یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر پشاور میں ایک بڑی ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں شرکاء نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کی شدید مذمت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شرکاء نے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شرکاء نے کہا کہ یہ دن کشمیر کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے، جب بھارتی افواج نے نہ صرف فوجی محاصرہ سخت کیا بلکہ شہری آزادیوں پر قدغن لگاتے ہوئے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بھی کیں۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت ہر عالمی فورم پر جاری رکھے گا۔ اس موقع پر اقوامِ متحدہ، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ کشمیری عوام پر جاری ظلم و ستم کا نوٹس لیں اور انہیں حقِ خودارادیت دلوانے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔شرکاء نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کشمیریوں کی قربانیوں، بہادری اور غیر متزلزل عزم کو سلام پیش کرتے ہیں۔ اس موقع پر کہا گیا کہ یومِ استحصال دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کا دن ہے اور پاکستان کے عوام اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ تھے، ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ریلی سول سیکرٹریٹ کے اعظم خان بلاک سے شروع ہوئی جو صاحبزادہ عبدالقیوم روڈ سے ہوتے ہوئے گورنر ہاؤس پر اختتام پذیر ہوئی. ریلی میں شریک لوگوںنے پاکستان اور کشمیر کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے، جبکہ ان کے ہاتھوں میں موجود بینرز پر مختلف نعرے درج تھے۔ریلی کا اختتام جدوجہدِ کشمیر میں کامیابی اور ملک کی سلامتی کے لئے خصوصی دعا سے ہوا۔
