وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایات اور بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے فلاحی ریاست، مستحق طبقات کی معاونت اور باعزت خودکفالت کے وژن کے تحت صوبے کے مستحق خصوصی افراد کو مالی و سماجی تحفظ فراہم کرنے کے لیے حکومت خیبرپختونخوا کے فلیگ شپ پروگرام احساس اُمید کے تحت مستحق خصوصی افراد کو مالی امداد کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے جو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان نے جمعہ کے روزحیات آبادسپیشل ایجوکیشن کمپلیکس پشاور میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں کیا۔اس موقع پر سیکرٹری سماجی بہبود شریف حسین، پارلیمانی سیکرٹری اعظم خان، ایڈیشنل سیکرٹری زکوٰۃ و عشر حبیب اللہ اور چیئرمین زکوٰۃ و عشر امتیاز خان سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ احساس اُمید پروگرام کے تحت خیبرپختونخوا بھر میں 10 ہزار مستحق خصوصی افراد کو ماہانہ 5 ہزار روپے مالی امداد فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مستحقین کو مالی معاونت کی فراہمی کے لیے احساس اُمید کارڈ بھی فراہم کیے جائیں گے۔اس موقع پر مشیر وزیراعلیٰ ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایات کے مطابق مستحق خصوصی افراد کی نشاندہی اور مالی معاونت کے پورے عمل کو شفاف، میرٹ پر مبنی اور جدید ڈیجیٹل نظام سے منسلک کیا گیا ہے۔ محکمہ سماجی بہبود نے ای-ڈس ایبلٹی سسٹم کے ذریعے 52 ہزار خصوصی افراد کا ڈیٹا حاصل کیا، جبکہ جامع سماجی و معاشی اعشاریوں کی بنیاد پر آئی ٹی سسٹم کے ذریعے مستحق افراد کا پاورٹی سکور مرتب کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ صوبہ بھر میں 4400 مقامی زکوٰۃ کمیٹیوں کے ذریعے خصوصی افراد کا سماجی و معاشی جائزہ مکمل کیا گیا، جبکہ فراہم کردہ معلومات کی متعلقہ ڈسٹرکٹ زکوٰۃ کمیٹیوں نے تصدیق کی۔ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ شفاف طریقہ کار کے تحت مجموعی طور پر 9298 خصوصی افراد کو مالی امداد کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ فنڈز کی تقسیم کے لیے ایزی پیسہ کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، جبکہ مستحقین بائیومیٹرک تصدیق کے ذریعے اپنی رقم وصول کر سکیں گے۔انہوں نے بتایا کہ پشاور، چارسدہ اور خیبر سے تعلق رکھنے والے 20 خصوصی افراد کو جنوری تا جون 2026 کے فی کس 30 ہزار روپے ادا کیے گئے، جبکہ باقی مستحقین کو رقوم آن لائن منتقل کی جائیں گی۔مشیر وزیراعلیٰ ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ احساس اُمید پروگرام میںہر طرح کی مداخلت کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے اور مستحقین تک ان کی پوری رقم شفاف طریقے سے پہنچانے کا مؤثر نظام وضع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مالی امداد وصول کرنے کے عمل میں بعض اوقات مستحق افراد کو اپنی رقم کے حصول کے لیے دوسروں پر انحصار کرنا پڑتا تھا ، تاہم اب احساس اُمید کارڈ کے ذریعے مستحقین خود اے ٹی ایم سے اپنی مکمل رقم نکال سکیں گے اور کوئی دوسرا شخص ا س عمل میں مداخلت نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کامقصد ایسا شفاف نظام قائم کرنا ہے کہ کسی بھی مستحق کو یہ احتمال نہ رہے کہ اس کا ایک روپیہ بھی ضائع ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ سماجی بہوبدخصوصی افراد، یتیموں، بیواؤں اور دیگر مستحق طبقات کی خدمت کے لیے ہے، اس لیے محکمہ کے افسران و اہلکاروں سمیت ہر فرد کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ مستحق کے حق کا ایک روپیہ بھی کسی غیر متعلقہ شخص تک نہ پہنچے۔مشیرِ وزیراعلیٰ ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ حکومت کا مقصد خصوصی افراد کو صرف مالی امداد کا محتاج بنانا نہیں بلکہ انہیں باعزت روزگار اور خود کفالت کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ مالی مدد کے ساتھ ساتھ مستحق لوگوںکو مناسب تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ اپنے اور اپنے خاندان کی کفالت خود کر سکتے ہیں۔ انہیںجدید ڈیجیٹل سکلز، فنی تربیت اور دیگر ہنر بھی سکھائے جائیں گے تاکہ مستحق افراد گھر بیٹھے بھی اپنی صلاحیتوں کو آمدن کا ذریعہ بنا سکیں۔ملک لیاقت علی خان نے مزیدکہا کہ صرف وہیل چیئرز اور سلائی مشینیں تقسیم کرنے تک مستحقین کو محدود رکھنے کی بجائے جدید وژن کے تحت ان کے لئے ہنرمندی، روزگار اور خودکفالت کے فروغ پر توجہ دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ماہرین اور اداروں سے مشاورت کے بعد ایک جامع منصوبہ تشکیل دیا جائے گا، جس کا مقصد آئندہ ایک دو سال میں مستحق افراد کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا اور محکمہ سماجی بہبود کو امداد کے ساتھ ساتھ ہنرمندی، بااختیاری اور خودکفالت کا مؤثر ذریعہ بنانا ہے۔
