صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن سے ہیلتھ سیکرٹریٹ پشاور میں گیٹس فاؤنڈیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر مسٹر مائیکل گیلوے نے اہم ملاقات کی۔ اس موقع پر محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ملاقات میں ایکسپینڈڈ پروگرام آن امیونائزیشن (EPI)،پولیو کے خاتمے کی ترجیحات اور خیبر پختونخوا میں حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو مزید مؤثر بنانے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر صوبے میں جاری پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو (PEI) کی پیش رفت، درپیش چیلنجز اور وائرس کی منتقلی روکنے کے لیے اختیار کی جانے والی حکمت عملیوں پر بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر پشاور سمیت دیگر حساس اضلاع میں پولیو کے خلاف جاری اقدامات، نگرانی کے نظام، ٹرانزٹ ویکسی نیشن پوائنٹس، انکاری والدین تک رسائی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مانیٹرنگ کے اقدامات پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہے اور ہر بچے تک حفاظتی ٹیکہ جات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت، محکمہ صحت اور ترقیاتی شراکت داروں کے باہمی تعاون سے پولیو کے خاتمے اور معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھا رہی ہے۔وزیر صحت نے مزید کہا کہ حکومت پولیو مہمات کے معیار کو بہتر بنانے، نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنے، دشوار گزار اور حساس علاقوں تک رسائی بڑھانے اور عوامی اعتماد کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔مسٹر مائیکل گیلوے نے خیبر پختونخوا حکومت اور محکمہ صحت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے پولیو کے خاتمے اور حفاظتی ٹیکہ جات کے فروغ کے لیے گیٹس فاؤنڈیشن کے مکمل تعاون کا اعادہ کیا۔ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے پولیو کے مکمل خاتمے، بچوں کو مہلک بیماریوں سے محفوظ بنانے اور صحت عامہ کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
