تحریر: انجینئر ڈاکٹر محمد اطہر سوری
فضا میں بارود کی بو رچی ہوئی ہے، پہاڑوں کی چوٹیوں پر دھواں لہرا رہا ہے اور سرحدی بستیوں میں خوف کی ایک دبیز چادر تنی ہوئی ہے۔ پاک افغان سرحد پر حالیہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب حکام کے مطابق سرحد پار سے بلا اشتعال فائرنگ کی گئی جس کے جواب میں پاکستان نے اپنی دفاعی حکمت عملی کے تحت سخت کارروائی کی۔ یہ صورتحال وقتی طور پر شدت اختیار کر گئی، مگر اس کے پیچھے برسوں پر محیط پیچیدہ مسائل، عدم اعتماد اور سرحد پار دہشت گردی جیسے عوامل کارفرما ہیں۔
جنگ کبھی بھی کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں رہی۔ تاریخ گواہ ہے کہ بندوق کی نالی سے صرف وقتی خاموشی جنم لیتی ہے پائیدار امن نہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جو دو ہمسایہ مذہبی و ثقافتی طور پر جڑے ہوئے ممالک کو آمنے سامنے لے آتی ہیں؟ جب سرحدوں کی خاموشی کو سازشوں سے توڑا جائے جب چند شرپسند عناصر اپنے مذموم مقاصد کے لیے پڑوسی ملک کی زمین استعمال کر کے دہشت گردی کی آگ بھڑکائیں تو ردِعمل ناگزیر ہو جاتا ہے۔ دفاعِ وطن ہر ریاست کا بنیادی حق ہے اور پاکستان نے بھی ہمیشہ اسی اصول کے تحت اپنی سرحدوں کی حفاظت کی ہے۔
پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجو افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستانی حدود میں حملے کر رہے ہیں، جس سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔ ریاستی اداروں کے مطابق حالیہ آپریشنز کا مقصد کسی ملک کے خلاف اعلانِ جنگ نہیں بلکہ اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانا، غیر قانونی آمد و رفت کو روکنا اور ان ٹھکانوں کا خاتمہ کرنا ہے جو خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ اس تناظر میں کارروائیاں دہشت گرد عناصر کے خلاف ہیں، کسی قوم یا عام شہری کے خلاف نہیں۔
لیکن یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ جنگوں کے فیصلے ایوانوں میں ہوتے ہیں اور ان کا بوجھ عام لوگ اٹھاتے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں بسنے والے معصوم شہری، بچے، بوڑھے اور خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ جب گولیاں چلتی ہیں اور دھماکوں کی آوازیں فضا کو چیرتی ہیں تو خوف صرف سرحد تک محدود نہیں رہتا بلکہ گھروں کے اندر تک اتر جاتا ہے۔ ایسے میں انسانیت کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔
حیرت انگیز طور پر جب حالات بگڑتے ہیں تو کئی افغان شہری اپنی جان بچانے کے لیے پاکستان کا رخ کرتے ہیں۔ یہ ایک غیر اعلانیہ اعتماد ہے، ایک خاموش اعتراف کہ یہاں انہیں پناہ، عزت اور کم از کم وقتی سکون میسر آئے گا۔ پاکستان کی سرزمین نے ماضی میں بھی لاکھوں افغان مہاجرین کو گلے لگایا۔ دہائیوں تک انہیں رہائش، روزگار اور تعلیم کے مواقع فراہم کیے گئے۔ یہ سب کسی سیاسی مفاد کے تحت نہیں بلکہ ایک اسلامی اور انسانی فریضے کے طور پر کیا گیا۔ یہی وہ رشتہ ہے جو دونوں اقوام کو محض سرحدی لکیر سے نہیں بلکہ تاریخ، ثقافت اور مشترکہ دکھ سکھ سے جوڑتا ہے۔
تاہم ریاستی نظم و ضبط اور قومی سلامتی کے تقاضے بھی اپنی جگہ اہم ہیں۔ پاکستان میں عرصہ دراز سے مقیم غیر قانونی افغان مہاجرین کے حوالے سے حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ ملک کے وسیع تر امن و امان اور استحکام کے لیے ان کی مرحلہ وار واپسی ضروری ہے۔ اس پالیسی کا مقصد کسی کی تذلیل نہیں بلکہ قانونی طریقہ کار کو یقینی بنانا ہے۔ پاکستان کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ واپسی پر کوئی مستقل پابندی عائد نہیں کی جا رہی بلکہ خواہش یہ ہے کہ حالات بہتر ہونے پر قانونی ویزا کے ذریعے آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہے۔ جب دونوں ممالک میں قانون کی حکمرانی مضبوط ہوگی تو سرحد کے دونوں اطراف بسنے والے عوام پہلے سے زیادہ احترام اور بھائی چارے کے ساتھ رہ سکیں گے۔
