خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ داخلہ و قبائلی امور کا اجلاس جمعرات کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین اور رکن صوبائی اسمبلی طارق سعید نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی اراکین افتخار علی مشوانی، آصف خان، فرح خان، عدنان وزیر، احمد کنڈی، مخدوم زادہ محمد آفتاب حیدر، محترمہ شاہدہ بی بی، محترمہ ثوبیہ شاہد، محترمہ شازیہ جدون اور محترمہ فائزہ ملک اور سابقہ ڈپٹی سپیکر محمود جان نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ سیکرٹری محکمہ داخلہ و قبائلی امور، محکمہ قانون، محکمہ خزانہ اور صوبائی اسمبلی کے متعلقہ افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی اصف خان کے توجہ دلاؤ نوٹس پر سیکرٹری محکمہ داخلہ و قبائلی امور نے بتایا کہ جنوبی وزیرستان میں بم دھماکوں کے شہداء اور زخمیوں کے لواحقین کو قانون کے مطابق مالی معاونت اور معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی نے محکمہ داخلہ کو ہدایت کی کہ صوبے کے تمام اضلاع میں زیر التوا کیسوں کی تفصیلی رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے۔ سابقہ ڈپٹی سپیکر محمود جان کے سوال کے جواب میں پولیس کے اعلیٰ حکام نے یقین دہانی کرائی کہ اپ کے خاندان اور اپ کے کسانوں پرحملوں میں ملوث عناصر کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ رکن اسمبلی عدنان خان کے سوالات پر حکام نے بتایا کہ سی ٹی ڈی کی خالی اسامیوں کے لیے دوبارہ تشہیر کی جائے گی، جبکہ وہ امیدوار جنہوں نے پہلے ٹیسٹ پاس کیا تھا، انہیں دوبارہ ٹیسٹ میں ترجیح دی جائے گی۔ مزید برآں، لوئر کوہستان میں دو تھانے اور پانچ چوکیاں قائم ہیں اور سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ان میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
اجلاس میں محترمہ شاہدہ بی بی کے سوال پر پولیس حکام نے تنگی چارسدہ میں ریپ کیس سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم گرفتار ہو چکا ہے اور مقدمہ اب عدالت میں زیر سماعت ہے۔ رکن اسمبلی احمد کنڈی کے سوال پر محکمہ داخلہ نے بتایا کہ صوبائی سطح پر غیر ملکی باشندوں کی سیکیورٹی کے لیے مؤثر انتظامات موجود ہیں۔ جبکہ فر ح خان کے سوال پر پولیس حکام نے آگاہ کیا کہ صوبے کے ہر ضلع کے تھانے میں خواتین کے لیے علیحدہ ڈیسک اور لاک اپ قائم ہیں، جہاں ڈیوٹی خواتین اہلکار انجام دے رہی ہیں۔
