خیبر پختونخوا کے سنگلاخ پہاڑوں اور وادیوں میں ریڈیو کی سحر انگیز آواز آج بھی شعور و آگاہی کا سب سے معتبر ذریعہ ہے۔ اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے 26 مارچ کو پختونخوا ریڈیو کوہاٹ اور کرم کے سنگم سے ایک خصوصی پروگرام “د ژوند خکلا” (زندگی کی خوبصورتی) نشر کیا گیا، جس نے اپنی مقصدیت اور جاندار پیشکش کے باعث سامعین کے دل جیت لیے۔
اس پروگرام کی خاص بات اسٹیشن منیجر کوہاٹ و کرم ڈاکٹر انجینئر محمد اطہر سوری اور آصف محمود بنگش کی نہایت متاثر کن میزبانی تھی۔ دونوں معزز شخصیات نے اتنے سہل اور دلنشین انداز میں گفتگو کا آغاز کیا کہ کوہاٹ اور کرم کے طول و عرض سے سامعین کی بڑی تعداد نے فون کالز کے ذریعے پروگرام میں بھرپور حصہ لیا اور اس کاوش کو بے حد سراہا۔
موجودہ موسم کی صورتحال کے پیشِ نظر پروگرام میں حالیہ بارشوں کے سلسلے پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی۔ سامعین کو خبردار کیا گیا کہ بارشوں کے دوران ندی نالوں اور پہاڑی راستوں پر سفر کرتے ہوئے احتیاط برتیں اور کسی بھی ناگہانی صورتحال سے بچنے کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔ یہ پیغام دیا گیا کہ قدرت کی اس نعمت سے لطف اندوز ہوتے وقت اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگی کو محفوظ بنانا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
چونکہ 26 مارچ کو عالمی سطح پر ‘پرپل ڈے’ منایا جاتا ہے، اس مناسبت سے پروگرام میں مرگی (Epilepsy) کے مرض پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ماہرانہ مشوروں کے ذریعے عوام پر واضح کیا گیا کہ یہ ایک قابل علاج اعصابی بیماری ہے، نہ کہ کوئی توہم پرستی۔ اس دوران مریض کو دورہ پڑنے کی صورت میں دی جانے والی فوری طبی امداد اور علاج کے جدید طریقوں پر روشنی ڈال کر عوامی شعور میں اضافہ کیا گیا۔
پروگرام میں بین الاقوامی منظر نامے پر بھی گفتگو کی گئی اور اس اہم نکتے پر روشنی ڈالی گئی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان ایک بہترین ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ مقررین نے بڑے مدلل انداز میں واضح کیا کہ عالمی امن کے لیے پاکستان کی یہ سفارتی کوششیں خطے میں استحکام لانے کے لیے انتہائی ناگزیر ہیں۔
پروگرام کا ایک اور اہم پہلو موسمیاتی تبدیلی اور جاری شجرکاری مہم تھا۔ بدلتے ہوئے ماحولیاتی حالات کے پیشِ نظر درختوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے سامعین کو ترغیب دی گئی کہ وہ اپنے مستقبل اور نسلوں کی بقا کے لیے اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
پروگرام کے اختتام پر باہمی امن، رواداری اور محبت کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ رہنے پر زور دیا گیا اور نیک تمناؤں کے ساتھ اس خوبصورت نشریات کا اختتام ہوا۔
تحریر: انجینئر اطہر