پاکستان کی مسلح افواج کا کردار بھی اس تناظر میں قابلِ ذکر ہے۔ پیشہ ورانہ مہارت اور احتیاط کے ساتھ کارروائیاں کرنا ایک مشکل ترین کام ہوتا ہے خصوصاً جب دشمن عام آبادی میں چھپ کر حملے کرے۔ اس کے باوجود کوشش یہی کی جاتی ہے کہ عام شہری محفوظ رہیں اور کارروائیاں صرف ان عناصر تک محدود ہوں جو ریاست کی سلامتی کو چیلنج کرتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ دہشت گردی کے خلاف ہے، نہ کہ کسی ہمسایہ قوم کے خلاف۔
بدقسمتی سے جنگ کے ساتھ ایک اور محاذ بھی کھل جاتا ہے اور وہ ہے افواہوں اور پروپیگنڈے کا محاذ۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں جھوٹی خبریں بارود سے زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں۔ دشمن قوتیں یہی چاہتی ہیں کہ عوام کے درمیان بداعتمادی پیدا ہو، ریاست اور شہریوں کے درمیان خلیج بڑھے اور نفرت کی دیواریں اونچی ہوں۔ ایسے میں دانشمندی کا تقاضا ہے کہ ہر خبر کو پرکھا جائے مصدقہ ذرائع پر اعتماد کیا جائے اور جذباتی نعروں کے بجائے حقیقت پسندانہ سوچ اپنائی جائے۔
امن دراصل کمزوری نہیں بلکہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ جو قومیں جنگ کے باوجود امن کا راستہ تلاش کرتی ہیں وہی ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوتی ہیں۔ پاکستان کی خواہش ہمیشہ یہی رہی ہے کہ خطے میں استحکام ہو، تجارت بڑھے عوام کو روزگار ملے اور نوجوان نسل کو کتاب اور قلم میسر ہوں، بندوق نہیں۔ اگر دونوں ممالک باہمی احترام، سفارتی روابط اور قانونی تقاضوں کے تحت مسائل حل کریں تو کشیدگی کی یہ فضا ختم ہو سکتی ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ بین الاقوامی اصول اور ہمسائیگی کے آداب اسی بات کا تقاضا کرتے ہیں۔ اعتماد کی بحالی اسی وقت ممکن ہے جب عملی اقدامات کیے جائیں اور دہشت گردی کے ہر نیٹ ورک کا خاتمہ کیا جائے۔ اگر یہ بنیادی شرط پوری ہو جائے تو مذاکرات اور سفارت کاری کے دروازے کھل سکتے ہیں، اور بارود کی جگہ مکالمہ لے سکتا ہے۔
جنگ کی تاریکی میں بھی امید کی ایک کرن موجود ہوتی ہے۔ وہ کرن ہے عوام کے درمیان موجود محبت اور بھائی چارے کا جذبہ۔ جب پاکستانی شہری مہاجر خاندانوں کو کھانا فراہم کرتے ہیں جب فلاحی تنظیمیں خیمے اور ادویات مہیا کرتی ہیں تو یہ سب اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ نفرت کا بیج یہاں پنپ نہیں سکتا۔ یہی جذبہ خطے کے مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔
آخرکار امن ہی وہ واحد راستہ ہے جو خوشحالی، استحکام اور باہمی ترقی کی طرف لے جاتا ہے۔ اگر ہم ماضی کی تلخیوں سے سبق سیکھ کر مستقبل کی تعمیر پر توجہ دیں تو سرحدیں نفرت کی علامت کی بجائے تعاون کی علامت بن سکتی ہیں۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ بارود کی بو کو محبت کی خوشبو سے بدلیں گے نفرت کے شعلوں کو برداشت کے پانی سے بجھائیں گے اور اس خطے کو ایک بار پھر امن کا گہوارہ بنائیں گے۔ یہی وہ خواب ہے جو ہر ماں اپنے بیٹے کے لیے دیکھتی ہے، اور یہی وہ منزل ہے جس تک پہنچنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
