صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (پی ڈی ڈبلیو پی) خیبر پختونخواکے تیرہویں اور چودھویں اجلاس، محکمہ منصوبہ بندی و ترقی خیبر پختونخوا میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ منصوبہ بندی و ترقی اسلام زیب کی زیر صدارت منعقد ہوئے۔ اجلاسوں میں پی ڈی ڈبلیو پی کے اراکین اور متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز و افسران نے شرکت کی۔مذکورہ
اجلاسوں میں مجموعی طور پر 52 ارب روپے سے زائد لاگت کے 32 اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ یہ منصوبے لوکل گورنمنٹ، مواصلات و تعمیرات (روڈز)، ابتدائی و ثانوی تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں سے متعلق ہیں، جو صوبے میں پائیدار ترقی، بہتر طرز حکمرانی اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کریں گے۔تفصیلات کے مطابق تعلیم کے شعبے میں اہم پیش رفت کر تے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں تعلیم کے شعبے میں متعدد اہم منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے، جن کا مقصد صوبے میں معیاری تعلیم تک رسائی کو مزید بہتر بنانا ہے۔جس کے تحت مانسہرہ شہر میں لڑکوں کے لیے نئے ڈگری کالج کے قیام کی منظوری دی گئی ہے۔ اس منصوبے سے علاقے میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع میں اضافہ ہوگا اور طلبہ کو مقامی سطح پر معیاری تعلیمی سہولیات میسر آئیں گی۔ جبکہ صوابی کے علاقے یارہ خیل مرغز میں گورنمنٹ پرائمری سکول (جی پی ایس) اور گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول (جی جی پی ایس) کے قیام کی منظوری دی گئی ہے۔ اس اقدام سے بنیادی تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور بچوں، بالخصوص بچیوں، کے لیے تعلیم تک رسائی کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ صوبے کے اضلاع کرک، ہری پور، چارسدہ، ہنگو، بٹگرام اور بنوں میں 6 ماڈل سکولوں کے قیام کی ریوائز سکیم کی منظوری بھی دی گئی۔ فورم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبوں کو جلد از جلد فعال بنایا جائے تاکہ طلبہ ان کے ثمرات سے فوری طور پر مستفید ہو سکیں۔
ان تعلیمی منصوبوں سے ہزاروں طلبہ کو براہ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے اور یہ اقدامات صوبے کے تعلیمی شعبے میں بہتری اور انسانی سرمایہ کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
مزید برآں مواصلات و انفراسٹرکچر کے شعبے میں اہم فیصلے کرتے ہوئے صوبائی دارالحکومت پشاور کی مصروف ترین شاہراہ پشاور رنگ روڈ پر انڈر پاس منصوبے کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ منصوبہ شہری ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے، سفر کے دورانیے میں کمی اور محفوظ و بلا تعطل آمد و رفت کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔ اس اقدام سے دارالحکومت میں ٹریفک مسائل کے دیرپا حل کی جانب اہم پیش رفت متوقع ہے۔ اس کے علاوہ پی ڈی ڈبلیو پی کے 14ویں اجلاس میں روڈ سیکٹر کی 18 سکیموں کی منظوری بھی دی گئی، جن کی مجموعی لاگت 17 ارب روپے ہے۔ ان میں 8 فیزیبلٹی اسٹڈیز بھی شامل ہیں۔ یہ منصوبے صوبے بھر میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، دور دراز علاقوں تک رسائی بہتر بنانے اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی ہدایات پر لکی سے حکلا تک 26.6 کلومیٹر طویل لنک روڈ منصوبے کی منظوری دی گئی، جس کی مجموعی لاگت 6,163 ملین روپے ہے۔ اس منصوبے سے علاقے میں سفر کے دورانیے میں نمایاں کمی آئے گی، ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی اور عوام کو محفوظ سفری سہولیات میسر آئیں گی۔یہ منصوبہ علاقائی و بین الاضلاعی رابطوں کو مضبوط کرے گا، جس سے تجارت و صنعت کے فروغ، سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافے اور روزگار کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔ منصوبے کی تکمیل صوبے کی مجموعی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔جبکہ جامع ترقی کی جانب پیش قدمی کر تے ہوئے فورم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، شفافیت اور معیار کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔ منظور شدہ منصوبے صوبہ خیبر پختونخوا میں تعلیمی بہتری، بہتر طرز حکمرانی، جدید انفراسٹرکچر اور پائیدار اقتصادی ترقی کی بنیاد مضبوط کریں گے۔یہ فیصلے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی قیادت میں صوبے کی ہمہ جہت ترقی کے وژن کی عملی تعبیر ہیں اور آنے والے وقت میں ان کے مثبت اثرات واضح طور پر سامنے آئیں گے
