خیبر پختونخوا کے وزیر برائے قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیر صدارت چار ایجنڈاز پر مبنی قانون ساز کمیٹی کا ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیر صدارت چار ایجنڈاز پر مبنی قانون ساز کمیٹی کا ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں صوبے میں مختلف قوانین میں ترامیم اور اصلاحات سے متعلق امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں وزیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم ، سیکرٹری محکمہ قانون ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ، محکمہ سماجی بہبود کے حکام ، بورڈ آف ریونیو کے حکام ، محکمہ صحت کے حکام ، محکمہ قانون کے حکام، محکمہ ٹرانسپورٹ سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی ۔اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں ایکٹ 2016 میں مجوزہ ترامیم، موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 (ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشن وہیکلز) میں ڈرافٹ ترامیم، خیبر پختونخوا ریور پروٹیکشن (ترمیمی) ایکٹ 2026 اور کے پی میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز ریفارمز ایکٹ 2025 میں مجوزہ ترامیم پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔پہلے ایجنڈے کے تحت خیبر پختونخوا وقار نسواں ترمیمی بل کے سیکشن 15اے میں مجوزہ ترامیم کے حوالے سے غور خوض کیا گیا ۔اجلاس کے تیسرے ایجنڈے میں کے پی ریور پروٹیکشن آرڈیننس میں مجوزہ ترامیم پر بھی غور خوض کیا گیا اور سیکشن 11 میں ترامیم کے حوالے سے مختلف آراء پیش کی گئیں ۔وزیر قانون نے ریور انکروچمنٹ اور نہروں کے کنارے قانون شکنی کو بائفرکیٹ کرنے کی تجویز دی ۔ اس کے علاؤہ انہوں نے کے پی کے 15 نوٹی فائڈ دریاؤں کو آرڈیننس کے شیڈول میں شامل کرنے پر زور دیا۔اجلاس کے چوتھے ایجنڈے میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے زیر استعمال گاڑیوں کے محفوظ استعمال اور کسی بھی نقصان کے تدارک کیلئے پراونشل موٹر وہیکل آرڈیننس کی مختلف شقوں میں ضروری ترامیم پر غور خوض کیا گیا ۔آفتاب عالم نے مجوزہ قانون سازی میں برساتی نالوں کو بھی بیک اپ دینے کی اہمیت پر زور دیا ۔
وزیر قانون نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوامی فلاح و بہبود کے لیے قانون سازی کے عمل کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ، ماحولیاتی بہتری، تعلیمی اداروں کی ٹرانسپورٹ سے متعلق قواعد و ضوابط اور صحت کے شعبے میں اصلاحات کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زیر غور تمام مجوزہ ترامیم کو جلد از جلد حتمی شکل دے کر کابینہ اور صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے تاکہ قانون سازی کے عمل کو مزید تیز اور مؤثر بنایا جا سکے۔ اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ قانون سازی کے عمل میں شفافیت، باہمی مشاورت اور عوامی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جائے۔
اجلاس کے اختتام پر وزیر قانون نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے میں قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے گورننس کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے جائیں گے

مزید پڑھیں