
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان کو خیبرپختونخوا وَگرَنسی (کنٹرول اینڈ ریہیبیلیٹیشن) بل 2026 میں مجوزہ ترامیم کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ایڈیشنل سیکرٹری عمر خان نے ملک لیاقت علی خان کو بل کی مختلف شقوں میں تجویز کردہ ترامیم، ان کے اغراض و مقاصد اور اہم نکات سے آگاہ کیا۔ بریفنگ میں گداگری کی روک تھام، مستحق افراد کی بحالی، انہیں ہنر سکھانے، روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور معاشرے میں باعزت مقام دلانے سے متعلق اقدامات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر متعلقہ سرکاری اداروں، ضلعی انتظامیہ، پولیس، محکمہ صحت، محکمہ تعلیم اور غیر سرکاری تنظیموں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ بریفنگ میں بحالی مراکز کے قیام، گداگری میں ملوث بچوں، خواتین، بزرگوں اور خصوصی افراد کے لیے الگ الگ سہولیات کی فراہمی، ان کی رجسٹریشن، طبی معائنے، نفسیاتی معاونت اور قانونی تحفظ سے متعلق امور بھی زیرِ بحث آئے۔ملک لیاقت علی خان نے مجوزہ ترامیم کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ کمزور اور مستحق افراد کی بحالی، انہیں معاشرے کا باعزت اور خودمختار حصہ بنانا اور منظم گداگری کی حوصلہ شکنی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے محض قانونی کارروائی کافی نہیں بلکہ بحالی، تعلیم، فنی تربیت اور روزگار کے مؤثر مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بل میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز کو شامل کرتے ہوئے اسے مزید جامع اور مؤثر بنایا جائے، جبکہ بحالی کے عمل کی نگرانی اور اقدامات پر عمل درآمد کے لیے واضح طریقہ کار بھی وضع کیا جائے۔ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا وَگرَنسی (کنٹرول اینڈ ریہیبیلیٹیشن) بل 2026 میں مجوزہ ترامیم آج خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو اسمبلی میں بل پیش کرنے کے حوالے سے تمام قانونی و انتظامی تقاضے مکمل رکھنے کی ہدایت کی۔
