وزیر بلدیات، انتخابات و دیہی ترقی حکومت خیبر پختونخوا نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے بلین ٹری سونامی اور ٹین بلین ٹری پروگرام جیسے ماحول دوست اقدامات کے ذریعے ماحولیاتی تحفظ اور بحالی کے لیے ایک مؤثر قومی مثال قائم کی ہے۔
انہوں نے یہ بات حیات آباد میں زیرِ تعمیر باغِ ناران ایکسٹینشن پارک میں پودا لگا کر شجرکاری مہم کا افتتاح کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وقت کے ساتھ یہ مسئلہ شدت اختیار کر رہا ہے، اور اس کا سب سے مؤثر حل اجتماعی کوششوں میں مضمر ہے۔ ہر شہری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ماحول کے تحفظ اور اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کم از کم ایک درخت ضرور لگائے۔
وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ باغِ ناران جیسے منصوبے محض تفریحی مقامات نہیں بلکہ شہری جنگلات کو فروغ دینا ہے جس کا مقصد شہروں کے ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانا ہے۔ اس طرح کے اقدامات شہری درجہ حرارت میں کمی، فضائی آلودگی میں بہتری، زیرِ زمین پانی کی بحالی اور پرندوں و دیگر حیات کے لیے مسکن فراہم کرنے میں مدد دیتے ہیں، یوں کنکریٹ کے پھیلتے ہوئے جنگل میں زندگی کی نئی رمق پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہری جنگلات عوامی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔ سبزہ زاروں تک رسائی ذہنی دباؤ میں کمی، ذہنی سکون میں اضافہ اور جسمانی سرگرمیوں کے فروغ کا باعث بنتی ہے، خصوصاً گنجان آباد شہری علاقوں میں۔ پشاور جیسے شہر میں، جہاں تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی قدرتی وسائل پر دباؤ ڈال رہی ہے، باغِ ناران جیسے منصوبے شہریوں کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوتے ہیں۔ سماجی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ اچھی منصوبہ بندی کے تحت بنائے گئے عوامی پارکس صنفی شمولیت کو فروغ دیتے ہیں، جہاں خواتین، بچوں اور خاندانوں کے لیے محفوظ اور قابلِ رسائی ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ ایسے مقامات خواتین کی عوامی زندگی میں شرکت بڑھانے، سماجی روابط کو مضبوط کرنے اور معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نہایت کم حصہ ڈالنے کے باوجود موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں بار بار آنے والے سیلاب، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور دیگر ماحولیاتی خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس تناظر میں شہری جنگلات کا فروغ محض ایک ماحولیاتی اقدام نہیں بلکہ مستقبل کے لیے ناگزیر حکمتِ عملی ہے
