خیبرپختونخوا اسمبلی کے سپیکر کا پنجاب اسمبلی کے سپیکر کو وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا کی سربراہی میں اراکینِ اسمبلی پر مشتمل وفد کے دورہ پنجاب اسمبلی کے دوران پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر خط

خیبرپختونخوا اسمبلی کے سپیکر بابر سلیم سواتی نے پنجاب اسمبلی کے سپیکر ملک احمد خان کو ایک خط ارسال کیا ہے، جس میں لاہور میں پنجاب اسمبلی کے دورے کے دوران پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے وفد، جس کی قیادت وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا کر رہے تھے اور جس میں منتخب اراکینِ اسمبلی اور مدعو مہمان شامل تھے، کو دورے سے قبل باقاعدہ سرکاری رابطوں اور پیشگی اطلاع کے باوجود متعدد رکاوٹوں، غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل اور پارلیمانی آداب کی صریح خلاف ورزیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وفد کے اراکین کو غیر ضروری تاخیر، بار بار سیکیورٹی چیک، جارحانہ سوالات، اور غیر مہذب رویے کا سامنا کرنا پڑا۔خط کے مطابق صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب خیبرپختونخوا کے وزیرِاعلیٰ اسمبلی کی عمارت کی جانب پیدل جارہے تھے سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے روکے گئے اراکین کو دھکے دیے گئے اور نامناسب رویہ اختیار کیا گیا، جس کے باعث وہ واپس اپنی گاڑی کی جانب جانے پر مجبور ہوئے۔ سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے اس طرزِ عمل کو آئینی تقاضوں اور پارلیمانی روایات کے سراسر منافی قرار دیا۔
خط میں بعض ایسے افراد کے طرزِ عمل پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جو خود کو صحافی ظاہر کرتے ہوئے مبینہ طور پر اشتعال انگیز اور متنازعہ سوالات کے ذریعے ماحول کو مزید کشیدہ بنانے اور سرکاری دورے کی سنجیدگی کو متاثر کرنے کا باعث بنے۔اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے واضح کیا کہ صوبائی اسمبلیاں آئینی ادارے ہیں اور مختلف صوبوں کے منتخب نمائندوں کے مابین روابط باہمی احترام، ضبطِ نفس اور پارلیمانی آداب کے دائرے میں ہونے چاہئیں۔ خط میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ سیکیورٹی سے متعلق امور کو عوامی توہین یا جسمانی تصادم کے بجائے ادارہ جاتی رابطوں اور پیشگی انتظامات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔اسپیکر نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی مناسب سطح پر مکمل جانچ کی جائے، جہاں ذمہ داری عائد ہوتی ہو وہاں اس کا تعین کیا جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے واضح اور مؤثر ہدایات جاری کی جائیں۔ خط کی نقول چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کو بھی برائے اطلاع ارسال کی گئی ہیں۔خط کے اختتام پر اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اگر ایسے واقعات کو نظر انداز کیا گیا تو یہ صوبوں کے درمیان ہم آہنگی، باہمی احترام اور وفاقی تعاون کے جذبے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں