے زمرے میں آتا ہے نہ کہ حکومتی استحقاق کے۔اجلاس میں ممبرانِ صوبائی اسمبلی کے لیے سرکاری رہائش گاہ میں قیام کی مدت کو سات دن تک محدود رکھنے کی تجویز پیش کی گئی۔ اسی طرح ممبرانِ اسمبلی کے ہسپتالوں، ہیلتھ سینٹرز، ڈسپنسریوں، پاپولیشن پلاننگ سینٹرز یا دیگر عوامی دفاتر کے دوروں سے متعلق استحقاق کو بھی زیر غور لایا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرپرسن قائمہ کمیٹی محترمہ ثریا بی بی نے کہا کہ پارلیمانی نظام کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ اسمبلی کے اختیارات، استحقاق اور قواعد و ضوابط کو واضح، مؤثر اور آئینی تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے قوانین کی جامع جانچ پڑتال کرے جو پارلیمان کی خودمختاری اور مؤثر قانون سازی کے عمل کو مضبوط بنائیں۔اس موقع پر صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے کہا کہ صوبائی حکومت پارلیمانی روایات کے تحفظ اور قانون سازی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے اختیارات اور استحقاق سے متعلق قوانین میں بہتری سے نہ صرف ایوان کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا بلکہ جمہوری نظام بھی مزید مضبوط ہوگا۔ وزیر قانون نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مجوزہ سفارشات کو آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے حتمی شکل دی جائے تاکہ انہیں جلد ایوان میں پیش کیا جا سکے۔اجلاس میں کمیٹی اراکین نے مختلف نکات پر اپنی آراء پیش کیں اور قانون کے مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے مزید مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

مزید پڑھیں